ڈاکٹــــر ہانیـــــــKomalــہ
33K posts

ڈاکٹــــر ہانیـــــــKomalــہ
@pakfirst123
Love Pakistan and Pak forces Medical Researcher MBBS,FCPS(Gynaecology) Part.l Happily married Allhumdulilah



























ہائے باجی عظمیٰ آپ تو رج کر نالائق ہیں۔ اگر انسان سے چول وج جائے تو خاموشی بہتر ہوتی ہے- مثال کے طور پر شیاٹیکا جسم کے نچلے حصے میں ہی ہوتی ہے۔ جیسے ہمارے جبڑے میں درد ہو تو اسے کہلوں کی درد نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ کہ کہلے اور جبڑے فرق چیز ہیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں کسی انسان کو جبڑے اور کہلوں میں درد ہو۔ لیکن جبڑے کی درد کو کہلوں کی درد نہیں کہا جا سکتا۔ ویسے ہی بازو میں درد کو “سائٹیکا” (Sciatica) نہیں کہا جا سکتا — چاہے جسم کے ایک حصے کی بیماری دوسرے حصے کو متاثر کرے۔ سائٹیکا ایک مخصوص اصطلاح ہے جو صرف سائٹیک نرو (sciatic nerve) کے راستے میں درد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ نرو کمر کے نچلے حصے (lumbar spine) سے شروع ہو کر کولہوں، ران، پنڈلی، اور پاؤں تک جاتا ہے۔ اس لیے سائٹیکا کا درد ہمیشہ ٹانگ/نچلے جسم میں ہوتا ہے (جیسے کمر سے ٹانگ تک چبھن یا جلن)۔ معتبر طبی ذرائع (جیسے Mayo Clinic، Cleveland Clinic، اور دیگر) واضح طور پر کہتے ہیں کہ سائٹیکا بازو (arm)، کندھے، یا ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ اگر درد بازو میں ہے تو کیا ہو سکتا ہے؟ • یہ cervical radiculopathy ہو سکتا ہے (گردن کے اعصاب کا دبنا یا جلن)۔ • گردن کی ڈسک سلپ ہونے، ہڈیوں کے دباؤ، یا پٹھوں کی تناؤ سے گردن سے درد بازو، کندھے، یا انگلیوں تک پھیل سکتا ہے (شooting pain, tingling, numbness)۔ • اسے انگریزی میں “brachialgia” یا “cervical radiculopathy” کہتے ہیں، اور اردو میں گردن کا اعصاب دبنا یا گردن سے بازو تک درد۔ • یہ سائٹیکا کی طرح ہے (دونوں radiculopathy ہیں)، لیکن مختلف نرو اور جگہ کی وجہ سے الگ نام رکھا جاتا ہے۔ یہ بلکل ایسے ہی جیسے زیادہ شور کی وجہ سے کان کی بیماری Tinnitus ہو سکتی ہے۔ اب آپکی پریس ٹالک سے لوگوں کو Tinnitus ہو سکتی ہے۔ اب اسکا یہ مطلب نہیں کہ لوگ اسے عظمی بیماری کہنا شروع کر دیں۔ وجہ جو بھی ہو بیماری کا نام عظمی نہیں رکھا جا سکتا۔ وہ Tinnitus ہی رہے گا۔ ویسے آپکو سمجھ آئے گی نہیں۔








