Saim Choudhary

21.2K posts

Saim Choudhary banner
Saim Choudhary

Saim Choudhary

@S21_Ch

Court Stenographer at District Judiciary, (Punjab) Lahore High Court, Lahore (District Rahim Yar Khan)

Pakistan Katılım Nisan 2010
10.5K Takip Edilen9.5K Takipçiler
Sabitlenmiş Tweet
Saim Choudhary
Saim Choudhary@S21_Ch·
آپ کے خیال میں اپ کے شہر میں اور مجموعی طور پر اج پہیہ جام ہڑتال کیسی رہی؟
اردو
0
0
1
105
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے- اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا- خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔ ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔ میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔ تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔ سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں” سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
اردو
2.9K
27K
44.6K
2.2M
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
"چارسدہ، خیبر اور کرک کے جلسوں میں عوام کی بھرپور شرکت قوم کے شعور اور اپنے حقوق کے دفاع کے عزم کی عکاس ہے۔ عوامی رابطہ مہم کو بہترین انداز میں جاری رکھنے پر میں جلسے کے تمام منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ تحریک انصاف کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ مل کر حقیقی آزادی کی تحریک کو مزید تیزی سے آگے بڑھانا چاہییے۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے بطور اپوزیشن لیڈرز تا حال نوٹیفکیشنز جاری نہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں فوری طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نوٹیفائی کیا جائے۔ آج ایک بار پھر میرے وکلاء، میری فیملی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈرز کے باوجود مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس لوٹا دیا گیا جو کہ ناصرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ عدالتی احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میرے خلاف قائم بے بنیاد مقدمات کی سماعتیں بھی اپنے آخری مراحل میں ہیں، جس کے بعد ممکنہ طور پر مجھے ایک بار پھر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا جائے گا۔ میں پارٹی کے تمام کارکنان اور سینئر وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اس کھلی توہینِ عدالت کے خلاف فوری طور پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں اور پٹیشنز دائر کریں۔ اسی طرح القادر ٹرسٹ کیس میں تاخیری حربوں کے حوالے سے بھی ہدایت کرتا ہوں کہ اس کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا جائے اور سماعت کی تاریخ لیے بغیر عدالت سے باہر نہ آئیں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے میری ہدایت ہے کہ صوبے کی ضرورت کے مطابق خود اپنی مختصر کابینہ تشکیل دیں۔ میں نے کابینہ کے لیے کوئی بھی نام تجویز نہیں کیا، سہیل آفریدی کے پاس اپنی مرضی کی ٹیم چننے کا مکمل اختیار ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور پیغامات صرف سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی جاری کئے جائیں تاکہ کسی قسم کی کنفیوژن یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔ آخر میں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ احمد چھٹہ اور بلال اعجاز میرے پرانے اور وفادار ساتھی ہیں۔ یہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، میں نے ان کی برطرفی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے” سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ کے ذریعے دیا گیا پیغام (28 اکتوبر، 2025)
اردو
973
18.9K
33.2K
1.1M
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“The concept of a ‘hard state’ that Asim Munir is attempting to implement in Pakistan is entirely misguided. In its true sense, a “hard state” is one where the Constitution reigns supreme, justice remains independent, democratic freedoms are protected, and the national interest outweighs personal gain. In contrast, Asim Munir’s notion of a ‘hard state’ signifies a system in which the pillars of democracy are dismantled and ‘Asim Law’ prevails. No ‘hard state’ can ever be established without the support and will of the people. The atrocities being perpetrated under ‘Asim Law’ are not strengthening the state. They are, in fact, eroding its very foundations. No country can become strong by turning its guns on its own citizens, as witnessed on November 26th (2024) and in Muridke, where the army, paramilitary Rangers, and the police opened fire on their own people. The people of Khyber Pakhtunkhwa have given a clear and overwhelming mandate to Pakistan Tehreek-e-Insaf. This mandate grants me the constitutional and democratic authority to determine the province’s policies, for my accountability lies solely with the people. It is also the right of the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Afridi, to ensure the implementation of the policies, formulated in consultation with me, for which the people reposed their trust and cast their votes in our favor. During PTI’s tenure, prudent policies fostered peace across Khyber Pakhtunkhwa and beyond. Yet, since the regime change, the nation has witnessed a consistent deterioration in stability. Over the past three years, I have consistently emphasized the need for wisdom and foresight in dealing with Afghanistan through peaceful means. The current strained relations with Afghanistan are deeply concerning. Hatred and confrontation serve no one’s interests; only policies framed by genuine representatives of the people can bring about a lasting solution to terrorism. The baseless and fabricated cases against me are being deliberately prolonged. In the Al-Qadir University Trust case, justice has been systematically denied for the past ten months. After an extended delay, the case was finally scheduled for hearing, yet the decision on bail continues to be postponed. I instruct all PTI political leaders, members of assemblies, and lawyers to regularly attend and remain present during all court proceedings of my cases, and to continue their presence until justice is served. Participation in open-court hearings is your legal and democratic right. During PTI’s tenure in government, Nawaz Sharif was allowed daily meetings with numerous political figures in jail, with unrestricted access to family members. Even formal dinners were arranged. In stark contrast, I am being held in complete isolation. There is no precedent for such political vendetta in Pakistan’s history. I am not being provided the basic facilities guaranteed under prison regulations. Over the past ten months, I have been allowed to speak to my sons only once, and that too for two brief intervals of three minutes each. I am being deprived not only of my fundamental human rights but also of my rights as the head of a political party, to meet party officials and consult with them. Hurdles are constantly placed to obstruct my meetings with lawyers, political colleagues, and family members. This is a blatant violation of my fundamental and legal rights.” Message from former Prime Minister Imran Khan, delivered through his sisters and lawyers from Adiala Jail (October 21, 2025)
English
991
16.9K
28.9K
661.3K
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔ جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔ تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔ میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔ تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے” سابق وزیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)
اردو
1.4K
22.4K
37.9K
1.3M
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“مراد سعید میرے وفادار ترین ساتھیوں میں سے ہے اورحقیقی آزادی کی تحریک کا اہم ترین حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں بند ہونی چاہییں۔ وہ میری ہدایات پر ہی انڈرگراؤنڈ ہے۔ مجھے باوثوق ذرائع سے اطلاعات ملی تھیں کہ اس کی جان کو شدید خطرات ہیں- مجھے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنا کر میرے خلاف بطور گواہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے انڈرگراؤنڈ ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ہر موقع پر میری ہدایات کے مطابق حقیقی آزادی کی تحریک میں فعال کردار ادا کیا ہے” سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے وکلأ کے ذریعے پیغام۔۔۔ (9 ستمبر، 2025) 3/3
اردو
842
22K
43.9K
1M
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے مرحلے کے دوران سلمان اکرام راجہ نے میڈیا اور ہائی کورٹ میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے جس احسن طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھائی، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں” سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (16 اکتوبر، 2025) 2/2
اردو
674
18.6K
37.1K
660.4K
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
Congratulations to Gen Sahir Shamshad Mirza as new CJCSC & Gen Syed Asim Munir as new COAS. We hope new mly ldrship will work to end prevailing trust deficit that has built up in last 8 months between the nation and the State. Strength of the State is derived from its people.
Imran Khan tweet media
English
3.9K
33.2K
90K
0
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“I extend my heartfelt congratulations to all members of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on the successful and dignified completion of the transition process within the provincial government. The way our members stood firmly by the party’s ideology and voted, without hesitation or reservation, for my nominee for Chief Minister is truly commendable. I also pay tribute to Ali Amin Gandapur, who, without any reluctance, tendered his resignation, not just once but three times. This smooth transition is clear evidence that the ideology of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) continues to be strong in Khyber Pakhtunkhwa. My message specifically for Sohail Afridi is that he is my opening batsman, and he should play expensively and with full confidence. PTI is the largest political party in the country. To label those associated with it as ‘traitors’ merely because they disagree with a particular policy is extremely dangerous. Those who distribute certificates of treason and label others as ‘anti-state’ for political convenience must be stopped. As a politician, it is my democratic right to critique any policy that goes against the public interest, national integrity, or democratic principles. I have always opposed, and will continue to oppose, any such policy that harms Pakistan’s interests. The people of Khyber Pakhtunkhwa have given us their mandate, and we are accountable not to the DG ISPR but to the people of Khyber Pakhtunkhwa. Therefore, we shall never act against the interests of Pakistan or its people. I have no enmity with the Pakistan Army. The Army is mine just as the country and its people are mine. Many members of my own family have served in the armed forces. During the 1965 war, people from seven out of eight houses in our Zaman Park community were serving in the Army, defending the nation. It pains me deeply when soldiers lose their lives in the war against terrorism. Yet instability persists, and lives continue to be lost on both sides. History bears witness that military operations alone cannot eradicate terrorism. Our principled stance is that military operations in Khyber Pakhtunkhwa are unacceptable, as lives of innocent civilians are lost under the label of ‘collateral damage’ and people are displaced from their homes. Large-scale operations have been carried out for decades in an attempt to eliminate terrorism, but the menace persists. Precious lives are lost every year, whether the martyrs are soldiers, police officers, or innocent civilians. I have always maintained that to achieve the complete elimination of terrorism, decisions cannot be made behind closed doors. What is needed is a comprehensive strategy based on political wisdom and inclusivity. Any policy formulated without the consultation and participation of political representatives and the Khyber Pakhtunkhwa government is unacceptable. All key stakeholders, including local tribal leaders, the Khyber Pakhtunkhwa and federal governments, and the Afghan government must be consulted in determining counterterrorism policies. Without meaningful dialogue with Afghanistan, the issue of terrorism cannot be resolved. I once again instruct the new Khyber Pakhtunkhwa government to engage all parties involved and formulate an effective and comprehensive strategy against terrorism. One that ensures sustainable peace in the province and ultimately leads to economic recovery. In every democratic society, citizens have the fundamental right to peaceful protest. To use violence against unarmed people and open fire on them is completely unacceptable. The brutality inflicted upon Tehreek-e-Labbaik workers is the same injustice that PTI has been enduring for the past three years. A similar massacre occurred on November 26th (2024) at D-Chowk when our unarmed supporters were fired upon by snipers. I strongly condemn the inhumane violence and the shooting of unarmed citizens in the Muridke tragedy.” Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail
English
630
19.1K
36K
751.7K
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول بالا ہے۔ سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔ پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔ بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔ میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں “کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔ ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر زور مذمت کرتا ہوں” سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)
اردو
1.5K
21.4K
38.3K
1.9M
PTI _ Promoti0n
PTI _ Promoti0n@PtiPromo·
کل کی پروموشن کے لیے کمنٹس میں اپنا ایکس ہینڈل شیئر کریں.
اردو
149
49
180
7K
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“In 2021, the military leadership at the time proposed a plan for the resettlement of militants who had laid down their arms. However, our elected representatives from Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas opposed it, and therefore it was never implemented during our tenure. Yet, contrary to these facts, the PTI government is being falsely accused of having allowed terrorists to be settled in the country and thereby causing the present wave of terrorism. The nation deserves to know precisely which terrorists were resettled, and the details of when, where, and how?” -  Message from illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan (October 9, 2025)
English
858
17.5K
29.3K
597K
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“The circumstances in Khyber Pakhtunkhwa necessitated a change in the Chief Minister, a step fully in line with the constitutional process followed in other provinces as well. This process must be allowed to proceed without interference, ensuring its timely completion. Any attempt to interfere in this process will be met with a vigorous public protest.   Sohail Afridi was chosen because of his long-standing affiliation, dating back to his student days with ISF, and the ideology of Pakistan Tehreek-e-Insaf. This decision also reinforces the narrative of involving grassroots workers in decision-making instead of relying solely on electables.   Attempts by certain quarters to link the change in Khyber Pakhtunkhwa’s Chief Minister to my family are completely unfounded. The decision is purely political and no member of my family in any way influenced it. No family member has any connection to my political decisions.   Ali Amin is among my old and loyal associates, but he is embroiled in disputes. These disputes from Asim Munir’s policy of confronting terrorism through empty displays of force rather than a comprehensive political strategy. The year 2025 marks the worst period in Pakistan’s history in terms of terrorist incidents, and Khyber Pakhtunkhwa can no longer withstand the crisis. I hope the new Chief Minister and his team will work with public representatives to adopt a comprehensive policy aimed at eliminating terrorism and establishing lasting peace.   For the past two decades I have consistently outlined a clear strategy to combat terrorism. Because of that strategy, terrorism was largely brought under control during Pakistan Tehreek-e-Insaf’s three-and-a-half-year government. At that time, PTI even negotiated with the then anti-Pakistan and India-aligned Ashraf Ghani government, and issues involving tribal communities and Afghan refugees were resolved through understanding.   In 2021, the military leadership at the time proposed a plan for the resettlement of militants who had laid down their arms. However, our elected representatives from Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas opposed it, and therefore it was never implemented during our tenure. Yet, contrary to these facts, the PTI government is being falsely accused of having allowed terrorists to be settled in the country and thereby causing the present wave of terrorism. If these accusations hold any truth, the nation deserves to know precisely which terrorists were resettled, and the details of when, where, and how.   At times, it is alleged that the Afghan government is responsible for terrorism in Pakistan because militants based in Afghanistan carry out operations here; at other times it is claimed that decades-long settlement of Afghan migrants in Pakistan is responsible. Both claims are unfounded, for even after the disgraceful expulsion of millions of Afghan refugees, terrorism has only intensified. Such contradictions leave no doubt about the ill intentions behind the Asim Munir-imposed system and its hostility toward the people.   My position on confronting terrorism has always been unequivocal. History has proven time and again that when force replaces political foresight and strategy, failure is the only outcome. Collateral damage resulting from military operations often forces the public, in revenge, to take up arms, perpetuating a cycle that grows progressively worse.   Politically motivated reprisals have produced a stream of baseless cases against me, repeatedly refiled. Cases large and small, including Tosha Khana, Al-Qadir, cipher, iddat, and again Tosha Khana, have been brought against me and my wife, Bushra Bibi, solely to coerce me into abandoning my commitment to true freedom. I want to send my nation this message once more: no matter what they do, I will not bow before them, nor will I allow my nation to bow.” Message from former Prime Minister Imran Khan from prison - October 9th, 2025
English
634
18.3K
31.3K
595.7K
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟” ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2025)
اردو
1.6K
24.5K
41.9K
1.8M
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں- جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔ عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔ عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔ جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی” سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025) 1/2
اردو
2.2K
27.3K
45.2K
1.3M
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“I am deeply saddened by the loss of precious lives in today’s terrorist incident in the Orakzai region. Whether they are civilians, police officers, or army personnel, it is our own people, who are being martyred in these military operations. Among those martyred today were a Colonel and a Major, which is extremely tragic. Offering prayers for the elevation of all the martyrs’ ranks in Jannah and for the swift recovery of those injured. The flawed policies and mistaken priorities of the mafia presently imposed on the nation have led Pakistan, especially Khyber Pakhtunkhwa, into an alarming and unprecedented wave of terrorism. Even though two months still remain, this year Pakistan has witnessed a record number of terrorist incidents, resulting in an enormous loss of life on a scale difficult to find precedent for. I have repeatedly stated that the complete eradication of terrorism in Pakistan, including Khyber Pakhtunkhwa, is impossible without dialogue among four key stakeholders: the Khyber Pakhtunkhwa government, the people of the tribal areas, the Afghan government, and the Afghan people. The current regime’s policy of conflict and confrontation is only worsening the situation. I have repeatedly directed the Khyber Pakhtunkhwa government to oppose unnecessary military operations initiated against our own citizens. Peace had been restored across these regions during our tenure. It is deeply regrettable that the current Khyber Pakhtunkhwa government has failed to implement my vision for peace and has been unable to distance itself from the war-driven policies of the federal government and security agencies, as it should have. In these circumstances, there is no option left but to bring a change in the provincial government. I therefore announce the appointment of Sohail Afridi as the new Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa. The policy of fighting terrorism through drone strikes, jet bombings, and mortar shelling is a profoundly foolish strategy that has kept the nation trapped in a vicious cycle of terrorism. After today’s terrorist attack and the resulting martyrdoms, our security forces will inevitably retaliate, which will provoke a counter-response, and the cycle will continue endlessly. During our three-and-a-half-year tenure, terrorism was at its lowest level in Pakistan’s history, even though Afghanistan was then under the pro-India and anti-Pakistan Ashraf Ghani regime. I personally visited Afghanistan and invited Ashraf Ghani to Pakistan in an effort to improve bilateral relations. Due to our practical measures and effective diplomacy, the country was spared the kind of instability we are witnessing today. In contrast, the current rulers, who have unlawfully seized power, have completely failed to engage with the new government in Afghanistan (to secure Pakistan’s interests). Instead, after forty years of hospitality, Afghan refugees have been humiliated and forcibly expelled in a deeply painful manner. Bilawal Bhutto held the position of Foreign Minister for over a year and traveled across the world; yet at this most critical juncture in history, he did not visit Kabul even once, nor did he take any step to improve relations with the Afghan government. For lasting peace, it is essential that this issue be viewed in a broader perspective, and that all stakeholders come together to resolve matters through dialogue and mutual understanding. I am confident that the change in Khyber Pakhtunkhwa’s leadership will mark a new beginning. Support from public representatives, tribal elders, and local jirgas will be sought, and all parties will engage in constructive dialogue to eradicate terrorism from its roots and find a durable solution. 1/2
English
533
16.4K
29.7K
612.7K
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“آج اورکزئی کے علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسردہ ہوں۔ ملٹری آپریشنز میں ہر طرف صرف پاکستانی ہی شہید ہو رہے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں، پولیس والے ہوں یا فوجی۔ آج کی شہادتوں میں ایک کرنل اور میجر بھی شامل ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تمام شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔ ملک پر مسلط مافیا کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس سال دہشتگردی کے ریکارڈ واقعات ہوئے ہیں جن میں جس بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، جبکہ سال کے اختتام میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے چار اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ناگزیر ہے جن میں خیبرپختونخوا حکومت، قبائلی علاقوں کی عوام، افغان حکومت اور افغان عوام شامل ہیں۔ موجودہ رجیم نے جنگ و جدل کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، وہ حالات کے مزید بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو بارہا ہدایات دیں کہ خیبر پختونخوا میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف شروع کیے گئے غیرضروری ملٹری آپریشنز کے خلاف کھڑی ہو، ہمارے دور میں ان تمام علاقوں میں امن قائم ہو چکا تھا، لیکن انتہائی دکھ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت میرے امن کے ویژن پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اپنے آپ کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیوں کی جنگی پالیسیوں سے ایسے دور نہیں رکھ سکی جس طرح ضرورت تھی۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سہیل آفریدی کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ ڈرون حملوں، جیٹ طیاروں اور مارٹر گولوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی انتہائی بیوقوفانہ حکمت عملی ہے، جس کے باعث ملک دہشتگردی کے منحوس چکر سے کبھی نکل نہیں پایا۔ آج دہشتگردی کے واقعے میں ہونے والی شہادتوں کے بعد ہماری سیکیورٹی فورسز جواباً کاروائی کریں گی جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے پھر ردعمل آئے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ ایسے میں، میں نے ذاتی حیثیت میں افغانستان کا دورہ کیا اور اشرف غنی کو بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان دورے کی دعوت دی۔ تعلقات بحالی کی عملی کوششوں اور موثر حکمت عملی کے باعث ملک میں بدامنی کے ایسے واقعات نہیں ہوئے جیسے آج ہورہے ہیں۔ دوسری جانب اقتدار پر قابض موجودہ حکمرانوں نے افغانستان میں نئی بننے والی حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلکہ چالیس سال کی مہمان نوازی کے بعد جس طریقے سے افغان پناہ گزینوں کو بے عزت کر کے ملک بدر کیا گیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ بلاول بھٹو ایک سال سے زائد وزارتِ خارجہ کے منصب پر براجمان رہا اور تمام دنیا گھومنے کے باوجود، تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک مرتبہ بھی کابل نہیں گیا اور نہ ہی افغان حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے رابطہ کیا۔ دیرپا قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے، تمام فریقین مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔ میں پُرامید ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی سے نئی شروعات ہوں گی۔ عوامی نمائندوں، جرگوں اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی، دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام فریقین بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی سے دیرپا حل دریافت کریں گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ میری ہدایات کے عین مطابق نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے ویژن، قبائلی روایات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن کے بہترین فارمولے پر عمل کروانے اور دیر پا امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔” چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (٨ اکتوبر ۲۰۲۵)
اردو
1.5K
21.5K
37.1K
1.8M
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک آئینی عمل ہے جو اس ملک کے دیگر صوبوں میں بھی ہوتا آیا ہے اور اس میں کسی کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہو۔ اگر کسی نے اس میں مداخلت کی کوشش کی تو بھرپور احتجاج ہو گا۔ سہیل آفریدی کا انتخاب زمانہ طالب علمی سے ان کے آئی ایس ایف اور تحریک انصاف کے نظرئیے سے وابستگی کی وجہ سے کیا۔ یہ فیصلہ تحریک انصاف کی الیکٹیبلز کی جگہ گراس روٹ ورکرز کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے بیانیے کو بھی تقویت بخشتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو بعض حلقے میرے خاندان کے افراد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے۔ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس پر میرے خاندان کا کوئی فرد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہیں ہوا۔ میرے خاندان کے کسی فرد کا میرے سیاسی فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ علی امین میرے پرانے اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں لیکن وہ تنازعات کی زد میں ہیں۔ یہ تنازعات عاصم منیر کی کسی جامع سیاسی حکمت عملی اپنائے بغیر خالی گولہ بارود سے دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کی پالیسی کے باعث پیدا ہوا- 2025 دہشتگری کے واقعات کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا بدترین سال ہے اور خیبرپختونخوا کا صوبہ مزید اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ امید کرتا ہوں کہ نیا وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم دہشتگردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی اپنائیں گے۔ میں گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی بیان کرتا رہا ہوں۔ اسی حکمت عملی کے باعث تحریک انصاف کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں دہشتگری پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا تھا۔تحریک انصاف نے اس وقت کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز اشرف غنی حکومت سے بھی مذاکرات کئے اور قبائلی عوام اور افغان پناہ گزینوں کے معاملات بھی افہام وتفہیم سے طے کئے۔ 2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟ کبھی یہ کہا جاتا ہے پاکستان میں دہشتگردی کی ذمہ دار افغان حکومت ہے جس کی تائید سے افغانستان میں بسنے والے دہشتگرد پاکستان میں کاروائیاں کرتے ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ دہشتگردی دہائیوں سے پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں کیونکہ لاکھوں افغان مہاجرین کو بے عزت اور رسوا کر کے نکالنے کے باوجود دہشتگردی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ متضاد بیانات عاصم منیر کے مسلط کردہ عوام دشمن نظام کی بد حواسی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دہشتگردی سے نمٹنے کے حوالے سے میرا موقف ہمیشہ سے دوٹوک رہا ہے۔ تاریخ بھی گواہ ہے دہشتگردی کے خلاف اگر باقاعدہ سیاسی بصیرت اور حکمت عملی کے بجائے صرف طاقت کا استعمال کیا جائے تو ناکامی ہی مقدر بنتی ہے۔ ملٹری آپریشن کے نتیجے میں ہونے والا “کولیٹرل ڈیمج “ عوام کو انتقاماً ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیتا ہے اور یوں یہ سلسلہ بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے۔ سیاسی انتقام میں میرے خلاف مسلسل بے بنیاد مقدمات نہ صرف بنائے جا رہے ہیں بلکہ بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ توشہ خانہ، القادر، سائفر، عدت اور پھر توشہ خانہ سمیت کئی چھوٹے بڑے مقدمات مجھ پر اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر صرف اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ میں جھک کر حقیقی آزادی کا عزم ترک کر دوں۔ میں اپنی قوم کو پھر سے پیغام دینا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں ان کے سامنے نہ جھکوں گا نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا” - سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (9 اکتوبر، 2025)
اردو
1.4K
21.9K
39.3K
1.4M
Saim Choudhary retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
No condemnation is enough for the massacre being carried out by the apartheid state of Israel in Rafah. Israel's genocide of Palestinians continues unabated in complete violation of all international laws, and despite the ICJ ruling. If ever there was a rogue state in all senses of the word, it is Israel, which sees itself above all international laws & norms of intra-human conduct.
English
941
26.3K
54.2K
1.3M