Sabitlenmiş Tweet
🇹🇷شیر دل🇵🇰
37.3K posts

🇹🇷شیر دل🇵🇰
@peacemaker1976
میرا پہلا عشق کریم آقا صلى الله عليه وسلم پاکستان ، قائداعظم ، علامہ اقبال ، عمران خان صرف حق اور سچ. شغل میلہ اور گارمنٹس بزنس
Lahore, Pakistan Katılım Eylül 2012
5K Takip Edilen3.5K Takipçiler
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi

پتا ہے عظیم لوگ کون ہوتے ہیں؟
جب ستر کی دہائی میں جنگل سے جاتے ہوئے ایمبولینس کا راستہ کچھ ڈاکوؤں نے روکا تو اس ایمبولینس میں ایک جوان لڑکی کی میت تھی۔ ڈرائیور خود ایدھی صاحب تھے۔ لڑکی کی ماں نے اتر کر ڈاکوؤں کو بتایا کہ اندر میری جوان بیٹی کی میت موجود ہے جو ٹی بی کی وجہ سے وفات پا گئی ہے۔ ڈرائیور کوئی اور نہیں بل کہ ایدھی صاحب خود ہیں۔ ایمبولینس میں اس وقت ایک نرس بھی موجود تھی۔۔۔
تمام ڈاکو گھوڑے سے نیچے اتر آئے اور ڈرائیور کو غور سے دیکھا۔ تصدیق کرنے کے بعد سب ڈاکوؤں نے ایدھی صاحب کے ہاتھ چوم کر کہا" ہم جانتے ہیں کہ جب ہم مر جائیں گے تو کوئی ہماری لاش اٹھانے نہیں آئے گا لیکن اس وقت آپ ضرور آئیں گے اور ہماری قبر پر مٹی بھی ڈالیں گے" ۔ یہ کہہ کر ان ڈاکوؤں نے سو روپے ایدھی فاؤنڈیشن کیلئے دیئے اور احترام کے ساتھ ایمبولینس کو روانہ کیا۔۔ ایمبولینس میں موجود نرس بلقیس ایدھی صاحبہ تھیں۔
کیا کمال لوگ تھے کیا کردار تھا کہ ڈاکو بھی ہاتھ چوم لیا کرتے تھے۔ یہ ہوتے ہیں عظیم لوگ جو انسان کو انسان سمجھتے ہیں جو رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر سوچتے ہیں اور ان کا عمل ان کی سوچ کی گواہی چیخ چیخ کر دیتا ہے۔۔۔
جو نہیں سوچتے کہ یہ کام تو حکومت کی زمہ داری ہیں۔ جو نہیں سوچتے کہ ہمارے بچے، ہمارا گھر، ہماری پرسنل لائف، ہماری خواہشات، ہمارا آرام اور سکون کیوں خراب ہو؟ جو بچوں کی دیکھ بھال کرتے وقت یہ تفریق نہیں کرتے کہ کون سا بچہ جائز ہے اور کون سا ناجائز؟ بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں اور ان معصوموں کا جائز ناجائز ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ لوگ عظیم ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے بزرگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں بل کہ بد بخت اور نافرمان جوانوں کے بزرگوں کو بھی گلے سے لگا لیتے ہیں۔
عبد الستار ایدھی صاحب آغاز میں شادیوں پر جا کر برتن دھوتے تھے، دودھ اور اخبار فروخت کرتے تھے اور حاصل ہونے والی آمدن کا بیشتر حصہ فلاحی کاموں میں خرچ کر دیتے تھے۔ ایک ٹوٹی پھوٹی وین لے کر ایمبولینس سروس کا آغاز کیا تھا جس کا انجن بھی خراب تھا۔ ایک حج پر جانے کیلئے ستر کی دہائی میں ان کی ایمبولینس کو بھی ساتھ لے جایا گیا اور چار ہزار روپے دیئے گئے۔ بلقیس ایدھی صاحبہ کے مطابق" ایدھی صاحب نے ان پیسوں کو استعمال نہیں کرنے دیا بل کہ ان پیسوں سے ادویات خرید لیں اور حاجیوں کی مدد کرنے کیلئے کچھ سامان بھی۔ میں نے کچھ کپڑے خریدنے کی فرمائش کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ ہم اس وقت صرف اچار لے کر گئے تھے اور راستے میں روٹیاں لے کر گزارا کر لیتے تھے" ۔
کیا کمال لوگ تھے؟ ایک ایمبولینس کا ڈرائیور بنا ہوا تھا اور دوسری نرس تھی۔ لیکن حاصل ہونے والی آمدن کو انسانیت پر خرچ کیا جا رہا تھا۔۔۔
نومولود بچوں کو کچرے میں پڑا دیکھا تو شدید تکلیف میں مبتلا تھے۔ کہتے تھے" ان بچوں کا کیا قصور ہے جنہیں کتے نوچ کھاتے ہیں" ۔ پھر" جھولا پروجیکٹ" شروع کیا اور اپنے ہر کیمپ کے باہر جھولا لگا کر کہا" اگر آپ ان بچوں کو نہیں رکھ سکتے تو باہر اس جھولے میں ڈال کر چلے جائیں۔ آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھے گا۔ یہ بچے ہمارے ہوں گے" ۔
کچھ لوگوں نے کہا" تم جہنم میں جاؤ گے" تو اس پر جواب دیا گیا" ہم تمہارے والی جنت میں نہیں جانا چاہتے۔ ہمیں تمہاری جنت نہیں چاہیے"
یہ ہوتے ہیں عظیم لوگ جو ان بچوں کو اپنی ولدیت دیتے ہیں جنہیں ناجائز کہہ کر پکارا جاتا ہے۔
بس یہ ہوتے ہیں عظیم لوگ جو جانتے ہیں کہ حکومت وقت سے اگر سوال ہوگا تو سوال تو ہم سے بھی پوچھا جائے گا کہ جب کوئی انسان بھوک سے مر رہا تھا تو تم اس وقت کہاں تھے؟
تمہارے پڑوس میں معصوم بچے پانی سے روزہ افطار کر رہے تھے اور تم نے دستر خوان سجا رکھا تھا؟
تمہارے غریب رشتے دار قربانی والے دن سبزیاں کھا رہے تھے اور تم نے پورا جانور اپنے فریج میں رکھ دیا تھا؟
تمہارے قریب ہی کوئی شخص علاج نہ ہونے کی وجہ سے مر گیا اور تمہارے اکاؤنٹ بھرے ہوئے تھے؟
تم انسانوں کی بستی میں انسان کیوں نہیں تھے؟
تمہارے پڑوس میں یتیم بچیاں کنواری تھی اور تم اپنی بچیوں کو لاکھوں کروڑوں خرچ کر کے بیاہ رہے تھے؟ تم مجرے دیکھ کر لاکھوں روپے لٹا رہے تھے؟
تمہارے قریب ہی یتیم بچے بھوک سے بلک بلک کر رو رہے تھے کیا تم بہرے تھے؟
بس عظیم لوگ وہ ہوتے ہیں جو صرف اور صرف انسان بن کر سوچتے ہیں۔
صحرا میں چشمے کا کردار ادا کرتے ہیں، اندھیرے میں جگنو بن جاتے ہیں اور تپتی دھوپ میں ہرے بھرے کھیت کھلیان جیسے لوگ، بیماروں کیلئے شفا بن جاتے ہیں۔ بے سہاروں کیلئے سہارا بن جاتے ہیں، نابینا لوگوں کیلئے آنکھوں کا کردار ادا کرتے ہیں، سماعت سے محروم لوگوں کیلئے کان بن جاتے ہیں، یتیموں کیلئے والدین بن جاتے ہیں۔
" میرا نامہ اعمال تو دیکھ میں نے بس انساں سے محبت کی ہے" ۔
سلامت رہیں۔۔۔۔۔

اردو
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi

کیا عمران خان کی قوم سے توقعات درست ہیں؟
احمد جواد
بات یہ ہے کہ عمران خان جو قربان کر سکتا ہے، جو ہمت کر سکتا ہے، جو جرات دکھا سکتا ہے، جو صبر کر سکتا ہے، جو برداشت کر سکتا ہے، وہ ہر کوئ نہیں کر سکتا، وہ موت سے نہیں ڈرتا اور ہم سب موت سے ڈرتے ہیں، اُس کے اعصاب لوہے کی طرح ہیں، ہم تھوڑی سے تکلیف سے گھبرا جاتے ہیں
پی ٹی آئ لیڈرشپ کو بار بار بزدلی کے طعنے ملتے ہیں، لیکن آپ میں سے کتنے ہوں گے جو جیل برداشت کر سکتے ہیں؟ کتنے ہوں گے جو اپنے کاروبار اور مال کی قُربانی دے سکتے ہیں؟ کتنے ہیں جو جدوجہد کی تکلیفیں برداشت کر سکتے ہیں؟ کتنے ہیں جو موت سے نہیں ڈرتے؟
اگر کسی کو عہدہ ملتا ہے وہ پہلے دن عمران خان کی رہائ کیلئے مزاحمت اور جدوجہد کی بات کرتا ہے لیکن پھر زمینی حقائق سامنے آتے ہیں تو وہ گھبرا کے پیچھے ہو جاتا ہے،
ہماری تربیت قوم کے طور پر نہیں ہوئ، پاکستان پلیٹ میں رکھا ہوا مل گیا، یاد رہے 1947 سے پہلے مسلم لیگ کا کوئ لیڈر جیل میں نہیں رہا، سواۓ مولانا محمد علی جوہر، شوکت علی جوہر خلافت موومنٹ کے دوران جیل گئے، اور مسلم لیگ کا کوئ قابل ذکر لیڈر جیل نہیں گیا، آزادی کی تحریک میں جیل جانے والے سب کانگریس کے لیڈر تھے، گاندھی اور نہرو نے 7-12 سال جیل گزاری
مسلم لیگ کی نظریاتی لیڈرشپ بنگال یعنی کل کے مشرقی پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش سے تھی، وہیں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی، پنجاب کی لیڈرشپ تو آخری مرحلے پر مسلم لیگ میں شامل ہوئ اور آزادی کے بعد وہ پاکستان کے مالک بن گئے
برطانیہ ہندوستان چھوڑنے سے پہلے ہندوستان جیسی بڑی اور امیر ریاست کو توڑ کے خون کی لکیر کھنچنا چاہتا تھا تاکہ برطانیہ کے جانے کے بعد یہ خطہ جنگ و جدل میں مصروف رہے، تقسیم کے وقت ایسی خون کی لکیر کھینچی جو آج تک جاری ہے،
صرف اُن مسلمان مہاجرین نے قُربانی دی جو بھارت میں اپنا کاروبار، نوکری، اثاثے چھوڑ کر پاکستان آۓ اور جنکے خاندان کے کئی افراد شہید کر دئیے گئے،
پاکستان بننے کے بعد برطانوی راج کا قانون، گورنس اور نظام جاری رہا، جہاں غلام پہلے بھی کالا تھا، اور اب بھی کالا ہے، جبکہ اشرافیہ کی رنگت سفید سے کالی میں بدل گئی، کالا صاحب گورے صاحب سے بھی زیادہ کمینہ نکلا، باقی کچھ نا بدلا
اب عمران خان ایسی قوم سے توقع کرتا ہے کہ وہ باہر نکلے اور ایرانی قوم کی طرح نظام بدلے، آزادی حاصل کرے، ایبسولیوٹلی ناٹ کہے تو یہ ممکن نہیں، پہلے قوم کی تربیت کرنی ہوگی،قوم کو تیار کرنا ہوگا، جیسے خمینی، خامینائ نے ایرانی قوم کی 47 سال تربیت کی،
مختلف گروہوں کو ایک قوم کے طور پر ایک ملک کے اندر اکھٹے رکھنا آسان نہیں، لیکن عمران خان 78 سال کے بعد پاکستان کے تمام گروہوں کا کامن فیکٹر ضرور بن چکا ہے، یہ ایک سنہری موقع ہے اور آخری موقع ہے ایک ہجوم کو قوم میں بدلنے کا، لیکن ایسی تحریک کیلئے معجزہ چاہیے اور میں معجزوں پر ایمان رکھتا ہوں
اردو

@burhan_uddin_0 @MSK_Offiicial It was a disaster for Pakistan
English
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi

Imran Khan Pushed into Military Vehicle in Viral Video Pak Public Silence Draws Criticism
In the video former Prime Minister of Pakistan and one of the most popular figures in the country Imran Khan can be seen being pushed with great disrespect and humiliation by soldiers of Pakistan’s military regime into a military vehicle.
Imran Khan rendered tireless services for Pakistan and its people striving to elevate the country’s name on the global stage.
He made every effort to free the people of Pakistan from the influence of the U.S. and what he described as an oppressive military establishment.
Imran Khan sacrificed a life of comfort and privilege something only a few people in the world ever attain for the sake of the people of Pakistan.
But now it appears that the people of Pakistan have betrayed him and they are not even able to come out raise their voices or ensure that he is taken to a hospital for treatment.
It is a matter of great shame that when you needed him he sacrificed everything for you,
but when he needs you, you only look for 100 excuses even to take him to a hospital.
Shame.
English

@Mughal3_1_3 Termination of all establishment including judiciary,beaurocracy, new appointments
English
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi

دلوں کو نرم کرنے اور غفلت سے جگانے والی ایک سبق آموز کہانی
کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان تھا جو گناہوں میں ڈوبا ہوا زندگی گزارتا رہا۔ اس کے اعمال ایسے تھے کہ لوگ اس سے تنگ آ گئے، یہاں تک کہ اسے اپنی بستی سے نکال دیا گیا۔ وہ تنہا، بے یار و مددگار، گاؤں کے کنارے ایک ویران جگہ پر رہنے لگا۔
پھر ایک دن اس کی زندگی کا آخری وقت آ پہنچا… وہ اکیلا پڑا تھا۔ نہ کوئی اس کا اپنا، نہ کوئی تیماردار، نہ کوئی جو اس کے لیے آنسو بہاتا۔
اسی لمحے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: "اے موسیٰ! میرے ایک بندے کا انتقال ہونے والا ہے، تم اس کے پاس جاؤ، اس کے جنازے کا انتظام کرو، اور لوگوں کو بھی ساتھ لاؤ۔"
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکم کی تعمیل کی اور بنی اسرائیل کو جمع کیا۔ جب وہ اس مقام پر پہنچے تو لوگوں نے اس نوجوان کو پہچان لیا اور حیران ہو کر بولے: "اے اللہ کے نبی! یہ تو وہی شخص ہے جسے ہم نے اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے بستی سے نکالا تھا!"
یہ سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی تعجب ہوا کہ ایسا شخص اللہ کے نزدیک کیسے مقبول ہو سکتا ہے۔
تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی: "اے موسیٰ! لوگ ٹھیک کہتے ہیں، وہ گناہگار تھا، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ اس کے آخری لمحات میں اس کے اور میرے درمیان کیا ہوا۔"
پھر اللہ تعالیٰ نے اس راز کو بیان فرمایا: "جب موت اس پر طاری ہوئی تو اس نے اپنے اردگرد دیکھا، مگر کوئی نہ تھا۔ نہ دوست، نہ رشتہ دار، نہ کوئی سہارا… تب اس کا دل ٹوٹ گیا اور اس نے پوری عاجزی سے میری طرف رجوع کیا۔
اس نے کہا: 'اے میرے رب! میں تیری زمین میں اکیلا اور بے سہارا ہوں۔ اگر میرا عذاب تیرے اقتدار میں اضافہ کرتا تو میں کبھی تجھ سے معافی نہ مانگتا، اور اگر تیرا معاف کرنا تیری بادشاہی میں کمی کرتا تو میں تجھ سے امید نہ رکھتا۔ مگر میں ایک کمزور بندہ ہوں… میرے لیے تیرے سوا کوئی پناہ نہیں۔ تو نے وعدہ کیا ہے کہ تو بخشنے والا اور مہربان ہے، پس میری امید کو رد نہ فرما۔'"
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اے موسیٰ! کیا میں اپنے اس بندے کو چھوڑ دوں جو اس ٹوٹے دل کے ساتھ مجھ سے فریاد کر رہا ہے؟ میری قسم! اگر وہ اس حال میں پوری دنیا کے لیے مغفرت مانگتا تو میں سب کو معاف کر دیتا۔"
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میں تنہا لوگوں کا سہارا ہوں، ٹوٹے دل والوں کا دوست ہوں، بے بسوں کا مددگار ہوں، اور ان پر رحم کرتا ہوں جن پر کوئی رحم کرنے والا نہ ہو۔"
سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی وسیع، کتنی بے مثال ہے۔
اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی ہو تو درود شریف ضرور پڑھیں: اللهم صلّ وسلم وبارك على سيدنا محمد ﷺ

اردو
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi

یہ وہ دس صحابہ ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے ایک ہی مجلس میں ان کی زندگی ہی میں جنت کی بشارت دی تھی:
1حضرت ابوبکر صدیق
2حضرت عمر فاروق
3حضرت عثمان غنی
4حضرت علی المرتضیٰ
5حضرت طلحہ بن عبید اللہ
6حضرت زبیر بن عوام
7حضرت عبدالرحمن بن عوف
8حضرت سعد بن ابی وقاص
9حضرت سعید بن زید
10حضرت ابو عبیدہ بن جراح (رضی اللہ عنہم)
اردو
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi

میرے پاکستانیوں!!!
#دین
ضرور پڑھیں
کج فہمی کی گتھیاں سلجھاتی سید مودودی علیہ الرحمہ کی لا زوال تحریر
کیا صحابہ ؓآنحضورؐکی تجہیز وتکفین چھوڑ کر فکر خلافت میں لگے رہے؟
سوال: صحابہ کرامؓ اور خاص طور پر حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمرؓ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ رسولؐ اﷲ کے کفن دفن میں شریک نہ ہوئے اور خلافت وبیعت کے مسئلے میں اُلجھے رہے۔ حضورؐ کے غسل اور کفن دفن میں شریک ہونا کتنی بڑی سعادت تھی اور خود محبت رسولؐ کا کیا تقاضا تھا؟ جواب: یہ قصہ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ بے گور وکفن پڑا تھا اور صحابۂ کرامؓ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین کی فکر چھوڑ کر خلافت کی فکر میں پڑ گئے ،درحقیقت بالکل ہی بے سروپا داستان ہے۔ اصل واقعات یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پیر کے روز شام کے قریب ہوئی۔بخاری ومسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص انس بن مالکؓ نے ’’آخریوم‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس سے یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ سانحۂ عظیم عصر ومغرب کے درمیان پیش آیا تھا۔ فطری بات ہے کہ اس سے پوری جماعت اہل ایمان کے ہوش پراگندہ ہوجانے چاہییں تھے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ حضرت عمرؓ کوتو یہی یقین نہ آتا تھا کہ سرور عالمؐ واقعی وفات پا گئے ہیں۔حضرت ابوبکرؓ نے آکرجب تقریر کی تو لوگوں کو پوری طرح یقین ہوا کہ وہ ناگزیر بات جو پیش آنی تھی، پیش آچکی ہے۔ اتنے میں رات آ گئی۔ یہ ممکن اور مناسب نہ تھا کہ راتوں رات تجہیز وتکفین کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کردیا جاتا۔ کیوں کہ جنازے میں شرکت کی سعادت سے محروم رہ جانا ان ہزاروں مسلمانوں کو ناگوارہوتا جو مدینۂ طیبہ اور اس کی نواحی بستیوں میں رہتے تھے۔ لازماً ان کو شکایت ہوتی کہ آپ لوگوں نے ہمیں آخری دیدار اور نماز جنازہ کا موقع بھی نہ دیا۔ اس لیے رات بہرحال گزارنی تھی۔اس رات صحابہ ؓ کے مختلف گروہ اپنی اپنی جگہ جمع ہوکر سوچ رہے تھے کہ اب کیا ہوگا۔ازواج مطہرات حضرت عائشہؓ کے ہاں گریہ وزاری میں مشغول تھیں جہاں حضورؐ نے وفات پائی تھی۔حضرت علیؓ،حضرت زبیرؓ، حضرت طلحہؓ، اور دوسرے قرابت داران رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سیّدہ حضرت فاطمۃ الزہراءؓ کے گھر میں جمع تھے۔ مہاجرین کی ایک اچھی خاصی تعداد حضرت ابوبکرؓ کے پاس غمگین ومتفکر بیٹھی تھی۔ انصار کے مختلف گروہ اپنے اپنے قبیلوں کی چوپالوں( سقیفہ کے اصل معنی چوپال ہی کے ہیں) میں اکٹھے ہورہے تھے۔ اتنے میں کسی نے آکر خبر دی کہ بنی ساعدہ کی چوپال میں انصار کا ایک بڑا گروہ جمع ہے اور وہاں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کا مسئلہ چھڑ گیا ہے۔ حضرات ابوبکر ؓ، عمرؓ اور ابوعبیدہؓ بن الجراح، جو حضورؐ کے بعد مسلمانوں کی جماعت میں ’’بڑے‘‘ (senior) سمجھے اور مانے جاتے تھے،یہ خبر سن کر فکر مند ہوئے کہ ابھی سردار ملت کی آنکھ بند ہوئی ہے، ساری امت اس وقت بے سر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے اور جماعت کا نظم ازسر نو قائم ہونے سے پہلے ہی بدنظمی اپنے قدم جمالے۔ اس لیے یہ تینوں حضرات فوراً برسر موقع پہنچ گئے اور راتوں رات انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کے مسئلے کو، جو ایک فتنہ خیز صورت میں طے ہوا چاہتا تھا،اس صحیح شکل میں سلجھا لیا جس کے صحیح ہونے پر تاریخ اپنی مہر تصدیق ثبت کرچکی ہے۔یہ سارا واقعہ اسی رات کا ہے جس کی شام کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔ رات کو بہرحال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین نہیں کرنی تھی جس کی مصلحت اوپر بیان کی جاچکی ہے۔اسی رات خلافت کا مسئلہ طے کیا گیا۔ صبح سویرے مسجد نبوی میں حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کا اعلان ہوا۔ مہاجرین وانصار سب نے اسے قبول کرکے جماعت کا نظام بحال کردیا اور اس کے بعد بلاتاخیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کا کام شروع ہوگیا۔ یہ کہنا بالکل ہی خلاف واقعہ ہے کہ صحابہ کرامؓ اپنی خلافت کی فکر میں لگے رہے اور حضورؐ کی تجہیز وتکفین بس آپ کے اہل بیت نے کی ۔یہ تجہیز وتکفین کسی نے بھی پیر اور منگل کی درمیانی شب میں نہ کی تھی۔ اس کا آغاز منگل کی صبح کو اس وقت ہوا ہے جب کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت ہوچکی تھی۔ اور یہ کام حضرت عائشہؓ کے حجرے میں ہوا ہے جس کا ایک دروازہ اسی مسجد نبوی میں کھلتا تھا جہاں مدینہ طیبہ کے سارے صحابہ جمع تھے، جہاں گردو نواح کے لوگ وفات کی خبر سن سن کر چلے آرہے تھے، اور جہا ں حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پربیعت کی گئی تھی۔ جن لوگوں کو کبھی مسجد نبوی کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے اور جنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ حجرۂ حضرت عائشہ (جس میں سرکار مدفون ہیں) اور مسجد نبوی کا مکانی تعلق کیا ہے، وہ یہ بات سن کر ہنس دیں گے کہ!
جازی ہے 👇👇👇

اردو
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi

صحابہ مسجد نبوی میں اپنی خلافت کی فکر میں لگے ہوئے تھے اور بے چارے اہل بیت حجرۂ عائشہ ؓ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز وتکفین کررہے تھے۔غلط بات تصنیف کرنی بھی ہو تو اس کے لیے بھی کم ازکم کچھ سلیقہ تو چاہیے ۔ یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل وکفن صرف آپؐ کے اہل بیت نے دیا،یہ بھی خلاف واقعہ ہے۔اس خدمت کو انجام دینے والے حضرت علیؓ، حضرت عباسؓ، فضل بن عباسؓ، قثم بن عباسؓ، اسامہ بن زید ؓاور شُقرانؓ(حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ) تھے، اور انہوں نے اس خیال سے حجرے کا دروازہ بند رکھا تھا کہ لوگوں کا ہجوم باہر زیارت کے لیے بے چین کھڑا تھا۔ اگر دروازہ کھلا رہنے دیا جاتا تو اندیشہ تھا کہ زیادہ لوگ اندر آجائیںگے اور کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ پھر بھی انصار نے جب شور مچایا کہ ہمیں بھی تو اس سعادت میں حصہ ملنا چاہیے، تو ان میں سے ایک صاحب(اوس بن خولی) کو اندر بلا لیا گیا۔ کفن پہنانے کے بعد سوال پیدا ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قبر کہاں تیار کی جائے۔حضرت ابوبکر ؓ نے حدیث پیش کی کہ مَا قُبِضَ نَبِیٌّ اِلَّا دُفِنَ حَیْثُ یُقْبَضُ(نبی کا انتقال جہاں ہوتا ہے ،وہیں اس کو دفن کیا جاتا ہے)او ر اسی پر فیصلہ ہوا کہ حجرۂ عائشہ ؓ ہی میں آپؐ کے لیے قبر تیار کی جائے۔ حضرت ابو طلحہ زیدؓ بن سہل انصاری نے قبر کھودی۔ پھر لوگوں نے گروہ در گروہ اندر جاکر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی اوررات تک مسلسل یہ سلسلہ چلتا رہا، حتیٰ کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو نصف شب کے قریب دفن کی نوبت آئی۔معلوم نہیں کہ اس پوری مدت میں آخر وہ کون سا وقت تھا جب صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت بے یارومددگار آپ ؐ کے جسد اطہر کو لیے بیٹھے رہے اور صحابۂ کرامؓ اپنی خلافت کی فکر میں مشغول رہے؟ (ترجمان القرآن۔ نومبر ۹۵۸اء)
اردو
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi

اللہ تعالیٰ نے رزق کے 16 دروازے مقرر کئے ہیں
اور اس کی چابیاں بھی بنائی ہیں۔ جس نے یہ چابیاں حاصل کر لیں وہ کبھی تنگدست نہیں رہے گا۔
۔
پہلا دروازہ نماز ہے۔ جو لوگ نماز نہیں پڑھتے ان کے رزق سے برکت اٹھا دی جاتی ہے۔ وہ پیسہ ہونے کے باوجود بھی پریشان رہتے ہیں۔
دوسرا دروازہ استغفار ہے۔ جو انسان زیادہ سے زیادہ استغفار کرتا ہے توبہ کرتا ہے اس کے رزق میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اللہ ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے کبھی اس نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔
تیسرا دروازہ صدقہ ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں جو خرچ کرو گے اللہ اس کا بدلہ دے کر رہے گا، انسان جتنا دوسروں پر خرچ کرے گا اللہ اسے دس گنا بڑھا کر دے گا
چوتھا دروازہ تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ جو لوگ گناہوں سے دور رہتے ہیں اللہ اس کیلئے آسمان سے رزق کے دروازے کھول دیتے ہیں۔
پانچواں دروازہ کثرتِ نفلی عبادت ہے۔ جو لوگ زیادہ سے زیادہ نفلی عبادت کرتے ہیں اللہ ان پر تنگدستی کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ اللہ کہتا ہے اگر تو عبادت میں کثرت نہیں کرے گا تو میں تجھے دنیا کے کاموں میں الجھا دوں گا، لوگ سنتوں اور فرض پر ہی توجہ دیتے ہیں نفل چھوڑ دیتے ہیں جس سے رزق میں تنگی ہوتی ہے
چھٹا دروازہ حج اور عمرہ کی کثرت کرنا ، حدیث میں آتا ہے حج اور عمرہ گناہوں اور تنگدستی کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح آگ کی بھٹی سونا چاندی کی میل دور کر دیتی ہے
ساتواں دروازہ رشتہ داروں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا۔ ایسے رشتہ داروں سے بھی ملتے رہنا جو آپ سے قطع تعلق ہوں۔
آٹھواں دروازہ کمزوروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا ہے۔ غریبوں کے غم بانٹنا، مشکل میں کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے
نوواں دروازہ اللہ پر توکل ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھے کہ اللہ دے گا تو اسے اللہ ضرور دے گا اور جو شک کرے گا وہ پریشان ہی رہے گا
دسواں دروازہ شکر ادا کرنا ہے۔ انسان جتنا شکر ادا کرے گا اللہ رزق کے دروازے کھولتا چلا جائے گا
گیارہواں دروازہ ہے گھر میں مسکرا کر داخل ہونا ،، مسکرا کر داخل ہونا سنت بھی ہے حدیث میں آتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ رزق بڑھا دوں گا جو شخص گھر میں داخل ہو اور مسکرا کر سلام کرے
بارہواں دروازہ ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ہے۔ ایسے شخص پر کبھی رزق تنگ نہیں ہوتا
تیرہواں دروازہ ہر وقت باوضو رہنا ہے۔ جو شخص ہر وقت نیک نیتی کیساتھ باوضو رہے تو اس کے رزق میں کمی نہیں ہوتی
چودہواں دروازہ چاشت کی نماز پڑھنا ہے جس سے رزق میں برکت پڑھتی ہے۔ حدیث میں ہے چاشت کی نماز رزق کو کھینچتی ہے اور تندگستی کو دور بھگاتی ہے
پندرہواں دروازہ ہے روزانہ سورہ واقعہ پڑھنا ۔۔ اس سے رزق بہت بڑھتا ہے
سولواں دروازہ ہے اللہ سے دعا مانگنا۔ جو شخص جتنا صدق دل سے اللہ سے مانگتا ہے اللہ اس کو بہت دیتا ہے
اللّه ہمیں ان سب پے اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق آتا فرمائے (آمین)

اردو
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi
🇹🇷شیر دل🇵🇰 retweetledi

اک شخص پھر گیا تھا جب اپنی زبان سے
😔😔😔
رانی خان@ranikhanreal
آیت سناؤ کوئی صبر کی قرآن سے ورنہ میں الجھ پڑوں گا سارے جہان سے
اردو








