انصار عباسی صاحب نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد میں ورزش کے مخلوط مراکز میں مرد و خواتین کے لیئے علیحدہ اوقات مقرر کیئے جائیں کیونکہ اس سے فحاشی پھیل رہی ہے۔انصار عباسی صاحب بہت محترم شخصیت ہیں کیونکہ ان کے ہاں منافقت نہیں۔ان کا طرز زندگی بڑی حد تک ان کی سوچ اور نظریات سے مطابقت رکھتا ہے۔مگراس حوالے سے بصد احترام چند گذارشات پیش کرنا چاہتا ہوں:
کیا حضرت عمرؓ کا دور شروع ہونے سے پہلے مساجد میں نماز کے مخلوط اجتماعات نہیں ہوا کرتے تھے؟کیا حج اور عمرہ کے دوران مرد و زن کے اختلاط کے دوران خواتین سے بدسلوکی کے واقعات پیش نہیں آتے؟تو کیا وہاں بھی یہ مطالبہ رکھا جاسکتا ہے خواتین و حضرات کے لیئے الگ اوقات مقرر کیئے جائیں؟یہ سلسلہ چل نکلا تو کل کو لوگ کہیں گے خواتین گھروں میں قید ہوجائیں کیونکہ ان کے نظر آنے سے فاسد خیالات آتے ہیں۔ورزش کے مراکز سے دفاتر سے ہوتا ہوا یہ معاملہ نجانے کہاں تک پہنچے۔
آپ کے ہاں اسلام کی جو تعبیر اور تشریح ہے اس کے مطابق زندگی گذاریں مگر دوسروں کو بھی یہ حق دیں۔اگر کسی کا ایمان کمزور ہے تو وہ ایسے کلب کا انتخاب کرلے جو صرف حضرات کے لیئے مخصوص ہو۔اسی طرح خواتین کے پاس بھی اس انتخاب کی سہولت دستیاب ہے۔
@VOAx92 مذہب فروشی دین فروشی بند کردیں سخت گناہ عظیم ھے
خود کو راہ راست پر لانے کی کوشش کر و
یہ مسلمانوں کا ملک ہے یہاں کوئی دشمن نہیں بستے
انڈیا میں کافر رہتے ہیں وہاں جا کر جہاد کرو فتح کرو مظلوم مسلمانوں کی مدد کرو جا کر وہاں، ،،، یہاں فساد مت مچاؤ