M ANees
11.5K posts






آج اسلام آباد دہشتگردی کی عدالت میں پی ٹی آئی کے جلسے میں شرکت کے الزام میں گرفتار چار سو کے قریب افراد کو پیش کیا گیا۔ میں نے جتنے بھی قیدی دیکھے، تمام کے تمام پشتون تھے۔ اور جن بیسیوں قیدیوں سے میں ملا، بشمول ان کے کہ جن کی قانونی مدد کے لیے میں وہاں موجود تھا، کسی ایک کا بھی پی ٹی آئی سے دور دور تک کا تعلق بھی نہیں تھا۔ نناوے فیصد قیدی عام مزدور تھے۔ کوئی بائیکیا والا، تو کوئی دیہاڑی دار، کوئی کوئٹہ کیفے کا ویٹر تو کوئی سڑک کے کنارے پھلی بیچنے والا۔ کسی کو راہ چلتے اٹھا لیا تو کسی کو دوکان سے گھسیٹ کر نکالا گیا۔ عدالت کے احاطے سے باہر ایک ہزارہ خاتون اور اس کی بیٹی آنسوؤں میں بھیگے گڑ گڑاتے ہوۓ قدموں میں گر گئے۔ ماں کا دوپٹہ گرا ہوا، چہرہ آگ کے گولے کی طرح دھکتا ہوا سرخ، آنسوؤں سے تَر، بیہوشی کے قریب تھی۔ حتی کہ ساتھ کھڑے پولیس والے کا دل بھی پسیج گیا۔ میں نے سنبھالا اور ٹوٹی پھوٹی دَری زبان میں تسلی دینے کی کوشش کی۔ بیٹی نے کہا کہ "ایک ہی برادر ہے میرا۔ قسم بخدا ما مسلمان ھستیم۔ کسی سیاست کو نہیں جانتا۔ بخدا کچھ نہیں جانتا ہم اس ملک میں۔ کوئی اور نہیں ہے ہمارا۔ ایک روپیہ نہیں ہمارے پاس۔ برادر دوکان میں ریپئیرنگ کا کام سیکھ رہا ہے کہ وہاں سے یہ لوگ نے اٹھا لیا۔" ایک قیدی وین سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے بڑی مشکل سے بچے کو ڈھونڈا۔ ماں کو تصویر دکھائی کہ بچہ یہیں ہے، محفوظ ہے تو میرا موبائل ہاتھ سے لے کر زار و قطار چُومنے لگی اور کئی منٹ تک موبائل سینے سے لگاۓ رکھا۔ پاس موجود ایک اور افغان نوجوان نے قمیض کے بٹن کھولے اور شرٹ پہ موروں سے کشیدہ کیا ہوا نمبر دکھا کر بولا کہ دا می رور نمبر دا۔ یعنی کہ یہ افغان بچے دن رات اسی خوف میں رہتے ہیں کہ کبھی بھی کہیں سے بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے تو گھر میں ماں نے شرٹ پہ نمبر موروں سے سِی لیا ہے کہ کہیں گرفتار ہو جاۓ تو رابطے کی سبیل بنے۔ آج دہشت گردی کی عدالت میں دردناک صورتحال تھی۔ سارے درماندہ پشتون۔ جو مزدور پشتو بولتا ہوا ملا ہے، یا چہرے کے خدوخال نے اس کے بے کَس و لاچار افغان ہونے کا پتہ دیا ہے، اسے اٹھا لیا گیا ہے۔ یہ اجتماعی سزا اور نسلی تعصب کی بدترین شکل ہے۔ ہر چہرہ آج کرب و الم کی داستان تھا۔ تحریر: حبیب کریم ایڈووکیٹ














