
Mulla khatri
31.7K posts



نظامی صاحب، ان تمام پیشوں میں جب ایک نوجوان داخل ہوتا ہے تو ابتدا میں وہ فیصلہ نہیں کرتا بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کو سمجھتا ہے۔ وہ سیکھتا ہے، دیکھتا ہے، سنتا ہے، تجربہ حاصل کرتا ہے، اور وقت کے ساتھ حالات، انسانوں اور نتائج کو پڑھنا سیکھتا ہے۔ یہی عمل اس کی فکری پختگی پیدا کرتا ہے۔ ووٹ دینا صرف ایک حق نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کے تعین کا فیصلہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں چالیس، پچاس برس کے لوگ بھی اکثر عقل، معلومات اور تدبر کے بجائے جذبات، نعروں اور وقتی تاثر کے تحت فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہمیں صرف عمر نہیں بلکہ پورے سماجی مزاج، سیاسی شعور اور اجتماعی رویّوں کو سامنے رکھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ ذمہ داری کس مرحلے پر دی جانی چاہیے۔ مجھے اندازہ ہے کہ موجودہ حکمران شاید اس معاملے کو تحریک انصاف یا موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہوں، لیکن یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا چند برسوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک دیرینہ سماجی اور فکری سوال ہے۔ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ آج کے نوجوان بلاشبہ ذہین ہیں، باصلاحیت ہیں، اپنی ذاتی زندگی میں بہت سے معقول فیصلے بھی کر رہے ہیں، لیکن جب معاملہ ریاست، سیاست، تاریخ، طاقت کے توازن، معیشت، عالمی اثرات اور اجتماعی نتائج جیسے پیچیدہ عوامل کا ہو تو وہاں صرف ذہانت کافی نہیں ہوتی، تجربہ بھی درکار ہوتا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ بڑے قومی فیصلوں، خصوصاً ووٹ جیسے فیصلے کے لیے، نوجوانوں کو تھوڑا مزید وقت، مشاہدہ اور فکری پختگی ملنی چاہیے، کیونکہ اسی ووٹ کی بنیاد پر ملک کی سمت، ترجیحات اور مستقبل کا تعین ہوتا ہے۔ سبوخ سید


سائفر ننگی انگریزی میں۔۔۔اچھا ہے اچھا ہے۔ یہ یوتھیے خود ہی ذلیل ہوں گے۔ھاھاھاھاھاھاھاھا 🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣


نظامی صاحب، ان تمام پیشوں میں جب ایک نوجوان داخل ہوتا ہے تو ابتدا میں وہ فیصلہ نہیں کرتا بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کو سمجھتا ہے۔ وہ سیکھتا ہے، دیکھتا ہے، سنتا ہے، تجربہ حاصل کرتا ہے، اور وقت کے ساتھ حالات، انسانوں اور نتائج کو پڑھنا سیکھتا ہے۔ یہی عمل اس کی فکری پختگی پیدا کرتا ہے۔ ووٹ دینا صرف ایک حق نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کے تعین کا فیصلہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں چالیس، پچاس برس کے لوگ بھی اکثر عقل، معلومات اور تدبر کے بجائے جذبات، نعروں اور وقتی تاثر کے تحت فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہمیں صرف عمر نہیں بلکہ پورے سماجی مزاج، سیاسی شعور اور اجتماعی رویّوں کو سامنے رکھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ ذمہ داری کس مرحلے پر دی جانی چاہیے۔ مجھے اندازہ ہے کہ موجودہ حکمران شاید اس معاملے کو تحریک انصاف یا موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہوں، لیکن یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا چند برسوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک دیرینہ سماجی اور فکری سوال ہے۔ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ آج کے نوجوان بلاشبہ ذہین ہیں، باصلاحیت ہیں، اپنی ذاتی زندگی میں بہت سے معقول فیصلے بھی کر رہے ہیں، لیکن جب معاملہ ریاست، سیاست، تاریخ، طاقت کے توازن، معیشت، عالمی اثرات اور اجتماعی نتائج جیسے پیچیدہ عوامل کا ہو تو وہاں صرف ذہانت کافی نہیں ہوتی، تجربہ بھی درکار ہوتا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ بڑے قومی فیصلوں، خصوصاً ووٹ جیسے فیصلے کے لیے، نوجوانوں کو تھوڑا مزید وقت، مشاہدہ اور فکری پختگی ملنی چاہیے، کیونکہ اسی ووٹ کی بنیاد پر ملک کی سمت، ترجیحات اور مستقبل کا تعین ہوتا ہے۔ سبوخ سید










نظامی صاحب، ان تمام پیشوں میں جب ایک نوجوان داخل ہوتا ہے تو ابتدا میں وہ فیصلہ نہیں کرتا بلکہ فیصلہ سازی کے عمل کو سمجھتا ہے۔ وہ سیکھتا ہے، دیکھتا ہے، سنتا ہے، تجربہ حاصل کرتا ہے، اور وقت کے ساتھ حالات، انسانوں اور نتائج کو پڑھنا سیکھتا ہے۔ یہی عمل اس کی فکری پختگی پیدا کرتا ہے۔ ووٹ دینا صرف ایک حق نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کے تعین کا فیصلہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں چالیس، پچاس برس کے لوگ بھی اکثر عقل، معلومات اور تدبر کے بجائے جذبات، نعروں اور وقتی تاثر کے تحت فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہمیں صرف عمر نہیں بلکہ پورے سماجی مزاج، سیاسی شعور اور اجتماعی رویّوں کو سامنے رکھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ ذمہ داری کس مرحلے پر دی جانی چاہیے۔ مجھے اندازہ ہے کہ موجودہ حکمران شاید اس معاملے کو تحریک انصاف یا موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھ رہے ہوں، لیکن یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا چند برسوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک دیرینہ سماجی اور فکری سوال ہے۔ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ آج کے نوجوان بلاشبہ ذہین ہیں، باصلاحیت ہیں، اپنی ذاتی زندگی میں بہت سے معقول فیصلے بھی کر رہے ہیں، لیکن جب معاملہ ریاست، سیاست، تاریخ، طاقت کے توازن، معیشت، عالمی اثرات اور اجتماعی نتائج جیسے پیچیدہ عوامل کا ہو تو وہاں صرف ذہانت کافی نہیں ہوتی، تجربہ بھی درکار ہوتا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ بڑے قومی فیصلوں، خصوصاً ووٹ جیسے فیصلے کے لیے، نوجوانوں کو تھوڑا مزید وقت، مشاہدہ اور فکری پختگی ملنی چاہیے، کیونکہ اسی ووٹ کی بنیاد پر ملک کی سمت، ترجیحات اور مستقبل کا تعین ہوتا ہے۔ سبوخ سید

اگر کوئی شخص صرف دو سال بعد پشاور آئے تو وہ چونک جائے گا کہ صرف اتنی کم مدت میں پشاور بہت تیزی سے بدل گیا ہے۔ سب سے زیادہ حیرت پختون خواتین کو کنزرویٹیو ماحول میں سکوٹر چلاتے دیکھ کر ہوتی ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ خودمختاری تک کا یہ سفر کتنی تیزی سے پختون خواتین نے طے کیا ہے۔ لکھ کر لے لو ابھی جو یہ تعداد اکا دکا ہے بہت جلد سینکڑوں اور ہزاروں تک پہنچنے والی ہے۔ کیونکہ بہت بڑی سہولت ہے۔ جیب پر بوجھ کم ہوگا۔ گھر کی گاڑی کا استعمال کم ہوگا۔ سہولت کے ساتھ کام ہوں گے۔ سڑکوں پر رش اور ماحولیاتی آلودگی نہیں بڑھے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان الیکٹرک سکوٹرز کو خواتین روایتی لباس میں رہ کر چلا سکتی ہیں۔



اٹھائیسویں آئینی ترمیم میں ووٹر کی عمر 25 سال کرنے کی تجویز ہے ،کیونکہ الیکشن لڑنے کی عمر کی حد 25 سال ہے، رانا ثناء اللہ







یہ خاصہ صرف پی ٹی آئی کے پاس ہی ہے کہ ایک ہیروئن فروش کو ہیروئین بنادے۔ پنکی بہت دور اندیش نکلی۔



اور یہ دونوں آج کل صحافت کا سرٹیفیکیٹ بانٹتے نظر آئیں گے ان کی صحافت کی کل اوقات اس ویڈیو میں نظر آ رہی ہے


آئی ایم ایف بالکل صحیح کہتا ہے کہ پاکستان میں پالیسیاں اشرافیہ کو سہولت دینے کیلئے بنائی جاتی ہیں اور اسکا ثبوت حکومت نے جیٹ فیول کو سو روپے سے زیادہ سستا کر کہ دے دیا۔۔کتنے لوگ اور کونسے لوگ ہوائی سفر کرتے ہیں اس ملک کی ایلیٹ ہی ہوائی سفر کر سکتی ہے۔حکمرانوں کے دل میں عام پاکستانیوں کیلئے کوئی جگہ یا رحم نہیں ہے۔اس لیے اشرافیہ کا فیول 320 روپے اور عام پاکستانی کا پیٹرول اور ڈیزل 410 روپے ہے۔





