Mureed Bugti Baloch
2.1K posts

Mureed Bugti Baloch
@MureedBugti_
Journalist from Balochistan



تازه: له دښمن څخه د نیول شوو پوستو شمیر ۱۵ ته ورسید، ګڼ عسکر وژل شوي، یو شمیر یې ژوندي هم نیول شوي دي. تازہ: دشمن سے قبضے میں لی گئی چوکیوں کی تعداد ۱۵ تک پہنچ گئی ہے، متعدد فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کچھ کو زندہ بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

We do not negotiate with terrorists even if they are our soldiers. Soldier's job entails all risks ie being martyred and even captured beyound enemey lines. I still remember how 350000 Afghan Army surrendered to rag-tag Taliban. Period

جب جرنیلوں نے اپنے ہی یرغمال فوجیوں کو ماننے سے انکار کر دیا تو BLA نے ایک اور ویڈیو شئیر کی ہے جس میں پاکستانی فوجی اپنا ایڈیس اور فوجی کارڈز دکھا کر اپنی رہائی کے لیے اپنے ادارے سے اقدامات کی اپیل کر رہے ہیں

ملیں ثنا بلوچ سے، جو دو دہائیوں سے بلوچستان کے پسماندہ ترین ضلع خاران کی نمائندگی کرتے ہوئے اسمبلی اور ایوانوں میں بیٹھے ہیں۔ افسوس کہ ان دو دہائیوں میں بھی خاران آج تک پسماندہ ہے۔ آج بھی خاران میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ آج بھی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ اور جو تھوڑا بہت کام ہو رہا ہے، وہ بھی ایف سی بلوچستان اپنے فنڈز سے کروا رہی ہے۔ سمجھ نہیں آتی یہ قوم پرست رہنما آخر کس بلوچ کی نمائندگی کرتے ہے ؟ انہی بلوچ کے نام پر ایوانوں میں بیٹھے ہوتے ہے اور انہی کے فنڈز کھا کر واپس نام نہاد حقوق نا ملنے کا پروپیگنڈہ کرتے ہے ۔ ثناء بلوچ صاحب اگر آپکا کاتہ کھولا جائے۔ اور اسکے فنڈز بلوچستان پر لگائے جاتے تو آج پورا خاران نا صیح تیس فیصد تو تبدیلی آجاتی ۔ #Balochistan #BalochistanHaiPakistan


تانیہ صاحبہ پاکستان میں سیاسی حالات کے بدلنے میں دیر نہیں لگتی، دعا کریں مجھ سے اسکرین شاٹ ڈلیٹ ہونے تک حالات نا بدلے وگرنا آپ سے آپکے ہی کورٹ میں ملاقات ہوگی اور جو بکواس آپ کر رہی ہے اس کے لئے بغیر ثبوت دئیے آپکو بخشا نہیں جائے گا ویسے میرے پوسٹ میں نا میں نے کسی پنجابی کی عزت پر بات کی ہے نا ہی کسی کے لبرل ہونے پر کوئی سوال۔ میں نے ایک نو آبادیاتی روئے پر تنقید کی ہے، اور اگر آپکے خیال میں یہ غلط بات تھی تو منطق کے ساتھ سیاسی مکالمہ بڑھاتے۔ ویسے ہر سیاسی مکالمے میں عزتوں پہ بات لانے والے خود اپنے ہی کردار کا حوالہ دے جاتے ہے۔

اگر گھر کا ایک فرد دہشتگرد ہے یا دہشتگردوں کا سہولت کار ہے تو ریاست کو چاہئے کہ خاندان کے خاندان اٹھا لے,کچھ جو بیرون ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا پر دہشتگردوں کی سہولت کاری کر رہے ہے یا ملک میں انتشار پہلا رہے ہے ان کے خاندان کے خاندان اٹھا لے ریاست کیوں نرم دلی کر رہی ہے,ان کے گھر والے ہی ان کے سہولت کار ہے.

پچھلے چوبیس گھنٹے میں صوبہ خیبر میں مختلف دہشت گردی اورایک مبینہ خودکش حملے میں دو درجن سے زائد معصوم جانیں چلی گئی ہیں، انمیں سولہ سیکورٹی اہلکار بھی شامل تھے، اگرچے امن و عامہ کی صورتحال کنٹرول کرنا اولین صوبائی ذمہ داری ہے، لیکن سنٹر بھی خاموش ہے اور صوبائی حکومت بھی اپنی مستی میں، اس سارے عمل میں صرف صرف عام عوام انتہائی تکلیف میں ہیں، زرا سوچئے






Master and His Puppets

پاکستانی ریاست کی جانب سے بلوچ ریپبلکن پارٹی کے صدر اور بلوچ رہنما نواب براہمدغ بگٹی اور دیگر بلوچ سیاسی رہنماؤں کے سروں کی قیمت مقرر کرنا ایک دہشت گردانہ اور جارحانہ اقدام ہے۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ ریاست اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے دبانے، خاموش کرانے اور خوف پھیلانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ سیاسی اختلاف کو انعامی فہرستوں اور دھمکیوں کے ذریعے کچلنے کی کوشش دراصل کمزوری اور بوکھلاہٹ کا اظہار ہے۔ یہ اقدام بلوچستان کے حالات کو مزید سنگین بنائے گا۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی اور ماورائے قانون کارروائیاں پہلے ہی سنگین انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں سروں کی قیمت مقرر کرنا ریاستی جبر کو مزید کھلے عام شکل دینا ہے۔ اس سے قبل ریاستی ادارے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مختلف جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ڈیتھ اسکواڈ تشکیل دے کر سیاسی کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اب ریاست خود مکمل طور پر ایک ڈیتھ اسکواڈ کی شکل اختیار کر چکی ہے جو سروں کی قیمت مقرر کر کے سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا کھلم کھلا اعلان کر رہی ہے۔ ایسے اقدامات ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس خطرناک پیش رفت کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور اس طرزِ عمل کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہیے۔

بلوچستان حکومت نے حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی کے سر کی قیمت 10،10 لاکھ، کالعدم بی ایل اے کے بشیر زیب اور رحمان گل کے 25، 25 کروڑ روپے مقرر کردی dailyintekhab.pk/archives/544585
