Muhamad Hassan Miraj retweetledi

لالہ موسیٰ کا ریلوے اسٹیشن ہو، لاہور کا ڈایئوو ٹرمینل یا ہیتھرو کا ائیر پورٹ، اداسی اور جدائی ہر جگہ اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ ملنے بچھڑنے کی دھوپ چھاؤں میں سو طرح کے خیال اور خدشے دل پر اپنا سایہ ڈالتے ہیں۔ بیٹے کا پردیس جا کر کمائی کرنا اور چیز ہے، بیٹی کا رخصت ہو کر سسرال جانا اور بات ہے۔ شوہر کی ملازمت کا سفر اور ہے بچوں کی تعلیم کا سفر اور۔ مگر ہجر فراق کے اس ساون بھادوں سے پرے، ٹکٹ بابو، اسٹیشن ماسٹر، بکنگ کلرک، کنڈکٹر ، جہاز کا عملہ اور سوہن حلوہ، سندھی اجرک، پرانے ناول، ٹھنڈے جوس،یخ بوتلیں اور باسی اخبار بیچنے والے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ آنسوؤں اور نیک تمناؤں سے بے نیاز یہ طبقہ جذبات کے سمندر میں الگ تھلگ جزیرے کی مانند ، خشک اور لاتعلق رہتا ہے۔ ان مسافروں کے جذبات کی پرواہ صرف خیرات لے کر خیر کی دعا دینے والے مستقل فقیر کرتے ہیں۔
ریل کی سیٹی۔ محمد حسن معراج۔ سنگِ میل پبلی کیشنز

اردو














