Rafaqat Ali
30.3K posts

Rafaqat Ali
@RA21474
💞PMLN❤ kashmiri Instagram @rafaqat6248131



اگر اتنی سخت قید کے بعد بھی یہ 9 مئی کے لوگ نہں ٹوٹے تو سوچ لیں کہ قوم کا جزبہ کیا ہے اور 9 مئی کو یہ لوگ کیا سمجھتے ہیں۔


بیٹا ماں کو پیسے کیسے بھجوائے گا ادارے نے سن 2004 میں ڈنکی لگائی تھی۔ گجرات کا ایجنٹ تھا۔ سوا تین لاکھ میں ڈیل ہوئی تھی۔ پچاس ہزار پہلے باقی پہنچ کر۔ اس وقت ایجنٹ نے کہا تھا کہ صرف تفتان بارڈر ، ماکو پہاڑی اور یونان والی نہر پیدل کراس کرنی ہے۔ باقی سارا سفر گاڑی یا بس میں ہوگا۔ دو بھینسیں اور ایک کٹا قصائی کو بیچا تھا اور لاکھ سوا گھر والوں کی جمع پونجی تھی۔ لاہور سے کوئٹہ والی ٹرین پر بیٹھے۔ تب ابھی مشرف نے اکبر بگٹی والا کارنامہ سرانجام نہیں دیا تھا۔ حالات خاصے بہتر تھے۔ کوئٹہ سے بسوں پر بارڈر تک گئے تھے۔ وہاں سہولت سے بارڈر کراس کرلیا۔ بس یہاں تک ایجنٹ کا وعدہ وفا ہوا۔ اسکے بعد بس یا گاڑی کیا ملتی دو وقت کی روٹی نہ ملتی تھی۔ پانی نہ ملتا تھا۔ جو وہاں کے مقامی ایجنٹ تھے وہ آہستہ چلنے پر چھڑیوں سے پیٹ ڈالتے تھے۔ لمبا سفر ہے اور بہت دکھ بھری داستان ہے۔ رات کو سفر کرتے تھے دن کو کہیں چھپے رہتے تھے۔ مکمل تفصیلات پھر کبھی سناوں گا۔ ایران سے ترکی داخل ہوئے۔ وہاں سے استنبول تک ایک کار میں دس لوگوں نے سفر کیا۔ وہاں سے ایجنٹ نے کہا سوا لاکھ روپیہ مزید دو تو یونان کے بجائے استنبول سے براہ راست شپ پر بٹھا کر اٹلی پہنچا دوں گا۔ یونان میں اس وقت کرائسز تھا۔ گھر میں ابھی دو بھینسیں موجود تھیں۔ استنبول کے ایک پی سی او سے ڈیڑھ منٹ گھر فون کیا اور انہیں وہ دو بھینسیں بیچنے پر قائل کرلیا۔ یہ گھر کا آخری Liquid asset تھا۔ خیر ایجنٹ سے ڈیل ڈن ہوئی اس نے ایک رات ایک شپ کے تہہ خانوں میں ہم اٹھارہ انیس لوگوں کو گھسا دیا۔ یہ کوئی کروز شپ تھا جس میں سیاح شغل مستی کرتے تھے۔ ہمیں بس تہہ خانوں کے اندھیرے میں جب میوزک اور اچھل کود کی آواز سنائی دیتی تو اندازہ ہوجاتا کہ باہر شام اتری ہوئی ہے اور سیاح عیاشیاں کررہے ہیں۔ خیر اٹلی پہنچ گئے۔ وہاں ایک مقامی ایجنٹ نے ہمیں نکالا۔ ایک قریبی قصبے میں لے گیا۔ وہاں ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا۔ وہاں نہائے دھوئے۔ ایجنٹ نے کہا اپنے اپنے گھروں میں فون کرو۔ وہاں کے ایجنٹ کو پیسے دو اور پھر تم آزاد ہو۔ اور ہاں اپنے اپنے پاسپورٹ اب پھاڑ کر پھینک دو۔ جب اس نے پاسپورٹ پھاڑنے کا کہا تو ہم میں سے تین چار لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ پڑے۔ کیونکہ ہم پاسپورٹ لیکر ہی نہیں آئے تھے۔ بلکہ میں نے تو پاسپورٹ ابھی تک بنوا ہی نہ رکھا تھا۔ اگلی پچھلی داستان پھر کبھی سہی ہم بغیر پاسپورٹ کے بغیر کسی ائیر ٹکٹ کے ، بغیر کسی جہاز کے ، خالی پیٹ ننگے پاوں گھر سے نکلے اور اٹلی پہنچ گئے۔ اور کھوپڑی والے چچا پوچھتے ہیں بیٹا ماں کو پیسے کیسے بھجوائے گا۔ چچا تم نہیں سمجھو گے۔ تم کبھی بھی نہیں سمجھو گے۔ ترسیلات کے بائیکاٹ کا اعلان ہو لینے دو پھر ہم تمہیں بتائیں گے کہ پیسے کیسے بھجواتے ہیں۔ اخے بیٹا ماں کو پیسے کیسے بھجوائے گا۔












