Rana Muhammad Nawaz

6.7K posts

Rana Muhammad Nawaz banner
Rana Muhammad Nawaz

Rana Muhammad Nawaz

@mnkhan1933

Dormant Lawyer-Raising voice agnst corruption,misrule,VIP culture,injustice,highlighting issues faced by common man,campaning 4pro of edu&emprmnt of Local Govts

United Kingdom/Pakistan Katılım Kasım 2011
760 Takip Edilen403 Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@WalidIqbalPTI Sir,I don’t have words to express my feelings abt what you’ve said.Your criticism of PAS has won widespread praise from all those who oppose status quo&want 2 see MEANINGFUL civil service reforms.Look how chairman came across! PAS is as much responsible for woes of Pak as others
English
3
2
15
0
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@kashifmateenpk And -Eradicate VIP culture -Trim unnecessary perks/privileges/protocols attached to it (sprawling official residences, gigantic fleet of official vehicles) -Abolish Green Number plates
English
0
0
2
27
Kashif Mateen Ansari
Kashif Mateen Ansari@kashifmateenpk·
4/4 Real reform is not another levy. Lower rates. Widen the base. Tax dead capital. End elite exemptions. Simplify filing. Reform FBR. Show citizens where their money goes. Taxation must become a social contract again, not state-sponsored pickpocketing.
English
7
45
210
3.4K
Kashif Mateen Ansari
Kashif Mateen Ansari@kashifmateenpk·
Pakistan doesn’t have a tax system. It has a punishment system. It punishes the salaried, the documented, the consumer, the electricity user and the petrol buyer; while privilege negotiates, litigates and escapes. That is not revenue mobilisation. That is fiscal injustice. 1/4
English
30
693
2.2K
49.8K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@Kamran_Yousaf @kdastgirkhan کیا صفائی ایسے ہی رہے گی جب مریم نواز کا دور حکومت ختم ہو گیا؟
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933

@SdqJaan کارکردگی سے مطمئن ہونا اور کارکردگی کی دیر پائی sustainability دو مختلف باتیں ہیں آپ سے میرا سوال-کیا کاردگی sustainable ہو گی؟ جب تک ادارے مضبوط نہ ہوں،گورننس اصلاحات نہ ہوں،با اختیار مقامی حکومتیں نہ ہوں تو کارکردگی کی دیر پائی ایک خواب رہے گا۔DCs کے ذرئعے مرکز سے حکو مت سے۔۔۔

اردو
0
0
0
247
Kamran Yousaf
Kamran Yousaf@Kamran_Yousaf·
چکوال میں کئی سالوں سے عید منانے کے لئے آ رہا ہوں لیکن یہ منظر پہلی دفعہ دیکھا ہے اور ایسی صفائی اپنے شہر میں کبھی نہیں دیکھی Credit where is due
اردو
71
578
3K
67.6K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@SdqJaan کارکردگی سے مطمئن ہونا اور کارکردگی کی دیر پائی sustainability دو مختلف باتیں ہیں آپ سے میرا سوال-کیا کاردگی sustainable ہو گی؟ جب تک ادارے مضبوط نہ ہوں،گورننس اصلاحات نہ ہوں،با اختیار مقامی حکومتیں نہ ہوں تو کارکردگی کی دیر پائی ایک خواب رہے گا۔DCs کے ذرئعے مرکز سے حکو مت سے۔۔۔
اردو
0
0
4
454
Siddique Jan
Siddique Jan@SdqJaan·
منیب فاروق کے مطابق پنجاب کے لوگ مریم نواز کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ؟اگر آپ کا تعلق پنجاب سے ہے تو آپ میاں نوازشریف ، شہبازشریف اور مریم نواز کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ؟ ہاں ؟ نہیں؟
اردو
3K
503
3.6K
287K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@ShahzadIqbalGEO جو لوگ آن لائن کورس کر سکتے یعنی تعلیم یافتہ وہ ان معاملات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ان کو ایسے کورس کرنے کی ضرورت نہیں ہے شہزاد صاحب اور آپ کو چاہئے کہ آئین کے آرٹیکل 25A کے تحت 5 سے 16 سال کے بچوں کے لئے لازمی سیکنڈری تعلیم مہیا کرنے کی حکومت کی ذمہ داری کے بارے میں مہم چلائیں
اردو
1
0
4
876
Shahzad Iqbal
Shahzad Iqbal@ShahzadIqbalGEO·
ہم نے تجویز کیا ہے کہ یونین کونسل اور نادرا میں نکاح اس وقت تک رجسٹرڈ نہ ہو، جب تک دونوں میاں بیوی آن لائن دستیاب تولیدی صحت کا کورس مکمل کر کے اس کا سرٹیفکیٹ جمع نہ کرا دیں، سماجی کارکن شہزاد رائے
اردو
67
61
562
77.9K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@republicpolicy @PMScivilservant سر کیا اس کتاب میں آپ نے ضلعی انتظامیہ ختم کرنے پر تبصرہ کیا ہے؟ اگر جواب ہاں میں تو اس کا متبادل کیا پیش کیا ہے؟ قابل عمل ہونا کیسے ثابت کیا ہے؟ اگر اس موضوع پر نہیں لکھا تو کیوں نہیں؟ شکریہ میں نے دونوں کتابیں خرید لی ہیں مگر ابھی پاکستان میں ہیں۔
اردو
1
0
0
10
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی کتاب دی بیوروکریٹک کو میں مصنف نے دیانت داری کے ساتھ اُس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے جو ہر سوچنے والے پاکستانی کو پریشان کرتا ہے: آخر اس ملک پر حقیقی حکمرانی کون کرتا ہے؟ آئینِ پاکستان اس کا واضح جواب دیتا ہے۔ آرٹیکل 90 کے مطابق وفاقی انتظامی اختیار وزیرِ اعظم کے پاس ہے۔ آرٹیکل 130 صوبائی حکومت کو وزیرِ اعلیٰ کے ماتحت قرار دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 140-A مضبوط مقامی حکومت کے قیام کی ضمانت دیتا ہے۔ آئینی تصور یہ ہے کہ منتخب نمائندے حکمرانی کریں۔ لیکن زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ وفاقی سیکریٹری پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں جبکہ وزراء اکثر صرف سیاسی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ صوبوں میں چیف سیکریٹری انتظامی اختیار چلاتے ہیں جبکہ وزرائے اعلیٰ زیادہ تر عوامی اور سیاسی معاملات تک محدود رہتے ہیں۔ اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز عملاً نظام چلاتے ہیں کیونکہ مؤثر مقامی حکومت موجود نہیں۔ یہ صورتحال اتفاقاً پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کی اُس ساخت کا تسلسل ہے جسے ہم نے ورثے میں تو لیا، مگر بدلنے کی جرات نہ کر سکے۔ دی بیوروکریٹک کو ایک عاجزانہ کوشش ہے کہ اس مسئلے کو واضح انداز میں بیان کیا جائے اور ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا جائے جہاں آئین صرف تحریر تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر نافذ بھی ہو۔ اگر یہ سوالات آپ کے لیے اہم ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔ کتاب پاکستان بھر میں ویanguard Books پر دستیاب ہے۔ رابطہ: +92 300 9552542
Republic Policy tweet media
اردو
1
4
10
708
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@PMScivilservant میں نے بھی بزریعہ ایجنٹ دونوں کتابیں خرید لی ہیں۔ یو کے خرید کافی مہنگی پڑ رہی تھی!
اردو
0
0
1
8
Tariq Awan
Tariq Awan@PMScivilservant·
میں آج Vanguard Books گیا تھا، اور وہاں کے مینیجر نے مجھے بتایا کہ میری کتاب The Bureaucratic Coup سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے۔ بطور سول سرونٹ، میں نے کوشش کی ہے کہ بیوروکریسی کی اصل ساخت سامنے لائی جائے۔ آپ یہ کتاب یہاں سے خرید سکتے ہیں: vanguardbooks.com/products/the-b…
اردو
8
4
48
3.6K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@republicpolicy Who is primarily responsible for all this? Let’s discuss? But unfortunately you don’t engage and prefer one way broadcast!
English
0
0
0
7
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
Pakistan is a federation of 250 million people where constitutional amendments are passed so secretively that even legislators do not know the actual text or wording. Do federations function like this?
English
5
5
13
359
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@republicpolicy پاکستان میں اپنے ایجنٹ کو کتاب خریدنے کا آرڈر دے دیا ہے۔ قیمت بہت مناسب ہے، ویسے بھی آدھی قیمت پر دستیاب ہے! پاکستان میں سول سروس ریفارمز کے لیے کوئی فورم جس کی عام شہری بھی ممبر شپ لے سکے؟ @PMScivilservant
اردو
0
0
0
58
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
بیوروکریسی کیسے کابینہ ، وزراء ، پولیٹیکل ایگزیکٹو کو مسلسل دھوکہ دیتی ہے؟ صدارتی ایوارڈز کی بابت پڑھیں ۔ پاکستان میں حکومت دراصل “فائل” کی صورت میں کام کرتی ہے۔ ہر پالیسی، فیصلہ، نوٹیفکیشن یا ایوارڈ ایک سرکاری فائل کے ذریعے منظور کروایا جاتا ہے۔ یہ فائل پہلے متعلقہ ڈپارٹمنٹ یا وزارت میں تیار ہوتی ہے، جہاں اس پر نوٹنگ، قانون، رولز اور اس کی قانونی حیثیت طے کی جاتی ہے۔ پھر یہی فائل کابینہ، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، گورنر یا صدر تک جاتی ہے، جہاں اکثر اسے محض اپروول کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے اور متعلقہ سیاستدان ان فائلز کی عموماً As it is اپروول دے دیتے ہیں کیونکہ نہ وہ فائلز پڑھنیے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ وزارتِ میں ہارڈ ورک کرنے آتے ہیں۔ اب پاکستان میں صدارتی ایوارڈز کی بات ہو جائے ۔ آئین کے آرٹیکل 259 اور متعلقہ Decoration Act 1975 کے مطابق سول سروسز کو صدارتی ایوارڈ نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے باوجود حالیہ دنوں میں سول سرونٹس کو صدارتی ایوارڈز دیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ جب متعلقہ فائل تیار ہوئی تو کیا اس میں آئین اور قانون کو نہیں دیکھا گیا؟ اور اگر دیکھا گیا تو پھر یہ فائل منظور کیسے ہوئی؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی فائلوں کے ذریعے اپنی طاقت استعمال کرتی ہے۔ وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ یا کابینہ کے ارکان ہر فائل کو تفصیل سے نہیں پڑھ سکتے۔ زیادہ تر فائلیں اسی شکل میں منظور ہو جاتی ہیں جس شکل میں بیوروکریسی انہیں تیار کرتی ہے۔ تا ہم بعض اوقات بیوروکریسی پر پریشر ڈال کر بھی متعلقہ فائلز تیار کروائی جاتی ہیں۔ ایسے میں عموماً بیوروکریسی غیر قانونی کاموں کو resist نہی کرتی ہے۔ ریپبلک پالیسی کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں دو تہائی سرکاری فائلیں بغیر حقیقی بحث کے سیاسی حکومتوں سے منظور کروا لی جاتی ہیں۔ نہ کابینہ میں ان پر سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے اور نہ اکثر سیاسی قیادت ان کی قانونی پیچیدگیوں کو مکمل طور پر جانچتی ہے۔ اگر پاکستان کے تمام سرکاری محکموں کی فائلوں کا آزاد آڈٹ کیا جائے تو شاید پہلی بار یہ واضح ہو کہ ریاست حقیقت میں کیسے چلائی جاتی ہے اور فیصلوں کے پیچھے اصل طاقت کہاں موجود ہے۔ بیوروکریسی کے اسی اندرونی نظام، طاقت، فائل کلچر اور ریاستی کنٹرول کی تفصیل ریپبلک پالیسی کی کتاب The Bureaucratic Coup” میں بیان کی گئی ہے، جو Vanguard Books اور دیگر بک اسٹورز پر دستیاب ہے۔ +92 300 9552542
اردو
2
9
34
1.3K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@republicpolicy آپ کے کہنے پر کتاب پڑھ ہی لیتے ہیں! کیا یہ کتاب Amazon پر دستیاب ہے؟ اگر اس کتاب میں ضلعی انتظامیہ کے خاتمے پر چیپٹر نہیں تو اس پر میرا ریویو / فیڈ بیک زیرو ہو گی۔
اردو
0
0
0
43
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
پاکستان میں مڈل کلاس کے نوجوان جب بیوروکریسی میں آتے ہیں تو پہلے بااثر خاندانوں میں شادی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، پھر بیوروکریسی، عدلیہ اور فوج میں روابط بناتے ہیں۔ اس کے بعد کاروباری افراد سے شراکت داری اور دوستی قائم کرتے ہیں اور اکثر ان کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے لگتے ہیں۔ اس سارے عمل میں ان کا بنیادی مقصد منی میکنگ ہوتا ہے۔ پاکستان میں سول سرونٹس کی ابتدائی تعیناتی سے لیکر ریٹائرمنٹ اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کا مطالعہ پاور سٹرکچر کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ پاکستان میں عموماً سیاست دانوں یا ایسٹبلشمنٹ کو ناکامی کا بنیادی زمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، تاہم ناکامی کے اصل زمہ دار بیوروکریٹس پس پردہ رہ کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک نے اپنی کتاب دی بیروکریٹک کو کے ذریعے اصل حقائق سامنے لانے کی کوشش کی ہے تاکہ پاور سٹرکچر کو سمجھا جا سکے۔ کتاب کے مصنف ایک سول سرونٹ ہیں اور پاور سٹرکچر اور بیوروکریسی کی ورکنگ کو insider کے طور پر جانتے ہیں۔ ریپبلک پالیسی کی کتاب " بیوروکریٹک کو " میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث موجود ہے، جو وینگارڈ بکس پاکستان میں دستیاب ہے۔ +92 300 9552542
Republic Policy tweet media
اردو
4
16
52
2.7K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@republicpolicy کیا یہ سب کچھ بطور AC/DC تعیناتی سے شروع نہیں ہوتا؟ کیا آپ نے ضلعی انتظامیہ کے خاتمے کے لیے کوئی کیمپین چلائی؟ یا صرف پھر ون وے براڈ کاسٹ کو ترجیح دیتے ہیں؟
اردو
0
0
0
43
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@ImtiazGul60 سر کیا اردو ٹویٹ کا جواب یا اس پر تبصرہ اردو میں نہیں کرنا چاہئے جو کہ ہماری قومی زبان ہے؟
اردو
0
0
0
22
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@fawadchaudhry پی آیی کی حکو مت نے اپنے دور حکومت میں اسے بند کیوں نہیں کیا؟ کیاآئین کے آرٹیکل 25A کے تحت 5 سے 16 سال کے بچوں کے لئے لازمی تعلیم مہیا کرنے کی ذمہ داری پوری کرنا زیادہ ضروری میں؟
اردو
0
0
0
22
Ch Fawad Hussain
Ch Fawad Hussain@fawadchaudhry·
ڈاکٹر عشرت حسین بہت قابل آدمی ہیں اہم ترین عہدوں پر رہے اور کرپشن کا ایک پیسے کا الزام نہیں، عزت دار آدمی ہیں لیکن ان کو شاہد ہی عملی علم ہو کہ 875 ارب روپیہ خرچ کیسے ہو رہا ہے, زیادہ تر Technocrats کی طرح وہ زمینی حقائق کی بجائے کاغذوں کے پلندوں کو سچ سمجھتے ہیں ، غربت روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے کم ہو گی، میرے رائے میں اس ہزار ارب روپے سالانہ کو کالچ اور یونیورسٹی کے ان طالبعلموں میں بانٹنا چاھیے جو ایسے کاروبار شروع کریں جن سے دو سے تین نوکریاں پیدا ہوں، آپ سندھی وڈیروں کے ملازموں میں تںخواہ کے طور پر پیسہ تقسیم کر کے غربت میں کمی نہیں لا سکتے!! اس پروگرام پر 2,5 گھرب روپیہ آپ بانٹ چکے ہیں اس سے غربت میں کمی ہوئ؟ جواب ہے نہیں لہذا اب وقت آ گیا ہے اس پروگرام کو بند کر کے نوجوانوں کو کاروبار کیلئے بلاسود قرضوں کا پروگرام شروع کیا جائے!!
Naya Daur Videos@nayadaurpk_urdu

"یہاں دو وقت کی روٹی نہیں، بچوں کے پاس دودھ نہیں تم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پیچھے پڑے ہو" ڈاکٹر عشرت حسین نے 'لال لال' کو لال کر دیا @Ishrat_Husain

اردو
134
129
737
102.4K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@xadeejourno اس کا مطلب آپ اس واقعے ایک نئی بات / انوکھا تجربہ سمجھ رہے ہیں! کون نہیں جانتا کہ جمہوری رہنماؤں کے اندر بھی ایک ڈکٹیٹر چھپا ہوا ہے؟
اردو
0
0
1
10
Mubashir Zaidi
Mubashir Zaidi@xadeejourno·
بلاول بھٹو نے جس طرح شازیہ مری سے بدتمیزی سے بات کی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے جمہوری رہنماؤں کے اندر بھی ایک ڈکٹیٹر چھپا ہوا ہے
اردو
410
366
2.6K
71.1K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@fawadchaudhry پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں وی آئی پی کلچر اور elite club کے خاتمے کے لیے کیا کیا؟
اردو
0
0
0
19
Ch Fawad Hussain
Ch Fawad Hussain@fawadchaudhry·
بلیو پاسپورٹ پارلئمنٹیرینز کے بچوں کو نہیں ملتا اور نہ ہی ملنا چاھئے، جج، جرنل اور سیاستدانوں کے بچوں تک خصوصی مراعات تباہ کن ہوں گی، اس طرح ایک نیا پاسپورٹ کلب وجود میں آ جائگااور عام پاسپورٹ کی حیثیت مزید تباہ ہو گی، اس کلب میں شامل لوگ اپنے خاندانوں کو خصوصی پاسپورٹس دلوا کر باقی لوگوں سے مکمل بے پرواہ ہو جائیں گے اور اس کا شدید اثر ہمارے عمومی پاسپورٹ کی قدر پر ہو گا، پاکستان کا اصل مسئلہ Elite Club ہے اور اس کو ختم کرنا ہے نہ کہ اس گروپ کو مزید مراعات دی جائیں !
اردو
126
531
2.1K
100.3K
Najam Ali
Najam Ali@najam_ali·
The Government has conferred the Hilal-i-Imtiaz upon Muhammad Ali, Chairman of the Privatisation Commission, and few honours in recent years have felt this deserved. This recognition is not merely for holding an office. It is for restoring belief that difficult national reforms can actually be pursued with seriousness, courage and commitment. In my entire professional career, I have rarely witnessed the level of political will and relentless drive toward privatisation that he has brought to the Privatisation Commission of Pakistan. He has reinvigorated an institution many had stopped believing in. What distinguishes him most is that he never treats himself as merely a chairman sitting above the process. He works like a transaction manager, problem solver and team member all at once, fully engaged, accessible at all hours, including weekends, to resolve the most critical issues. That kind of ownership cannot be taught. It comes from genuine commitment to the country. Pakistan desperately needs more public servants with this level of integrity, energy and sense of mission. People who see national responsibility not as a privilege of office, but as a duty to deliver.
English
7
11
108
6.1K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@republicpolicy کیا ضلعی انتظامیہ ختم کر کے ڈی سیز / اے سیز کو مقامی حکومتوں ک تابع لا کر مقامی حکومتوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز / کمشنرز نہیں بنا یا جا سکتا؟ کیا آپ کے خیال میں یہ قابل عمل نہیں ہے؟ اگر قابل عمل نہیں ہے تو کیوں؟ کیا آپ نے ضلعی انتظامیہ کے خاتمے کے لیے کوئی کیمپین چلائی؟
اردو
0
0
0
9
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@republicpolicy “البتہ اس نگرانی میں بے جا مداخلت یا ذاتی پسند و نا پسند نہیں ہونی چاہئے” اس کا مطلب آپ ضلعی انتظامیہ کے قائم رہنے کے حق میں ہیں؟ ضلعی انتظامیہ کے مکمل خاتمے کی بات کیوں نہیں کی؟ کیا یہ ممکن نہیں ہے؟ کیا طاقتور/با اختیار مقامی حکومتوں کی موجودگی میں ضلعی انتظامیہ کی ضرورت ہو گی؟
اردو
1
1
1
18
Republic Policy
Republic Policy@republicpolicy·
ایک ناکام بیوروکریٹک نظام میں جونیئر سول سرونٹس زیادہ تر صرف انفورسمنٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان پر سینئر افسران کی جانب سے سختی سے احکامات نافذ کروائے جاتے ہیں، جبکہ اوپر سے آنے والے حکومتی فیصلے بھی انہی کے ذریعے نافذ ہوتے ہیں۔ اس لیے صرف جونیئر سول سرونٹس کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں، بلکہ سینئر بیوروکریسی اور حکومتی فیصلہ سازی کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ پنجاب کی حد تک، پنجاب ایڈمنسٹریشن ایکٹ کے تحت ضلعی انتظامیہ کو صحت، تعلیم اور دیگر محکموں کی ایک حد تک نگرانی کا اختیار حاصل ہے۔ البتہ اس نگرانی میں بے جا مداخلت یا ذاتی پسند و ناپسند نہیں ہونی چاہیے۔ اصل توجہ ان اعلیٰ سطحی فیصلوں پر ہونی چاہیے جو چیف سیکرٹری، سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنرز، کابینہ، چیف منسٹر سیکرٹریٹ یا پرائم منسٹر سیکرٹریٹ سے آتے ہیں، کیونکہ جونیئر سول سرونٹس بنیادی طور پر انہی فیصلوں کو نافذ کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ نظام کی بہتری کا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اضلاع میں مضبوط لوکل گورنمنٹ قائم ہو، محکموں کو خودمختاری دی جائے، جنرل کیڈر سسٹم کا خاتمہ کیا جائے، اور ایسی پرفارمنس بیسڈ نمائندہ حکومتیں بنائی جائیں جو عوامی جذبات کو سمجھتے ہوئے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔ The Republic Policy's book titled The Bureaucratic Coup is available at Vanguard Books across the country which talks in detail the Bureaucratic empire in Pakistan.
اردو
1
5
29
1.9K
Rana Muhammad Nawaz
Rana Muhammad Nawaz@mnkhan1933·
@KlasraRauf سر کیا آپ نے سی ایس ایس کرنے کی بھی کوشش کی تھی؟ اکثر انگلش لٹریچر پڑھنے والے CSS کرنے کا ارادہ کرتے تھے۔
اردو
0
0
1
281
Rauf Klasra
Rauf Klasra@KlasraRauf·
میری ماں نے بھی میڑک ریزلٹ کے بعد مجھے کہا گورنمنٹ کالج لیہ میں ایف ایس سی کر کے تم بھی ڈاکٹری میں داخلہ لو۔ میں نے کہا اماں ۔۔ ڈاکٹر بننا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ میرے لیول سے اوپر کا کام ہے۔ پہلے ہی آپ کا ایک بیٹا ڈاکٹر ہے وہ کافی ہے۔ باقی اگر آپ کو شوق ہے تو آپ خود تیاری کریں اور ڈاکٹر بن کر دکھائیں۔ وہ ہنس پڑیں اور کہا چلو جو تمہارا دل کرے وہی کرو۔ میں نے پہلے بی اے میں انگلش لٹریچر پڑھا اور بعد میں ایم اے انگلش لٹریچر ملتان یونیورسٹی سے کیا۔۔ اس کہانی کا اخلاقی سبق یہ ہوا کہ جو ماں کے کہنے پر ڈاکٹر نہیں بنتا وہ بچ بچا کر انگلش لٹریچر میں ہی ماسٹرز کرتا ہے 😎 @MaryamNSharif
Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif)@rizwanghilzai

میری ماں مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں لیکن میں کبھی بھی ڈاکٹر نہیں بننا چاہتی تھی، اُن کے کہنے پر میں میڈیکل میں چلی تو گئی لیکن ایک سال انہوں نے کہا جو کرنا ہے کرو پھر میں نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا، مریم نواز

اردو
89
40
593
153K