Darvesh R Zuberi retweetledi

پاکستانی مردوں کے پاس اب کوئی پلان بی نہیں بچا
پاکستانی مرد کی اوسط عمر تقریباً 65 سال ہے جبکہ اچھی صحت کے ساتھ گزارے جانے والے سال صرف 57 کے قریب رہ جاتے ہیں۔ یعنی ایک عام آدمی اپنی زندگی کے آخری کئی سال بیماری، کمزوری اور جسمانی مسائل کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔
اگر آپ تیس سے چالیس سال کی عمر کے بیس مردوں کو اتفاقیہ چن لیں تو حیرت ہوگی کہ ان میں سے کئی اپنے والد کو پہلے ہی کھو چکے ہوں گے۔ کچھ کے والد بچپن میں وفات پا گئے اور کچھ کی زندگی میں کبھی موجود ہی نہیں تھے۔ بہت کم لوگ اتنے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ اپنے والد کو ستر یا 80 سال کی عمر تک زندہ دیکھ سکیں۔
اگر میں آج اپنے گاؤں جاؤں تو محسوس ہوتا ہے کہ چالیس اور پچاس سال کی عمر کے مردوں کی تعداد پہلے ہی کم ہونا شروع ہو چکی ہے۔ ساٹھ سے پچھتر سال کے تو نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ ایک خاموش بحران ہے جس کا احساس اکثر تب ہوتا ہے جب آپ خود تیس برس کے ہو چکے ہوں اور شادی کے موقع پر آپ کو ساتھ لے جانے کے لیے کسی چچا یا ماموں کی ضرورت پڑے اور پھر معلوم ہو کہ وہ سب دنیا سے جا چکے ہیں صرف کزن باقی رہ گئے ہیں۔
یہ نسل کئی دہائیوں کے معاشی زوال کی نذر ہو گئی۔ اس زوال میں عالمی مالیاتی اداروں کی اصلاحاتی پالیسیوں کا بھی کردار ہے اور کچھ فیصلے ہم نے خود بھی کیے۔ جنریشن زیڈ کو شاید یہ اندازہ بھی نہ ہو کہ ایک وقت تھا جب پاکستان واقعی ایک صنعتی ملک تھا۔ فیصل آباد کو پاکستان کا مانچسٹر کہا جاتا تھا۔ کراچی کی ٹیکسٹائل ملیں، فیصل آباد کے پاور لومز، گوجرانوالہ کی صنعتیں، سیالکوٹ کا اسپورٹس اور سرجیکل سامان، وزیرآباد کی کٹلری، حطار اور حب کے صنعتی زون، اور ملتان و رحیم یار خان کی شوگر ملیں ملکی معیشت کی بنیاد سمجھی جاتی تھیں۔ لاکھوں لوگوں کا روزگار انہی صنعتوں سے وابستہ تھا۔ پھر آہستہ آہستہ کارخانے بند ہوتے گئے سرکاری ادارے نجکاری کی نذر ہوتے گئے اور ہر بند فیکٹری کے ساتھ ہزاروں خاندانوں کا روزگار بھی ختم ہوتا گیا۔
ہمارے باپ دادا کے پاس آبائی زمین اور ہماری مائیں کم از کم سہارا تھیں۔
آج بعض لوگ شادی کو صرف مرد یا عورت کے لیے ایک بیک اپ پلان سمجھتے ہیں، مگر 1980 اور 1990 کی دہائی میں حقیقت مختلف تھی۔ اس دور میں ایک سمجھدار، باحوصلہ اور ذمہ دار بیوی اکثر پورے خاندان کا سب سے مضبوط سہارا ہوتی تھی۔ وہ بچوں کی پرورش کرتی، گھر سنبھالتی، مشکل حالات میں خاندان کو بکھرنے نہیں دیتی، اور اپنے شوہر کے ساتھ ہر آزمائش میں کھڑی رہتی تھی۔ یہی باہمی اعتماد، قربانی اور ذمہ داری بہت سے خاندانوں کو معاشی بحرانوں کے باوجود سنبھالے رکھتی تھی۔
2010 کی دہائی کے آخر اور 2020 کی دہائی میں مردوں کا سب سے بڑا دشمن کوئی بیماری نہیں بلکہ بگڑتی ہوئی معیشت، غلط سیاسی فیصلے، عالمی غیر یقینی صورتحال اور مستقبل کا خوف بن گیا ہے۔ شاید ہماری نسل پہلی ایسی نسل ہے جس نے جوانی ہی شدید معاشی بے یقینی میں گزاری۔
سب سے زیادہ نقصان ان نوجوانوں کو ہوا جو 1980 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی میں پیدا ہوئے۔ انہیں بتایا گیا کہ اچھی تعلیم ہی کامیابی کی ضمانت ہے مگر وقت نے اس یقین کو بری طرح توڑ دیا۔
یونیورسٹیوں اور کالجوں سے فارغ ہونے والے بے شمار نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ یہی بے یقینی، مایوسی اور معاشی دباؤ بہت سے نوجوانوں کو غلط راستوں کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے لڑکے بڑھتے جا رہے ہیں جو نوکری نہ ملنے، مایوسی اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے آئس اور دوسرے نشوں میں پڑ رہے ہیں۔ کچھ تو روزانہ کے کھانے کے پیسے بھی مشکل سے پورے کرتے ہیں۔
یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔
اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ ایک کمزور معیشت صرف جیبیں خالی نہیں کرتی یہ امید بھی چھین لیتی ہے۔ جب روزگار ختم ہو، علاج مہنگا ہو جائے اور ریاست بنیادی سہولتیں فراہم نہ کر سکے تو اس کی قیمت پوری نسل ادا کرتی ہے۔
معاشی بحران ایک خاموش قاتل بن چکا ہے۔ اس مقام پر نہ کوئی موٹیویشنل تقریر کام آتی ہے، نہ نہ حوصلہ افزا باتیں گزشتہ ایک دہائی میں ہماری معیشت مسلسل کمزور ہوئی۔ عالمی معاشی بحران نے اپنا اثر ضرور ڈالا مگر اصل نقصان وہ تھا جو ہم نے اپنی پالیسیوں، قرضوں اور ناقص فیصلوں سے خود کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کاروبار سکڑتے گئے، سرمایہ کاری کم ہوتی گئی اور بینکوں نے نجی شعبے کے بجائے حکومت کو قرض دینا زیادہ محفوظ سمجھا۔ اس کا نقصان صنعتکار، تاجر اور عام شہری سب نے اٹھایا۔
1/1
اردو

















