
Rashid.chachar
17.7K posts

Rashid.chachar
@Rashidchachar3
working at jk group of sugar idutries





پاکستان تحریک انصاف کے شہزادے @alizaihere نے منصور علی خان کی صحافت کو لتاڑ کر رکھ دیا ۔ اس طرح سے دلیل سے جواب دیے کہ مجھے نہی لگتا منصور علی خان کے پاس جواب ہونگے ۔۔ علی زی نے کہا کہ نورین خان کے اس انٹرویو کی کہانی یہ ہے کہ آج سے تقریباً دو مہینے پہلے یعنی مئی میں وہ انٹرویو ریکارڈ کیا گیا اور اس انٹرویو کے فوراً بعد نورین خان صاحبہ نے اس اینکر سے کہا کہ بھائی شاید میں کچھ زیادہ بول چکی ہوں۔ آپ اس حصے کو کاٹ دیں۔ اب ظاہر ہے جنہوں نے عمران خان کو جیل میں رکھا ہے۔ ان کے بھائی کو آٹھ مہینے سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔ ان کے بیٹے کو دس سال کی سزا سنا دی گئ۔ وہ بول گئی ۔ اینکر صاحب نے کیا کیا؟ انٹرویو کا وہ حصہ کاٹ دیا اور چینل کو کہہ دیا کہ جناب یہ نہیں چلانا نورین خان صاحبہ کی اجازت نہیں ہے۔ اس وقت گیارہ بارہ چینلز نے پورے انٹرویو کو بلاک کیا۔ اور اس کے بعد تقریباً ڈھائی مہینے بعد اسی انٹرویو کا وہ مخصوص کلپ کاٹ کر سوشل میڈیا پر چلا کر ان کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اور اب جناب منصور علی خان صاحب کی غیرت ایمانی جاگی۔ ان کے اندر بغاوت نے انگڑائی لینا شروع کی اور یہ آئے اور انہوں نے نورین خان صاحبہ کو اس بات پر چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ آ جاؤ میرے سامنے بیٹھ جاؤ۔ میں پوچھوں گا آپ سے سوال۔ میرے سارے سوالوں کے آپ نے جواب دینے ہیں ۔ مطلب تم نورین خان کو بلا کر بٹھا کر اس سے کیا سوال پوچھو گے؟ کیا تم نے اپنے بیٹے کو دس سال قید بامشقت کی سزا کیوں سنائی ایک سیاسی مقدمے میں؟ مطلب تم کیا پوچھو گے نورین خان صاحبہ سے؟ بس یہ کہ ملک پر نوے ہزار ارب کا قرضہ کیسے چڑھا دیا پچھلے چار سالوں میں؟ مطلب تم کیا پوچھو گے نورین خان صاحبہ سے؟ بس یہ کہ سترہ سیٹوں کے ساتھ تم نے دو تہائی اکثریت کیسے لے لی؟ تم نے یہ سازش کیسے کی؟ تم نے عمران خان سے آٹھ مہینوں سے ملاقات کیوں نہیں کرنے دی؟ مطلب کیا سوال بنتا ہے تمہارا نورین خان صاحبہ سے؟ وہ ایک عام سی خاتون ہیں۔ جن کا بھائی جیل کے اندر ہے۔ جن کے بھائی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ جن کے بھائی کے ساتھ اتنا ظلم ہوا۔ ان کے بیٹے کے ساتھ اتنا ظلم ہوا۔ اور کیا بات کر رہے ہو کہ میں پوچھوں گا سوال ۔ میرے سوالوں کے تم جواب دو گے۔ تمہاری صحافت کیا ہے؟ جب شریف کی بیٹی کے سامنے تم بیٹھے تھے اور اس نے انگلی کر کے کہا کہ یہ نہیں چلنا چاہیے۔ اور گیارہ مہینے تک وہ نہیں چلا۔ پھر تم نے کہا اسے کلپ کو کاٹ دیں گے اور گیارہ مہینے بعد جب تم نے یوٹیوب چینل بنایا وائرل ہونے کے لیے اس کی کلپس لیک کیں۔ اور پھر دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی کہ میڈم جی میرے ایڈیٹر نے یہ لیکس چلا دیں۔ کال پر تم نے قسم اٹھائی اس کے سامنے۔ اس کے ملازموں کو تم نے ویڈیوز بنا کر بھیجیں قسم اٹھاتے ہوئے کہ یہ لیکس میں نے نہیں کیں۔ صحافت وہاں دکھانی چاہیے تھی میڈم جی سوال کر رہا ہوں۔ تو یہ کون سی بات ہے کہ نہیں چلنا چاہیے سب کچھ چلے گا۔ یہی تمہاری صحافت کی حیثیت ہے۔ طاقتور کے سامنے بکری بن جاتے ہو۔ اور جب کوئی عام سی گھریلو خاتون آئے جو پہلے ہی ظلم کا شکار ہے تو اسے تم چیلنج کر رہے ہو کہ میرے سامنے آ کر بیٹھو میں تمہیں چھٹی کا دودھ یاد دلا دوں گا۔ میں تم سے سوال پوچھوں گا مجھے تم نے جواب دینے ہوں گے۔ تمہارا سوال یہاں نہیں بنتا۔ جا کر حکومت سے سوال پوچھو جس نے اس ملک کا بیڑا غرق کیا ہے۔ ان سے سوال پوچھو۔ باقی اس کلپ کو مکمل دیکھنا ہے تو علی زای بھای کے افیشل چینل پر موجود ہے جسطرح سے منصور علی خان کو جواب دیا ہے اس سے بہتر نہ کوی جواب ہو سکتا ہے نہ دلیل ۔





















