میں اپنی پارٹی ن لیگ کی شکر گزار ہوں اور رہونگی کہ انہون مجھے اتنی عزت بخشی ہے اور میں ہر قدم پر اپنے قائد اور اپنی پارٹی کے ساتھ رہونگی
@KhurramBhatti01@Atifrauf79@MaryamNSharif
یہ میسج میں حرف بحرف کاپی کر کے یہاں پیسٹ کر رہا ہوں۔ دیکھیں کس قدر علی حسن زرداری نے ورکس اینڈ سروسز میں کرپشن کے اسکینڈل کئے ہیں۔ نیب ایسے کرپٹ عناصر کیخلاف ایکشن کیوں نہیں لے رہا ہے؟
"شاہ صاحب ! یہ پروجیکٹ سوا سات ارب روپے کا ہے اور فیڈرل فنڈڈ پروجیکٹ ہے۔ یہ پروجیکٹ عمر جان کمپنی، اکرم پٹھان کو دیا گیا ہے۔ جس میں کمیشن 1087 ملین روپے اکرم خان پٹھان سے پہلے لئے گئے ہیں۔ اس پراجیکٹ کی مد میں 900 ملین روپے پہلے اور ابھی سوا ایک ارب روپے کی پیمنٹ نکلوائی جا رہی ہے۔اکرم خان سے کمیشن آفتاب پنھیار نے لیکر علی حسن زرداری کو دی ہے۔اکرم خان کے اس پروجیکٹ میں ناقص میٹیریل، غیر معیاری کام ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ عرض محمد پنہیار، رضا پنھیار چیف انجینئر عبدالمجید پنہیار سمیت سب نے کرپشن کے ریکارڈز توڑے ہیں۔ لوکل ٹھیکیداروں، اسد شیخ، احسان لاشاری، نسیم عباس شاہ، عالم پتافی ، سمیت کئی دیگر کو 22 فیصد کمیشن پر فروخت کئے گئے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہم اسی ادارے کے لوگ ہیں۔ اس سے قبل ہم نے اتنی کرپشن اور لاقانونیت کبھی نہیں دیکھی تھی۔ پنھیار کہتے ہیں کہ ہمیں علی حسن زرداری کمیشن لینے کا کہتا ہے اور اس کا باقاعدہ حصہ آصف علی زرداری کو جاتا ہے۔ ورک آرڈر پر پیسے، این آئی ٹی پر پیسے ،ہر جگہ بس پیسے ہی پیسے چل رہے ہیں۔ اللہ آپکو سلامت رکھے ، آپ نے فرعونوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔"
چیف انجینئر ہائی وے سرکل سکھر ڈویژن عبدالمجید پنهیار نے کرپشن، اقربا پروری، غیرقانونی تقرریوں، ٹھیکیداروں کو ٹھیکے بیچنے، ایڈوانس میں پیمنٹس نکالنے سمیت 50 ارب روپے سے زائد کا میگا کرپشن اسکینڈل سامنے آیا ہے۔
چیف انجینئر ہائی وے سرکل سکھر عبدالمجید پنهیار پر کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور من پسند افراد کو غیرقانونی طور محکمہ میں تعینات کیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق، عبدالمجید پنهیار نے گھوٹکی، شکارپور، کندھ کوٹ اور کشمور سے من پسند انجینئرز، ہیڈ کلرکس اور ٹینڈر کلرکس کو بغیر کسی قانونی طریقہ کار کے سکھر سرکل میں تعینات کیا ہے۔عبدالمجید پنهیار نے اپنی بھائی، راجا پنهیار، سکھر اور شکارپور کے تمام ٹینڈرز میں مبینہ طور پر 22 فیصد کمیشن لے کر ورک آرڈرز فراہم کراتا ہے، جس سے ہائی وے ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کے جڑ پکڑنے کے واضح شواہد ملے ہیں۔اسی بدعنوان نیٹ ورک میں چیف انجینئر کے داماد عرض محمد پنهیار کا نام بھی سامنے آیا ہے، جو ایک ہی وقت میں اسسٹنٹ انجینئر مشینری مینٹیننس سب ڈویژن گھوٹکی اور اسسٹنٹ انجینئر گڑھی یاسین (شکارپور) کا اضافی چارج سنبھالے ہوئے ہے، جو محکمے کے ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مزید برآں، اکاؤنٹس کلرک سمیت محمد شعبان سولنگی، معصوم بھٹی اور چیف انجینئر کے بھتیجے رضا محمد پنهیار جیسے افسران کو بھی دو دو مقامات پر اضافی چارج دے کر ادارے کے اصولوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی سنگین ہے اور اس کی شفاف انکوائری ناگزیر ہو چکی ہے۔
عبد المجید پنھیار نے، باقاعدہ محکمہ میں ٹھیکے فروخت کرنے کی منڈی لگائی تھی جس میں حاجی اسد شیخ پنوعاقل، احسان لاشاری، نسیم عباس شاہ، عالم پتافی، SK Builders, علی انور کلوڑ ،میہرداس اینڈ سنز، اکرم خان ، عمر جان کمپنی سمیت کئی دیگر ٹھیکیداروں کو باقاعدہ ٹھیکے فروخت کئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ادارے میں بگڑتے ہوئے حالات، بےلگام کرپشن، ریاستی اداروں کی طرف سے مسلسل رپورٹس دینے اور سب سے اہم پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر پارٹی صدر آصف علی زرداری نے فوری ایکشن کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جس کے بعد پنہیار گروپ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
پنو عاقل سکھر کے ٹھیکیدار حاجی اسد شیخ صاحب کا نام تو آپ نے سنا ہوگا۔
حاجی صاحب کی خوبی یہ ہے کہ سڑکوں کا کام آدھے میں چھوڑ کر ٹھیکے کی بقایا رقم سے کام مکمل نہ کرنے کا گناہ بخشوانے فیملی سمیت ہر سال عمرہ و حج ادا کرنے جاتے ہیں۔ حاجی صاحب ماشاء اللہ جس پابندی سے صوم و صلوٰۃ ادا کرتے ہیں اسی استقامت سے قومی خزانے کو بھی جھاڑو پھیرنے میں ید طولی رکھتے ہیں۔ صوبائی ہائی ویز میں موجودہ پنہیار گروپ نے حاجی صاحب کو ناک میں دم کر رکھا تھا مگر حاجی اسد شیخ بھی اسی کھیل کے منجھے ہوے کھلاڑی ہیں ۔ پنہیاروں کو اپنے بنگلے پر تعیش رنگین شاموں کا سامان مہیا کرکے چند کروڑ روپے دیکر کئی ٹھیکے لیکر پتلی گلی سے رفو چکر ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسد شیخ کے پاس پنہیار گروپ کے ایک اہم ممبر کی ایک خاص چیز بھی موجود ہے جسے حاجی صاحب موقع کی مناسبت سے سرسوں کا تیل لگا کر استعمال کر سکتے ہیں۔
فی الوقت الحاج اسد شیخ سلطانپور میں ہالیجی٬ ڈھنڈی اور جوناس میں تعمیر ہونے والے روڈ پر پتھر بچھا کر کھسک گیا ہے اور علاقہ مکین شدید عذاب میں مبتلاء ہیں اور وہ صبح و شام حاجی اسد شیخ کو بد دعاؤں کے ساتھ شدید مغلظات کے خوبصورت ہار غائبانہ طور پر پہنا رہے ہوتے ہیں۔
حاجی صاحب جب سرکاری ٹھیکے کی آدھی رقم اکرام اللہ دھاریجو کو بطور جزیہ ادا کرے گا تو روڈ خاک تعمیر ہوں گے اور ہم علاقہ مکینوں سے دست بستہ گذارش کرتے ہیں کہ حاجی اسد شیخ کو بد دعائیں دینے کے بجائے خود پر ملامت کرو اکرام اللہ دھاریجو جیسے بدمعاش کو ووٹ دو گے تو روڈ کے بجائے نوکیلے پتھروں پر ہی گذارا کرنا پڑے گا۔
نوٹ: حاجی اسد شیخ کی تصویر کے ساتھ ان شاہراہوں کی تصاویر بھی اس پوسٹ میں دیکھ سکتے ہیں جن کے بنانے کی رقم سے حاجی صاحب حج اور عمرے ادا کرتے ہیں۔
#وکلا_قانون_سے_بالاتر_نہیں
کراچی بار کے پلیٹ فارم سے ملک دشمن اقدامات معمول بن گئے۔ حال ہی میں سندھو دیش کے ترانے سے تقریب شروع کی گئی، جو غداری کا ثبوت ہے!
22 لاکھ کی آبادی میں سے 60 ہزار کی شہادت کی تصدیق ہو چکی اور پونے چار لاکھ سے زیادہ افراد مسنگ ہیں یعنی یا وہ مارے جا چکے یا ہزاروں ٹن ملبے تلے دبے ہیں یا کچھ اسرائیلی قید میں ہیں۔ یہ ایسی ریکارڈڈ نسل کُشی ہے جس میں کل آبادی کا پچیس فیصد بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا جا چکا ہے۔ تکلیف کی بات یہ ہے کہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا، کیمروں میں ریکارڈ ہو رہا، چینلز پر نشر ہو رہا ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں دو سو فلسطینیوں کو شہید کیا گیا ہے، 80 فیصد غزہ مکمل مسمار کر دیا گیا ہے تاکہ کبھی امن ہو بھی جائے تو وہ رہنے کے قابل نہ رہے
انڈین پنڈت نے مودی کو آئینہ دکھا دیا، کیا کمال باتیں کی ہیں۔ کہتے ہیں، حملہ آور آئے، تو چوکی دار کیا کر رہا ہے پہلے اس سے سوال پوچھو، پانی بند کیسے کرو گے، اس میں تو کم از کم بیس سال لگیں گے۔
#پولیس_وڈیرہ_ڈاکو_گٹھ_جوڑ
سندھ میں ڈاکو راج اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ آئے دن لوٹ مار، اغوا برائے تاوان اور شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم پیشہ عناصر کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
حالیہ واقعے میں ڈاکوؤں نے دن دہاڑے سڑک پر ناکہ لگا کر عام شہریوں کو لوٹا، یہاں تک کہ معصوم خواتین اساتذہ کی گاڑی روک کر انہیں بھی ہراساں کیا گیا اور ان کے قیمتی سامان سے محروم کر دیا گیا۔ بے بس اساتذہ خوف کے مارے آیت الکرسی کا ورد کرتی رہیں، مگر ظالم ڈاکو بلا خوف و خطر اپنا کام کرتے رہے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، سندھ میں روزانہ درجنوں شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔ اگر یہی سب خیبرپختونخوا میں ہو رہا ہوتا، تو اب تک بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا جاتا۔ مگر سندھ میں معاملہ ہمیشہ کی طرح سیاست کی نذر ہو جاتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی حکومت اور سندھ پولیس کی مجرمانہ غفلت نے عوام کو ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
کیا سندھ کے عوام کو بھی وہی تحفظ ملے گا جو دیگر صوبوں کے عوام کو دیا جاتا ہے؟ یا پھر انہیں ہمیشہ ایسے ہی ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر رکھا جائے گا؟
#عامرورائچ_منشیات_مافیا_کا_سرغنہ
عامر نواز وڑائچ پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں جب کہ اب تک کی معلومات کے مطابق معاملہ جنسی ہراسگی کا ہے حملہ آوروں میں ایڈووکیٹ کرن کامران کے بھائی کامران صدیقی اور منتظر صدیقی شامل ہیں عامر وڑائچ ذاتی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
#عامرورائچ_منشیات_مافیا_کا_سرغنہ
کراچی کی بیٹیوں کراچی بار کے غنڈوں سے بچو یہ ہوسیے کسی کو نہیں چھوڑتے...
کیا کراچی کی مائیں بہنیں کراچی بار کے غنڈوں سے محفوظ ہیں کیا بار کے عہدیداروں کی مائیں بہنیں نہیں ۔ بار کا صدر عامر نواز ماؤں بہنوں کو ہوس کا نشانہ بنارہا ہے بار خاموش ہے
#عامرورائچ_منشیات_مافیا_کا_سرغنہ
اس طرح کے کاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے
کراچی بار کے صدر "قانون کے رکھوالے یا ہوس کے پجاری؟"
جناب عامر نواز وڑائچ صاحب، صدر کراچی بار ایسوسی ایشن ہیں، ان کا منصب قابلِ رشک ہے، ان کی وہ کرسی، جو قانون و انصاف کی علامت تھی، آج شرم و حیا کے کفن میں لپٹی ہوئی نظر آتی ہے، انہوں نے وکالت کو محض ایک پیشہ نہیں، بلکہ اپنے ذاتی مفادات کا ہتھیار بنا لیا۔
جنسی ہراسمنٹ سے لے کر غیر قانونی اسلحہ کی سر عام نمائش تک، عہدے کے ناجائز استعمال سے لے کر بلیک میلنگ تک، وہ کون سا جرم ہے جو انہوں نے نہیں کیا؟
فرماتے ہیں، ہم وکیل ہیں، حق و سچ کے علمبردار! لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان جیسے کردار اس پیشے کے دامن پر بدنما دھبہ ہیں۔ جب ایک معصوم لڑکی، کرن کامران، کو اپنے دفتر بلا کر نہ صرف ہراساں کیا، بلکہ رات گزارنے کی گھٹیا فرمائش کی، معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ضمیر برسوں پہلے مردہ ہو گیا تھا ۔
یہ تو تاریخ کا المیہ ہے کہ ان جیسے مردوں کو جب اقتدار کا نشہ چڑھتا ہے، تو وہ عورت کو محض ایک کھلونا سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ لیکن افسوس! یہ تو قانون کے پاسبان تھے، جنہیں عدل کا چراغ جلانا تھا انہوں نے تو اندھیرے ہی بانٹ دیے!
ظریفی دیکھیے! یہ صاحب زخمی حالت میں ویڈیو پیغام دیتے ہیں: کہ "میں اس حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کرواؤں گا۔"
کیا شان ہے آپ کی کہ اب چونکہ دامن پر داغ ہے، اس لیے خاموشی کو اصول پسندی کا نام دے رہے ہیں؟ یہ چالاکی نہیں، بلکہ ننگی منافقت ہے۔
اگر آپ پر لڑکی کے بھائیوں کی جانب سے حملہ نہ ہوا ہوتا تو آپ اس وقت اپنی پوری وکلاء برداری کو لے کر سڑکوں پر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہوتے ۔
#BarKaGhundaAmirNawaz #بارکاغنڈہ_عامرنواز #عامرورائچ_منشیات_مافیا_کا_سرغنہ #Karachi
قادیانیوں کی عبادت گاہوں کو کھلوانے کے لئے زور لگانے والے وکیل وکلا برادری کے لئے بھی باعث شرم ہیں ۔
کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ سمیت رحمان کورائی ، بیرسٹر صلاح الدین اور جبران ناصر کو فوری گرفتار کیا جائے ۔