
Nisar Baaz Khan
9.1K posts

Nisar Baaz Khan
@khannisar930
Member of Provincial Assembly Khyber Pakhtunkhwa (PK22) Official X Account |#PoliticalWorker #Ex Student's Leader 🚩
Pakhtunkhwa Katılım Ekim 2013
784 Takip Edilen3.1K Takipçiler
Nisar Baaz Khan retweetledi

اج ایم پی اے نثار باز خان کا بڑا اقدام، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کے خلاف تحریک استحقاق صوبائی اسمبلی میں پیش کیا
صوبائی اسمبلی کا تقدس پامال نہیں ہونے دیں گے، نثار باز خان کا دوٹوک مؤقف
چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ پرویلج کمیٹی میں طلب
بیوروکریسی کو کھلا چیلنج، طویل عرصے بعد کسی رکن کا سخت اقدام، صوبائی چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کو پرویلج کمیٹی میں طلب
ایوان میں بیوروکریسی کے کردار پر سوالات، معاملہ پرویلج کمیٹی کو بھیج دیا گیا
نثار باز خان کی کارروائی، سیاسی حلقوں میں ہلچل
#mpanisarbaaz #ANP @khannisar930
اردو
Nisar Baaz Khan retweetledi

عوامی نیشنل پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا باجوڑ امن جرگے سے خطاب:
باجوڑ گزشتہ بیس سالوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، اور تمام سیاسی و سماجی حلقے یہاں امن کے خواہاں ہیں۔ صوبائی اور ضلعی سطح پر متعدد جرگے منعقد کیے گئے، مگر جرگے اسی وقت کامیاب ہوتے ہیں جب اُن میں اخلاص ہو۔
دہشت گردی کے خلاف ہم نے گزشتہ سال 13 اگست کو باجوڑ میں امن پاڅون کا اعلان کیا تھا۔ مولانا خانزیب شہید، جو امن کے علمبردار تھے، امن پاڅون کے لیے بھرپور مہم چلا رہے تھے تاکہ ریاست اور ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالا جا سکے، نام نہاد آپریشن بند ہوں اور علاقے میں حقیقی امن قائم ہو۔ مگر افسوس کہ امن کے اس نشان کو دن دہاڑے شہید کر دیا گیا۔
باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک تقریباً 1,200 قبائلی مشران شہید کیے جا چکے ہیں، جبکہ لگ بھگ 72,000 عام شہری اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ ہمارا نظریاتی اختلاف ہو سکتا ہے، مگر امن کے لیے ہم ہر جگہ جائیں گے، کیونکہ امن تمام اقوام کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
وزیرِاعلیٰ صاحب! آپ اپنے لیڈر اور قائد کے لیے احتجاج کرتے ہیں، یہ آپ کا جمہوری حق ہے، مگر دہشت گردی کے خلاف بھی تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر ایک مشترکہ لانگ مارچ کیا جائے۔ اگر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ وہ اسی طرح ہمارے وسائل پر قبضہ کر لے گی تو یہ اس کی بھول ہے، کیونکہ پشتون قوم اب بیدار ہو چکی ہے اور اپنے وسائل کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
پی کے 22 کے عوام گزشتہ دو سالوں سے ترقیاتی کاموں سے محروم ہیں۔ عوام نے مجھے ووٹ دے کر منتخب کیا، مگر 25 کروڑ روپے جو آئے، وہ غیر منتخب افراد میں تقسیم کیے گئے۔ یہ ان کا حق نہیں تھا، بلکہ یہ میرا اور عوام کا حق تھا۔ یہاں کی آبادی 18 لاکھ ہے، اور 25ویں آئینی ترمیم میں وعدہ کیا گیا تھا کہ ہر قبائلی ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ وزیرِاعلیٰ صاحب سے مطالبہ ہے کہ وہ ان 18 لاکھ عوام کے لیے ایک یونیورسٹی کا اعلان کریں جو ہمارے لیے نہایت اہم ہے۔
آج بھی ماموند میں 13 راستے اور ڈمہ ڈولہ میں کئی راستے بند ہیں، جن کی وجہ سیکیورٹی بتائی جاتی ہے۔ 22 بڑے اور 1,600 چھوٹے ٹارگٹڈ آپریشن کیے گئے، مگر ہم نے آج تک امن نہیں دیکھا۔ آج بھی دہشت گردی عروج پر ہے۔ لہٰذا ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ یہ راستے فوری طور پر کھولے جائیں اور عوام کو حقیقی امن فراہم کیا جائے۔
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #NisarBaazKhan
اردو

ایوان میں بجٹ اور قانون کی حکمرانی کی بات ہورہی ہے۔ میں اس ایوان کا رکن ہوں، رمضان میں، مجھے عمرے کے سلسلے میں سعودی عرب جانا تھا
ائیرپورٹ پر تمام سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد مجھے آف لوڈ کردیا گیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ میرا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے
تعجب ہے کہ ہمارے صوبے کے چیف سیکیورٹی اپنے ایک نوٹیفیکیشن سے ایک غیر منتخب شخص کو تو وزیر بنا دیتا ہے
وہ محض ایک ملازم ہے اور جہاں تک آئین کا تعلق ہے تو یہ ایوان سب سے بالا ہے
اس ایوان کے اراکین ہی اس ملک کو چلائیں گے، لیکن یہاں نظام الٹا چل رہا ہے، یہاں ملازم اٹھ کر منتخب نمائندوں کو ہدایات جاری کرتے ہیں اور منتخب نمائندوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیتے ہیں
ہر ضلع میں ایک کرنل بیٹھا ہوا ہے، اس کا بنیادی کام عوام کا تحفظ ہے لیکن وہ اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر سیاستدانوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں کہ کس سیاست دان نے فلور آف دی ہاؤس یا جلسے میں کونسی بات کی ہے
یہی سرکاری ملازم جس کو تنخواہ بھی ہمارے ٹیکس کےپیسوں سے ملتی ہے، وہ ہماری تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے اور یہ فیصلہ کرتا ہے کہ فلاں غدارہے اور فلاں وفادار ہے
ان کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ یہ سلسلہ 1947 سے جاری ہے، کئی سیاستدانوں کو غدار قرار دیا گیا مگر تاریخ گواہ ہے کہ ان سیاستدانوں کی وجہ سے نہ یہ ملک ٹوٹا اور نہ اس کو کوئی نقصان پہنچا اور جن کے پاس وفاداری کے سرٹیفیکیٹس تھے، انہوں نے ہی اس ملک کو دو لخت کیا
یہ اس ایوان اور عوام کے مینڈیٹ کے تقدس کا سوال ہے، ہم سرکاری ملازم نہیں، عوام نے ہمیں اپنی نمائندگی کیلئے یہاں بھیجا ہے
میرے خلاف نہ کو مقدمہ درج ہے اور نہ کوئی ایف آئی آر موجود ہے مگر مجھے بتایا گیا کہ آپ کا نام اس لئے ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کرتے ہیں اور آپ اینٹی سٹیٹ ہیں
یہ پختونخوا پاکستان کا حصہ ہےاور میں اس ملک کا شہری ہوں۔ یہ فیصلے کرنے والے یہ لوگ کون ہوتے ہیں، میں اینٹی سٹیٹ نہیں، اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوں
اور اس وقت تک رہوں گا جب تک اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہیں چھوڑ دیتی۔ جب تک ان کا یہ کردار رہے گا ہم ان پر تنقید رہیں گے۔
صوبے کا سیکرٹری داخلہ، ہوم سیکرٹری اور چیف سیکرٹری اس صوبائی حکومت اور پارلیمان کے تابع ہیں
میں نے اس سلسلے میں تحریک استحقاق جمع کی ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اس کو ایجنڈے میں شامل کریں تاکہ یہ ہاؤس چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کو یہاں طلب کرسکیں
ان سے یہ پوچھ سکیں کہ ان کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ لوگوں کو غداری اور وفاداری کے سرٹیفیکیٹس دیں
میں عمرے کیلئے جارہا تھا، میں پاپا جونز کا پزا اور آسٹریلیا میں جزیرے خریدنے کیلئے نہیں جارہا تھا
ہم بھاگنے والے نہیں، یہاں قوم کے ساتھ جینا ہے اور اس قوم کے ساتھ ہی مرنا ہے اور یہاں دفن ہونا ہے
ملک میں برطانوی استعمار کے بنائے گئے نظام کو تبدیل کرنا ہوگا، جب تک یہ نظام ہوگا، مسائل بڑھتے جائیں گے
اردو
Nisar Baaz Khan retweetledi

ایوان میں بجٹ اور قانون کی حکمرانی کی بات ہورہی ہے۔ میں اس ایوان کا رکن ہوں، رمضان میں، مجھے عمرے کے سلسلے میں سعودی عرب جانا تھا
ائیرپورٹ پر تمام سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد مجھے آف لوڈ کردیا گیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ میرا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے
تعجب ہے کہ ہمارے صوبے کے چیف سیکیورٹی اپنے ایک نوٹیفیکیشن سے ایک غیر منتخب شخص کو تو وزیر بنا دیتا ہے
وہ محض ایک ملازم ہے اور جہاں تک آئین کا تعلق ہے تو یہ ایوان سب سے بالا ہے
اس ایوان کے اراکین ہی اس ملک کو چلائیں گے، لیکن یہاں نظام الٹا چل رہا ہے، یہاں ملازم اٹھ کر منتخب نمائندوں کو ہدایات جاری کرتے ہیں اور منتخب نمائندوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیتے ہیں
ہر ضلع میں ایک کرنل بیٹھا ہوا ہے، اس کا بنیادی کام عوام کا تحفظ ہے لیکن وہ اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر سیاستدانوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں کہ کس سیاست دان نے فلور آف دی ہاؤس یا جلسے میں کونسی بات کی ہے
یہی سرکاری ملازم جس کو تنخواہ بھی ہمارے ٹیکس کےپیسوں سے ملتی ہے، وہ ہماری تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے اور یہ فیصلہ کرتا ہے کہ فلاں غدارہے اور فلاں وفادار ہے
ان کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ یہ سلسلہ 1947 سے جاری ہے، کئی سیاستدانوں کو غدار قرار دیا گیا مگر تاریخ گواہ ہے کہ ان سیاستدانوں کی وجہ سے نہ یہ ملک ٹوٹا اور نہ اس کو کوئی نقصان پہنچا اور جن کے پاس وفاداری کے سرٹیفیکیٹس تھے، انہوں نے ہی اس ملک کو دو لخت کیا
یہ اس ایوان اور عوام کے مینڈیٹ کے تقدس کا سوال ہے، ہم سرکاری ملازم نہیں، عوام نے ہمیں اپنی نمائندگی کیلئے یہاں بھیجا ہے
میرے خلاف نہ کو مقدمہ درج ہے اور نہ کوئی ایف آئی آر موجود ہے مگر مجھے بتایا گیا کہ آپ کا نام اس لئے ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کرتے ہیں اور آپ اینٹی سٹیٹ ہیں
یہ پختونخوا پاکستان کا حصہ ہےاور میں اس ملک کا شہری ہوں۔ یہ فیصلے کرنے والے یہ لوگ کون ہوتے ہیں، میں اینٹی سٹیٹ نہیں، اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوں
اور اس وقت تک رہوں گا جب تک اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہیں چھوڑ دیتی۔ جب تک ان کا یہ کردار رہے گا ہم ان پر تنقید رہیں گے۔
صوبے کا سیکرٹری داخلہ، ہوم سیکرٹری اور چیف سیکرٹری اس صوبائی حکومت اور پارلیمان کے تابع ہیں
میں نے اس سلسلے میں تحریک استحقاق جمع کی ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اس کو ایجنڈے میں شامل کریں تاکہ یہ ہاؤس چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کو یہاں طلب کرسکیں
ان سے یہ پوچھ سکیں کہ ان کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ لوگوں کو غداری اور وفاداری کے سرٹیفیکیٹس دیں
میں عمرے کیلئے جارہا تھا، میں پاپا جونز کا پزا اور آسٹریلیا میں جزیرے خریدنے کیلئے نہیں جارہا تھا
ہم بھاگنے والے نہیں، یہاں قوم کے ساتھ جینا ہے اور اس قوم کے ساتھ ہی مرنا ہے اور یہاں دفن ہونا ہے
ملک میں برطانوی استعمار کے بنائے گئے نظام کو تبدیل کرنا ہوگا، جب تک یہ نظام ہوگا، مسائل بڑھتے جائیں گے
اے آئی پی کے تحت وفاق کی جانب سے صوبے کو 65 ارب روپے اب تک نہیں ملے ہیں، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں
ضم اضلاع کے عوام مظلوم بھی ہیں اور محکوم بھی ہیں، صوبائی حکومت ہو یا وفاقی حکومت، ضم اضلاع کے عوام کو گلے سے لگانا چاہیئے
مشیر خزانہ صاحب بتا رہے ہیں کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع پر 26 ارب روپے لگا چکی ہے، اچھی بات ہے مگر ہمیں کوئی یہ بتائے کہ ضم اضلاع میں انہوں نے یہ فنڈز لگائے کہاں ہیں؟
ہمیں تو کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں، پچھلے سال رمضان پیکج کے حوالے سے سوالات جمع کئے تھے، آج تک اسکے جوابات نہیں ملے
اس سال بھی اس صوبے کے 13 ارب روپے کی صوبائی حکومت نے بندر باٹ کردی، اس کے لئے کونسا نظام بنایا گیا تھا؟
اردو
Nisar Baaz Khan retweetledi

بابو لوگوں کو رگڑا دینا ہوگا، کرپشن میں افسر شاہی او جرنیل شاہی بھی ملوث ہے 🚩✌️ نثار باز خان
Nisar Baaz 🌸
#alirazanationalist
#AimalWaliKhan #ANP #nisarbazzkhan
اردو
Nisar Baaz Khan retweetledi

یہ پختونخوا پاکستان کا حصہ ہےاور میں اس ملک کا شہری ہوں۔ یہ فیصلے کرنے والے یہ لوگ کون ہوتے ہیں، میں اینٹی سٹیٹ نہیں، اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوں
اور اس وقت تک رہوں گا جب تک اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہیں چھوڑ دیتی۔ جب تک ان کا یہ کردار رہے گا ہم ان پر تنقید رہیں گے۔
@khannisar930

اردو
Nisar Baaz Khan retweetledi

اس منتخب ایوان نے فیصلہ کرنا ہیں، کہ آیا اس ملک کو ایین کی رو سے افسر شاہی اور جرنیل شاہی نے چلانا ہیں ؟ یا اس منتخب ھاؤس نے چلانا ہے، ایین کے رو سے پارلیمنٹ سب سے زیادہ سپریم ادارہ ہیں، اور انتظامیہ اور اسکے میں موجود محکمے اور ملازمین اس کے تابع ہیں
@khannisar930
#ANP

اردو
Nisar Baaz Khan retweetledi

ادارے اپنا کام چھوڑ کر سیاستدانوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ چیف سیکرٹری ایک غیر منتخب بندے کو نوٹیفکیشن کے ذریعے وزیر لگاتا ہے، اور یہاں ایک منتخب بندے کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ نہ میں مجرم ہوں اور نہ میرے خلاف کوئی ایف آئی آر ہے، پھر بھی میرا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے، نثار باز۔
@khannisar930
اردو
Nisar Baaz Khan retweetledi

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس، عوامی نیشنل پارٹی کے رکن ثار باز کا اجلاس سے خطاب:
ایوان میں بجٹ اور قانون کی حکمرانی کی بات ہورہی ہے۔ میں اس ایوان کا رکن ہوں، رمضان میں، مجھے عمرے کے سلسلے میں سعودی عرب جانا تھا
ائیرپورٹ پر تمام سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد مجھے آف لوڈ کردیا گیا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ میرا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے
تعجب ہے کہ ہمارے صوبے کے چیف سیکیورٹی اپنے ایک نوٹیفیکیشن سے ایک غیر منتخب شخص کو تو وزیر بنا دیتا ہے
وہ محض ایک ملازم ہے اور جہاں تک آئین کا تعلق ہے تو یہ ایوان سب سے بالا ہے
اس ایوان کے اراکین ہی اس ملک کو چلائیں گے، لیکن یہاں نظام الٹا چل رہا ہے، یہاں ملازم اٹھ کر منتخب نمائندوں کو ہدایات جاری کرتے ہیں اور منتخب نمائندوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دیتے ہیں
ہر ضلع میں ایک کرنل بیٹھا ہوا ہے، اس کا بنیادی کام عوام کا تحفظ ہے لیکن وہ اپنی اصل ذمہ داری چھوڑ کر سیاستدانوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں کہ کس سیاست دان نے فلور آف دی ہاؤس یا جلسے میں کونسی بات کی ہے
یہی سرکاری ملازم جس کو تنخواہ بھی ہمارے ٹیکس کےپیسوں سے ملتی ہے، وہ ہماری تقدیر کا فیصلہ کرتا ہے اور یہ فیصلہ کرتا ہے کہ فلاں غدارہے اور فلاں وفادار ہے
ان کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ یہ سلسلہ 1947 سے جاری ہے، کئی سیاستدانوں کو غدار قرار دیا گیا مگر تاریخ گواہ ہے کہ ان سیاستدانوں کی وجہ سے نہ یہ ملک ٹوٹا اور نہ اس کو کوئی نقصان پہنچا اور جن کے پاس وفاداری کے سرٹیفیکیٹس تھے، انہوں نے ہی اس ملک کو دو لخت کیا
یہ اس ایوان اور عوام کے مینڈیٹ کے تقدس کا سوال ہے، ہم سرکاری ملازم نہیں، عوام نے ہمیں اپنی نمائندگی کیلئے یہاں بھیجا ہے
میرے خلاف نہ کو مقدمہ درج ہے اور نہ کوئی ایف آئی آر موجود ہے مگر مجھے بتایا گیا کہ آپ کا نام اس لئے ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کرتے ہیں اور آپ اینٹی سٹیٹ ہیں
یہ پختونخوا پاکستان کا حصہ ہےاور میں اس ملک کا شہری ہوں۔ یہ فیصلے کرنے والے یہ لوگ کون ہوتے ہیں، میں اینٹی سٹیٹ نہیں، اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوں
اور اس وقت تک رہوں گا جب تک اسٹیبلشمنٹ سیاست میں مداخلت نہیں چھوڑ دیتی۔ جب تک ان کا یہ کردار رہے گا ہم ان پر تنقید رہیں گے۔
صوبے کا سیکرٹری داخلہ، ہوم سیکرٹری اور چیف سیکرٹری اس صوبائی حکومت اور پارلیمان کے تابع ہیں
میں نے اس سلسلے میں تحریک استحقاق جمع کی ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اس کو ایجنڈے میں شامل کریں تاکہ یہ ہاؤس چیف سیکرٹری اور سیکرٹری داخلہ کو یہاں طلب کرسکیں
ان سے یہ پوچھ سکیں کہ ان کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ لوگوں کو غداری اور وفاداری کے سرٹیفیکیٹس دیں
میں عمرے کیلئے جارہا تھا، میں پاپا جونز کا پزا اور آسٹریلیا میں جزیرے خریدنے کیلئے نہیں جارہا تھا
ہم بھاگنے والے نہیں، یہاں قوم کے ساتھ جینا ہے اور اس قوم کے ساتھ ہی مرنا ہے اور یہاں دفن ہونا ہے
ملک میں برطانوی استعمار کے بنائے گئے نظام کو تبدیل کرنا ہوگا، جب تک یہ نظام ہوگا، مسائل بڑھتے جائیں گے
اے آئی پی کے تحت وفاق کی جانب سے صوبے کو 65 ارب روپے اب تک نہیں ملے ہیں، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں
ضم اضلاع کے عوام مظلوم بھی ہیں اور محکوم بھی ہیں، صوبائی حکومت ہو یا وفاقی حکومت، ضم اضلاع کے عوام کو گلے سے لگانا چاہیئے
مشیر خزانہ صاحب بتا رہے ہیں کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع پر 26 ارب روپے لگا چکی ہے، اچھی بات ہے مگر ہمیں کوئی یہ بتائے کہ ضم اضلاع میں انہوں نے یہ فنڈز لگائے کہاں ہیں؟
ہمیں تو کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں، پچھلے سال رمضان پیکج کے حوالے سے سوالات جمع کئے تھے، آج تک اسکے جوابات نہیں ملے
اس سال بھی اس صوبے کے 13 ارب روپے کی صوبائی حکومت نے بندر باٹ کردی، اس کے لئے کونسا نظام بنایا گیا تھا؟
اردو

باجوڑ حلقہ پی کے 22 کے آپریشن سے متاثرہ خاندانوں (آئی ڈی پیز) کی نادرا کے ذریعے ویریفیکیشن 13 مارچ کو مکمل ہو چکی ہے۔ مجموعی طور پر 2600 سے زائد خاندانوں کو امدادی رقوم سیم کارڈ کے ذریعے منتقل کی جائیں گی۔
اس سلسلے میں ہم نے سیکرٹری ریلیف اور پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر عارف یوسفزئی کے ساتھ متعدد میٹنگز کیں۔ الحمدللہ ہمارے حلقے کے عوام کو ویریفیکیشن کے دوران روایتی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر جگہوں پر رجسٹریشن کے نام پر آئی ڈی پیز کو غیر ضروری تکالیف دی جاتی ہیں۔ہم نے اس پورے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور نادرا کے اہلکاروں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقے کے ویلیج کونسلز کے منتخب چیئرمین اور معززین کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ان کا حق ہر صورت میں مل سکے۔
متاثرہ خاندانوں کو امدادی رقوم کے حوالے سے اطلاعات ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہوں گی۔ تمام متاثرہ خاندانوں کو فی خاندان 1 لاکھ 10 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے، اور یہ رقم ایک ہی قسط میں ملنا شروع ہو چکی ہے۔اس سے پہلے اکثر ایسا ہوتا تھا کہ آپریشن سے متاثرہ افراد کو امدادی رقم قسطوں میں دی جاتی تھی، جو ایک غلط روایت تھی۔ الحمدللہ اس مرتبہ رقم ایک مشت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف مل سکے۔
نثار باز خان
ممبر صوبائی اسمبلی (پی کے 22 ) باجوڑ

اردو

کامریڈ علی وزیر کی رہائی پر خوشی ہوئی، علی کا عزم غیر متزلزل رہا، وہ ریاستی جبر و ظلم و ستم کے باوجود مضبوط رہا۔ ہم علی کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
کامریڈ علی وزیر آج بھی میدان میں پہاڑ کی طرح کھڑا ہے لیکن جنرل"باجوه" منظر عام سے غائب ہیں،
جرنیل شاہی کیلے اس میں بہت بڑا پیغام ہے۔
#AliWazir | #Resistance
اردو

آج نیشنل اسمبلی میں منتخب رکن خوشحال خان کاکڑ کی تقریر کو سنسر کیا گیا اور بعد میں اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کا مائیک بھی بند کر دیا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے،اس سے پہلے بھی نیشنل اسمبلی میں حق پرستوں کے ساتھ ایسا ہی ہو چکا ہے، اور ہم خود پختونخوا اسمبلی میں بھی اس قسم کی صورتحال سے کئے بار گزر چکے ہیں۔ جب آپ سچ اور حق کی بات کرتے ہیں تو مائیک بند کر دی جاتی ہے، کیونکہ ہمیشہ سے سچ بولنے والوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ پچھلے سال ہارڈ اسٹیٹ کی اصطلاح متعارف کرائی گئی، جس پر سیاسی و سماجی کارکنوں اور ہمارے دانشوروں نے طویل بحث کی۔ ہارڈ اسٹیٹ دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بظاہر ملک میں جمہوری سیٹ اپ موجود ہے اور منتخب حکومتیں نظر آتی ہیں، مگر عملی طور پر فیصلوں کی باگ ڈور کہیں اور ہے،اور تمام تر اختیارات اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہیں۔ پارلیمان سے ربڑ سٹیمپ بنایا گیا ہے، میں نے کئی بار فلور آف دی ہاؤس پر اس بنیادی مسئلے پر بلا جھجک اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ آج صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے پاس اہم فیصلوں کے اختیارات نہیں رہے، بلکہ ریاستی ڈھانچے میں طاقت کا اصل مرکز وہ قوتیں ہیں جنہیں جرنیل شاہی کہا جاتا ہے۔ اسمبلی میں اسی قسم کی تقریروں کی وجہ سے میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، نا تو ھم نے کوئی جرم کیا ہے اور نہ ہی کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے، ھمارا قصور یہ ہیں، کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر سوال اٹھاتے ہیں,اور ریاستی پالیسیوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔انکے جنگی اقتصاد یعنی بدامنی کا خاتمہ چاہتے ہے۔۔۔۔یہی وہ حقیقت ہے جو برداشت نہیں کی جاتی، اور اسی لیے منتخب نمائندوں کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے اور خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں خوشحال خان کاکڑ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے جرات اور دیانت کے ساتھ فلور آف دی ہاؤس پر اپنی بات رکھی۔ جمہوریت کا اصل حسن یہی ہے کہ عوام کے نمائندے بلا خوف اپنی قوم کی آواز بن سکیں۔ ایک سیاسی نظریاتی کارکن خاموش نہیں رہ سکتا،سچ کو وقتی طور پر تو دبایا جا سکتا ہے مگر اسے ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ھم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ھمیں خاموش نہیں کرایا جاسکتا، جب جب اور جہاں جہاں موقع ملے ھم اپنی پشتون قوم کے حقوق، اپنے وسائل پر اختیار، اپنے مادر وطن میں پائیدار امن، ریاست کی جنگی معیشت کے خاتمے، پارلیمان کی حقیقی بالادستی اور آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے...!
@KhushalPKNAP @ANPMarkaz
اردو

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے اسلام اباد ائیرپورٹ پر پیش انے والے واقعہ پر صوبائی اسمبلی میں تحریکِ استحقاق جمع کرادی ہے۔
کوئی بھی ادارہ ھمیں اپنے قومی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ کسی بھی قیمت پر زبان بندی منظور نہیں، ھم اپنے وطن کے وسائل اور مسائل پر بات کرتے رہیں گے۔قومی حقوق اور امن کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور اسے آئینی تقاضوں کے مطابق بیرکوں اور سرحدوں کی رکوالی تک محدود رہنا چاہیے٫ اسٹبلشمنٹ کا سیاسی مداخلت اور سیاسی انجینئرنگ والا کردار ختم ہونا چاہیے۔
#NisarBaazKhan

اردو
Nisar Baaz Khan retweetledi



