Rebel❤️🇵🇰
10.1K posts

Rebel❤️🇵🇰
@ayeris_0
اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ❤️




کچھ بڑا ہو سکتا ہے ؟ مگر کیا ؟ سچ اگر کہوں تو حالات بہت خراب ہیں۔ پس پردہ، معاملات بہت الجھے ہوئے ہیں، اج اس پر کچھ بات کرتے ہیں۔ اس وقت تک، دو باتوں سے انکار ممکن نہیں۔ اول : نوٹیفکیشن پھنسا ہوا ہے۔ دوم : شاہ جی جانے کے موڈ میں نظر نہیں اتے۔ اگر معاملات درست ہوتے, تو ائینی ترمیم کے فورا بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا، کہانی ختم ہو جاتی۔ اب تو محض چھ سات دن رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں جانے والا چیف زیادہ وقت الوداعی پارٹیوں اور ملاقاتوں میں گزارتا ہے۔ شاہ جی کے حوالے سے اب تک ایسی کوئی اطلاع نہیں۔ فرض کیجئے کہ حکومت ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتی، تو کیا شاہ جی مان جائیں گے؟ فرض کیجیے کہ حکومت کسی اور کو بطور چیف نامزد کر دیتی ہے، تو کیا شاہ جی مان جائیں گے؟ شاہ جی کو اگر ماننا ہوتا، تو اتنے کھکھیڑ پالنے کی ضرورت کیا تھی؟ اسی ضمن میں ایک بات اور، اگر حکومت کسی اور کو چیف تعینات کرنا چاہتی ہے، تو اسے وزارت دفاع سے ایک سمری چاہیے ہوگی، جس میں سینیئر افسران کے نام ہوں گے، کیا شاہ جی ایسی کوئی سمری جانے دیں گے؟ فرض کریں کہ حکومت کوئی نوٹیفکیشن جاری ہی نہیں کرتی، تو پھر کیا ہوگا؟ کیا معاملہ عدالت میں جائے گا؟ اگر شاہ جی کا نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے، تو ایک بات طے سمجھیے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی قربانی پھر جلد ہو جائے گی۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ اٹکا ہوا ہے۔ شاہ جی کچھ طاقتوں کے منظور نظر ہیں۔ لیکن نواز شریف اور اصف زرداری بھی انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے مانے ہوئے وفادار ہیں۔ مطلب، پس پردہ خوب کھینچا تانی جاری ہے۔ اگلی تعیناتی کے بعد شاہ جی بہت زیادہ طاقتور ہو جائیں گے۔ پاکستان کے مالک شاید کبھی نہ چاہیں کہ کوئی اتنا طاقتور ہو کہ انہیں بھی انکھیں دکھا سکے! حالات کا رخ کسی جانب بھی ہو سکتا ہے۔ جب نواز شریف نے جنرل ضیاء الدین بٹ کو چیف لگایا تھا، فوج نے یہ حکم نہیں مانا، تو بندوقیں تن گئی تھیں۔ جنرل ضیاء الدین بٹ نے ہوش مندی کا مظاہرہ کیا، اپنے گارڈز کو کہا کہ بندوقیں نیچے کر دیں، یوں خون خرابہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ امید ہے کہ اپ ان کہی سمجھ چکے ہوں گے۔ 27 ترمیم کے بعد، اگر میں غلط نہیں، چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے، جو آرمی چیف کے پاس ہوگا، اس سے ملتا جلتا ایک عہدہ بھارت میں بھی ہے، وہاں اسے چیف اف ڈیفنس سٹاف کہتے ہیں۔ جنرل راوت اس کے پہلے چیف تھے۔ ان کے ساتھ کیا ہوا؟ جنرل راوت بھارت کے آرمی چیف تھے۔ مانا جاتا ہے کہ ان کے اصرار پر یہ دفتر قائم کیا گیا۔ جنرل صاحب ریٹائر ہونے کے بعد اس کے چیف لگ گئے، کچھ عرصہ بعد ایک ہیلی کاپٹر حادثہ میں بھگوان کو پیارے ہو گئے، اج کل ان کی جگہ پر ایک ریٹائرڈ جنرل، جنرل انیل چوہان موجود ہیں۔ اس کہانی میں سمجھنے والوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔ ممکن ہے کہ سوموار کو نوٹیفکیشن جاری ہو جائے، اور یہ سارے تجزیے، وقتی طور پر ٹھس ہو کر رہ جائیں۔ مگر صرف وقتی طور پر۔ کل ملا کر بات یوں ہے، کہ کمرے میں اونٹ گھسا ہوا ہے۔ سب اونٹ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اونٹ نکلنا نہیں چاہ رہا۔ لوگوں کی کوشش ہے کہ اونٹ نکالنے کے اس عمل میں دیواروں کو نقصان نہ پہنچے، دروازہ نہ ٹوٹے، لیکن اونٹ بالکل تعاون نہیں کر رہا۔ اب اس عمل میں کیا کیا ٹوٹتا ہے، یہ دیکھنے والی بات ہے۔ کیا ہو گا ؟ کیونکہ کھیل جاری ہے، کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب کون سا کھلاڑی حاوی ہو جائے۔ مگر ہو بہت کچھ سکتا ہے۔ بہت جلد ساری کہانی کھل کر سامنے ا جائے گی۔ رہے نام اللہ کا 🙏








