

𝗠𝗨𝗛𝗔𝗠𝗠𝗔𝗗 𝗭𝗘𝗘𝗦𝗛𝗔𝗡
4.2K posts

@MZeeshan092
Businessman with love for books.















حیران کن خبر : جسٹس محسن اختر کیانی جو لاہور ہائیکورٹ جا چکے اور جسٹس بابر ستار جو پشاور ہائیکورٹ جا چکے ان کی فیملیز جہاں اسلام آباد کی عدلیہ کی جانب سے پہلے سے دئیے جانے والے گھروں میں موجود تھیں ان سے ہائیکورٹ کی گاڑی ، ڈرائیور ، کک ، خانسامے ، مالی ، گارڈ سب اس وقت پیر کو ہی واپس بلا لے لئے گئے تھے جب دونوں ججز دو ہائیکورٹس میں جوائننگ دے رہے تھے یہ بھی اطلاعات ہیں جو گاڑیاں فیملی یا بچوں کو چھوڑنے گئیں ان کو واپسی پر لینے سے پہلے ہی رستے سے ہی ان گاڑیوں کو واپس بلا لیا گیا اچانک سب کچھ ہونے سے ہلچل مچ گئی ۔۔ کیونکہ عمومی طور پر تو ریٹائرڈ ججز کو بھی تھوڑے سے مخصوص عرصے کے لئے رکھنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن جسٹس کیانی اور جسٹس بابر تو ابھی دونوں حاضر ججز ہیں ۔۔۔ دوسری جانب سے رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائیکورٹ کا موقف ہے کہ یہ سب قانون اور ضابطے کے مطابق ہوا کیونکہ ان ججز کو دوسری ہائیکورٹ جہاں ٹرانسفر ہوئے یہی سب سہولیات ملنی ہیں جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ تمام عملہ گاڑی واپس کرکے سندھ ہائیکورٹ جوائننگ دے چکیں ہیں





@UmarCheema1 عوام کس پر یقین کرے ایسے حالات میں۔

Asim Munir is one of those rare people where everything just falls into place. Plans work out. Attention follows him. This is not solely due to hard work — he's extremely lucky too.



Pakistan is serving humanity and the world like no one else has done before. ALHAMDULILLAH

When civil and military leadership fought each other, Pakistan suffered. Now that they stand together, everyone is benefitting - Pakistan and the world alike.

Opinion: Pakistan now faces a defining test. Continuing to hold Imran Khan under contested circumstances risks deepening political divisions and damaging the country’s democratic fabric. jpost.com/opinion/articl…


ہماری جماعت نے ہمشہ پاکستان کی تعمیر کی ہے۔ آج بھی پاکستان میں جدید معیشت کا کوئی منصوبہ ہو یا پالیسی اس پر مسلم لیگ ن اور نواز شریف کی چھاپ ہے مگر ہر بار ترقی کے سفر کو سازشوں سے سبوتاژ کیا گیا۔ اگر 1990-91 کی معاشی اصلاحات جنہیں بھارت نے اپنایا انہیں دس سال کا تسلسل مل جاتا تو نواز شریف ڈاکٹر مہاتیر سے بڑے لیڈر ہوتے، اگر 2013-18 کی پالیسیوں کے تسلسل کو توڑ کر جن سے پاکستان میں توانائی کا بحران حل ہوا، دہشت گردی ختم ہوئی ایک اناڑی اور نااہل شخص کو بذریعہ آر ٹی ایس مسلط نہ کیا جاتا تو سی پیک پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہو چکا ہوتا۔آذمائش ختم ہو چکی ہوتی ۔ہمیں ملک میں سیاسی استحکام، پالیسیوں کے تسلسل اور اصلاحات کے عمل کو دل و جان سے اپنانا ہے۔