Aisha Ghumman
837 posts



بڑی چھپکلیوں بہت سیانی ہوتی ہیں وہ سمجھ چکی ہوتی ہیں کہ یہ انسان بس سارا دن ایسے ہی پڑے رہتے یا پھرتے رہتے ان سے کوئی خطرہ نہیں، اس لیے جب پاس سے بھی گزرو تو وہ سکون سے دیوار پر رکی رہتیں ہیں۔ مسئلہ ہے نوجوان چھپکلیوں کا۔ ان کو سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ یہ ہو کیا رہاہے یہ کیا دنیا میں ۔ کوئی پاس سے گزرے تو ان کو سمجھ نہیں آتی کرنا کیا ہے۔ کیونکہ ان کو سب ٹھکانوں کا ابھی پتہ نہیں ہوتا اور بس گھبرا کر بندے کے اوپر ہی گر جاتی ہیں اور اس کا بھی تراہ نکال دیتی ہیں








خلع کے ڈاکومنٹ پر سائن کرتے ہوے پاکستان کی سیلبرٹی میڈیا پرسنلٹی ڈاکٹر مبیحہ نے یہ کہتے ہوے قلم تور دیا۔ میرے جیسی خوبصورتی تو تم حاصل کر سکتے ہو پر میرا جیسا کردار کہاں سے لاو گے ۔ ڈاکٹر نبیہہ علی خان جو کبھی محبت اور رشتوں پر لیکچر دیا کرتی تھیں اور خلع لینے والی عورتوں کو کھلے عام لعن طعن کیا کرتی تھیں آج خود اسی راستے پر چل پڑیں جس پر وہ دوسری عورتوں کو طعنے دیا کرتی تھیں ۔ سینیئر صحافی حارث کھوکھر سے ان کی شادی محض آٹھ ماہ میں ہی خلع پر ختم ہو گئی اور یہ خبر سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل گئی کیونکہ وہی نبیہہ علی جو پنجاب میں بڑھتے ہوئے خلع کے کیسز پر عورتوں کو للکارتے ہوئے کہتی تھیں کہ جو عورت گھر نہیں بسا سکتی اور باہر چکر چلانے کی وجہ سے خلع لیتی ہے اس پر لعنت بھیجی جانی چاہیے ۔ آج خود اسی کٹہرے میں کھڑی نظر آتی ہیں۔ حارث کھوکھر نے اس معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ نبیہہ علی سے شادی کرنا ان کی زندگی کا سب سے غلط فیصلہ ثابت ہوا ان کا کہنا ہے کہ پانچ سال تک دونوں کا پروفیشنل تعلق رہا جس دوران نبیہہ کو ان میں صرف خوبیاں ہی نظر آتی تھیں انہوں نے ہر مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا اور ہر معاملے میں تحفظ فراہم کیا جس کی گواہی نبیہہ خود مختلف پوڈکاسٹس میں دے چکی ہیں جہاں وہ برملا کہتی نظر آئیں کہ حارث کا کردار پانچ سال تک اتنا بےداغ رہا کہ اس نے کبھی آنکھ اٹھا کر بھی ان کی طرف نہیں دیکھا اور یہی دیکھ کر انہوں نے شادی کا فیصلہ کیا مگر حارث سوال اٹھاتے ہیں کہ نکاح کے بعد اچانک وہی کردار کیسے بدل گیا جبکہ انسان کی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ حارث کا مزید کہنا ہے کہ ان کا تعلق ایک شریف اور پڑھے لکھے خاندان سے ہے اور اس سے پہلے بھی نبیہہ فضہ علی کے شو میں ان کے خاندان کی کردار کشی اور بلیک میلنگ کر چکی ہیں اور ہمیشہ عورت کارڈ کھیلتی آئی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کے بعد وہ اپنے والدین سے علیحدہ رہائش اختیار کر چکے تھے مگر اس کے باوجود نبیہہ کا اصرار رہا کہ وہ اپنے ماں باپ کو مکمل طور پر چھوڑ دیں اور ان سے ملنے تک نہ جائیں حالانکہ وہی والدین ہیں جنہوں نے اپنی جوانی اولاد پر قربان کی حلال کمائی سے پالا اور اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ حارث کہتے ہیں کہ ماں باپ کبھی چھوڑے نہیں جا سکتے خون ہمیشہ پانی سے گاڑھا ہوتا ہے چار دن پہلے جب وہ اپنے والدین سے ملنے گئے تو نبیہہ نے شرط رکھی کہ سٹامپ پیپر پر لکھ کر دو کہ مجھے رکھو گے اور والدین کو چھوڑو گے ورنہ میں خلع لے لوں گی حارث نے جواب دیا کہ ماں باپ نہیں چھوڑے جاتے تم خلع لے لو اور یوں رشتہ ختم ہو گیا۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو ہوا دے رہا ہے کہ پاکستان میں مذہب کارڈ کے بعد عورت کارڈ سب سے خطرناک ہتھیار بن چکا ہے جسے میڈیا پر اخلاقیات کا درس دینے والے چہرے بھی اپنی ذاتی زندگی میں اسی طرح استعمال کرتے نظر آتے ہیں جس پر وہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔























