

Shadow Brief
91 posts

















کہانی تحریک انصاف کے چاہنے والے سہیل خان کے گھر پر گزری قیامت کی سہیل خان ایک عام پاکستان شہری ہے جو لاہور کے علاقہ ہنجروال میں ایک اکیڈمی چلا رہا تھا.وہ تحریک انصاف کا ایک عام ووٹر تھا،اسکا ٹویٹر اکاونٹ بھی کوئی غیر معمولی فالوونگ نہیں رکھتا،سلیم خان کے گھر یہ قیامت نہ گزرتی تو شاید کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ سلیم خان نامی کوئی شخص بھی تحریک انصاف کا چاہنے والا ہے۔وہ گھر سے اچانک 17 فروری کو غائب ہوا،سراغ نہ ملا تو گھر والوں کا تحریک انصاف کے وکیل رہنما @MalikUmvi سے رابطہ ہوا انہوں نے رٹ فائل کی تو پھر سلیم خان پر پیکا ایکٹ کا مقدمہ درج سامنے آگیا،ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ 27 فروری کو درج ہوا ہے اور سلیم خان نے کوئی پوسٹ ایکس پر شئیر کی تھی جو ناگوار گزری۔سلیم خان کو جوڈیشل کردیا گیا اس کی ضمانت دائر ہوئی تو جج صاحب نےعید سے چار روز قبل یعنی 17 مارچ کو مسترد کردی.اپنے شوہر کی گرفتاری اور غائب ہونے پر اہلیہ بیمار ہوئی اور اسی غم میں 21 مارچ کو چل بسیں،گھر والوں نے اہلیہ کے آخری دیدار کے لیے سلیم خان کی پیرو ل پر رہائی کی کوشش کی مگر افسران کو یہ گستاخی پسند نہ آئی اور وہ درخواست بھی مسترد کردی گئی۔اب سلیم خان پابند سلاسل ہے اور اسکا تین سال بیٹا ریاست سے پوچھ رہا ہے کہ اسکے والد نے آخر ایسا کونسا سنگین جرم کیا تھا کہ اسکے خاندان کو یہ سزا ملی؟


آپ صحافتی بددیانتی کا مظاہرہ کررہے ہیں،صحافی کاکام ہوتا ہے پوری تحقیق کے بعد توازن کیساتھ اسٹوری فائل کرے۔ آپ چونکہ پروپیگنڈہ ماسٹر ہیں تو کچھ حقائق درست کرلیں،جس شخص کو آپ معصوم قرار دے رہے ہیں،اس کی ذرا ٹوئٹر ٹائم لائن وزٹ کریں۔@PoliticalMobile یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ ملزم نے خود تسلیم کیا اور ایف آئی آر میں بھی اسی اکاؤنٹ کا ذکر ہے۔میں نے آپ کی پوسٹ پڑھنے کے بعد اس اکاؤنٹ کا وزٹ کیا ہے اور مجھے کہیں محسوس نہیں ہوا کہ یہ اکاؤنٹ کسی پاکستانی کا ہے بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے کوئی بھارت اِس اکاؤنٹ کو آپریٹ کررہا ہے۔ موصوف کہیں فیلڈمارشل کے گھر کا ایڈریس اور دیگر ذاتی معلومات کو شیئر کرکے حملے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کہیں پاک فوج کے خلاف بھارتی میڈیا کی پوسٹیں شیئر کررہے ہیں۔ کہیں فیلڈمارشل کو گالیوں والی پوسٹ کو انڈوز کررہے ہیں شیئر کررہے ہیں آپ بتائیں کیا ایسا شخص معصوم ہے؟ کیا پیکا قوانین کے مطابق یہ کوئی جرم نہیں ہے؟ صحافی بنیں،تحقیق کریں،توازن قائم رکھیں،دونوں طراف کا موقف دیں۔ البتہ گرفتاری کے بعد اگر فیملی پر غم آئے تووہ افسوس ناک ہیں جن کا ذمہ دار ملزم خود ہے نہ کہ ریاست۔











ہم نے صوفی برکت علی سے سنا تھا کہ پاکستان کی ہاں اور ناں میں اقوام عالم کے فیصلہ ہوا کریں گے۔ آج ہم نے فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی شکل میں دیکھ لیا کہ کیسے پاکستان دنیا کے معاملات کو حل کررہا ہے۔عالمی منظر نامہ تبدیل کرنے میں کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے مراکز پر حملوں کو 5 دن کے لئے معطل کرنے،جنگ بندی کےلئے مذاکرات کرنے سمیت کئی اہم پیشرفت سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔ اس بڑی پیشرفت سے قبل اور پس پردہ کیا ہوتا رہا؟کیسے ہوتا رہا؟ کوئی نہیں جانتا،کبھی تاریخ کے اوراق میں کچھ نقش ہوا ملے گا تو اندازہ ہوگا کہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر اور موجودہ حکومت کا کردار کیا تھا۔ بہرحال،دنیا جس جنگ سے پریشان تھی،امریکہ کے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملوں اور ڈیڈلائن سے پریشان تھی،وہ ٹل چکے ہیں،اس تمام پیشرفت میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آرہا ہے۔ الجزیرہ سمیت کئی عالمی جریدے تصدیق کررہے ہیں کہ اس پیشرفت میں پاکستان،ترکی اور مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی صدر کے حملوں کو 5 دن تک ملتوی کرنے کے اعلان سے چند لمحے قبل وزیر اعظم شہبازشریف کی ایرانی صدر سے فون پر گفتگو ہوئی۔اس گفتگو سے آپ تمام نتائج برآمد کرلیجئے کہ پاکستان اس وقت دنیا میں صوفی برکت علی کی پیشگوئی کے مصداق عالمی امن کا ضامن بن چکا ہے۔جس کا سہرا فاتح ہند فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے۔








ہم نے صوفی برکت علی سے سنا تھا کہ پاکستان کی ہاں اور ناں میں اقوام عالم کے فیصلہ ہوا کریں گے۔ آج ہم نے فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی شکل میں دیکھ لیا کہ کیسے پاکستان دنیا کے معاملات کو حل کررہا ہے۔عالمی منظر نامہ تبدیل کرنے میں کردار ادا کررہا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے توانائی کے مراکز پر حملوں کو 5 دن کے لئے معطل کرنے،جنگ بندی کےلئے مذاکرات کرنے سمیت کئی اہم پیشرفت سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔ اس بڑی پیشرفت سے قبل اور پس پردہ کیا ہوتا رہا؟کیسے ہوتا رہا؟ کوئی نہیں جانتا،کبھی تاریخ کے اوراق میں کچھ نقش ہوا ملے گا تو اندازہ ہوگا کہ فیلڈمارشل سید عاصم منیر اور موجودہ حکومت کا کردار کیا تھا۔ بہرحال،دنیا جس جنگ سے پریشان تھی،امریکہ کے ایران کے توانائی کے مراکز پر ممکنہ حملوں اور ڈیڈلائن سے پریشان تھی،وہ ٹل چکے ہیں،اس تمام پیشرفت میں پاکستان کا اہم کردار سامنے آرہا ہے۔ الجزیرہ سمیت کئی عالمی جریدے تصدیق کررہے ہیں کہ اس پیشرفت میں پاکستان،ترکی اور مصر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی صدر کے حملوں کو 5 دن تک ملتوی کرنے کے اعلان سے چند لمحے قبل وزیر اعظم شہبازشریف کی ایرانی صدر سے فون پر گفتگو ہوئی۔اس گفتگو سے آپ تمام نتائج برآمد کرلیجئے کہ پاکستان اس وقت دنیا میں صوفی برکت علی کی پیشگوئی کے مصداق عالمی امن کا ضامن بن چکا ہے۔جس کا سہرا فاتح ہند فیلڈمارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے۔