Sabitlenmiş Tweet
Muhammad abas
17.3K posts

Muhammad abas retweetledi

My father has been under arrest for 845 days. For the past six weeks, he has been kept in solitary confinement in a death cell with zero transparency. His sisters have been denied every visit, even with clear court orders allowing access. There have been no phone calls, no meetings and no proof of life. Me and my brother have had no contact with our father.
This absolute blackout is not a security protocol. It is a deliberate attempt to hide his condition and prevent our family from knowing whether he is safe.
Let it be clear: the Pakistani government and its handlers will be held fully accountable legally, morally and internationally for my father’s safety and for every consequence of this inhumane isolation.
I call on the international community, global human rights organisations and every democratic voice to intervene urgently. Demand proof of life, enforce court ordered access, end this inhumane isolation and call for the release of Pakistan’s most popular political leader who is being held solely for political reasons.

English
Muhammad abas retweetledi

میں غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جاری قتلِ عام، جس میں اب تک 40 ہزار سے زائد بےگناہ فلسطینی شہید جبکہ بہت سوں کو جان بوجھ کر بھوک کا شکار کرکے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے، کی شدید ترین الفاظ میں مسلسل مذمت کرتا آیا ہوں۔
دنیا بھر سےلوگوں کےفوری جنگ بندی کےمطالبےکے باوجود طاقتورممالک/حکومتیں ٹس سےمس نہیں ہورہیں جبکہ اسرائیل پوری ڈھٹائی سے تمام انسانی قوانین، جنگی قواعدوضوابط، قتلِ عام کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے کنونشن کےساتھ جینیوا اور ویاناکنونشنز کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہے۔ وقت آ گیاہے کہ عالمی قائدین (اسرائیل سے) فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ ہی نہ کریں بلکہ اس مطالبے پر عملدر آمدبھی یقینی بنائیں۔
اس باب میں مسلم قیادت ایک قدم آگے بڑھ کر ایک مؤثر کردار ادا کرے کیونکہ غزہ کے باشندے مسلم اُمّہ سے اپنی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں کہ وہ اس (وحشت و بربریت) کے خلاف آواز اٹھائیں اور اقدام کریں۔
#IStandWithGaza
اردو
Muhammad abas retweetledi

“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
اردو
Muhammad abas retweetledi

میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنان کو 5 اگست کے بعد، 14 اگست کو بھی ملک بھر میں نکلنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ حالیہ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ہوئی گرفتاریاں ہوں یا 9 مئی فالس فلیگ پر کینگرو کورٹس کی غیرمنصفانہ سزائیں، یہ فسطائیت ہے مگر اس سب کے باوجود آپ نے کسی صورت حوصلہ نہیں ہارنا۔ ظلم و بربریت کے اس طوفان کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔ میں خود اس جیل کی کال کوٹھڑی میں قید رہ کر بھی اپنی قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہوں، اور جب تک اپنی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد نہیں کروا لیتا، اسی طرح ڈٹ کر کھڑا رہوں گا۔
مجھ پر ایک بار پھر مکمل طور پر قید تنہائی نافذ کر دی گئی ہے۔ اہل خانہ اور وکلا سے بھی ملاقات بند کروا دی گئی ہے۔ جبکہ بیرونی دنیا اور حالاتِ حاضرہ سے بے خبر رکھنے کے لئے ہر ذریعہ معلومات، چاہے وہ ٹی وی ہو یا اخبار، مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ یہی غیرانسانی سلوک بشریٰ بی بی کے ساتھ بھی روا رکھا جا رہا ہے-ہماری ملاقات بھی بند کروا دی جاتی ہے- میرے اہل خانہ کی طرف سے بھیجی گئی درجنوں کتابوں میں سے گزشتہ دو ماہ میں صرف چار کتابیں فراہم کی گئیں، باقی سب ضبط کر لی گئیں۔ ذاتی ڈاکٹر تک رسائی بھی طویل عرصے سے بند ہے تاکہ صحت کا میرا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا جائے۔
ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں! اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا-
ملک بھر میں طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے- اس مشکل وقت میں تمام قوم کو بڑھ چڑھ کر ریسکیو اینڈ ریلیف مہم کا حصہ بننا چاہیے-“
چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کا اپنی قانونی ٹیم سے ملاقات کے دوران پیغام (19-08-2025)
اردو
Muhammad abas retweetledi
Muhammad abas retweetledi
Muhammad abas retweetledi

اس بیان کی رسید بھی گروک سے ضرور لیں۔ ساتھ ساتھ اپنی معلومات میں بھی اضافہ کریں۔ @grok آپریشن سرچ لائٹ کا آغاز ہونے کے پہلے 24 گھنٹے میں پاک فوج نے کتنے مشرقی پاکستانی شہید کیے تھے؟ صرف مستند ذرائع کی معلومات بتانا۔

اردو
Muhammad abas retweetledi

تمام لوگوں کو فوری طور پر اِن ڈرائیو (InDrive) کا استعمال چھوڑ دینا چاہیے۔
اس لیے نہیں کہ اس صارف سے دھوکہ ہوا اور اِنکا ہزاروں روپے کا نقصان ہو گیا بلکہ اس لیے کہ یہ کوئی بہت حرام زادے لوگ ہیں۔
ڈرائیور کی تفصیلات تک فراہم نہیں کر رہے۔ الٹا کسٹمر سے بد تمیزی کر رہے ہیں۔
نمبر اور ایڈریس دیں ناں ڈرائیور کا، دیکھتا ہوں کیسے پیسے اور بعد میں ہونے والا سارا نقصان ریکور نہیں ہوتا۔ اور اگر ان کے پاس ڈرائیور کی تفصیلات غلط ہوں، اور اگر اس ملک میں قانون کی ذرا سی بھی عمل داری ہو تو، ان سے نہ صرف پیسے اور تمام نقصان زبردستی ریکور کیا جائے اور ان لوگوں جوتے مار کر بھگا دیا جائے اور دوبارا کوئی بھی کاروبار نہ کرنے دیا جائے۔ پوری مہذب دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، فراڈیوں کی نہیں۔

اردو
Muhammad abas retweetledi

DHA Phase 1
DHA Phase 2
DHA Phase 3
DHA Phase 4
DHA phase 5
DHA Phase 6
DHA phase 7
Entire Bahria town
یہ وہ خاص عسکری پراجیکٹس ہیں جن کی آڑ میں دریائے سواں کی گزرگاہوں پر قبضہ کرکے چائنہ کٹنگ کرکے اور مار دھاڑ کرکے ہاوسنگ سوسائیٹیز بنائی گئیں اور ریٹائرڈ و حاضر سروس فوجی افسران کو گلچھرے اڑانے کا موقع دیا گیا۔
بحریہ ٹاون بھی نیم عسکری پراجیکٹ ہے کہ اسکی ایڈمن ، سیکیورٹی ، لینڈ پرکیورنمنٹ ، ڈویلپمنٹ ہر جگہ ریٹائرڈ فوجی افسر نوکریاں کرتے ہیں۔ ملک ریاض نے فوج کو یہ نوکریاں تحفظ کے عوض بانٹیں۔
ابھی گجرانوالہ میں بھی ڈی ایچ اے کے لیے کسانوں سے زبردستی زمینیں ہتھیائی جارہی ہیں۔ یہ سارا علاقہ بھی رچنا دوآب کے بے شمار چھوٹے چھوٹے ندی نالوں کی گزرگاہ ہے۔ چند سال بعد یہ ڈی ایچ اے بھی پانی کا رستہ روکے گا اور سیلاب تباہی مچائے گا۔
اس ملک میں کوئی ایک بھی برائی ایسی نہیں جس کی جڑ پاک فوج کے پیٹ سے نہ برآمد ہوتی ہو۔
اردو
Muhammad abas retweetledi

“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
اردو
Muhammad abas retweetledi
Muhammad abas retweetledi
Muhammad abas retweetledi
Muhammad abas retweetledi
Muhammad abas retweetledi

قسم ہے پیداکرنے والے کی اس وردی والے جوان کے ادارے نے منظم ہو کر
مینڈیٹ چھینا
لوگ قتل کیے لاپتہ کیے
سمگلنگ کی کرپشن کی
آئین شکنی کی
جعلی حکمران بٹھائے
جعلی ججز بٹھائے
بیڈرومز میں خفیہ کیمرے لگائے
اس میں غلط کیا ہے؟
x.com/CivicDominance…
اردو
Muhammad abas retweetledi
Muhammad abas retweetledi
Muhammad abas retweetledi
Muhammad abas retweetledi





