Sabitlenmiş Tweet
محسن ™👻
100.3K posts

محسن ™👻
@drtu01
ALHAMDULILLAH 🇵🇰PAKISTANI🇵🇰
مستی میں۔۔!!! 👻 Katılım Nisan 2020
28.7K Takip Edilen32.2K Takipçiler
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi

سورۃ الکہف میں کتے کے "اپنے اگلے پاؤں پھیلائے" کا ذکر کیوں کیا گیا ہے؟
اور جب اصحابِ کہف دائش اور بارش کرو میں بدل رہے تھے تو کتا کیوں نہیں پلٹ رہا تھا؟
ہم میں سے اکثر نے سورۃ الکہف سیکڑوں مرتبہ تلاوت کی ہوگی، مگر شاید ہی کبھی اس بات پر غور کیا ہو کہ قرآن نے کتے کے پلٹنے کا ذکر نہیں کیا — حالانکہ ہمیں بتایا گیا کہ اصحابِ کہف کو دائش بارش پلٹایا جاتا رہا تاکہ ان کے جسموں پر زخم یا سڑن پیدا نہ ہو۔
ایک جرمن طبی سائنسدان نے کہا:
"ایک دن میں سفر کر رہا تھا کہ ایک نوجوان میرے پاس آیا اور مجھے قرآن مجید کا ترجمہ شدہ نسخہ پیش کیا۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور اسے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ ارادہ یہ تھا کہ نوجوان کے جانے کے بعد کسی کو شرمندہ کیے بغیر اسے کوڑے میں پھینک دوں۔
میں اس سے بھول گیا اور جہاز میں سوار ہو گیا۔ پرواز طویل اور بور تھی۔ جیب میں رکھا وہ نسخہ یاد آیا تو میں نے اسے نکال کر ورق الٹنے شروع کیے۔ میری نظر سورۃ الکہف پر پڑی تو میں نے پڑھنا شروع کیا، اور دو آیات نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔"
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور تم دیکھتے کہ جب سورج طلوع ہوتا تو ان کے غار سے دائیں طرف ہٹ جاتا تھا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کتراتا ہوا نکل جاتا تھا، اور وہ غار کے کشادہ حصے میں تھے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے، تو تم اس کے لیے کوئی کارساز نہیں پاؤ گے۔"
(سورۃ الکہف، آیت 17)
اور پھر:
"اور تم خیال کرتے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ سو رہے تھے، اور ہم انہیں دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہے، اور ان کا کتا غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاؤں پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان پر جھانک کر دیکھ لیتے تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور تمہیں ان سے خوف بھر جاتا۔"
(سورۃ الکہف، آیت 18)
ڈاکٹر نے کہا:
"یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ انہیں نیند کے دوران پلٹایا جا رہا تھا تاکہ ان کے جسموں پر زخم یا سڑن نہ بنے، کیونکہ وہ لمبے عرصے تک ایک ہی حالت میں تھے۔
لیکن مجھے حیران کیا وہ پہلا حصہ — جس میں بتایا گیا تھا کہ سورج کی روشنی غار میں داخل ہوتی تھی، مگر ان کے جسموں پر براہِ راست نہیں پڑتی تھی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں روز غار میں آتی تھیں مگر انہیں براہِ راست نہیں چھوتی تھیں۔"
ڈاکٹر نے کہا:
"طبی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ اگر کسی مریض کو طویل عرصے تک ایک ہی حالت میں رہنا پڑے تو کمر یا جسم پر زخم نہ بننے کے لیے جگہ ہوا دار ہونی چاہیے اور بالواسطہ سورج کی روشنی ہونی چاہیے، لیکن براہِ راست دھوپ نہیں پڑنی چاہیے۔"
پھر جب اس نے اگلی آیت پر غور کیا تو اسے احساس ہوا کہ واقعی، نیند کے دوران جسم کو حرکت دینا زخموں اور سڑن سے بچاتا ہے۔
مگر جس بات نے اسے انتہائی حیران کیا وہ یہ تھی کہ کتا تو نہیں پلٹایا جا رہا تھا — وہ صرف غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاؤں پھیلائے ہوئے تھا، 309 سال تک — مگر اس کا جسم نہ سڑا، نہ زخمی ہوا۔
یہ بات اس جرمن ڈاکٹر کو مزید تحقیق پر ابھار گئی۔
مطالعہ کیا گیا فزیالوجی (Physiology) اور اس نے کتوں کی جسمانی بناوٹ پر حیرت انگیز طور پر دریافت کیا کہ کتوں کی جلد کے نیچے ایسے غدود (glands) پائے جاتے ہیں جو ایک خاص مادہ خارج کرتے ہیں۔ یہ مادہ جسم میں زخم یا سڑن کو پیدا ہونے سے روکتا ہے، جب تک کتا زندہ ہو، خواہ وہ حرکت نہ بھی کرے۔
اسی لیے اصحابِ کہف کا کتا پلٹنے کا محتاج نہ تھا۔
یہی قرآنی معجزہ اس جرمن سائنسدان کے اسلام قبول کرنے کا سبب بنا۔
نتیجہ تحریر:
سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس غیر مسلم سائنسدان نے صرف پہلی مرتبہ سورۃ الکہف پڑھتے ہی ان نکات کو محسوس کیا، جبکہ ہم میں سے کتنے ہی لوگ روز قرآن پڑھتے ہیں مگر غور نہیں کرتے۔
Copied

اردو
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi

یہ عوام ایسا کبھی نہیں کرے گی کہ کل سے جس کسی افسر یا وزیر کو سرکاری گاڑی میں گھومتا دیکھے اسے وہیں روک کر گاڑی سے گھسیٹ کر نیچے اتار لے اور کہے کہ اس میں موجود پٹرول اس کے باپ نے نہیں ڈلوا کر دیا یہ عوام کی ہڈیوں سے نچوڑا گیا ہے لہذٰا گاڑی یہیں کھڑی کر اور پیدل جا جہاں بھی جانا ہے۔۔۔ غیرت مند عوام ہوتی تو ایسا کرتی زیادہ نہیں فقط تین دن ایسا کیا جائے تو چوتھے روز یہی پٹرول ایک سو روپے سے بھی کم فی لٹر ملنے لگ جائے گا۔ لیکن یہ نہیں ہوگا اس کیلئے غیرت کا ہونا ضروری ہے جو ہم میں نہیں ہے۔
اردو
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi

خانہ کعبہ کی چابیاں سعودی شاہی
خاندان کے پاس کیوں نہیں رکھی جاتیں ؟
جانئے مقدس ترین مقام کی چابیوں
کے پیچھے چھپی وہ معجزاتی تاریخ جو
آپ کا بھی ایمان تازہ کر دے گی۔۔
اگرچہ سعودی فرماں روا کو خادمین حرمین شریفین
کہا جاتا ہے لیکن درحقیقت خانہ کعبہ کی چابیاں ان
کے پاس نہیں ہوتیں۔ یہ چابیاں صدیوں سے شیبی خاندان
کے پاس ہیں اور اس کے پیچھے ایسی کہانی ہے
کہ سن کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا۔
بیت اللہ کی چابیاں اس خاندان کے پاس
اس لیے چلی آ رہی ہیں کہ خود اللہ سبحان تعالیٰ
نے اس کام کے لیے اس خاندان کا
انتخاب کیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے چابیاں ان کے حوالے کی تھیں۔
جب 8ہجری میں مسلمان مکہ پر غالب آئے
اور اسے فتح کیا تو نبی کریم ﷺ نے
خانہ کعبہ میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کی
لیکن اس کا دروازہ مقفل تھا۔
لوگوں نے بتایا کہ اس کی چابیاں
عثمان ابن طلحہٰ کے پاس ہیں۔
عثمان ابن طلحہٰ مسلمانوں کے مکہ مکرمہ
فتح کر لینے پر خوفزدہ ہوکر خانہ کعبہ
کی چھت پر چھپے ہوئے تھے۔
لوگوں کے بتانے پر رسول اللہ ﷺ نے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا
کہ عثمان سے چابیاں لے کر دروازہ کھولو۔
جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے
عثمان سے چابیاں طلب کیں تو اس نے
دینے سے انکار کر دیا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا انکار
نظرانداز کر دیا اور اس سے چابیاں چھین لیں
اور دروازہ کھول دیا اور رسول اللہﷺ خانہ کعبہ کے
اندر داخل ہو گئے۔ بیت اللہ کے اندر رسول اللہ ﷺ
نماز ادا کر رہے تھے کہ حضرت جبریل ؑ اللہ کا پیغام لے
کر آ گئے۔ اس وقت قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی، جس کا ترجمہ ہے
”بے شک اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں
امانت والوں کو پہنچا دو، اور جب لوگوں کے درمیان
فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو،
بے شک اللہ آپ کو اچھی نصیحت کرتا ہے،
بے شک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔“
رسول اللہ ﷺ کو جیسے ہی جبریل ؑ نے اللہ
کا یہ پیغام پہنچایا انہوں نے فوری طور پر
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا کہ
عثمان کے پاس واپس جاﺅ اور چابیاں اس کے
حوالے کر دو اور اس سے اپنے روئیے پر معذرت کرو۔
جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جا کر
عثمان ابن طلحہٰ کو چابیاں واپس کیں اور
ان سے معذرت چاہی تو عثمان ششدر رہ گئے کہ
ایک عظیم فاتح نے انہیں چابیاں واپس بھجوا
دی ہیں۔ تب حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے
آیت کریمہ کے نزول کا واقعہ اسے سنایا اور بتایا
کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ چابیاں عثمان کو
واپس کر دو۔ یہ سن کر عثمان ابن طلحہٰ
نے فوراً کہا ”میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے
اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں“ اور
مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
حضرت عثمان ابن طلحہٰ کے اسلام قبول کرنے کے
بعد حضرت جبریل ؑ واپس
رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور چابیوں کے متعلق اللہ کا
حکم سنایا کہ ”آج کے بعد تاقیامت خانہ کعبہ کی
چابیاں عثمان ابن طلحہٰ کے خاندان کے پاس رہیں گی۔“
اس دن کے بعد سے آج تک خانہ کعبہ کی چابیاں اسی
خاندان کے پاس ہیں۔
(سیرۃ النبویہ لابن ہشام ، ص473 ، تفسیر بغوی ، 1 / 353ماخوذاً)

اردو
محسن ™👻 retweetledi

‼️ایک ضروری وضاحت‼️
آج سہیل سے ملاقات کا ون پوائنٹ ایجنڈا خان کی رہائی تحریک تھی، جس کے لئے اس نے 9 اپریل کو جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔ جیسے ہی اس نے یہ اعلان کیا، میں نے اسے مکمل سپورٹ کی یاددہانی اس شرط پر کروائی کہ 9 کو ہم کوئی لالی پاپ قبول نہیں کریں گے، اب مزید وقت کا زیاں قبول نہیں۔ اگر 9 کو ٹھوس لائحہ عمل۔اور تاریخ نہ دی گئی تو ہم۔اپنے فیصلوں میں آزاد ہوں گے۔ یہ دوستی کا ہاتھ بھی ہے لیکن غیر مشروط نہیں۔ اور مجھے سہیل سے مل کر واقعی محسوس ہوا کہ وہ سنجیدگی سے اب عمل کرنا چاہتا ہے۔
ہماری واحد ترجیح اس وقت خان صاحب کی رہائی ہے اور کچھ بھی نہیں۔
کچھ نامعقول جھوٹے لوگوں نے اسے غلط رنگ دیا کہ شاید۔میں کسی کی لابنگ کرنے گیا تھا۔ تو واضح سن لیں، نہ میں نے پہلے کبھی لابنگ کی ہے، نہ آج کر رہا ہوں، نہ آئندہ کرون گا۔ اپنے لئے نہیں کہ تو کسی اور کے لئے کیا لابنگ کروں گا اور کیوں کروں گا؟ مجھےباس سے کیا فائدہ؟
ایسے بیہودہ لوگ یہ جھوٹی الزام تراشیاں بند کریں اور توجہ خان صاحب کی رہائی پہ مرکوز رکھیں۔
جسے سینیٹ کی سیٹ کا بہت شوق ہو آئے میں استعفی دیتا ہوں،۔میری سیٹ لے لے۔ میری طرف سے یہ۔موضوع بند ہے۔۔متھے بلاوجہ ان فالتو چیزوں میں نہ گھسیٹا جائے۔ ہمارا فوکس صرف خان کی رہائی تحریک ہے اور کچھ نہیں!
اردو
محسن ™👻 retweetledi

میری ماں جھنگ سول اسپتال میں داخل تھیں 26مارچ شام کو میں نے اپنی ماں کو غلام نبی وارڈ سے چیک کروایا
جس کے بعد فوراً میری والدہ کو آیمرجینسی وانٹیلیٹر پر ڈال دیا گیا اور رات تقریبا گیارہ بجے مریض کی حالت غیر ہو گئی
ایک پڑھی لکھی عورت نے بتایا کہ آپ کی والدہ کا آکیسجن بند ہے اور ماسک ویسے لگا ہوا ہے
جس کے بعد مزید ڈاکٹر سے مریض کے پاس موجود خاتون نے منت سماجت کی
لیکن موقع پہ موجود ڈاکٹر صاحب موبائل میں مگن لگا رہا اس نے کوئی توجہ نہ دیں
اور نرس کو کچھ دیر بعد بھیجا جس نے کہا کہ آکسیجن کی نوزل بند ہے اور
آپ یہ ٹیکہ لے آؤ میں وارڈ سے باہر تھا میں باہر فارمیسی کی طرف دوڑا جلدی سے ٹیکلہ لے کر آیا
اور مجھے سیکورٹی گارڈ نے واپسی پر روک لیا اندر مریض کی حالت غیر ہوتی گئی
جو لوگ سیکورٹی گارڈ کو سو پچاس ہاتھ میں دیتے ان کو اندر بھیج دیا جاتا
اندر سے میری بہن نے چیخ پکار پر شروع کردی کہ امی کو کچھ ہورہا ہے
تب میں اندر زبردستی داخل ہونے لگا تو گارڈ نے مجھے گیٹ کے دونوں دروازے میں پھنسا کر تھپڑ مارے
میری بہن جیسے گیٹ پہ آئی اس کو بھی دھکے دیئے میری والدہ کی آکسیجن بند ہونے کی وجہ سے موت ہوگئی
ویڈیو کا لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے۔
میں ایک غریب انسان ہوں کیا آپ میری آواز بنیں گے ؟؟؟

اردو
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi
محسن ™👻 retweetledi

4 ماہ قبل موٹی موٹی آنکھوں والا یہ پیارا شہزادہ لاہور ہربنس پورہ کی حدود سے لاوارث ملا ۔
وہ دن 15 دسمبر 2025 کا تھا بہت انتظار کیا کہ اس معصوم پھول کی تلاش میں کوئی آجائے لیکن افسوس کوئی نہ آیا ۔
یہ اپنا نام سلیمان خان اور والد کا نام خالد خان بتاتا ہے پہلے اس کو ہرہنس پورہ کے آس پاس لے کر جایا گیا کہ شاید اس کو راستہ یاد آجائے لیکن
ایسا کچھ بھی ممکن نہ ہوا انتظار کیا گیا کہ اس کے والدین کوئی ایف آئی آر کروا دیں لیکن وہ بھی سامنے کچھ نہ آیا ۔
آخر کار تھک ہار کر شلٹر ہوم اس کو بھیج دیا گیا اب دوبارہ اس کی کمپین چلائی جارہی ہیں
ایک بات جو سامنے آئی ہے کہ یہ اپنا گاؤں جلو بتاتا ہے لیکن لاہور والے جلو پنڈ میں اس کے والدین کا سراغ نہ مل سکا
ہوسکتا ہے کہ یہ بچہ والدین کے ساتھ حسن ابدال کے پاس جلو گاؤں سے آیا ہو اور بچھڑ گیا ہو ۔
خیر ساتھ دیں ان شاء اللہ اس کے والدین مل جائیں گے
آپ بتائیں اگر آپ کو ایسا کیس ملتا جس میں صرف بچے کا نام معلوم ہوتا تو آپ کیسے اس کے والدین تک پہنچتے ؟؟؟
🌹🌹🌷
Share it

اردو
محسن ™👻 retweetledi

کبھی کبھی انسان مدد کرنا چاہتا ہے مگر حقیقی حقدار نہیں ملتا…
آج ہسپتال میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے دل ہلا دیا۔
34 سالہ ایک خاتون پچھلے چھ ماہ سے بیڈ پر ہیں۔ بیٹی کی پیدائش کے وقت سے اب تک صرف آنکھیں کھول اور بند کر سکتی ہیں، جسم کا کوئی حصہ حرکت نہیں کرتا حتیٰ کہ گردن کو بھی حرکت نہیں دے سکتی اور منہ سے بول کر کوئی بات بھی نہیں کر سکتی۔
بیڈ سورز بھی بن چکے ہیں۔ تین چھوٹے بیٹے اور صرف چھ ماہ کی ایک معصوم بیٹی پاس کھڑے تھے۔ بیٹے سے یہ معلومات لی ہیں جس سے ایک بڑا بھائی ہے اور ایک چھوٹا…
خاوند کی بینائی شوگر کے باعث ختم ہو چکی ہے، وہ خود سہارا کے محتاج ہیں۔
چھوٹی بچی کو کبھی بھائی اور نابینا باپ سمبھالتے ہیں۔ اس مشکل وقت میں خاتون کی ضعیف والدہ ہی تیمارداری کر رہی ہیں۔
یہ خاندان اس وقت انتہائی کسمپرسی میں ہے اور علاج کے اخراجات بھی برداشت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔
مقام: سول ہسپتال گوجرانوالہ — HDU 2، وارڈ نمبر 5
اگر کوئی صاحبِ حیثیت اس کارِ خیر میں حصہ لینا چاہے تو خود آ کر ان کی مدد کر سکتا ہے۔
اللہ پاک سب کو کسی ایسی پریشانی سے محفوظ رکھے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو دکھی انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ 🤲
Retweet for help him

اردو
محسن ™👻 retweetledi

عنوان : جب مرجائیگی مخلوق توکیا انصاف کروگے
بجلی کی قیمت ادا کر دی، تو اس پر کون سا ٹیکس؟
کون سے فیول پر کونسی ایڈجسٹمنٹ کا ٹیکس؟
جب بل ماہانہ ادا کیا جاتا ھے، تو یہ بل کی کواٹرلی ایڈجسٹمنٹ کیا ھے؟
کون سی فنانس کی کاسٹ چارجنگ؟
جب استعمال شدہ یونٹس کا بل ادا کر رھے ہیں، تو کس چیز کے ایکسٹرا چارجز؟
ود ھولڈنگ چارجز کس شے کی؟
میٹر تو ہم نے خود خریدا تھا، اسکا کرایہ کیوں؟
بجلی کا کون سا انکم ٹیکس؟
جب ہر ماہ بلنگ ہو رہی ہے تو فکس چارجز کس بات کے۔
(ایک ہی گھر کے دو میٹرکے
111 یونٹ استعمال کیے فکس چارجز 900 روپے 57 یونٹ استعمال کیے تو فکس چارجز 400)
(15) اگر گزشتہ چھ ماہ میں ایک دفعہ بھی آپ کی یونٹ 200 کو ٹچ کر جاۓ تو اگلے چھ ماہ آپ کے یونٹ کا ریٹ پہلے 200 یونٹ والا ہی ھو گا جبکہ ہر مہینے ادائیگی کرنے پر بار بار ادائیگیاں!
یہ کون سا ظلم کا فارمولا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
منجانب؛
عام شہری

اردو
















