Sabitlenmiş Tweet
Jahangir Buzdar
21.6K posts

Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi

یہ تھا وہ لمحہ 2017 کا جب پاکستان میں گاڑیوں کی خرید و فروخت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے تھے۔ 2017 میں گاڑیوں کی خرید و فروحت میں ایک ہی سال میں 46 فیصد اضافہ ہوا تھا جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ۔ پھر پوچھتے ہیں نواز شریف کیوں خاموش ہیں۔ باخدا اِس ملک کے ساتھ تبدیلی کی آڑ میں بہت بڑا ظُلم کیا گیا💔
اردو
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi

صرف ایک لیپ ٹاپ اور چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے آپ ماہانہ $6,128 تک کما سکتے ہیں، اور یہ اتنا آسان ہے کہ میری نانی اماں بھی یہ کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے صرف تین سادہ قدموں پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے، چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کرنا سیکھیں اور اس کی صلاحیتوں کو سمجھیں۔ دوسرا، ایسی سروسز یا مواد تیار کریں جن کی لوگوں کو ضرورت ہو، جیسے کہ مواد نویسی، ترجمہ یا آن لائن مدد۔ تیسرے قدم میں، ان خدمات کو فری لانسر پلیٹ فارمز پر پیش کریں اور کلائنٹس سے کام لینا شروع کریں۔ محنت، تسلسل اور سمارٹ ورک سے یہ آمدنی ممکن ہے۔

اردو
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi

وسیم بادامی 😀👌
امریکہ کا تھینک ٹینک بیٹھا انہوں نے پچھلے 72 گھنٹوں میں ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا ،سب سے پہلے انہوں نے دیکھا کہ ابتدائی 24 گھنٹوں میں رافیل گر گئے انڈیا نے فرانس کو ذلیل کروا دیا، آگے بڑھے تو انہوں دیکھا کہ اسرائیل ساختہ ڈرونز گر گئے انڈیا نے اسرائیل کو ذلیل کروا دیا، پھر آگے بڑھے تو دیکھا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں S400 گر گیا انڈیا نے روس کو ذلیل کروا دیا ہے یہ وہ وقت تھا ٹرمپ نے دیکھا بھائی جان اگلی باری ہماری ہے اس پہلے سیزفائر کروا دو ورنہ یہ ہمیں بھی ذلیل کروائیں گے۔
اردو
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi

آپ مہینے کے $6,128 کما سکتے ہیں اگر آپ کے پاس ایک لیپ ٹاپ، وائی فائی کنیکشن اور تھوڑا سا وقت ہو۔ یہ سب ممکن ہے صرف تین آسان مراحل پر عمل کر کے۔ یاد رکھیں: اس تھریڈ کو آخر تک ضرور پڑھیں کیونکہ آخر میں آپ کے لیے ایک خاص سرپرائز ہے۔اب آئیے ان تین آسان مراحل پر نظر ڈالتے ہیں جن کی مدد سے آپ اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کار سادہ، مؤثر اور قابلِ اعتماد ہے—بس آپ کو تسلسل اور دلچسپی کے ساتھ عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

اردو
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi

Open Network has officially launched, marking a groundbreaking moment for all Pioneers! With external connectivity now enabled, Pioneers can engage in transactions beyond the Pi ecosystem, connect with KYB-verified businesses, and access new integrations like centralized exchanges.
Want to explore all the new possibilities? Go to the Pi mining app home screen to watch a video from Pi Network founder, Chengdiao Fan, and read the official announcement. Discover how Open Network unlocks a new era for Pi and how you can be part of it!

English
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi
Jahangir Buzdar retweetledi

القادر یونیورسٹی یا ٹرسٹ کیس کیا ہے ؟
ٹرسٹ۔۔۔ اور۔۔۔۔ القادر ٹرسٹ:
ٹرسٹ کے دو معنی ہیں، ایک لغوی اور ایک قانونی۔ لغوی معنی کے لحاظ ٹرسٹ کا معنی "اعتماد" ہے اور قانونی لحاظ سے "ٹرسٹ" ایک ڈھیلا ڈھالا سا خیراتی ادارہ ہوتا ہے جس میں آثاثوں کی ملکیت ٹرسٹی (ادارے کے سربراہ) کے پاس ہوتی ہے۔ ٹرسٹ قائم کر کے وراثت ٹیکس، گفٹ ٹیکس، ویلتھ ٹیکس اور ٹرانسفر ٹیکس سے بچا جا سکتا ہے۔ انکم ٹیکس سے پاک آمدنی اور اثاثے وصول کیے جا سکتے ہیں. ٹرسٹ کو تجارتی مقاصد کیلیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے اثاثوں کو نسل در نسل منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ٹرسٹ کے اثاثے حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہوتے اور ان کا عوامی ریکارڈ پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، ٹرسٹ کے معاملات پوری رازداری سے ٹرسٹی کی منشاء کے مطابق طے پا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس فاؤنڈیشن ایک زیادہ قانونی ادارہ ہوتا ہے، اس میں فرد کی بجائے تنظیم اثاثوں کی مالک ہوتی ہے، فاؤنڈیشن کو تجارتی مقاصد کیلیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، جانشینی نہیں ہو سکتی اور اس کا عوامی ریکارڈ موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔۔ فاؤنڈیشن زیادہ قانونی ادارہ ہوتا ہے جبکہ ٹرسٹ کو عوامی ڈومین میں رکھنے کیلیے فی الحال کوئی تفصیلی قوانین موجود نہیں ہیں۔۔ ٹرسٹ کے قوانین کو جان بوجھ کر مبہم رکھا گیا ہے تا کہ اشرافیہ اس کے ذریعہ ٹیکس بھی بچا سکے، تجارت بھی کر سکے اور عوامی سطح پر نیک نامی بھی کما سکے۔۔ عام آدمی نے صرف ویلفیئر آرگنائزیشن، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کا نام سنا ہوتا ہے، اسے ان کے قانونی فرق کا پتا نہیں ہوتا، وہ اس قسم کے سب اداروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ گھاگ لوگ اس فرق سے آگاہ ہوتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہیں۔
گویا "ٹرسٹ" کے نام پر عوامی ٹرسٹ (اعتماد) حاصل کیا جاتا ہے لیکن یہ عین ممکن ہے کہ ٹرسٹ کے نام پر عوامی ٹرسٹ کو دھوکا دیا جا رہا ہو۔
اب آتے ہیں "القادر ٹرسٹ" کی طرف.
القادر ٹرسٹ کے معاملات کو سمجھنے کیلیے دو الگ الگ کیسوں کا سمجھنا ضروری ہے جو بعد میں جُڑ کر ایک ہو جاتے ہیں۔
پہلا کیس: ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی
کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات پورا کرنے کیلیے حکومتِ سندھ نے 2013 میں کراچی کے ضلع ملیر کے ساتھ منسلک ایک نیا شہر قائم کرنے کا اعلان کیا اور اس کیلیے کراچی-حیدرآباد سپر ہائی-وے پر 17617 ایکڑ زمین مختص کی۔ اس کیلیے "ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی" کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا۔ عوام سے 15000 روپے فی کس کے فارم پر پلاٹوں کی قرعہ اندازی کیلیے رقم اکٹھی کی گئی۔ بعد میں ملک ریاض کو وہاں پر بحریہ ٹاؤن قائم کرنے کا خیال ستایا تو حکومتِ سندھ کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کر دی گئی۔ ملک ریاض نے بلوچستان اور ٹھٹھہ کے ویرانوں میں خریدی گئی سستی زمینوں کا تبادلہ اداروں کی ملی بھگت سے کراچی-حیدر آباد سپر ہائی وے پر کروا لیا اور بحریہ ٹاؤن بڑھتے بڑھتے 30 ہزار ایکڑ پر پھیل گیا۔ 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار کے سامنے یہ کیس پیش ہوا، چیف جسٹس نے ان زمینی تبادلہ جات پر ریمارکس دیے کہ: "چاندی کے بدلے سونا خریدا گیا"-- بحریہ ٹاؤن پر چونکہ آبادی بھی ہو چکی تھی لیکن زمینوں کی الاٹمینٹ اور تبادلہ جات غیر قانونی تھے لہذا اس کا حل عدالت نے یہ پیش کیا کہ قومی خزانے کو جو نقصان پہنچایا گیا ہے ملک ریاض اسے پورا کرے۔ ملک ریاض نے تصفیے کے بعد 460 ارب روپے قسطوں میں ادا کرنے کا اقرار کیا ۔ اس وصولی کیلیے سپریم کورٹ کے تحت ایک اکاؤنٹ قائم کیا گیا اور طے پایا کہ ملک ریاض 460 ارب روپے کی قسطیں اس اکاؤنٹ میں جمع کروایا کرے گا اور وہاں سے رقم قومی خزانے کو منتقل ہوتی رہے گی۔ ملک ریاض یہ قسطیں ابھی تک جمع کروا رہا ہے۔۔ ۔۔ یہ پہلا کیس ہے۔۔
1/10
اردو











