Sabitlenmiş Tweet
Shams Uddin (Sheikh)
8K posts

Shams Uddin (Sheikh)
@ik6t6
https://t.co/hvOLocei1r پی ٹی آئی سپوٹر
اسلام آباد, پاکستان Katılım Haziran 2020
3.1K Takip Edilen3.8K Takipçiler
Shams Uddin (Sheikh) retweetledi

عید کی نماز پر پابندی،
ملاقاتوں پر پابندی،
علاج پر پابندی
کیا یہ اسلامی ریاست کی پہچان ہے؟
مذہبی آزادی سلب کرنا انصاف نہیں، ظلم ہے۔
اللہ پاک قرآن کریم کی سورہ النحل، آیت نمبر 90 میں ارشاد فرماتے ہیں،
"بےشک اللہ حکم دیتا ہے انصاف کا اور بھلائی کا"
مگر یہاں ہر حق پر پابندی کیوں؟
#عیدقرباں_عہدمزاحمت
اردو

@RShahzaddk فخر کی بات ہی امریکہ اور اسرائیل کو بچایا گیا ایران سے
اردو

یوتھیے کہہ رہے ٹویٹ امریکہ سے آیا تھا چلو ہم تسلیم کر لیتے امریکہ سے آیا اس کا مطلب تو یہ کہ امریکہ کے صدر کو فیس سیونگ کے لیے شہباز شریف اور پاکستان کی ضرورت تھی
یہ تو اور بھی فخر کی بات ہے دنیا میں واحد اسلامی ایٹمی طاقت کو یہ مقام ملا کہ وہ امریکی صدر کو فیس سیونگ دے اور ایک بڑی جنگ رکوا دے
ہور کج ساڈے لائق ؟
اردو

@GFarooqi عمران خان کے دور حکومت میں جو ٹویٹس آپ کرتی تھیں اسی طرز پہ اب بھی کیا کریں منافقانہ طرز عمل کیوں؟؟
اردو
Shams Uddin (Sheikh) retweetledi
Shams Uddin (Sheikh) retweetledi
Shams Uddin (Sheikh) retweetledi

تیس مارچ، ایک سوال، ایک درد:
کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟
قراردادِ پاکستان ایک عہد تھا—انصاف، عزت اور عوام کی حکمرانی کا۔
مگر آج سچ دبایا جا رہا ہے، انصاف کے دروازے بند ہیں، اور ملک اپنی اصل راہ سے ہٹ چکا ہے۔
یہ وہ پاکستان نہیں… مگر امید ابھی زندہ ہے۔
کیونکہ حقیقی آزادی کا خواب زندہ ہے۔
ہم پرعزم ہیں کہ عمران خان کے نظریے کی اس جدوجہد میں فتح کے بعد پاکستان ایک بار پھر آزاد، خودمختار اور مضبوط ریاست بن کر ابھرے گا۔
ہم موجودہ حال کو قبول نہیں کرتے اور ہم ہی اسے بدلیں گے۔
#PakistanDay
#23March
اردو

@Amina_Nur_005 کفیل کی غلطی ہے اگر بیوی کو ٹائم دیتا تو نوبت یہاں تک نہیں آتی کفیل کی دوسری غلطی ایک نامحرم کو گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رکھا اور کسی غیر پہ اتنا بھروسہ کیا جو بلکل درست نہیں
دولت کے نشے میں انسان کتنا گرتا ہے اس واقعے سے دیکھ لینا چاہیے ہر شئے دولت نہیں
اردو

بریکنگ نیوز —😲🤔 دبائی امارات
دبائی عمارات میں میں کفیل کی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلق کے الزام میں بنگلہ دیشی نوجوان سعید الرحمٰن گرفتار۔
تفصیلات کے مطابق، سعید الرحمٰن 2023 سے دبائی امارات میں ایک کفیل کے گھر میں ہوم کیئر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ دبائی خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے اس کی تنخواہ بھی نسبتاً زیادہ تھی۔ گھر کی دیکھ بھال سے لے کر روزمرہ کی ضروریات اور بازار کے کام تک سب کچھ اس کی ذمہ داری میں شامل تھا۔
کفیل کاروباری مصروفیات کی وجہ سے ہفتے یا مہینے کے آخر میں ہی گھر آتا تھا، اسی لیے اسے ایک قابلِ اعتماد کیئرٹیکر کی ضرورت تھی، اور اسی بنیاد پر سعید کو ملازمت دی گئی۔
وقت کے ساتھ ساتھ خاندان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے لگے، اور کفیل کی بیوی کے ساتھ بھی اس کا قریبی تعلق بن گیا، جو بعد میں ناجائز تعلق میں تبدیل ہو گیا۔ طویل عرصے تک یہ تعلق جاری رہا۔
بعد میں بیوی کے رویے پر شک ہونے پر کفیل نے خفیہ طور پر بیڈ روم میں کیمرہ لگا دیا، اور اس کا شک درست ثابت ہوا۔
اس کے بعد ایک موقع پر جب دونوں انتہائی قریبی حالت میں تھے، کفیل نے پولیس کی مدد سے دونوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کروا دیا۔
فی الحال دونوں پولیس کی تحویل میں ہیں اور جلد ہی مقدمہ دبائی کیعدالت میں پیش کیا جائے گا۔
❓ آپ کے خیال میں سب سے زیادہ قصوروار کون ہے؟
👉 کفیل کی بیوی یا بنگلہ دیشی نوجوان سعید؟ کومینٹ میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں

اردو

جناب وزیر قانون کا اقبال مزید بلند ہو۔۔
یعنی ریاست پہلے عوام کو بتائے کہ افغانی، مجاہدین ہیں تو مان لیا جائے
پھر بتایا جائے، نہیں، افغانی، دہشت گرد ہیں اسے بھی مان لیا جائے
پھر کہا جائے ہم طالبان کے باپ ہیں، اسے مان لیا جائے
پھر کہا جائے طالبان، دہشت گردوں کے باپ ہیں اسے بھی مان لیا جائے
اس دوران ایک لاکھ کے قریب باوردی اور سویلین عوام جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، عوام سوال نہ کرے
آپ کی تو مالکان نے روزی روٹی لگا رکھی ہے یہ سب بولنے کے لئے
جن سے روزی روٹی چھین لی گئی ہے وہ بولیں بھی نہ۔
کمال نہیں ہوگیا x.com/MohUmair87/sta…
اردو

@RanaSikandarH بچوں کے گھر رہنے سے کیا بچت ہو گی حکمران اپنی افسر شاہی ختم کرے
اردو

لاہور: 9 مارچ
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر ل معمولی اقدامات کا فیصلہ
پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزراء کے لئے سرکاری فیول بند، وزیراعلی مریم نواز شریف کا بڑا فیصلہ
سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ، 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی،
امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے
سکول اور تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز لے سکیں گی
اردو

اسلام و علیکم
1. جتنے بھی پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز ہیں ( پنجاب ، سندھ ، خیبر پختونخواہ ، بلوچستان ، جی بی ، آزاد کشمیر ) وہ سڑکوں پہ نکلیں اور مرکزی شاہراہیں بند کریں- جہاں پہ پہلے ہی راستے بند ہیں وہاں پہ اس احتجاج میں شریک ہوں- یوتھ ونگ کے نوجوان ہر شہر میں باہر آ جائیں اور رستے بند کر دیں-
2. پاکستان میں بسنے والے سبھی لوگوں کو پیغام ہے کہ ہمیں پتہ ہے کہ آپ کو خان صاحب سے بے انتہا محبت ہے- لیکن آج معملات مختلف ہیں- آج سوشل میڈیا میں بیانات سے کام نہی چلے گا- آج اپ کی ضرورت ہے کہ آپ نکلیں ، عمران خان اور پاکستان کے لیئے- فیملیز سمیت سب آ جائیں -
اردو

آج مورخہ 13/02/2026 چاکرہ راولپنڈی میں پاکستان تحریک انصاف منی مرگ مپنو قمری اور کلشئی یونین کی کارنر میٹنگ
منی مرگ، مپنو، قمری اور کلشئی کے بلند و بالا پہاڑوں سے لے کر استور کی وادیوں تک، ایک ہی گونج ہے اور ایک ہی عزم! 📢
پاکستان تحریک انصاف حلقہ ون کے غیور ورکرز اور جانثار سپورٹرز اپنے محبوب قائد خالد خورشید خان کے نام ایک کھلا اور واشگاف پیغام دے رہے ہیں جو اس ویڈیو میں موجود ہے👇
ہمالیہ کے ان برفیلے حوصلوں کی مانند ہمارا ارادہ بھی پختہ ہے۔ آپ کی قیادت پر ہمارا اعتماد غیر متزلزل ہے! 🏔️✨
کٹھن راستے ہوں یا آزمائش کی گھڑی، منی مرگ سے کلشئی تک کا بچہ بچہ آپ کی پشت پر کھڑا ہے۔ ہم محض نعرے لگانے والے نہیں، بلکہ نظریے کی جنگ لڑنے والے سپاہی ہیں! ⚔️🛡️
استور کی مٹی گواہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ عوامی حقوق کی پاسداری کی۔ ہم اس مشن کی تکمیل کے لیے آپ کے شانہ بشانہ جدوجہد جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔
"خالد خورشید قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں!" یہ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ استور کے غیور عوام کا آپ کے ساتھ کیا گیا وہ عہد ہے جو ہر آزمائش میں پورا اترے گا۔ 🤝🔥
✍️از قلم شیخ شمس الدین
اردو

عمران خان کی صحت اور ریاست کی ذمہ داری
کسی بھی مہذب معاشرے اور قانون کی حکمرانی والے ملک میں قیدی کے حقوق، خاص طور پر اس کی صحت کی صورتحال، ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی آنکھ کی بیماری کے معاملے میں حکومت اور متعلقہ حکام نے جس بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ سیاسی انتقام کی ایک بھیانک مثال بھی ہے۔
مسلسل شکایات اور وکلاء کی دہائیوں کے باوجود، خان صاحب کو بروقت ماہرِ امراضِ چشم (Ophthalmologist) تک رسائی نہ دینا ظاہر کرتا ہے کہ نظام انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھ کر ذہنی اور جسمانی اذیت دینا چاہتا ہے۔
بارہا عدالتوں کی جانب سے بہترین طبی امداد فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، لیکن انتظامیہ نے 'سیکیورٹی' کا بہانہ بنا کر ان احکامات کو پسِ پشت ڈالے رکھا۔ کیا ایک قیدی کی بینائی سیکیورٹی پروٹوکول سے کم اہم ہے؟
حرفِ آخر
سیاست اپنی جگہ، لیکن انسانیت اور قانون کا تقاضا ہے کہ قیدی کے طبی حقوق پر سیاست نہ کی جائے۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا، اور آج کی گئی یہ "مجرمانہ غفلت" کل کی تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر لکھی جائے گی۔
✍️از قلم شیخ شمس الدین

اردو

یہ ایک نہایت اہم اور حساس سماجی مسئلہ ہے۔ دریا پر پل کا نہ ہونا صرف سفری دشواری نہیں بلکہ انسانی زندگیوں، معیشت اور تعلیم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے
حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت
کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار وہاں کے بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) پر ہوتا ہے۔ سڑکیں اور پل صرف سیمنٹ اور سریے کا ڈھانچہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ وہ لکیریں ہوتی ہیں جن پر کسی قوم کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج کے جدید دور میں بھی ہمارے گاؤں منی مرگ مپنو آباد جہاں عوام ایک پل جیسی بنیادی ضرورت کے لیے ترس رہے ہیں۔ دریا پر پل کا نہ ہونا محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ موجودہ حکومت کی بے حسی، نااہلی اور نالائقی کا واشگاف اعلان ہے۔
عوامی مشکلات اور روزمرہ کا عذاب
جہاں دریا پر پل موجود نہ ہو، وہاں زندگی تھم سی جاتی ہے۔ مقامی آبادی کو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لکڑی کے خستہ حال تختوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ برسات کے موسم میں جب دریا میں طغیانی آتی ہے تو یہ اور جان لیوا مسئلہ بن جاتا ہےیہ حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے؟
تعلیم اور صحت پر اثرات
حکومت کی اس نالائقی کا سب سے بڑا خمیازہ طالب علموں اور مریضوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
تعلیمی نقصان: سینکڑوں بچے صرف اس لیے سکول نہیں جا پاتے کہ راستے میں بپھرا ہوا دریا حائل ہے۔ کیا "تعلیم سب کے لیے" کا نعرہ صرف اشتہاروں تک محدود ہے؟
ایک پل کی عدم موجودگی انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بن رہی ہے۔
معاشی بدحالی
حکومت کی یہ نالائقی خطے کو معاشی طور پر دہائیوں پیچھے دھکیل رہی ہے۔ جس رقم سے ایک پل تعمیر ہو سکتا ہے، اس سے کہیں زیادہ کا معاشی نقصان عوام ہر سال برداشت کرتے ہیں۔
سیاسی وعدے اور عملی خلا
انتخابات کے دنوں میں سیاست دانوں کی جانب سے پل کی تعمیر کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہی یہ وعدے فائلوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف شاہانہ اخراجات اور غیر ضروری منصوبوں پر اربوں روپے ضائع کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ یہ ترجیحات کا غلط تعین ہے جو حکومت کی بدترین کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔
حاصلِ کلام
دریا پر پل کی عدم تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ حکمرانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پل بنانا کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا فرض ہے جس کے لیے وہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایک ریاست اپنے شہریوں کو محفوظ راستہ نہیں دے سکتی، تو اسے اپنی کارکردگی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ احتجاج اور عوامی دباؤ کے ذریعے سوئے ہوئے حکام کو جگایا جائے تاکہ مزید قیمتی جانیں اس نااہلی کی بھینٹ نہ چڑھیں۔
ہو سکے تو میری اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ گاؤں کے اس بنیادی مسئلے کو حکمرانوں تک پہنچا سکیں شکریہ
@AbdulKhalidPTI
@ImranRiazKhan
@SdqJaan
@PTIofficial
@PTIKPOfficial
@PTIGBOfficial
@SohailAfridiISF
اردو





