M. Anwar Jamal, Ph.D.
18.8K posts

M. Anwar Jamal, Ph.D.
@manwarjamal
Trainer, Consultant and Educationist. Former CSS Officer, Former PMS Officer, CEO of Brain Wave Pakistan and M.D. of The Learners Education Foundation Lahore.
Leeds, England Katılım Mart 2012
460 Takip Edilen1.9K Takipçiler
M. Anwar Jamal, Ph.D. retweetledi

ایک اٹینشن سیکر خود کو اتنا بڑا دانشور سمجھتا ہے کہ اسے لگتا ہے اس کی آواز بند کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں، تنقید بھی کرتے ہیں، ہر ادارے پر بھی لکھتے ہیں، مگر کبھی ایسا نہیں ہوا۔ ایک شخص بیرونِ ملک بیٹھ کر صرف ویوز کی خاطر کچھ بھی لکھ دیتا ہے، اور پھر واہ واہ سمیٹتا ہے۔ اگر کسی ایجنسی کا کوئی اہلکار میری یہ پوسسٹ پڑھ رہا ہو تو میری گزارش ہے کہ ایک چکر اسکے گھر ضرور لگا آئیں، تاکہ پوسٹ لکھنے والے کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے۔ اگر واقعی وہ آ جائیں، تو پھر تمہیں حقیقت کا پتا چل جائے گا۔۔۔
اردو

The Islamabad Memorandum of Understanding ❤️❤️❤️
Seyed Abbas Araghchi@araghchi
The Islamabad Memorandum of Understanding has never been closer. Pending its finalization, the media should refrain from entering speculation about its content. In line with our responsible and transparent approach, all details will be shared with the public in due course.
English
M. Anwar Jamal, Ph.D. retweetledi

پی ٹی آئی کے دوستوں سے ایک سوال ہے:
کیا وہ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کے نزدیک بھارتی زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے کشمیریوں کی آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں نمائندگی اور ان کے لیے مختص بارہ نشستیں غیرمنصفانہ یا ناجائز ہیں؟
یا پھر وہ عوامی ایکشن کمیٹی کی حمایت اس وجہ سے کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو، پاکستان کے اداروں کو گالیاں دے رہی ہے اور پاکستان کے پرچم کی بےحرمتی کر رہی ہے؟
اردو

@Greentvpakistan پاکستان کے قانون میں کسی جرم میں بھی پاکستانی شہری کو ملک بدر کرنے کی کوئی سزا موجود نہیں ہے۔
اردو

M. Anwar Jamal, Ph.D. retweetledi

@Hanif_GulPk کیا لبرل بھی دیسی یا ولایتی ہوتے ہیں؟
لبرل تو نہ ہوئے۔
اردو

گرین کارڈ، ویزا ، شہریت کے حصول کی خواہش اور اسلام دشمنی نے دیسی لبرل طبقے کو فکری انتشار کا شکار کر دیا ہے۔ ایسے بیانات اور دعوے سامنے آتے ہیں جو کسی سنجیدہ اور تعلیم یافتہ فرد کے شایانِ شان محسوس نہیں ہوتے۔ بعض آراء اس قدر انتہا پسندانہ ہوتی ہیں کہ وہ بنیادی انسانی اور تہذیبی اقدار سے بھی متصادم دکھائی دیتی ہیں۔ یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ انسان فکری طور پر اس حد تک کیسے گر سکتا ہے؟ یہ فکری بانجھ پن کسی گہرے احساس کمتری یا احساس محرومی کا شاحسانہ لگتا ہے۔
دیسی لبرل طبقہ کبھی پاکستان پر تنقید کرتا ہے اور کبھی اسلام پر اعتراضات اٹھاتا ہے۔ کبھی قائداعظم محمد علی جناح کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور ان کی علمی حیثیت کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب مودی کو دانشور کے طور پر پیش کر کے ایک طرح کی تسکین حاصل کرتا ہے۔ ایرانی مولویوں سے شدید نفرت کرتا ہے، لیکن یہودی مولوی نیتن یاہو کی پالیسیوں کے لیے غیر معمولی نرم گوشہ رکھتا ہے۔ پاک فوج کو کشمیر کے معاملے پر امن کا درس دیتا ہے، مگر اسرائیل کے عرب علاقوں پر قبضے کے حوالے سے مختلف مؤقف اختیار کرتا ہے۔ بلکہ یہ طبقہ اسرائیلی جارحیت کو تحسین کی نظر سے دیکھتا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف فکری بد دیانتی کی علامت ہے بلکہ کھلے دوغلے پن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ان دیسی لبرلز کو چاہیے کہ وہ اپنے اس انتہا پسندانہ مؤقف پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کریں، کیونکہ تعصب، سطحیت اور غیر متوازن سوچ کبھی بھی علمی مقام یا اخلاقی برتری پیدا نہیں کر سکتی۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو ان کی فکری ساکھ مزید کمزور ہو جائے گی اور انہیں کسی بھی سنجیدہ مکالمے کے لئے غیر موزوں بنا دے گی۔
اردو

For events like #IslamabadTalks , remember one saying:
There’s no news until there’s news.
So be patient and wait.
English

