Sabitlenmiş Tweet
استاد جی 📖
30.2K posts

استاد جی 📖
@sa_edpk
لا اله الا انت سبحانك اني كنت من الظالمين Headmaster Educationist Edu deptt: Punjab
Mianwali, Pakistan Katılım Aralık 2016
9.4K Takip Edilen11K Takipçiler
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi

"مجھ سے بچھڑ کے خوش رہتے ہو
میری طرح تم بھی جھوٹے ہو
اک ٹہنی پہ چاند ٹکا تھا
میں یہ سمجھا تم بیٹھے ہو
اجلے اجلے پھول کھلے تھے
بالکل جیسے تم ہنستے ہو
تم تنہا دنیا سے لڑو گے
بچوں سی باتیں کرتے ہو"
ڈاکٹر بشیر بدر
@urdu_bazm
#اردو
اردو
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی
بڑی آرزو تھی ملاقات کی
میں چپ تھا تو چلتی ہوا رک گئی
زباں سب سمجھتے ہیں جذبات کی
مقدر مری چشم پر آب کا
برستی ہوئی رات برسات کی
کئی سال سے کچھ خبر ہی نہیں
کہاں دن گزارا کہاں رات کی
#RIP_ڈاکٹر_بشیر_بدر
@urdu_bazm
#اردو
اردو
استاد جی 📖 retweetledi

یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو
#RIP_ڈاکٹر_بشیر_بدر
@urdu_bazm
#اردو
اردو
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi

سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے
با وضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے
میں ترے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوں
کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے
مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمن جانی میرا
خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے
#RIP_ڈاکٹر_بشیر_بدر
@urdu_bazm
#اردو
اردو
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi

پرکھنا مت ، پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئینے میں ، دیر تک چہرہ نہیں رہتا
بڑے لوگوں سے ملنے میں ، ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا ، دریا نہیں رہتا
تمہارا شہر تو بلکل ، نئے انداز والا ہے
ہمارے شہر میں بھی اب ، کوئی ہم سا نہیں رہتا
ڈاکٹر بشیر بدر
@urdu_bazm
اردو
استاد جی 📖 retweetledi
استاد جی 📖 retweetledi

دِل پہ زخم کھاتے ہیں، جان سے گزرتے ہیں
جرم صرف اتنا ہے، اُن کو پیار کرتے ہیں۔۔
اعتبار بڑھتا ہے اور بھی محبت کا
جب وہ اجنبی بن کر پاس سے گزرتے ہیں۔۔
اُن کے اِک تغافل سے ٹوٹتے ہیں دِل کتنے
اُن کی اک توجہ سے کتنے زخم بھرتے ہیں۔۔
لاکھ وہ گریزاں ہوں، لاکھ دشمنِ جاں ہوں
دِل کو کیا کریں صاحب، ہم انہیں پہ مرتے ہیں۔۔
اقبال صفی پوری ✍️

اردو













