Sabitlenmiş Tweet
چوہدری شاہد محمود
546.3K posts

چوہدری شاہد محمود
@CSMR786
!! ذہانت کی اصل علامت علم نہیں بلکہ تخیل ہے !! نوازشریف !! پاک فوج🇵🇰 !!
Punjab, Pakistan Katılım Temmuz 2019
783 Takip Edilen138.8K Takipçiler

آفتاب اقبال کا گھناؤنا چہرہ
پاکستان کے بدنام ترین اینکر جعلی تجزیہ نگار لنڈے کے دانشور آفتاب اقبال کی سابقہ اہلیہ ثمن شیخ کے دل دہلا دینے والے سنسنی خیز انکشافات ۔۔
انہوں نے ٹی وی اسکرین کے پیچھے چھپے ظلم اور فنکاروں کی تذلیل کا سارا کچا چٹھا کھول دیا ہے ۔
حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں ثمن شیخ نے کہا
میں سمجھتی ہوں کہ اگر مجھے کوئی نایاب ہیرا ملے تو میں اس کی کھوج کا کریڈٹ خود لوں نہ کہ دوسروں کی ریسرچ پر اپنا نام چمکاؤں۔ اس شو کی واحد اچھی بات صرف اس کی ریٹنگ تھی ورنہ وہاں کوئی خاص بات نہیں تھی صرف اور صرف بکواس تھی۔
وہاں کام کرنے والے کامیڈینز کی تذلیل اور سستے جملوں کا تبادلہ مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا تھا۔ میرا غصہ اسی بات پر تھا کہ فنکاروں کی عزتِ نفس کو وہاں بری طرح کچلا جا رہا تھا۔ انہوں نے مجھے کبھی بدتمیزی سے نہیں بلایا کیونکہ میں پہلے ہی ان سے زیادہ شہرت اور لائم لائٹ میں تھی۔
آپ مجھے شو میں بلائیں اور بولنے کا موقع ہی نہ دیں تو میں کسی صورت آپ کی عزت نہیں کروں گی۔ وہ شو کے پروڈیوسر ہیں اور جانتے تھے کہ ریٹنگ کے لیے ہر فنکار کے مداحوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
مجھ جیسی مصروف گلوکارہ کو انہوں نے سولہ سولہ گھنٹے فلیٹ سیٹ پر بغیر کچھ گائے بٹھائے رکھا۔ میں گھنٹوں کے حساب سے چارج کرتی ہوں اور یہاں میرا پورا پورا دن برباد کیا جا رہا تھا۔ ساری ریکارڈنگ کے بعد جب شو آن ائیر ہوا تو میرا بولا ہوا واحد جملہ بھی کاٹ دیا گیا۔ انہوں نے مجھے پورے شو میں ایک گونگی گڑیا بنا کر بٹھائے رکھا جو سراسر زیادتی تھی۔
میں نے ارشد صاحب کو فون کر کے کہا کہ آپ کے کہنے پر آئی تھی لیکن یہاں مجھے ذہنی طور پر مارا جا رہا ہے۔ ہم دوپہر کو اٹھتے ہی گاڑی میں بیٹھ جاتے اور رات کے چار بجے واپسی ہوتی لیکن آن ائیر کچھ بھی دکھائی نہ دیتا۔ یہ سب کے ساتھ ہو رہا تھا لیکن میرے ساتھ اس لیے زیادہ ہوا کیونکہ میرا ایک تراہنہ ان دنوں بہت وائرل تھا۔
میں نے آفتاب صاحب سے واضح کہا کہ مجھے بولنے کا شوق نہیں بس مجھ سے میرے گانے ریکارڈ کروائیں۔ انہوں نے مجھ سے گانے گوانے کے بجائے خاموش بٹھانا شروع کر دیا اور میرا فون تک ضبط کر لیا۔ میرا فون اس لیے لے لیا گیا تاکہ میں سیٹ سے اپنی کوئی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کر سکوں۔ دنیا جہان سے کٹ کر میں پورا مہینہ وہاں ذلیل ہوتی رہی اور لوگ مجھے فون ملا ملا کر تھک گئے۔
وہاں روزانہ صرف دال پکتی تھی جبکہ پروڈیوسرز کی چہیتی لڑکیوں کے لیے باہر سے برگر منگوائے جاتے تھے۔ آفتاب صاحب اور ان کی فیملی کے لیے گھر کا خاص کھانا آتا تھا اور باقی سب کے حصے میں صرف دال آتی تھی۔ میں بھوک اور کمزوری کی وجہ سے اکثر وہیں سیٹ پر بے ہوش ہو جاتی تھی کیونکہ میں وہاں کا کھانا نہیں کھاتی تھی۔
ایک دن جب میں نے اپنا فون آن کیا تو خاندان والوں کی طرف سے پچاس سے زائد مس کالز موجود تھیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ میری تائی کے جوان بیٹے کا انتقال ہو چکا ہے اور اب جنازے میں شرکت کا وقت بھی نکل چکا ہے۔ میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور میں نے غصے میں آ کر آفتاب صاحب کے دفتر کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔
میں نے وہاں اونچی آواز میں ان کا سارا کچا چٹھا کھولا اور واضح کیا کہ میں ڈرنے والی لڑکی نہیں ہوں۔ وہ اندر بیٹھے سب سنتے رہے لیکن ان میں باہر نکل کر مجھ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے نہ تمہاری شہرت کی ضرورت ہے اور نہ ہی تمہارے پیسوں کی بس میرا حساب کرو۔
وہ پچھلے دروازے سے چپکے سے نکل گئے حالانکہ اخلاقی طور پر billing انہیں میری پریشانی کا حال پوچھنا چاہیے تھا۔ اگر ان کے دل میں چور نہ ہوتا تو وہ مرد بن کر سامنے آتے اور میری بات کا جواب دیتے۔ وہاں موجود بابو رانا اور دوسرے لوگ دوغلی پالیسی چلا رہے تھے اور مجھے پرسکون رہنے کا مشورہ دے رہے تھے۔
میں نے اپنی گاڑی کی چابی لی اور ان سے کہا کہ میں ابھی پولیس بلا کر تمہارا وہ حال کروں گی جو کبھی کسی نے نہ کیا ہو۔ وہاں موبائل سگنل نہیں تھے ورنہ میں نے اسی وقت فیس بک پر لائیو جا کر ان کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دینا تھا۔ وہ بندہ ذاتی طور پر اچھا انسان نہیں ہے بس اس کی ریٹنگ کا جادو چل رہا ہے جو جلد ختم ہو جائےگا۔
ان کا یہ تکبر اور غرور ایک دن پاش پاش ہوگا کیونکہ وہ اپنے ملازمین سے بھی بدتر سلوک فنکاروں کے ساتھ کرتے ہیں۔ میں پیسے کو اپنا خدا نہیں مانتی اور نہ ہی ایسی ریٹنگ کی بھوکی ہوں جو مجھے اپنی عزت بیچ کر ملے۔
یہ لوگ نام نہاد سوشل میڈیا اسٹارز کو لا کر ہمارے سینیئر اور باصلاحیت فنکاروں کے برابر بٹھا دیتےہیں۔
اسی بے حسی کی وجہ سے میں نے پچھلے تین مہینوں سے ان کے چینل پر کوئی پرفارمنس نہیں کی۔ آفتاب اقبال کا شو چھوڑنے والے آغا ماجد سلیم البیلا اور ہنی البیلا جیسے تمام فنکار اسی ظلم کا شکار ہو چکے ہیں۔


اردو
چوہدری شاہد محمود retweetledi

آپ نے پیدا کیا ہے لہٰذا آپ ہی سنبھالیں !
اس وقت پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک دلچسپ اور سبق آموز سفارتی رسہ کشی چل رہی ہے ۔
کہانی کُچھ یوں ہے کہ ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری جو گرومنگ گینگ کا سربراہ تھا یہاں گرومنگ گینگ مطلب خبیث فطرت افراد کا ٹولہ ہے جو برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کو گھیر کر اُن کے ساتھ تعلقات قائم کرتے ہیں اور بعد میں بلیک میلنگ یا ناجائز مقیم افراد سے رقم پکڑ کر اُن سے شادیاں کروانے کہ دھندا کرتے ہیں ۔
لیکن یہاں ہم جس کردار "شبیر احمد " کی بات کر رہے ہیں یہ اس خبیث فطرت گینگ کا بانی اور انتہائی مکروہ کردار ہے ۔
شبیراحمد 1967 میں پاکستان سے برطانیہ پہنچا۔ اس وقت وہ بہت کم عمر تھا اور بعد میں روچڈیل میں مستقل آباد ہوگیا۔ وقت گزرتا گیا، اس نے مقامی کمیونٹی میں اپنی جگہ بنالی، فلاحی کاموں سے بھی وابستہ رہا اور ایک ایسا تاثر پیدا کیا کہ لوگ اسے ایک بااثر اور قابلِ اعتماد شخص سمجھنے لگے۔ مگر اسی چہرے کے پیچھے ایک ایسا نیٹ ورک پروان چڑھ رہا تھا جو آنے والے برسوں میں برطانیہ کی تاریخ کے بدترین بچوں کے جنسی استحصال کے اسکینڈلز میں شمار ہونے والا تھا۔
1990 کی دہائی کے آخری برسوں اور 2000 کی دہائی کے آغاز میں شبیراحمد نے اپنے اردگرد کئی ہم خیال و کردار نوجوان افراد کو جمع کیا۔ وہ اس پورے نیٹ ورک کا مرکزی کردار تھا۔ اس کا طریقۂ واردات کسی فلمی ولن جیسا نہیں بلکہ انتہائی منظم اور نفسیاتی تھا۔ وہ ایسے بچوں اور بچیوں کو تلاش کرتے جو پہلے ہی زندگی کی مشکلات میں گھرے ہوتے۔ کوئی یتیم ہوتا، کوئی بچوں کے سرکاری مراکز میں رہ رہا ہوتا، کسی کے والدین منشیات کے عادی ہوتے، کسی کے گھر میں تشدد ہوتا۔ یہ وہ بچے تھے جنہیں تحفظ، محبت اور توجہ کی ضرورت تھی۔
پہلے ان کے قریب جایا جاتا، انہیں تحفے دیے جاتے، کھانا کھلایا جاتا، سگریٹ، شراب اور بعض اوقات من شیات تک فراہم کی جاتیں۔ انہیں یہ احساس دلایا جاتا کہ یہی لوگ ان کے اصل دوست ہیں۔ جب اعتماد قائم ہوجاتا تو وہی تعلق آہستہ آہستہ جال میں بدل جاتا۔ بچوں کو ان کے خاندانوں اور مددگار افراد سے دور کیا جاتا، دھمکایا جاتا، بلیک میل کیا جاتا اور پھر برسوں تک ان کا مسلسل جن سی استحصال کیا جاتا۔ متاثرہ لڑکیوں نے بعد میں عدالت کو بتایا کہ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا، مختلف افراد کے حوالے کیا جاتا اور اگر کسی نے مزاحمت کی کوشش کی تو اسے تشدد، دھمکی یا خوف کے ذریعے خاموش کروا دیا جاتا۔
متاثرہ لڑکیوں میں سے کئی شبیر احمد کو “ڈیڈی” کہہ کر پکارتی تھیں۔ یہ محبت کا لفظ نہیں بلکہ اس نفسیاتی کنٹرول کی علامت تھا۔۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ جو انصاف و قانون کی مورت بنتا ہے پر یہ سب کیوں نظرانداز کرتا رہا۔
آخرکار 2009 میں ایک اور متاثرہ سامنے آئی، جس کے بعد گریٹر مانچسٹر پولیس نے “آپریشن اسپین” شروع کیا۔ کئی ماہ تک نگرانی، فون ریکارڈز، گواہوں کے بیانات اور فرانزک شواہد جمع کیے گئے۔ جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھتی گئیں، ایک پورا منظم نیٹ ورک سامنے آنے لگا۔
2012 میں لیورپول کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ بارہ افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی، سبکو مختلف سزائیں جبکہ شبیر احمد کو 22 سال قید کی سزا سنائی۔
برطانوی حکومت نے اس کی برطانوی شہریت بھی ختم کردی تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد اسے ملک بدر کیا جاسکے۔۔
دوسری طرف پاکستان نے بھی واضح مؤقف اختیار کیا کہ یہ شخص اپنا بچپن، جوانی پوری زندگی برطانیہ میں گزار چکا ہے، جرائم بھی وہیں کیے ہیں، لہٰذا اس کی ذمہ داری بھی برطانیہ ہی کی ہے۔
جولائی 2026 میں تقریباً 14 سال قید کاٹنے کے بعد شبیراحمد کو برطانوی قوانین کے مطابق لائسنس پر رہا کردیا گیا۔
اس کی رہائی کی خبر سامنے آتے ہی پورے برطانیہ میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ متاثرین نے کہا کہ انہیں دوبارہ وہی خوف محسوس ہونے لگا ہے جو برسوں پہلے تھا۔ حکومت نے اسے سخت نگرانی، الیکٹرانک ٹریکنگ اور متعدد پابندیوں کے ساتھ ایک خفیہ مقام پر منتقل کردیا۔
اور یہاں آکر پاکستان اور اور برطانیہ کے درمیان سفارتی بھونچال کی کیفیت طاری ہوگئی ہے ، برطانوی وزیر یویٹ کوپر نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے شبیر احمد کو واپس نہیں لیا تو مستقبل میں پاکستانیوں کو ویزہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ ماضی میں ایسی ہی برطانوی دھمکیوں پر متعدد افریقی ممالک اپنے شہری واپس وصول کر چکے ہیں جبکہ پاکستان نے تمام برطانوی دھمکیوں کو خاطر میں نا لاتے ہوئے دوٹوک سرکاری موقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ شبیر احمد بچپن میں ہی برطانیہ منتقل ہوگیا تھا ، اُسکی پڑھائی لکھائی ، تربیت سب برطانوی معاشرے میں ہوئی ہے اور وہ وہیں کا گند ہے لہٰذا ہم برطانوی معاشرے کی غلاظت کو کیوں قبول کریں؟؟؟

اردو
چوہدری شاہد محمود retweetledi

سرگودھا سے 28 سالہ ربیعہ فاطمہ جن کے جسم کی ہڈیاں نشوونما نہیں کر پاتی اور ٹوٹنے کے تکلیف دہ عمل سے رہتی ہیں جس باعث جسم کی گروتھ تک نہیں ہوئی اور چل نہیں سکی ہیں
ربیعہ قرآن مجید حفظ کرنا چاہتی ہیں لیکن آنے جانے لیے وہیل چیئر درکار ہے
ہم سب بیٹی کی مشکل زندگی آسان کر دیں تو ڈھیروں دعائیں دیں گی 16 ہزار درکار ہیں ۔

اردو

@CSMR786 Bhai retweet kar den
x.com/i/status/20784…
Sameer@Care_Club4763
سرگودھا سے 28 سالہ ربیعہ فاطمہ جن کے جسم کی ہڈیاں نشوونما نہیں کر پاتی اور ٹوٹنے کے تکلیف دہ عمل سے رہتی ہیں جس باعث جسم کی گروتھ تک نہیں ہوئی اور چل نہیں سکی ہیں ربیعہ قرآن مجید حفظ کرنا چاہتی ہیں لیکن آنے جانے لیے وہیل چیئر درکار ہے ہم سب بیٹی کی مشکل زندگی آسان کر دیں تو ڈھیروں دعائیں دیں گی 16 ہزار درکار ہیں ۔
Indonesia

ایک تو عوام پہلے ہی بجلی کے بلز سے تنگ ھے اوپر سے واپڈا والوں کی حرامزدگیاں چیک کریں۔ ابھی 5 منٹ پہلے واپڈا والا میٹر ریڈنگ نوٹ کر رہا تھا۔ میں نے اسے پوچھا یہ ریڈنگ تو 12 تاریخ کو ہوتی ھے تو کہنے لگا ہڑتال تھی۔۔ میں نے کہا کوئئ ہڑتال نہیں تھی کیوں جھوٹ بولتے ہو؟؟
تو آگے سے چپ کر گیا۔ ریڈنگ لیٹ کرنے کا مقصد ہی یہی ھے کہ اگر کوئی غریب آدمی اپنے میٹر کو ایک حساب سے چلا رہا ھے کہ یونٹ 2 سو یا تین سو سے اوپر نہ جائیں۔ تو یہ حرامزادے بل ڈبل بھیجنے کے لئے ریڈنگ لیٹ کرنے آ رھے ہیں۔۔
لعنت بھی چھوٹا لفظ ھے ان جیسے حرامیوں کے لئے🖐️
اردو

@CSMR786 چوہدری صاحب ۔۔! اس کا کوئی فوٹو شوٹو لگا کر اویس لغاری اور متعلقہ ادارے (آئسکو؛ لیسکو) کو مینشن کرتے۔
اردو

@mangoRYK اللہ کریم مذید برکتیں عطاء فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین 🤲
اردو
چوہدری شاہد محمود retweetledi
چوہدری شاہد محمود retweetledi

یہ ایک ماں کی ممتا ہے جو سیاست سے بڑھ کر ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب @MaryamNSharif معصوم بچوں سے خلوص، شفقت ،محبت ہر بچے کو تحفظ، اعتماد اور روشن مستقبل کی امید کی کرن کا احساس دلاتی ہے۔

Al Khobar, Kingdom of Saudi Arabia 🇸🇦 اردو





