Sabitlenmiş Tweet

گزشتہ روز پاکستان کے قبائلی ضلع کرم میں ایک شیعہ ملا نے میرے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔
لہٰذا میں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ شکر خدا کا ہے کہ میرے ہاتھ کسی بھی انسان کے خون سے رنگے نہیں ہیں۔
آغا اخلاق حسین شریعتی! میں تجھ سے ہزار گنا بہتر انسان ہوں۔ میں تیرے جیسا نہیں ہوں، جس کے ہاتھوں سینکڑوں پاراچنار کے نوجوان ایران کی پراکسیز کی طرف دھکیلے گئے۔
آج بھی پاراچنار کے بازاروں میں ہزاروں عورتیں، بوڑھے اور بچے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں اور یہ المیہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم نے میرے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔ میں ایسے فتوؤں کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔
اس سے پہلے پاکستان طالبان نے بھی میرے سر کی قیمت مقرر کی، میرے قتل کے فتوے جاری کیے گئے، اور مجھ پر کئی قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ہر بار خدا نے میری حفاظت کی۔ میں اغوا ہوا، طالبان کے ڈیتھ سیل میں رہا، مگر اُس وقت بھی خدا نے مجھے محفوظ رکھا۔
بطور صحافی، میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں کالعدم، جہادی، مذہبی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں سے متعلق حقائق پر مبنی خبریں رپورٹ کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔
میں ایرانی شیعہ پراکسی گروپ حزب اللہ اور زینبیون بریگیڈ سمیت ہر اُس تنظیم کے بارے میں رپورٹنگ جاری رکھوں گا جو خطے میں عسکریت، پراکسی جنگوں یا انتہا پسندی میں ملوث ہے۔
میرا قلم کسی دباؤ، فتویٰ یا دھمکی کے آگے نہیں جھکے گا۔
مجھے اپنے رب پر کامل یقین ہے۔
میں ایسے تمام فتوؤں کو مسترد کرتا ہوں اور انہیں کوڑے کی ٹوکری میں پھینکتا ہوں۔
شبیر حسین طوری

اردو






















