
khan's era
43.4K posts




جعلی ہی سہی لیکن یہی تو ان کا بیانیہ ہے کہ کسی وردی والے کو سیاست نہیں کرنے چاہئے لیکن خود ایف آئی اے کی وردی پہن کر میری فیملی کے سامنے آپ گالی دے کر تضحیک آمیز سیاسی جملے کسیں گے تو جواب تو ملے گا۔ چند گھنٹے میں تفصیلی ویڈیو میں ثبوتوں کے ساتھ سب بتاؤں گا۔

مکمل ویڈیو: آپ کو آپ کی فیملی کے سامنے سیاسی اختلاف کی وجہ سے کوئی سرکاری افسر تضحیک اور تذلیل کا نشانہ بنائے تو آپ کیا کریں گے؟؟ حیرت ہے کہ پی ٹی آئی، ایف آئی اے کے اس افسر کی بدتہذیبی کا دفاع کر رہی ہے جس کے ہر کارکن، ہر یوٹیوبر اور اُن کی فیملیز کے ساتھ ہونے والی ہر ناانصافی پر ہم نے ہمیشہ مذمت کی۔ خان صاحب کی اہلیہ اور بہنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کی۔۔۔ کوئی دوسرا ادارہ یونیفارم میں سیاست کرے تو بجا طور پر قابل مذمت لیکن اقرارالحسن کے خلاف یونیفارم میں کوئی کچھ بھی کہے اُس کا دفاع؟؟


🚨 اللہ الحق ہے ۔ حق کا خُدا ہے ابھی نظریاتی پی ٹی آئی کا آئیڈیا دیئے ایک ہفتہ بھی پورا نہیں ہوا اور دیکھیں کیسے کیسے مادر جات بدذات لوگ سامنے آ رہے ہیں کیا کہا تھا فوج کو جب بھی خان کی رہائی کے لئے کوئی بھی حقیقی موومنٹ کا آغاز ہونے کا زرا سا بھی خدشہ یا ڈر ہوگا تو صہیونی فوج کے ٹاؤٹ ایکٹیو ہو جائیں گے ۱: خان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھونکنا شروع کر دیں گے، سلمان اکرم راجہ، گوبر وغیرہ ۲: صحافی کتے (ٹارزن، اسد اللہ وغیرہ) چھوڑ دیئے جائیں گے ۳: سپیشل قسم کی رنگ برنگی گلابی سپیسز لانچ کر دی جائیں گی ۴: ان سپیسز میں GHQ کی تربیت یافتہ طوائفیں (مشال، عظمہ نقوی، وغیرہ) سپیسز میں چھوڑ دیں جائیں گی ۵: سوئے ہوئے ففتھیے دوبارہ تابوت سے نکال کر ایکٹیو کر دیئے جائیں گے ۔ جو indirectly خان اور بہنوں سے توجو ہٹا کر عوام پر لائیں گے **یاد رہے پاکستانی عوام لیڈر مانگتی ہے جو کہ ایک بدقسمتی بھی ہے اور سچ بھی 😔 ہم کوشش کر رہے ہیں لیڈر لیس موومنٹ کی اور بہت وقت درکار ہے جو بہت مشکل سے مل رہا ہے ۔ اس لئے خان کی بہنوں کا اس تحریک کو لیڈ کرنا بہت ضروری ہے ۔ ہمیں یہ بھی پتہ ہے بہنوں کو نظربند بھی کیا جا سکتا ہے مگر اگر بہنیں ایک دفعہ اس عسکری پی ٹی آئی کو ایکسپوز کر کے نظریاتی پی ٹی آئی کا آئیڈیا ہی لانچ کر گئیں تو پھر عوام اور کارکن صرف نظریاتی پی ٹی ائی پر ہی توجو دیں گے اور کارکن خود سے گروپس بنائیں گے اورعوام سے مل کر مزاحمت کردیں گے ۔ *یہ بھی یاد رہے نظریاتی پی ٹی آئی کا آئیڈیا ہوا میں نہیں آیا بلکے یہ #KRBTThinkTank کی مسلسل گراؤنڈ کے کارکنوں سے میٹنگوں کا نتیجہ ہے ۔ گراؤنڈ کے نظریاتی کارکن عسکری پی ٹی آئی کو بہت پہلے سے جان چُکے اور وہ ان کے گندے ارادوں کو بھی بھانپ چُکے ۔ نظریاتی کارکنوں کی دیرینہ خواہش اور متفق موقف ہے کہ خان کا اپنا خون ان کی بہنیں خان کی رہائی کی تحریک کو لیڈ کرسکتیں ہیں۔ اور نظریاتی پی ٹی آئی ہی وہ تحریک ہے ✊ اس لئے ہم پھر بہنوں سے ہی درخواست کریں گے کہ پلیز جلد نظریاتی پی ٹی آئی کا اعلان کر دیں 🙏 ہم KRBT والے اپنی پوری سپورٹ دیں گے ✊ @ImranKhanPTI @TELZO212 @Shazzyy1447 #پی_ٹی_آئی_نظریاتی #PTINazriyati #KRBTThinkTank




یہ لیں لائحہ عمل ❗️ ذیل میں وہ تمام عملی طور پر ممکن حل موجود ہیں جو حقیقی آزادی کے رستے پر لیکر جاتے ہیں۔ یہی لائحہ عمل ہے۔ یہی طریقہ کار ہے۔ ( میری نظر میں ) اووسیز پاکستانیوں سے ایک ڈالر ایک یورو ایک پاونڈ ماہانہ ACH یا ڈائریکٹ ڈیبٹ کی شکل چندہ وصول کرنا شروع کریں۔ اگر دو لاکھ اوورسیز پاکستانی بھی آمادہ ہوجاتے ہیں تو یہ قریبا چھ کروڑ روپے ماہانہ بنتے ہیں۔ تحریک انصاف مالی طور ہر آزاد ہوجائے گی۔ زیادہ لوگ قائل کرلیں۔ کم از کم رقم بڑھا لیں تو زیادہ رقم۔ نوٹیفکیشن نکالنا بند کریں۔ رابطہ ایپ یا کوئی بھی نہی ایپلی کیشن بنا کر آن لائن انٹرا پارٹی انتخابات کا آغاز کریں۔ ہر چھ مہینے بعد یا سال بعد آن لائن انتخابات ہوں۔ اس دوران سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے ، جعلی ووٹ ختم کرنے کے لیے فلٹرز لگائیں اور آہستہ آہستہ اس سسٹم کو شفاف کریں۔ موبلائزیشن ہوگی۔ اہل لوگ سامنے آئیں گے۔ ناکارہ لوگ خود ہی پیچھے ہٹ جائیں گے۔ سخت موقف دینے ، واشگاف بیانات کے لیے شیڈو اوورسیز قیادت کا اعلان کریں۔ ایک نرم قیادت پاکستان کے اندر بات کرنے کے لیے۔ ایک شیڈو چئیرمین ، شیڈو جنرل سیکرٹری وغیرہ وغیرہ گرم قیادت باہر بیٹھ کر منجی پیڑھی ٹھوکنے کے لیے۔ اسکے بعد شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم گولز کو علیحدہ علیحدہ کریں۔ ایک مہینے میں کتنی ریلیاں نکالنی ہیں ، کتنے احتجاج کرنے ہیں ، کتنے پوسٹر لگانے ہیں ، کتنی جگہ سلوگن لکھنے ہیں یہ سب گول طے کرکے کیا جائے اور ان پر عمل ہو۔ انکی فریکوئنسی یا انٹینسٹی چاہے جتنی بھی کم ہو یہ تواتر کیساتھ ضرور ہو۔ تحریک انصاف کی کور کمیٹی ، سیاسی کمیٹی وغیرہ وغیرہ کے سبھی اجلاس لائیو نشر کیے جائیں تاکہ چیک اینڈ بیلنس بڑھے۔ عوام کو معلوم ہوسکے کون کیا کررہا ہے کیا کہہ رہا ہے۔ اس سے لیڈر شپ میں اور ورکر میں اعتماد بھی بڑھے گا۔ پختونخواہ میں اسمبلی کے ذریعے فوج کا ہر رستہ بند کریں۔ فوج سے گرین انیشیٹو والے ریسٹ ہاوسز واپس لیں۔ ڈرون حملوں کے خلاف اسمبلی کا فلور بھرپور طریقے سے استعمال کریں۔ ایسے واقعات میں شہید ہونے والوں کو اسمبلی بلائیں۔ انکے لواحقین سے وہاں خطاب کروائیں۔ مغرب میں موجود اوورسیز پاکستانیوں کا الگ سے رضاکارانہ “ لائرز ونگ “ “ آئی ٹی ونگ “ اور سیاسی ونگ “ بنائیں۔ ان سے ٹرانس نیشنل رپریشن کے مقدمات ، آن لائن تحاریک اور دنیا بھر کی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے رابطے کا کام لیں۔ ماہرنگ بلوچ، منظور پشتین سیمت ان تمام لوگوں کو ساتھ لیکر چلیں جو اس سسٹم کے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور کبھی بھی اس نظام کے بینفشری نہیں رہے۔ اس تحریک کو ایک حقیقی معنوں میں انقلابی تحریک میں ڈھالنے کے لیے اس کا لٹریچر تیار کریں۔ آن لائن سپیسز میں سٹڈی سرکلز اور مباحثے رکھیں۔ ہفتہ وار بنیادوں پر دنیا کے بڑے بڑے سکالرز ان سپیسز میں مدعو کریں۔ عوام کو آگاہی دیں کہ ہم نے کیا حاصل کرنا ہے کیسے حاصل کرنا ہے اور دنیا نے ایسی مشکلات کیسے عبور کیں۔ سب سے اہم یہ کہ کچھ بڑے لوگوں کو ، بلکہ سارے بڑے بڑے رہنماوں کو اپنی تھوڑی تھوڑی انا قربان کرکے ساتھ کھڑے رہنما کے لیے جگہ بنانی ہوگی۔ یہ سب اس لیے ضروری ہے کہ ہم نے کسی پلاٹ کا قبضہ نہیں چھڑانا کہ دس بیس لوگ بندوقیں اٹھا کر جائیں قبضہ کرکے بیٹھے ہووں کو آوٹ نمبر کریں اور پلاٹ کا قبضہ لیکر اپنا مکان شروع کردیں۔ نہیں! ہم نے پچیس کروڑ آبادی کا پسا ہوا غریب محکوم کم تعلیم یافتہ ملک دنیا کی بدترین آمریتوں میں سے ایک کے پنجے سے چھڑانا ہے۔ اس کے لیے منظم ، لمبی اور لگاتار تحریک کی ضرورت ہے۔ مندرجہ بالا لائحہ عمل میں کئی پہلو مزید تو شامل کیے جاسکتے ہیں لیکن ایک باقاعدہ آرگنائزڈ اور ٹارگٹ اورہینٹڈ تحریک کے بغیر ہم حقیقی آزادی تا قیامت نہیں لے سکتے۔ اشٹام لینا ہے تو لے لیجیے۔










