MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS
4.6K posts

MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS retweetledi

🚨🚨اہم اعلان
آپ میں سے جو پاکستان رہتے وہ کسی سکول ، ہسپتال ، مارکیٹ ، پبلک پلیس ، شاپنگ مال میں سرکاری گاڑی دیکھیں اس میں فیملی دیکھیں ویڈیو بنا کر لازمی سوشل میڈیا پر پوسٹ کریں ہمیں بھیج دیں تاکہ افسر شاہی بارے قوم کو شعور اور آگاہی دی جا سکے کوئی وزیر کا پروٹوکول دیکھیں لازمی ویڈیو بنائیں یہ قومی فرض ہے
اردو
MANDAHAR NEWS retweetledi

آپ کفایت شعاری کی بات کر رہے تو سنیں ابھی کچھ عرصہ پہلے پمرا کا چیئرمین سلیم بیگ ریٹار ہوا نون لیگ کا لگایا ہوا تھا اسے مریم اورنگزیب نے لگایا پھر مریم اورنگزیب نے ہی ایکسٹینشن دی عمران کے دور میں بھی بدلی نہی ہوا آٹھ سال بعد ریٹائر ہوا جانے سے پہلے پمرا کو ڈبو گیا تنخواہ کے پیسے نہی تھے خسارہ ریکارڈ مگر جانے سے پہلے بغیر منظوری کے 35 کروڑ کی 30 گاڑیاں خرید گیا اپنے لیے Havel گاڑی لی اور ریٹار منٹ پر ساتھ لے گیا ہنڈا سوک جیسی چھ چھ گاڑیاں چیئرمین کے ڈیوٹی پول پر ہوتی تھیں اس طرح سرکاری وسائل لٹاتے پھر عوام کو مہنگا پیٹرول حب الوطنی کے نام پر بیچتے ہیں

اردو
MANDAHAR NEWS retweetledi

کسی بھی میڈیا چینل یا صحافی کی جانب سے ججوں کی مراعات پر بات نہیں کی جا رہی، سوائے مبشر لقمان کے۔ ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد تاحیات مفت بجلی، مفت پٹرول اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جس پر سوال اٹھتا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ دوسری جانب ایک عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے۔
اردو
MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS retweetledi

جو میں ایک مہینے سے لکھ رہا تھا۔۔ وہ اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہہ رہا ہے۔
اور بلوچستان چیمبر آف کامرس والے بھی۔
میں نے عوام کے لیے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے طریقے پر سب سے زیادہ ٹویٹس کیں۔
(چند ٹویٹس کو کمنٹس میں دوبارہ شئیر کرنے لگا ہوں)
میں لکھ رہا تھا کہ پاکستان میں
"پرائیویٹ سیکٹر"کو تیل کی سپلائی پورا کرنے کا موقعہ دیں۔
جو تیل پہلے ہی بلوچستان میں بک رہا ہے۔وہ ہی تیل 200 روپے میں پورے پاکستان میں ہر جگہ میسر وہ خود کر دیں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ آئل سیکٹر کو"ڈی ریگولیٹ"کر کے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیں وہ خود ہی مقابلے بازی میں سستا تیل لائیں گے جہاں بھی لائیں۔
میں اس پر بار بار لکھ رہا تھا کہ
تیل کی قیمتیں چاہے پوری دنیا میں بڑھیں لیکن پاکستان کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستان۔۔اس ایران کا ہمسایہ ہے جس ایران میں پاکستانی 10 روپے لٹر تیل بک رہا ہے اور وہاں سے پہلے بلوچستان اور کراچی تک تیل آ ہی رہا ہے۔
بلوچستان چیمبر آف کامرس والوں کی پریس کانفرنس سن لیں جو کہہ رہے ہیں کہ
ہم پورے پاکستان میں 200 روپے فی لٹر تیل ہر پٹرول پمپ پر مہیا کر سکتے ہیں۔
@shaherawan1
نے بھی کل کی یہ ویڈیو ریکارڈ کی جس میں 220 روپے لٹر پٹرول پورے بلوچستان میں بک رہا ہے۔
ایران کا تیل اگر بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ تک آ رہا ہے اور عالمی پابندیاں نہیں لگیں تو مزید پنجاب تک آ جائے گا تو کیا قیامت آ جانی ہے۔
اس کو کوئی"ثابت"ہی نہیں کر سکتا۔
پاکستان IMF کو مطمئن اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی آفیشل تیل کی امپورٹ بہت کم کر کے جاری رکھے۔ اور کہے کہ
ملک میں ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے۔
اور جو مہنگا تیل آئے اس کو بھی پٹرول پمپس پر مہیا کروا Mixing کر کے ایرانی تیل کی کوالٹی بھی بہتر کر لی جائے اور
تھوڑی بہت آفیشل تیل کی سیل بھی دکھا دی جائے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر مہینے تیل پر 100 ارب روپے لیوی کماتی ہے۔
صرف وہ لیوی کمانے کے چکر میں عوام کی جیب سے مزید 100 ارب نکلوا کر آئل کمپنیز اور
خلیجی ملکوں کی جیب میں مہنگا تیل خرید کر دے رہے ہیں۔
اپنےفارن ریزرو کے تقریبا 1 ارب ڈالرز ماہانہ آگ میں جھونک کر مفت میں ضائع کر رہے ہیں۔
ایرانی تیل تو صرف"مال کے بدلے مال"کی صورت میں آ جانا ہے۔
شاہد خاقان کی پریس کانفرنس کا 3 منٹ کا کلپ سن لیں کہ دنیا میں کوئی حکومت ایسے نہیں کر رہی جس طرح یہ حکومت کر رہی ہے۔۔مہینے میں 5 مرتبہ پالیسی چینج کی۔
اگر سستا ترین تیل معیشت میں آئے گا تو معیشت بند نہیں کرنی پڑے گی۔لاک ڈاون نہیں کرنے پڑیں گے۔
تو دوسری مد میں ملک بند کرنے سے جو ٹیکسسز کی کمی میں نقصان ہونا ہے وہ بھی حکومت کو نہیں ہو گا۔
حکومت کو دوسری مد میں ٹیکسسز آ جائیں گے جو
ایرانی تیل کی پرائیویٹ سیکٹر کے زریعے آمد پر کم لیوی اکٹھی ہو گی مگر سستے تیل سے جتنی معیشت تیز چلے گی اس سے دوسری جگہوں سے ٹیکسسز زیادہ اکٹھے ہو جائیں گے۔
خدا کی قسم۔۔۔یہ حکومت
اپنے ایک پاو گوشت کے لیے
عوام کی گائے حلال کر رہی ہے۔
یہ صرف IMF اور امریکہ کا ڈراوا دے دے کر کمزور فیصلے کر رہی ہے۔
حالانکہ امریکہ تو ان کا یار ہے اور یہ ایران/امریکہ کے مزاکرات کروانے کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔
ان کے یار نے تو دنیا کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔
ویسے۔۔ان کا یار
امریکہ اور IMF اس پرائیویٹ سیکٹر کی رسد(سپلائی) کو پکڑ ہی نہیں سکتا ہے۔
کیونکہ وہ تو ٹینکروں میں پمپمس پر آتا ہے اور استعمال ہوتا جاتا ہے۔
پہلے کونسا بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں وہ پکڑ پا رہے ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ چند درجن
دہہاڑی دار درباری انہوں نے"حجتیں"کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں جو
ان کی اور عوام دونوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔
آخر میں اتنا لکھوں گا۔۔۔
کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔
حکومت اگر اسی طرح کے فیصلے کر کے عوام کو نچوڑتی رہی تو
حکومت خود بھی مزید غیر مقبول ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ نقصان پہنچوائے گی۔
(اسد آر چوہدری)
@NawazSharifMNS
@CMShehbaz
@OfficialDGISPR
@MaryamNSharif
@SKhaqanAbbasi
اردو
MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS retweetledi

ہمسایہ ملک ایران جو ایک مہینہ پانچ دن سے عالم کفار سے جنگ لڑ رہا ہے اس کے اندرونی حالات کچھ یوں ہیں:
1- اس وقت تک 35 روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی
2- کھانے پینے کی اشیاء کے لیے اپیل نہیں کی
3- ادویات کی اپیل نہیں کی
4- ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی ؛ پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ہے
*5- ایک مہینے جنگ اور مسلسل پوری عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں۔
6- لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔
7- بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا ہے کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا۔
8- جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان روڈوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک ہیں۔
9- ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا ہے۔
اردو
MANDAHAR NEWS retweetledi

وزیراعظم صاحب۔۔۔
@CMShehbaz
بخداہ۔۔۔آپکے پاس بہت اچھا موقع ہے اشرافیہ کی مراعات کم کرنے کا۔
آپ وزیراعظم ہیں سیدھا آرڈر دیں جن کو وارا کھاتا کرے نوکری ورنہ استعفی دے اور گھر جائے۔
سول سرونٹ ہیں یا ہمارے مائی باپ۔
اردو
MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS retweetledi
MANDAHAR NEWS retweetledi

آواز ِ دروں —•—
دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے تہرے قتل کے آٹھ سالہ پرانے مقدمہ میں ملوث نہایت بااثر وڈیروں سمیت پیپلز پارٹی کے دو اراکین صوبائ اسمبلی کو بری کر کے انصاف کا جنازہ نکل دیا ھے ۔۔
محض ماڈل لکھ دینے سے کوئ ماڈل نہیں بن سکتا ۔۔
سندھ کی ایک مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو نے اپنے دادا ، والد اور چچا کے طاقتور قاتلوں کو سزا دلوانے کیلئے آٹھ سال تن تنہا جدوجہد کی ،
سیاسی اثر رسوخ ، طاقت ، دولت جیت گئے ، اورمظلوم خاک چھانتے رہ گئے
درحقیقت ام رباب چانڈیو نہیں ھاری ، عدالت ھار گىئ ھے !
دادو کی ماڈل کورٹ کا فیصلہ پاکستان کے ناکام ، جانبدار اور انصاف سے عاری نظام ِ عدل پر ایک اور بدنما داغ ھے ۔
اس شرمناک فیصلے نے سیاسی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی کرپٹ وڈیرہ شاھی کے مکروہ چہرے سے نقاب نوچ لی ھے
ام رباب کے دادا ، والد اور چچا کے قاتل رب ِ ذولجلال کے غضب سے یقیناً نہیں بچ سکتے ۔۔۔
پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ کرپٹ اور جانبدار نظام عدل ھے جو کمزور کو روند ڈالتا ھے اور ھمیشہ طاقتور فریق کے ھاتھ کی چھڑی بن جاتا ھے
آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے من حیث القوم جہد مسلسل نہ کی گىئ تو ذلت کے طوق پاکستانیوں کے گلے کا ھار بنے رھیں گے ۔۔۔
اردو
MANDAHAR NEWS retweetledi








