Muhammad Imran
2.4K posts

Muhammad Imran
@Muhamma63712780
Teacher
Bahawalpur, Pakistan Katılım Ağustos 2019
768 Takip Edilen302 Takipçiler
Muhammad Imran retweetledi

چک دے پاکستان!!
آج کا دن پاکستان کی تاریخ کے تین بڑے دنوں میں سے ایک ہے۔
پہلا دن 28 مئی 1998 تھی جب چاغی میں دھماکہ ہوا اور پاکستان ایٹمی طاقت بنا۔ دوسرا دن مئی 2025 میں آیا جب بھارت کے خلاف پاکستانی فوج نے وہ دفاع کیا جس نے ثابت کیا کہ یہ ملک اپنی سرزمین کی حفاظت کر سکتا ہے۔ تیسرا دن آج ہے جب پاکستان نے لاکھوں ایرانیوں کو عفریت سے بچایا اور دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کو دو ہفتے کی باعزت مہلت دلوائی۔
مگر یہ مضمون ایٹمی دھماکے کے بارے میں نہیں ہے۔ فوجی دفاع کے بارے میں نہیں ہے۔ جنگ بندی کے بارے میں بھی نہیں ہے۔ یہ مضمون ایک اور چیز کے بارے میں ہے جو ایٹمی بم سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور فوجی دفاع سے بھی زیادہ اہم۔
برانڈ پاکستان۔
میں چھ براعظموں پر واقع درجنوں ممالک میں جا چکا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستانی پاسپورٹ دکھانے پر کیا ہوتا ہے۔ میں نے وہ نظریں دیکھی ہیں جو ائرپورٹ پر پاکستانی پاسپورٹ دیکھ کر بدلتی ہیں۔ میں نے وہ اضافی سوالات سنے ہیں جو صرف پاکستانیوں سے پوچھے جاتے ہیں۔ میں نے وہ لمحات گزارے ہیں جب آپ کسی بین الاقوامی کانفرنس میں کھڑے ہوں اور سامنے والا آپ کا ملک سن کر بم دھماکوں کے بارے میں بات شروع کر دے۔
ڈیڑھ کروڑ پاکستانی دنیا بھر میں بکھرے ہوئے ہیں۔ دنیا کا چوتھا یا پانچواں بڑا تارکین وطن کا گروہ۔ لندن سے دبئی تک، نیویارک سے سڈنی تک، جدہ سے ٹورنٹو تک۔ یہ لوگ محنت کرتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں، کاروبار چلاتے ہیں، ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، اساتذہ ہیں، ٹیکنالوجی ماہر ہیں۔ مگر جب وہ اپنا ملک بتاتے ہیں تو سامنے والے کے ذہن میں پہلی تصویر کیا آتی ہے؟
بم دھماکہ۔ خودکش حملہ۔ اسامہ بن لادن۔ دہشت گردی کا برآمد کنندہ۔ ناکام ریاست۔
یہ وہ برانڈ ہے جو بیس تیس سالوں میں بنا ہے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کا نام دہشت گردی کے ساتھ ایسے جڑ گیا جیسے کوئی مستقل داغ ہو۔ ہر بین الاقوامی خبر میں پاکستان کا ذکر آتا تھا تو ساتھ "ایٹمی ہتھیار"، "انتہا پسندی"، "طالبان" کے الفاظ ہوتے تھے۔ سی این این پر، بی بی سی پر، الجزیرہ پر، ہر جگہ ایک ہی تصویر۔ دھواں اٹھتی عمارتیں۔ بارود سے بھرے ٹرک۔ چیخیں اور سائرن۔
جو لوگ پاکستان کے اندر رہتے ہیں انھیں اس تکلیف کا اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ تکلیف صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو باہر رہتے ہیں۔ جب آپ لندن میں ٹیکسی ڈرائیور سے ملتے ہیں اور وہ پوچھتا ہے "کہاں سے ہو؟" اور آپ کہتے ہیں "پاکستان" اور اس کی آنکھوں میں وہ جھجک آتی ہے جو ہزار الفاظ سے بھاری ہے۔ جب آپ کا بچہ سکول میں پوچھتا ہے "ابو ہمارا ملک خراب کیوں ہے؟" اور آپ کے پاس جواب نہیں ہوتا۔ جب آپ کسی کاروباری ملاقات میں جاتے ہیں اور سامنے والا "رسک پروفائل" کی بات کرتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ کے ملک کی بات کر رہا ہے۔
برانڈنگ کیا ہوتی ہے؟ برانڈنگ وہ تصویر ہے جو آپ کا نام سنتے ہی ذہن میں بنتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ سنتے ہیں تو چاکلیٹ اور گھڑیاں یاد آتی ہیں۔ جاپان سنتے ہیں تو ٹیکنالوجی اور نظم و ضبط۔ اٹلی سنتے ہیں تو فیشن اور کھانا۔ پاکستان سنتے ہیں تو کیا یاد آتا ہے؟
یہی وہ زخم ہے جو بیرون ملک بسنے والا ہر پاکستانی ہر روز برداشت کرتا ہے اور جس کا کوئی علاج کسی بجٹ میں نہیں ہوتا۔
اب دیکھیں کہ آج کیا ہوا ہے۔
آج پاکستان کا نام بم دھماکے کے ساتھ نہیں، امن کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے ساتھ نہیں، سفارتکاری کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ ناکامی کے ساتھ نہیں، قیادت کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ یورپی کونسل کی صدر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ سابق اطالوی وزیر اعظم نے پاکستان کے لیے نوبیل انعام کی بات چھیڑی ہے۔ رائٹرز نے نکسن کے چین دورے سے موازنہ کیا ہے۔ دنیا بھر کی زبانوں میں، عربی میں، فارسی میں، فرانسیسی میں، جرمن میں، ہندی میں، چینی میں، ہر جگہ آج ایک ہی بات ہو رہی ہے: پاکستان نے جنگ بندی کروائی۔
اس کی مالیت کا اندازہ لگائیں۔
برانڈنگ کی دنیا میں ایک اصول ہے: "earned media value"۔ جب کوئی خبر بغیر اشتہاری خرچے کے دنیا بھر میں پھیل جائے تو اس کی قیمت کا حساب لگایا جاتا ہے۔ آج پاکستان کا نام نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ٹیلی گراف، بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ، رائٹرز، اے پی سمیت سینکڑوں عالمی ذرائع ابلاغ میں مثبت تناظر میں آیا ہے۔ یہ اربوں ڈالر کی مالیت کا برانڈ ایکسپوژر ہے جو کوئی اشتہاری مہم نہیں خرید سکتی۔
کولمبیا کی مثال دیکھیں۔ وہاں بہت دفعہ گیا ہوں. بیس سال پہلے کولمبیا کا نام سنتے ہی منشیات اور پابلو ایسکوبار یاد آتا تھا۔ آج کولمبیا سیاحت کا مرکز ہے۔ تبدیلی میں دو دہائیاں لگیں اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کی مثال دیکھیں۔ پچاس سال پہلے صحرا تھا۔ برانڈنگ نے دبئی کو دنیا کا مرکز بنا دیا۔ رواندا کی
اردو

بیدہ الخیر
Khalid Mehmood Abbasi@khalidmabbasi
@mkw72 @realrazidada جو کچھ ظاہری طور پر ہو رہا ہوتا ہے وہ تاریخ میں لکھا جاتا ہے۔جو فلسفہ تاریخ ہوتا ہے اسے کوئی ٹائن بی بیان کرتا ہے لیکن جو حکمت خدا وندی ہوتی ہے وہ الگ عمل ہے۔اس کیلئے سورہ یوسف کے واقعات یا خضر و موسی کی ملاقات کے واقعات توجہ کے قابل ہیں
اردو
Muhammad Imran retweetledi

جوں جوں عمر بڑھتی جا رہی ہے، توں توں سمجھ آ رہی ہے کہ بہت کچھ ایسا ہے جو واقعتا سمجھ میں نہیں آتا۔
Rizwan Razi™@realrazidada
جب سے ہم حرمین شریفین کے چوکیدار ہوئے، میرے رب نے عزتیں اور رفعتیں ہمارے قدموں میں ڈھیر کر دیں۔
اردو
Muhammad Imran retweetledi

@iamowaisnoorani اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
اردو
Muhammad Imran retweetledi
Muhammad Imran retweetledi
Muhammad Imran retweetledi
Muhammad Imran retweetledi
Muhammad Imran retweetledi
Muhammad Imran retweetledi
Muhammad Imran retweetledi

@Asadrchaudhry @INSTANewsTv7 اس جنگ کا ہدف صرف ایران نہیں تھا۔ جو سفارتی کوشش کررہے ہیں انھیں بھی اس کا احساس ہے۔ جنگ بندی ہو بھی جائے تو غاصب کے عزائم کسی اور صورت میں سامنے آئیں گے۔ الا یہ کہ اسرائیلی لابی کا خطے سے خاتمہ ہو۔ امریکہ اپنی سپر پاور ہونے سے سرنڈر کرجائے۔ اور یہ نوشتہء دیوار ہے
اردو
Muhammad Imran retweetledi
Muhammad Imran retweetledi
Muhammad Imran retweetledi
Muhammad Imran retweetledi

خبردار ہوشیار، امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے Temple Mount یعنی مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کی سازش بے نقاب کر دی اس سازش کے تحت اسرائیلی خودمسجد اقصیٰ پر حملہ کرینگے اورالزام ایران پر لگا دینگے پھر عرب ممالک ایران پر حملہ کر دینگے OIC کو اس سازش کا نوٹس لینا چاہیئے
#SaveAlQuds
اردو
Muhammad Imran retweetledi










