Asad Malik
8.4K posts

Asad Malik
@aasadbashir
|Politics and international relations| Citizen Journalist , Reader, Citizen of Humanity











سابق وزیر گوہر اعجاز سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے لیکن میں انہیں آئی پی پی فیملی کے نمائندے کے طور پر دیکھ رہا ہوں جو بجلی کی پوری پیداوار، تقسیم اور فروخت کو کنٹرول کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جیسا کہ جنرل مشرف دور میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے ساتھ مل کر اپٹما نے کردار ادا کیا تھا۔ پہلے لوڈ شیڈنگ ہوتی، پھر مزدور سڑکوں پر لائے جاتے، مل مالکان میڈیا پر ہمارے علاقے کے ایک شیخ بھنڈی کی طرح بھنڈی ڈالتے کہ مر گئے لٹ گئے، اگر آپ ہمیں بجلی دے نہیں سکتے تو خود تو بنانے دیں، پھر آئی پی پیز کے ساتھ ساتھ بے شمار پاور یونٹ اپنے استعمال کے لیے منظور کروائے، پھر اضافی بجلی بیچنی شروع کر دی اور پھر وہی یونٹ آئی پی پیز اور ایس پی ہیز میں تبدیل ھو گئے


اویس لغاری صاحب بلکل ٹھیک کہہ رہے کہ بجلی سستی ہونے جا رہی ہے کیونکہ حکومت نے تمام آئ پی پیز کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ڈاکٹر مصدق ملک


ستارہ انرجی لمٹڈ بھی بجلی بنانے والی کمپنی ھے جس کےمعاہدے کی تفصیل دیکھیں




حکومت پاکستان ڈسکوز(بجلی تقسیم کار کمپنیاں) کو پرائیویٹ کرنے جاری رہی ہے جس طرح باہر ممالک میں ہوتا ہے کہ جو بجلی کمپنی اچھی سروس دیتی ہے کم ریٹ میں بجلی دیتی ہے لوگ اس سے بجلی لیتے ہیں وہ سسٹم اب پاکستان میں بھی شروع ہو جانے جارہا ہے اس سے پاکستانی عوام کو ایک تو بجلی سستی ملے گئی دوسرا لوڈ شیڈنگ کے مسائل کا خاتمہ ہوگا حکومت کو جو اربوں روپیہ کا سالانہ نقصان ہو جاتا ہے اور پھر وہ نقصان ہمیں بھرنا پڑتا ہے اس سے عوام کو نجات ملے گئی عمر چیمہ

















