جب ہم کہیں کہ غزہ چلو تو تم کہتے ہو ہمارے پاس اسلحہ نہیں ہے۔۔۔۔۔لیکن کشمیریوں پر ظلم کرنے کے لئے تمہارے پاس اسلحہ ہے
سعد رضوی صاحب قائد تحریک لبیک
#TLP_Promotion
#ملنگ_قبیلہ
"ٹی ایل پی پر پابندی: ختمِ نبوت کے پروانوں سے انتقام"
اسحاق ڈار نے کاجا کلاس کو بتایا کہ شدت پسند تنظیم ٹی ایل پی پر پابندی ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ پابندی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ریاستِ پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
جامع مسجد رحمت اللعالمین اور مزارِ ُپر انور بابا جان تا حال فورسز کے قبضے میں ہیں.
34 جمعہ گزرنے کے باوجود نہ وہاں اذان کی اجازت ہے اور نہ نماز کی *یہ ظلم اور نا انصافی اب بند ہونی چاہیے!
ملکِ عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کفر کے گماشتوں کو اتنی چھوٹ کیسے مل گئی کہ وہ مسجد رحمت اللعالمین میں 34 ہفتوں سے اذان اور نمازِ جمعہ روک کر بیٹھے ہیں؟
یہ نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کا خون ہے بلکہ آئینِ پاکستان کی بھی کھلی توہین ہے‼️
Release Saad Rizvi
علامہ سعد حسین رضوی کا جرم صرف حق گوئی اور مظلوم فلسطین کا مقدمہ لڑنا ہے، جس کی سزا انہیں 8 ماہ کی ماورائے قانون قید کی صورت میں دی جا رہی ہے‼️
ریاست کا خوف یہ واضح کرتا ہے کہ اگر وہ عدالت کے کٹہرے میں آئے تو جھوٹ کے سارے بت پاش پاش ہو جائیں گے۔
Release Saad Rizvi
جبری گمشدگیاں کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے خاندان اور پورے معاشرے کا قتل ہیں۔ اپنے ہم وطنوں کی بازیابی اور انصاف کے حصول کے لیے خاموشی توڑیں اور ہماری آواز بنیں!
Release Saad Rizvi
18 ذوالحجہ یومِ شہادت
ذُو النُّورَین جامعُ القرآن حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
زاہدِ مسجدِ احمدی پر درود
دولتِ جیشِ عُسرت پہ لاکھوں سلام
Release Saad Rizvi
آخر کب تک نظام انصاف اور آئین پاکستان کا مذاق بنایا جائے گا؟
اگر ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت کے سربراہ کی جبری گمشدگی کا کیس نہیں سنا جارہا تو عام عوام کیا امید رکھے؟
Release Saad Rizvi
بریکنگ نیوز
ایک بار پھر انصاف میں تاخیر!
کیس سننے سے جج صاحب کا انکار عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ کب تک ہمارے قائدین کی رہائی کے فیصلے کو ٹالا جاتا رہے گا؟ یہ ظلم و انصاف کا قتل بند کیا جائے۔
جج صاحب سماعت کرنے سے قاصر ہیں!
Release Saad Rizvi
تین ماہ کے تعطل کے بعد آج سماعت کے لیے مقرر حافظ سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی درخواست ایک بار پھر اچانک منسوخ کر دی گئی۔
مقدمہ آج لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ صاحب کے روبرو سماعت کے لیے مقرر تھا۔ جس کی پیروی برہان معظم ملک کررہےتھے
اس سے قبل کیس کی آخری سماعت 13 مارچ 2026 کو ہوئی تھی۔
آج رضوی برادران کی جبری گمشدگی کو 233 دن مکمل ہو چکے ہیں۔
رضوی برادران بازیابی کیس میں بار بار تاخیر اور تعطل، طاقتور حلقوں اور اداروں کے نظامِ انصاف پر اثر و رسوخ اور مداخلت کی عکاسی کرتا ہے۔
جبری گمشدگی کے اس ہائی پروفائل کیس میں عدالتی پیش رفت نہ ہونا، اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا کہ آئینِ پاکستان کی کوئی عملی حیثیت باقی ہے؟
یہ تاخیر ٹی ایل پی کے لاکھوں کارکنان اور حامیوں کے غصے اور اضطراب میں مزید اضافہ کرے گی۔