Sabitlenmiş Tweet
Kamran Asghar
1.5K posts


مجھے نہیں پتا میں اتنا حساس ہوں یا یہ فسانے اتنے حساس ہیں کہ ہر فسانہ پڑھ کر میں دکھی ہو جاتا ہوں
Kamran Asghar@kami_writes1
آپ کونسی کتاب پڑھ رہے ہو آج کل
اردو
Kamran Asghar retweetledi

🚨 کراچی:سنگین صورتحال 🚨
کراچی میں معروف ڈاکٹر بھگت کمار کی نواسی چندنا کماری کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید تشویش جنم لےرہی ہےسوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں انہوں نے مدد کی اپیل کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ لینڈ مافیا ان کے حقوق پر ناجائز قبضے کی کوشش کر رہا ہےجو نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
ادارےنوٹس لیں اس خاتون کو انصاف فراہم کریں
اردو
Kamran Asghar retweetledi

یہ لاہور میں میں ایک معذور پینٹر عمر کا خاندان ہے جس میں چار بھائی اور ایک بہن سیربرل پالسی (Cerebral Palsy) دماغ کے فالج کا شکار ہیں۔ انکے والدین بھی عمر رسیدہ ہیں، اس خاندان کی مدد کرنا ہم سب فرض ہے۔ انکا ٹویٹر اکاونٹ یہ ہے
@umerArtist4
آپ براہ راست رابطہ کریں انکے گھر جائیں تاکہ یہ بھی عید منا سکیں۔
اردو

@mugheesali81 کیا پانچ شادیاں اسلام میں جائز ہیں جو اس نے کر لی
اردو

میری بہن ہم سے دیر ضرور ہوگئی لیکن تمہارے لیئے آواز ضرور اٹھائیں گے دو ماہ قبل 19 سالہ معصوم ایشا کنول جس کی آنکھوں میں ہزاروں خواب تھے ۔
جسے ابھی زندگی کی بہاریں دیکھنی تھیں... اسے اس کے اپنے ہی جیون ساتھی نے "شک" کی بھٹی میں جھونک دیا۔
فیصل آباد کے علاقے تاندلیانوالہ میں محض 7 ماہ پہلے رشتہ ازدواج میں بندھنے والی ایشا پر اس کے شوہر نے تیزاب پھینک کر اس کا ہنستا بستا وجود جھلسا دیا۔
آج ایشا لاہور کے میو ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔
اس کی ماں کی آہ و پکار آسمان کا کلیجہ چیر رہی ہے: "میری بیٹی ہر رات درد سے چیختی ہے، مگر ظالم چند دنوں بعد ہی ضمانت پر رہا ہو گیا... انصاف ابھی تک قید ہے۔"
بے جا شک محبت نہیں، بلکہ ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو ہنستے بستے گھروں کو قبرستان بنا دیتی ہے۔ ایک لمحے کا غصہ اور بے بنیاد شک کسی کی پوری زندگی ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں دھکیل سکتا ہے۔
ہم آئی جی پنجاب اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کیس کا دوبارہ نوٹس لیا جائے ملزم کی ضمانت فوری منسوخ کر کے اسے نشانِ عبرت بنایا جائے۔
عیشاء کے علاج کے لیے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کیئے جائیں۔
خدارا! اپنے رشتوں میں شک کا زہر نہ گھولیں۔ آج اگر ہم خاموش رہے، تو کل کوئی اور عیشاء اس درندگی کا شکار ہو سکتی ہے۔
ساتھ دیں اس بچی کو انصاف ملنا چاہیئے اس کے کیس کی فائل دفتروں میں دب چکی ہے لیکن آپ کی آواز سے اس معاملہ پہ نوٹس ضرور لیا جائے گا ۔
😪😪😪😪

اردو

ہانجی، مولویوں کے لاڈلے ذرا نیڑے نیڑے آ جائیں۔
مولانا مجاہد صاحب احمد پور سیال جھنگ کے گاؤں رنگ پور کے رہنے والے ہیں. درس و تدریس کا سلسلہ بارہ سال پہلے رنگ پور سے شروع کیا اور سائیڈ بزنس کے طور پر اپنے شاگردوں کے ساتھ جنسی زیادتی فرماتے رہے۔ ایک بار پکڑے گئے تو بدبخت اور جا ہل لوگوں نے مسجد سے نکال دیا، بھلا مولویوں کے ساتھ یہ سلوک کون کرتا ہے۔ البتہ علاقے کے لوگوں کی مذہبی رہنمائی کا سلسلہ موقوف نہیں ہوا اور ایک اور قاری صاحب نے یہاں آ کر اپنی خدمات سے لوگوں کو نوازنا شروع کر دیا۔
مولانا مجاہد صاحب ہجرت کرکے کوٹ ادو کے علاقے چوک سرور شہید تشریف لے گئے اور درس و تدریس اور شاگردوں سے جنسی زیادتی کا سلسلہ زور شور سے شروع کیا۔ یہاں ایک شاگرد کی خدمت فرما رہے تھے کہ لوگوں نے بے شرمی کی حد کر دی کارروائی کے دوران میں کمرے میں ہی گھس گئے۔ اور رولا پڑ گیا۔ یہاں سے پھر آپ کو ہجرت کرنا پڑی۔
سینکڑوں شاگردوں سے جنسی زیادتی کے وسیع تجربے کے ساتھ آپ نے اب لیہ ہجرت فرمائی اور اپنی خدمات سے اہلِ لیہ کو نوازنا شروع کیا۔ اب آپ نے صرف بچوں پر ہی اکتفا نہیں فرمایا بلکہ بچیوں کے گلوں میں بھی رنگ بھرنا شروع کیا۔ آپ مدظلہ تعالی نے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی استعمال کرکے پوری دنیا کو اپنی صلاحیتوں سے آگاہ فرمانا بھی ضروری خیال کیا اور سنیپ چیٹ پر اپنی کارکردگی کے نمونے لگانا شروع فرمائے۔
یہاں پر آپ نے اپنی ایک سات سالہ شاگرد بچی کو کئی ماہ پہلے ریپ فرما کر اُس کی وڈیو سنیپ چیٹ پر لگائی۔ یہ وڈیو کہیں بچی کے باپ نے بھی دیکھ لی اور مولانا کے خلاف ایف آئی آر کرا دی۔ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر لوگ یونہی علمائے کرائم کو ذلیل و خوار کرتے رہے تو اِن علاقوں کی عوام کے جنازے کون پڑھائے گا؟
اذان کون دے گا اور باجماعت نماز کون پڑھائے گا؟؟؟
قوم منتظر ہے کہ قبض کشائی کے فن کے ماہر مولانا مجاہد صاحب اپنے فن کے مظاہرے کے لیے آئندہ کس علاقے کی طرف ہجرت فرماتے ہیں۔


اردو
Kamran Asghar retweetledi
Kamran Asghar retweetledi

اس نوجوان کا نام مبشر نور ہے۔
مبشر لاہور کے نشتر کالونی کا رہائشی ہے۔
مبشر کی بہن نے رابطہ کرکے بتایا کہ: میرے بھائی کو سال دوہزار چوبیس میں رحیم یارخان کے ایک ایجنٹ نے برما میں کال سینٹر کی نوکری دلانے کا کہہ کر ویزہ لگواکر برما بھیجا۔
وہاں پہنچ کر مبشر نے تین ماہ کام کیا اور پیسے بھی گھر بھیجے۔
ایک دن مبشر نے گھر کال کرکے بتایا کہ ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے، جس جگہ ہمیں بھیجا گیا ہے ایک اسک٭یم سینٹر ہے۔ یہاں لوگوں کو کال کرکے فر*اڈ کیا جاتا ہے۔
یہ بارہ پاکستانی لڑکے تھے سب نے وہاں سے بھاگنے کا پلان بنایا۔
چھ لڑکے وہاں سے تھائی لینڈ میں داخل ہوئے اور چھ لڑکے رہ گئے۔
براستہ تھائی لینڈ میں گرفتار ہوکر یہ لڑکے پاکستان ڈی پورٹ ہوگئے۔
مبشر اکلوتا بھائی ہے سات بہنیں ہیں۔
دو سال سے مبشر کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔بہن کا کہنا ہے کہ ہم جائیں تو کہاں جائیں۔
بہنوں نے اپنے طور پر کوشش کی تو میانمار کے کسی سرکاری اہلکار نے تین لاکھ روپے لیکر دھوکا کیا۔
میانمار میں کوئی بھی صاحب ہماری پوسٹ پڑھے اور انکو مبشر کے متعلق معلوم ہو تو برائے مہربانی ہم سے رابطہ کریں۔
حکومت وقت سے اپیل ہے کہ مبشر کو بازیاب کرانے میں سفارتی سطح پر اقدام کیا جائے۔
لاہور کی سات بہنیں اپنے اکلوتے بھائی کے لئے دن رات رورہی ہیں۔خدارا انکی داد رسی کی جائے۔
برائے رابطہ نیچے نمبر درج ہے
+923162529829
#waliullahmaroof

اردو

@S_Rehman1o لیکن اس مرد کو بہت مار پڑی تھی پھر وہ ویڈیو نہیں دیکھی آپ نے
اردو

اب خواتین کو احتیاط کرنی چاہئے غیر مرد پر پہلے ہاتھ اٹھانے سے کیونکہ اب وہ بھر پور جواب دیتے ہیں ۔ 🧐
Salman Ahmad@sufisal
Lahore “ High” court, today.
اردو

دنیا کا سب سے زہریلا سانپ ہاتھی تک کو مار سکتا ہے . لیکن ایک جانور ایسا ہے . جو بچ جاتا ہے . گھوڑا! چاہے سانپ کتنا ہی زہریلا کیوں نہ ہو .یہاں تک کہ خطرناک کنگ کوبرا بھی ، گھوڑا اس کے ڈسنے سے نہیں مرتا . ڈسنے کے بعد ، گھوڑا تقریباً تین دن تک ہلکا بیمار ہو سکتا ہے . لیکن ! اس کے بعد وہ مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے . جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو . یہ اللّٰہ کی سب سے حیرت انگیز تخلیقات میں سے ایک ہے .اور اسی مخلوق کے اندر ایک ایسا راز چھپا ہے . جو انسان کی جان بچا سکتا ہے .
تریاق (زہر کا توڑ) یہ تریاق بنتا کیسے ہے ؟ سب سے پہلے سانپ کا زہر جمع کیاجاتا ہے . پھر اس زہر کی تھوڑی مقدار گھوڑے کو لگائی جاتی ہے . گھوڑے کا مدافعتی نظام رد عمل دیتا ہے . اور اس زہر کو ختم کرنے کے لئے اینٹی باڈیز بناتا ہے . دو سے تین دن بعد ، یہ اینٹی باڈیز گھوڑے کے خون میں پائی جاتی ہیں . پھر گھوڑے کا خون لیا جاتا ہے . اور اس میں سے سُرخ خلیے نکال دیے جاتے ہیں . سفید حصہ یعنی پلازما کو پروسیس کر کے تریاق تیار کیا جاتا ہے . اس تریاق کو پھر ان لوگوں کو لگایا جاتا ہے . جنہیں زہریلے سانپ نے کاٹا ہے . تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے .صرف بھارت میں ہی ایسی کئی لیبارٹریاں موجود ہیں جو سینکڑوں گھوڑوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں . تاکہ یہ زندگی بچانے والا تریاق تیار کیا جا سکے .
اللّٰہ کے فضل اور اس پیارے جانور کی بدولت ہم زمین کے کچھ مہلک ترین زہروں سے محفوظ ہیں ۔ سبحان اللہ، عظیم خالق ! ☝️❤️
اردو










