Dream pakistan
12.6K posts




مردان جلسہ


ایل این جی ٹرمینلز کے معاہدے ناقص ہیں، اگر معاہدے کے مطابق ہمیں گیس نہ بھی ملے تو 15 ملین ڈالر کی کیپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑتی ہے، جو سمجھ سے باہر ہے، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک





ایل این جی ٹرمینلز کے معاہدے ناقص ہیں، اگر معاہدے کے مطابق ہمیں گیس نہ بھی ملے تو 15 ملین ڈالر کی کیپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑتی ہے، جو سمجھ سے باہر ہے، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک


ایل این جی ٹرمینلز کے معاہدے ناقص ہیں، اگر معاہدے کے مطابق ہمیں گیس نہ بھی ملے تو 15 ملین ڈالر کی کیپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑتی ہے، جو سمجھ سے باہر ہے، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک


ایل این جی ٹرمینلز کے معاہدے ناقص ہیں، اگر معاہدے کے مطابق ہمیں گیس نہ بھی ملے تو 15 ملین ڈالر کی کیپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑتی ہے، جو سمجھ سے باہر ہے، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک


اسکے علاوہ خانزادہ نے 20 ارب کا نقصان جو ابھی تک ہوا ہی نہیں وہ بھی 122 ارب میں شامل کیا ہوا ہے کے ملک کا 122 ارب کا نقصان ہوگیا 35 ارب گرمیوں میں سستی ایل این جی نا خریدنے والی بونگی 20 ارب ابھی ہوا نہیں 55 ارب تو سِرے سے نقصان بنتا ہی نہیں 😂😂


ایل این جی ٹرمینلز کے معاہدے ناقص ہیں، اگر معاہدے کے مطابق ہمیں گیس نہ بھی ملے تو 15 ملین ڈالر کی کیپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑتی ہے، جو سمجھ سے باہر ہے، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک


ایسے معاہدوں کا ذمہ دار کون؟ ایل این جی ٹرمینلز کو بغیر استعمال ماہانہ 15 ملین ڈالر کپیسٹی پیمنٹس دینے کے معاملہ پر وفاقی وزیر پیٹرولیم کا فرمانا ہے کہ:"۔۔۔کنٹریکٹ یہ کہتا ہے کہ ہم ان(ایل این جی ٹرمینلز) کو استعمال کریں یا نہ کریں، ہم نے انہیں مہینے کا 15 ملین ڈالر اس غریب عوام کے پیسوں کا دینا ہے۔۔۔جب ہمارے پاس گیس نہیں اۤرہی۔۔قطر نے بند کر دی ہے۔۔۔it baffles me۔۔۔۔۔"


تین سال میں وزیر/مشیر بدلتے رہے مگر دیکھئے ہر نیا وزیر وہی کہانی سناتا رہا۔ نئے LNG ٹرمینل پر کام تک شروع نہ ہوسکا مگر دیکھیے ہر نیا وزیر یا مشیر کبھی پانچ ،کبھی دو نئے ایل این جی ٹرمینلز کی تین سال میں ویسے ہی تاریخیں دیتا رہا اور آج بھی یہی کیا گیا


پاکستان میں آئی پی پیز (IPPs) اور ایل این جی (LNG) معاہدوں کی مکمل ٹائم لائن ۔ آسان انداز میں: 1994 – پہلی پاور پالیسی (IPP ماڈل کا آغاز) حکومت: نواز شریف پاکستان میں نجی بجلی گھروں (IPPs) کا آغاز کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے “capacity payments/ کیپیسٹی پیمنٹ” کا تصور متعارف ہوا۔ 1996–1999 – IPPs میں توسیع حکومت: بینظیر بھٹو اور بعد میں نواز شریف مزید IPP منصوبے لگے، اور نجی شعبے کی بجلی میں شمولیت بڑھی۔ 2002 – نئی پاور پالیسی حکومت: پرویز مشرف IPP ماڈل کو جاری رکھا گیا، بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری مزید بڑھائی گئی۔ 2008–2013 – بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا حکومت: آصف علی زرداری لوڈشیڈنگ عروج پر، نئے منصوبوں کی پلاننگ ہوئی مگر بڑی پیش رفت محدود رہی۔2013–2015 – بڑے پیمانے پر IPPs (CPEC کے تحت) حکومت: نواز شریف چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت درجنوں پاور پلانٹس لگائے گئے۔ Capacity payments کے معاہدے اسی دور میں بڑے پیمانے پر کیے گئے۔2015 – LNG درآمد کا آغاز حکومت: نواز شریف قطر کے ساتھ طویل مدتی LNG معاہدہ کیا گیا۔ “Take-or-pay” شرائط شامل کی گئیں (یعنی گیس نہ لینے پر بھی ادائیگی)۔2016–2018 – مزید LNG اور پاور معاہدے حکومت: نواز شریف / شاہد خاقان عباسی LNG ٹرمینلز اور بجلی کے منصوبوں میں اضافہ، مستقبل کی capacity payments مزید بڑھ گئیں۔ 1/2





