Tariq Awan

8.7K posts

Tariq Awan banner
Tariq Awan

Tariq Awan

@PMScivilservant

Author https://t.co/RpPV8sgE6Q Civil Servant President PMS Officers Association, Pakistan. @civil_pakistan (Administrative Federalism) Mianwali

Lahore, Pakistan Katılım Aralık 2019
113 Takip Edilen15.4K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Tariq Awan
Tariq Awan@PMScivilservant·
پاکستان میں گورننس اصلاحات پر میرا خصوصی کام اب چار اہم کتابوں کی صورت میں پاکستان بھر کے بک اسٹورز پر دستیاب ہے۔ 1۔ Fixing the Executive Branch of Government 2۔ Fixing the Legislative Branch of Government 3۔ Fixing the Judicial Branch of Government 4۔ The Bureaucratic Coup
Tariq Awan tweet mediaTariq Awan tweet mediaTariq Awan tweet mediaTariq Awan tweet media
3
5
39
1.4K
Tariq Awan retweetledi
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
پنجابی سیاسی شعور وفاق پاکستان کو واحدانی ریاست بنانے کے در پر کیوں رہتا ہے، جب کہ باقی صوبے واحدانی ریاست کو کسی صورت برداشت نہی کریں گے؟ ریپبلک پالیسی کا تجزیہ ویڈیو میں دیکھیں ۔
اردو
0
1
0
56
Tariq Awan
Tariq Awan@PMScivilservant·
Skilled youth shouldn't join. It's unfortunate but a sad reality that they may settle abroad on first priority. I never endorsed it but it's a sad reality now. If you don't have personal money, you can't survive on salary. It is an argument but skilled youth shouldn't join it.
Saad Iqbal@saadiqbal_10

@PMScivilservant What should we do then? Stay slaves to the elite who will push their kids to the civil service as well? Or die with the miseries of life envying a better future?

English
0
1
0
71
Tariq Awan
Tariq Awan@PMScivilservant·
I will ask CSS/PMS aspirants to read my book The Bureaucratic Coup. They may change their decision to be civil servants. I believe skilled youth should not join civil service.
Tariq Awan tweet media
English
4
2
25
830
Tariq Awan
Tariq Awan@PMScivilservant·
پاکستان میں گورننس اصلاحات پر میرا خصوصی کام اب چار اہم کتابوں کی صورت میں پاکستان بھر کے بک اسٹورز پر دستیاب ہے۔ 1۔ Fixing the Executive Branch of Government 2۔ Fixing the Legislative Branch of Government 3۔ Fixing the Judicial Branch of Government 4۔ The Bureaucratic Coup
Tariq Awan tweet mediaTariq Awan tweet mediaTariq Awan tweet mediaTariq Awan tweet media
3
5
39
1.4K
Tariq Awan retweetledi
Tariq Awan
Tariq Awan@PMScivilservant·
میں آج Vanguard Books گیا تھا، اور وہاں کے مینیجر نے مجھے بتایا کہ میری کتاب The Bureaucratic Coup سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔ بطور سول سرونٹ، میں نے کوشش کی ہے کہ بیوروکریسی کی اصل ساخت سامنے لائی جائے۔ آپ یہ کتاب یہاں سے خرید سکتے ہیں: vanguardbooks.com/products/the-b…
اردو
8
4
48
3.5K
Sapiens
Sapiens@Muhamma44996643·
@PMScivilservant Sir I m aspirant of 2027 this is my last attempt, I can't afford to buy it but I want to read it.Please Gant me 1 piece of your precious book as charity gift?
English
1
0
0
6
Tariq Awan
Tariq Awan@PMScivilservant·
Worth reading. These political executives, even when the military assumes the role of political executive by holding the chain of power, change but the bureaucracy does not. King is dead. Long live the king!
Hammad Ahmad@hammad_madyy

1/11 @PMScivilservant Military combined with political class are often considered the root cause of democratic and institutional failure of Pakistan. Analysts often overlook a key player, civil bureaucracy, which has designed and still perpetuate the overdeveloped state

English
1
0
11
773
Tariq Awan
Tariq Awan@PMScivilservant·
پاکستان کے سب سے ذیادہ حساس موضوع فیڈرلزم اور پنجاب کے لاشعوری واحدانی نظریے پر میرا ویلاگ!
Republic Policy@republicpolicy

پنجاب کا سیاسی شعور اور پاکستانی وفاق کی بقا کا سوال! پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی اور نفسیاتی مسئلہ شاید یہ نہیں کہ یہاں مختلف قومیں آباد ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی قوم، یعنی پنجابی قوم، اپنی قومی شناخت کے معاملے میں سب سے زیادہ غیر حساس ہو چکی ہے۔ اگر پاکستان کی مختلف اکائیوں اور قوموں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو واضح محسوس ہوتا ہے کہ سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، سرائیکی، گلگتی یا بنگالی اپنی قومی شناخت، زبان، تاریخ اور جغرافیے کے ساتھ ایک جذباتی اور سیاسی تعلق رکھتے ہیں، جبکہ پنجابی قوم کا اجتماعی شعور اپنی شناخت کے معاملے میں نسبتاً کمزور بلکہ بعض اوقات معدوم دکھائی دیتا ہے۔ یہی خلا پاکستان کی وفاقی سیاست کو مسلسل بحران میں مبتلا رکھے ہوئے ہے۔ یہ مسئلہ محض ثقافتی نہیں بلکہ تاریخی، سیاسی اور نفسیاتی نوعیت کا ہے۔ پنجاب کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہاں مسلمان، سکھ اور ہندو پنجابی ایک طویل سیاسی کشمکش میں شریک رہے ییں۔ پنجاب میں قومیت کی بنیاد زبان یا جغرافیہ نہیں بن سکی، بلکہ مذہب سیاسی شناخت کی بنیاد بنتا گیا۔ مسلمان پنجابیوں نے اپنی سیاسی بقا اسلام کے تصور میں تلاش کی، سکھوں نے سکھ مذہبی شناخت میں، جبکہ ہندو پنجابیوں نے اپنی مذہبی و تہذیبی شناخت میں۔ نتیجتاً پنجابیت ایک مکمل سیاسی فلسفے کے طور پر کبھی ترقی نہ کر سکی۔ یہی وجہ تھی کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت پنجابی مسلمان اپنی قومی شناخت سے زیادہ اسلامی شناخت کے ساتھ وابستہ تھے اور ایسا ہی ہندو پنجابی اور سکھ پنجابی اپنے مذہب کے ساتھ وابستہ تھے۔ پاکستان بننے کے بعد یہ رجحان مزید گہرا ہوتا گیا۔ پنجابی مسلمان اشرافیہ، خصوصاً بیوروکریسی، ملٹری، عدلیہ، اکیڈمیا اور ٹیکنوکریسی میں آگے بڑھی، مگر ان کے سیاسی شعور میں وفاقیت، قومی تنوع اور شناختی حساسیت کا عنصر کمزور رہا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں؛ پنجاب میں نسبتاً بہتر تعلیمی مواقع، نوآبادیاتی دور کی انتظامی ترجیحات، اور ریاستی طاقت کے مراکز کا پنجاب کے قریب ہونا ان میں شامل تھے۔ تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ریاستی طاقت پر غالب آنے والا یہی پنجابی ذہن پاکستان کو ایک وفاقی ریاست کے بجائے ایک مرکزیت پسند ریاست کے طور پر دیکھنے لگا۔ پنجابی اشرافیہ نے شاید یہ تصور قائم کر لیا کہ تمام قومیں آہستہ آہستہ اپنی الگ شناختیں ترک کر کے ایک یکساں “پاکستانی قوم” میں تبدیل ہو جائیں گی۔ مگر دنیا کی کوئی بھی کامیاب فیڈریشن اس اصول پر قائم نہیں ہوتی۔ امریکہ، کینیڈا، بھارت، سوئٹزرلینڈ یا بیلجیم میں ریاستی شہریت مشترک ہوتی ہے، لیکن قومیتی شناختیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔ پاکستانی ہونا ایک آئینی اور ریاستی شناخت ہے، مگر سندھی، بلوچ، پشتون، پنجابی یا کشمیری ہونا ایک تاریخی اور قومی حقیقت ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان میں یہ تجربہ سب سے پہلے بنگال میں ناکام ہوا۔ مشرقی پاکستان کی اکثریت نے جب اپنی زبان، ثقافت اور سیاسی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا تو اسے ریاستی بیانیے کے خلاف سمجھا گیا۔ اردو کو واحد قومی زبان بنانے کی کوشش نے بحران کو مزید گہرا کیا، حالانکہ اردو پاکستان کی کسی بڑی اکائی کی مادری زبان نہیں تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بنگالی قومیت نے خود کو ریاست سے الگ محسوس کیا اور بالآخر پاکستان ٹوٹ گیا۔ لیکن پنجاب نے اردو کو پنجابی کی جگہ نافذ کردیا، کیونکہ پنجابی مسلمانوں کے لاشعور میں پنجابی قومیت کا تصور سرے سے بڑھوتری نہ پا سکا۔ ہاں، مالی مفادات تک پنجابی پنجابیت کا استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ بدقسمتی سے اس تاریخی سانحے سے بھی مکمل سبق نہیں سیکھا گیا۔ آج بھی سندھ میں شدید احساسِ محرومی موجود ہے، بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں موجود ہیں، خیبر پختونخوا میں شناخت اور وسائل کے سوالات موجود ہیں، جبکہ گلگت بلتستان اور کشمیر کی اپنی سیاسی پیچیدگیاں ہیں۔ ان تمام بحرانوں کی جڑ میں صرف وسائل کی تقسیم نہیں بلکہ شناخت کا سوال بھی شامل ہے۔ پنجابی ذہن کی سب سے بڑی پیچیدگی یہ ہے کہ وہ خود اپنی شناخت کے معاملے میں ابہام کا شکار ہے۔ پنجابی زبان، تاریخ، ثقافت اور جغرافیے کے ساتھ وہ جذباتی تعلق پیدا نہیں ہو سکا جو دوسری قومیتوں میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجابی سیاسی شعور اکثر اپنی ہی تاریخ سے کٹ جاتا ہے۔ پنجاب کے انقلابی کردار، صوفی روایت، ثقافتی ہیروز اور تاریخی جدوجہد اجتماعی قومی شعور کا حصہ نہیں بن پاتے، جبکہ مذہبی یا بیرونی تاریخی حوالہ جات زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً پنجابی اشرافیہ ایک ایسی ریاستی نفسیات پیدا کرتی ہے جو شناختی تنوع کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اردو
0
0
8
446
Tariq Awan retweetledi
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
پاکستان میں گورننس اصلاحات پر ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کا خصوصی کام اب چار اہم کتابوں کی صورت میں پاکستان بھر کے بک اسٹورز پر دستیاب ہے۔ 1۔ Fixing the Executive Branch of Government 2۔ Fixing the Legislative Branch of Government 3۔ Fixing the Judicial Branch of Government 4۔ The Bureaucratic Coup یہ پاکستان میں گورننس اصلاحات پر پہلا جامع فکری و علمی فریم ورک ہے۔
Republic Policy tweet mediaRepublic Policy tweet mediaRepublic Policy tweet mediaRepublic Policy tweet media
1
4
14
615
Tariq Awan retweetledi
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
پنجاب کا سیاسی شعور اور پاکستانی وفاق کی بقا کا سوال! پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی اور نفسیاتی مسئلہ شاید یہ نہیں کہ یہاں مختلف قومیں آباد ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی قوم، یعنی پنجابی قوم، اپنی قومی شناخت کے معاملے میں سب سے زیادہ غیر حساس ہو چکی ہے۔ اگر پاکستان کی مختلف اکائیوں اور قوموں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو واضح محسوس ہوتا ہے کہ سندھی، بلوچ، پشتون، کشمیری، سرائیکی، گلگتی یا بنگالی اپنی قومی شناخت، زبان، تاریخ اور جغرافیے کے ساتھ ایک جذباتی اور سیاسی تعلق رکھتے ہیں، جبکہ پنجابی قوم کا اجتماعی شعور اپنی شناخت کے معاملے میں نسبتاً کمزور بلکہ بعض اوقات معدوم دکھائی دیتا ہے۔ یہی خلا پاکستان کی وفاقی سیاست کو مسلسل بحران میں مبتلا رکھے ہوئے ہے۔ یہ مسئلہ محض ثقافتی نہیں بلکہ تاریخی، سیاسی اور نفسیاتی نوعیت کا ہے۔ پنجاب کی تاریخ کو دیکھا جائے تو یہاں مسلمان، سکھ اور ہندو پنجابی ایک طویل سیاسی کشمکش میں شریک رہے ییں۔ پنجاب میں قومیت کی بنیاد زبان یا جغرافیہ نہیں بن سکی، بلکہ مذہب سیاسی شناخت کی بنیاد بنتا گیا۔ مسلمان پنجابیوں نے اپنی سیاسی بقا اسلام کے تصور میں تلاش کی، سکھوں نے سکھ مذہبی شناخت میں، جبکہ ہندو پنجابیوں نے اپنی مذہبی و تہذیبی شناخت میں۔ نتیجتاً پنجابیت ایک مکمل سیاسی فلسفے کے طور پر کبھی ترقی نہ کر سکی۔ یہی وجہ تھی کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت پنجابی مسلمان اپنی قومی شناخت سے زیادہ اسلامی شناخت کے ساتھ وابستہ تھے اور ایسا ہی ہندو پنجابی اور سکھ پنجابی اپنے مذہب کے ساتھ وابستہ تھے۔ پاکستان بننے کے بعد یہ رجحان مزید گہرا ہوتا گیا۔ پنجابی مسلمان اشرافیہ، خصوصاً بیوروکریسی، ملٹری، عدلیہ، اکیڈمیا اور ٹیکنوکریسی میں آگے بڑھی، مگر ان کے سیاسی شعور میں وفاقیت، قومی تنوع اور شناختی حساسیت کا عنصر کمزور رہا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں؛ پنجاب میں نسبتاً بہتر تعلیمی مواقع، نوآبادیاتی دور کی انتظامی ترجیحات، اور ریاستی طاقت کے مراکز کا پنجاب کے قریب ہونا ان میں شامل تھے۔ تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ریاستی طاقت پر غالب آنے والا یہی پنجابی ذہن پاکستان کو ایک وفاقی ریاست کے بجائے ایک مرکزیت پسند ریاست کے طور پر دیکھنے لگا۔ پنجابی اشرافیہ نے شاید یہ تصور قائم کر لیا کہ تمام قومیں آہستہ آہستہ اپنی الگ شناختیں ترک کر کے ایک یکساں “پاکستانی قوم” میں تبدیل ہو جائیں گی۔ مگر دنیا کی کوئی بھی کامیاب فیڈریشن اس اصول پر قائم نہیں ہوتی۔ امریکہ، کینیڈا، بھارت، سوئٹزرلینڈ یا بیلجیم میں ریاستی شہریت مشترک ہوتی ہے، لیکن قومیتی شناختیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔ پاکستانی ہونا ایک آئینی اور ریاستی شناخت ہے، مگر سندھی، بلوچ، پشتون، پنجابی یا کشمیری ہونا ایک تاریخی اور قومی حقیقت ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان میں یہ تجربہ سب سے پہلے بنگال میں ناکام ہوا۔ مشرقی پاکستان کی اکثریت نے جب اپنی زبان، ثقافت اور سیاسی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا تو اسے ریاستی بیانیے کے خلاف سمجھا گیا۔ اردو کو واحد قومی زبان بنانے کی کوشش نے بحران کو مزید گہرا کیا، حالانکہ اردو پاکستان کی کسی بڑی اکائی کی مادری زبان نہیں تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بنگالی قومیت نے خود کو ریاست سے الگ محسوس کیا اور بالآخر پاکستان ٹوٹ گیا۔ لیکن پنجاب نے اردو کو پنجابی کی جگہ نافذ کردیا، کیونکہ پنجابی مسلمانوں کے لاشعور میں پنجابی قومیت کا تصور سرے سے بڑھوتری نہ پا سکا۔ ہاں، مالی مفادات تک پنجابی پنجابیت کا استعمال کرتے چلے آئے ہیں۔ بدقسمتی سے اس تاریخی سانحے سے بھی مکمل سبق نہیں سیکھا گیا۔ آج بھی سندھ میں شدید احساسِ محرومی موجود ہے، بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکیں موجود ہیں، خیبر پختونخوا میں شناخت اور وسائل کے سوالات موجود ہیں، جبکہ گلگت بلتستان اور کشمیر کی اپنی سیاسی پیچیدگیاں ہیں۔ ان تمام بحرانوں کی جڑ میں صرف وسائل کی تقسیم نہیں بلکہ شناخت کا سوال بھی شامل ہے۔ پنجابی ذہن کی سب سے بڑی پیچیدگی یہ ہے کہ وہ خود اپنی شناخت کے معاملے میں ابہام کا شکار ہے۔ پنجابی زبان، تاریخ، ثقافت اور جغرافیے کے ساتھ وہ جذباتی تعلق پیدا نہیں ہو سکا جو دوسری قومیتوں میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجابی سیاسی شعور اکثر اپنی ہی تاریخ سے کٹ جاتا ہے۔ پنجاب کے انقلابی کردار، صوفی روایت، ثقافتی ہیروز اور تاریخی جدوجہد اجتماعی قومی شعور کا حصہ نہیں بن پاتے، جبکہ مذہبی یا بیرونی تاریخی حوالہ جات زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً پنجابی اشرافیہ ایک ایسی ریاستی نفسیات پیدا کرتی ہے جو شناختی تنوع کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ پنجاب دانستہ طور پر دیگر قوموں کے خلاف ہے، مگر یہ ضرور حقیقت ہے کہ پنجاب کی سیاسی نفسیات وفاقی حساسیت کو، تفصیلات لنک میں ۔ whatsapp.com/channel/0029Va…
اردو
1
4
16
1.2K
Tariq Awan
Tariq Awan@PMScivilservant·
I often talk to my fellow civil servants of Balochistan, they still believe people want to remain with the federation of Pakistan. However, the federation must give them autonomy & allow genuine political process. They also argue that space is shrinking. We must fix it.
Republic Policy@republicpolicy

بلوچستان اور وفاق پاکستان! بلوچستان کا مسئلہ صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی، سماجی اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔ بلوچ عوام کے سامنے آج دو راستے موجود ہیں: ایک وفاقِ پاکستان کے ساتھ رہنے کا راستہ، اور دوسرا علیحدگی پسند تحریکوں کا راستہ۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ریاست اور علیحدگی پسندوں میں کون طاقتور ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ بلوچ عوام کی اکثریت کس کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر پاکستانی ریاست کو سنجیدہ اور دیانتدارانہ بحث کرنی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے بہت سے بلوچ علاقوں میں عوام کی ایک بڑی تعداد ریاست سے مایوس ہو چکی ہے۔ جب سیاسی نمائندگی کمزور ہو، جب لوگوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی حکومتیں ان کی اپنی نہیں بلکہ طاقت کے مراکز کی پیداوار ہیں، جب وسائل، شناخت اور اختیار کے مسائل حل نہ ہوں، تو پھر خلا کو علیحدگی پسند بیانیہ پُر کرتا ہے۔ صرف طاقت کے استعمال سے اس مسئلے کو ختم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ تشدد اکثر مزید تشدد کو جنم دیتا ہے۔ اگر کسی ایک خاندان کا ایک فرد مارا جاتا ہے تو ممکن ہے اسی خاندان کے کئی دوسرے افراد مزاحمت یا عسکریت کی طرف چلے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ محض عسکری حل وقتی ہو سکتا ہے، مستقل نہیں۔ پاکستان کا وفاق ایک حقیقت ہے اور بلوچستان اس وفاق کی اکائی ہے۔ ریاست کسی صورت بلوچستان کو الگ نہیں ہونے دے گی، اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔ لیکن وفاق کو مضبوط کرنے کا راستہ طاقت کے یکطرفہ استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی اعتماد سازی سے گزرتا ہے۔ جب تک بلوچ عوام کو یہ امید نہیں دی جائے گی کہ پاکستان ان کی شناخت، حقوق اور سیاسی آواز کا احترام کرتا ہے، تب تک فاصلے بڑھتے رہیں گے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ کے دور میں ایک حد تک بلوچ عوام میں یہ احساس پیدا ہوا تھا کہ شاید وفاقِ پاکستان کے اندر رہتے ہوئے بھی سیاسی راستہ ممکن ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ صوبوں کو زیادہ اختیار اور شناخت ملے گی۔ لیکن اگر بعد میں انتخابات ایسے ہوں جن میں حقیقی نمائندگی نہ ہو، یا ایسی حکومتیں بنائی جائیں جو عوامی مینڈیٹ کے بجائے مفادات کی بنیاد پر قائم ہوں، تو پھر عوام کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ یہی خلا علیحدگی پسند قوتوں کو مضبوط کرتا ہے۔ بلوچستان کے پشتون علاقوں کی صورتحال نسبتاً مختلف ہے، مگر بلوچ اکثریتی علاقوں میں محرومی، شناخت، وسائل، لاپتہ افراد، سیاسی بے اختیاری اور ریاستی تعلقات کے مسائل بہت زیادہ گہرے ہیں۔ ان مسائل کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا ایک بڑی غلطی ہوگی۔ بلوچ عوام کو سیاسی امید دینا ہوگی۔ انہیں یہ احساس دینا ہوگا کہ وہ پاکستان میں برابر کے شہری ہیں، ان کی آواز سنی جاتی ہے، اور ان کے ووٹ کی حقیقی حیثیت ہے۔ اس کا آغاز آزاد، شفاف اور نمائندہ انتخابات سے ہوتا ہے۔ اگر ایک صوبے میں لوگوں کو حقیقی نمائندہ حکومتیں ہی نہ ملیں، اور اقتدار ایسے طبقات کے پاس رہے جو عوام کے بجائے اپنے مفادات کے لیے کام کریں، تو وہاں ریاستی بیانیہ کمزور ہوتا جائے گا۔ بلوچستان کا مسئلہ تبھی حل ہوگا جب بلوچ عوام خود یہ محسوس کریں کہ ان کا مستقبل پاکستان کے ساتھ زیادہ محفوظ، باعزت اور بااختیار ہے۔ بلوچ عسکریت پسندی کوئی وقتی مسئلہ نہیں۔ یہ کئی دہائیوں سے موجود ہے اور اگر سیاسی حل نہ نکالا گیا تو آنے والی دہائیوں تک بھی چل سکتی ہے، کیونکہ یہ صرف بندوق کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی احساسِ محرومی، شناختی بحران اور سیاسی نفسیات سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اسی لیے بلوچستان میں ایک حقیقی سیاسی انقلاب، نمائندہ سیاست، آئینی عملداری، اور عوامی اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کے وفاق کو مضبوط بھی کر سکتا ہے اور بلوچستان کو پائیدار امن بھی دے سکتا ہے۔

English
2
0
10
1.1K
Tariq Awan retweetledi
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
ریپبلک پالیسی کی کتاب "دی بیوروکریٹک کو" کا آغاز ایک واقعے سے ہوتا ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی کس طرح عدلیہ، کیئر ٹیکر حکومتوں اور حتیٰ کہ منتخب حکومتوں کو بھی اپنے مفادات کے لیے مینیج کرتی ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ پنجاب ہائی کورٹ میں چند وکلاء نے ایک رٹ دائر کی کہ جونیئر افسران کو سینئر پوسٹوں پر تعینات کیا جا رہا ہے، جو قانون اور سروس اسٹرکچر دونوں کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ہر افسر کو اس کے اپنے گریڈ کی پوسٹ پر تعینات کیا جائے اور چیف سیکرٹری پنجاب کو حکم دیا کہ ایک ماہ کے اندر اس فیصلے پر عمل درآمد کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان خود اسی غیر قانونی سسٹم کے بینیفیشری تھے۔ وہ گریڈ 21 کے افسر تھے جبکہ چیف سیکرٹری کی پوسٹ گریڈ 22 کی تھی۔ عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے بجائے بیوروکریسی نے پورا قانون ہی بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس وقت پنجاب میں کیئر ٹیکر حکومت تھی اور محسن نقوی وزیر اعلیٰ تھے، حالانکہ کیئر ٹیکر حکومت کے پاس ایسی بنیادی قانون سازی کا مینڈیٹ نہیں ہوتا۔ مگر بیوروکریسی نے ایک آرڈیننس کے ذریعے قانون میں ترمیم کروا دی کہ افسران ایک یا دو گریڈ اوپر کی پوسٹوں پر بھی تعینات ہو سکتے ہیں۔ یعنی گریڈ 18 کا افسر گریڈ 20 کی پوسٹ پر لگ سکتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ ایک میجر کو برگیڈیئر لگا دیا جائے؟ یا ایک سینئر سول جج کو سیشن جج بنا دیا جائے؟ دنیا کے کسی سنجیدہ ہیومن ریسورس ماڈل میں ایسا نظام موجود نہیں، مگر پاکستان کی بیوروکریسی میں یہ معمول بنا دیا گیا ۔ آرڈیننس کے بعد بھی ہائی کورٹ میں کیس چلتا رہا، مگر بیوروکریسی نے عدالت کو بھی مینیج کر لیا۔ پھر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ منتخب حکومت آنے کے بعد یہ آرڈیننس ختم ہو جائے گا، لیکن حیران کن طور پر مریم نواز کی حکومت آنے کے بعد یہی آرڈیننس مستقل قانون بنا دیا گیا۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان کی سربراہی میں اسے PCS Act کے سیکشن 9 کا حصہ بنا دیا گیا۔ اب پنجاب میں اگر آپ گریڈ 18 میں ہیں تو آپ کو گریڈ 20 کی پوسٹ پر لگایا جا سکتا ہے۔ ڈپٹی سیکرٹری یا ایڈیشنل سیکرٹری کو سیکرٹری بنایا جا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک فائل کی کہانی ہے۔ ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup یہی دکھاتی ہے کہ پاکستان میں اصل طاقت کا نظام کیسے چلتا ہے۔ یہاں ہر نوٹیفکیشن، ہر تعیناتی، ہر تبادلہ، ہر فائل اور ہر حکومتی عمل بیوروکریسی کے ہاتھوں سے گزرتا ہے۔ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے فیصلے بھی آخرکار سیکشن آفیسرز کے نوٹیفکیشنز کے ذریعے نافذ ہوتے ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں اصل طاقت پوشیدہ ہے۔ پاکستان کے سیاسی اور انتظامی نظام کو سمجھنے کے لیے بیوروکریسی پر کبھی سنجیدہ تحقیق نہیں ہوئی۔ ریپبلک پالیسی کی دو اہم کتابیں The Bureaucratic Coup اور Fixing the Executive Branch of Government in Pakistan اس حوالے سے انتہائی اہم مطالعہ ہیں۔ یہ کتابیں وینگارڈ بکس سے دستیاب ہیں۔ اسی واقعے کا ویلاگ لنک میں ضرور دیکھیں۔ youtu.be/vqSWu9LZpr4?si…
YouTube video
YouTube
اردو
2
8
14
1.4K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@republicpolicy @PMScivilservant سر کیا اس کتاب میں آپ نے ضلعی انتظامیہ ختم کرنے پر تبصرہ کیا ہے؟ اگر جواب ہاں میں تو اس کا متبادل کیا پیش کیا ہے؟ قابل عمل ہونا کیسے ثابت کیا ہے؟ اگر اس موضوع پر نہیں لکھا تو کیوں نہیں؟ شکریہ میں نے دونوں کتابیں خرید لی ہیں مگر ابھی پاکستان میں ہیں۔
اردو
1
0
0
10
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی کتاب دی بیوروکریٹک کو میں مصنف نے دیانت داری کے ساتھ اُس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے جو ہر سوچنے والے پاکستانی کو پریشان کرتا ہے: آخر اس ملک پر حقیقی حکمرانی کون کرتا ہے؟ آئینِ پاکستان اس کا واضح جواب دیتا ہے۔ آرٹیکل 90 کے مطابق وفاقی انتظامی اختیار وزیرِ اعظم کے پاس ہے۔ آرٹیکل 130 صوبائی حکومت کو وزیرِ اعلیٰ کے ماتحت قرار دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 140-A مضبوط مقامی حکومت کے قیام کی ضمانت دیتا ہے۔ آئینی تصور یہ ہے کہ منتخب نمائندے حکمرانی کریں۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ وفاقی سیکریٹری پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں جبکہ وزراء اکثر صرف سیاسی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ صوبوں میں چیف سیکریٹری انتظامی اختیار چلاتے ہیں جبکہ وزرائے اعلیٰ زیادہ تر عوامی اور سیاسی معاملات تک محدود رہتے ہیں۔ اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز عملاً نظام چلاتے ہیں کیونکہ مؤثر مقامی حکومت موجود نہیں۔ یہ صورتحال اتفاقاً پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کی اُس ساخت کا تسلسل ہے جسے ہم نے ورثے میں تو لیا، مگر بدلنے کی جرات نہ کر سکے۔ دی بیوروکریٹک کو ایک عاجزانہ کوشش ہے کہ اس مسئلے کو واضح انداز میں بیان کیا جائے اور ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا جائے جہاں آئین صرف تحریر تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر نافذ بھی ہو۔ اگر یہ سوالات آپ کے لیے اہم ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ کتاب پاکستان بھر میں ویanguard Books پر دستیاب ہے۔ رابطہ: +92 300 9552542
Republic Policy tweet media
اردو
1
4
10
699
Tariq Awan retweetledi
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
ریپبلک پالیسی کی کتاب دی بیروکریٹک کو کا بیوروکریسی کے بارے یہ incident ضرور سنیں ، اس سے آپ کو بیوروکریسی کے سسٹم کو ہائی جیک کرنے کی صلاحیت کا اندازہ ضرور ہو گا۔ پاکستان میں بیوروکریسی کی اصل کردار کا جاننا ضروری ہے جو کہ silent player کے طور پر کام کرتی ہے۔
اردو
0
3
15
1.2K