Alchemist

24.4K posts

Alchemist banner
Alchemist

Alchemist

@saadsuleyman

Thank You ALLAH for everything

New York, USA Katılım Nisan 2013
1.1K Takip Edilen293 Takipçiler
Alchemist
Alchemist@saadsuleyman·
@Saminakhan4000 کہانی اچھی ہے مگر css تین دفع بندہ فیل ہو جائے تو کہانی ختم لہزا کوریکشن کر لیں
اردو
0
0
0
350
Samina khan
Samina khan@Saminakhan4000·
*"چپل سے کرسی تک" - غریب لڑکی کے کمشنر بننے کی کہانی* *1. تھر کی جھونپڑی اور ٹوٹی چپل* تھرپارکر، سندھ۔ ریت اڑاتی دوپہر۔ 14 سال کی *نور بانو*۔ باپ اونٹ چراتا تھا، ماں لوگوں کے گھر کام کرتی۔ جھونپڑی میں بجلی نہیں، پانی 3 کلومیٹر دور سے لانا پڑتا۔ نور کی چپل ٹوٹ گئی تھی۔ ننگے پاؤں ریت پر چل کر اسکول جاتی۔ استانی نے پوچھا: "بڑی ہو کر کیا بنو گی؟" نور نے دھول سے اٹے ہاتھ اٹھائے: "باجی، کمشنر۔ جو حکم چلائے، لوگوں کی سنے۔" پوری کلاس ہنس پڑی۔ استانی بھی۔ "غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے بیٹا۔" *2. کتابیں، مٹی کا چولہا اور رات کی پڑھائی* میٹرک میں ضلع ٹاپ کیا۔ انٹر میں پورے سندھ میں دوسری پوزیشن۔ لیکن کالج کی فیس؟ باپ نے اونٹ بیچ دیا۔ ماں نے اپنی چاندی کی چوڑیاں۔ جامعہ کراچی میں داخلہ ملا۔ ہاسٹل کی فیس نہیں تھی۔ نور نے دن میں 3 جگہ ٹیوشن پڑھائی۔ رات کو مٹی کے چولہے کی روشنی میں *CSS* کی تیاری۔ سردیوں میں ہاتھ سن ہو جاتے، گرمیوں میں پنکھا نہیں تھا۔ دوست کہتیں: "نور، CSS امیروں کا کھیل ہے۔ اکیڈمی، نوٹس، انگلش میڈیم۔ تو چھوڑ دے۔" نور جواب دیتی: "غریبی میری مجبوری ہے، میری پہچان نہیں۔" *3. 3 بار فیل، طعنے اور ضدی لڑکی* CSS میں 3 بار فیل ہوئی۔ پہلی بار انگلش ایسے میں۔ دوسری بار کرنٹ افیئرز میں۔ تیسری بار انٹرویو میں۔ گاؤں والے طعنے مارتے: "اوئے کمشنر کی بچی، چائے بنا۔" رشتہ دار کہتے: "عمر نکل رہی ہے۔ شادی کر لے۔ یہ افسری وہسری تیرے بس کی نہیں۔" ماں روتی: "بیٹا بس کر۔ لوگ کیا کہیں گے۔" نور ماں کے پاؤں دباتی: "امّاں، لوگ تب بھی بولیں گے جب میں کمشنر بن جاؤں گی۔ کہیں گے 'دیکھو غریب کی بیٹی افسر بن گئی'۔ بس تھوڑا صبر۔" *4. چوتھی بار اور تاریخ* چوتھی بار میں نور نے دن رات ایک کر دیا۔ 18-18 گھنٹے پڑھائی۔ پرانے اخبار مانگ کر لاتی۔ یوٹیوب پر فری لیکچر۔ سڑک کنارے لگی اسٹریٹ لائٹ کے نیچے نوٹس بناتی۔ رزلٹ آیا۔ *نور بانو - CSS 2025 - پاکستان میں 7ویں پوزیشن۔ PAS گروپ الاٹ۔* جس دن جوائننگ لیٹر آیا، نور نے وہی ٹوٹی چپل اٹھائی جس میں اسکول جاتی تھی۔ افسر کی میز پر شیشے کے کیس میں رکھوا دی۔ نیچے پلیٹ لگوائی: *"یہ یاد دلاتی ہے میں کہاں سے آئی ہوں۔"* *5. کمشنر نور بانو* آج *کمشنر نور بانو* لاڑکانہ ڈویژن کی انچارج ہیں۔ دفتر کے باہر لائن لگی ہوتی ہے۔ امیر، غریب، سب کی ایک جیسی سنتی ہے۔ پہلا حکم کیا جاری کیا؟ *"تھر کے ہر اسکول میں پنکھے اور پانی۔ کوئی بچی ننگے پاؤں نہ آئے۔"* جب کوئی غریب لڑکی فائل لے کر آتی ہے، نور اسے کرسی پر بٹھاتی ہے۔ چائے خود بنوا کر پلاتی ہے۔ "بیٹا ڈرو مت۔ یہ کرسی تمہاری بھی ہو سکتی ہے۔ بس چپل ٹوٹے تو رکنا نہیں۔" استانی جو ہنسی تھی، اب ریٹائر ہو چکی۔ نور نے اسے اپنے ہاتھ سے ایوارڈ دیا۔ استانی رو پڑی۔ نور نے کہا: "باجی، آپ ٹھیک کہتی تھیں۔ غریبوں کے خواب بڑے نہیں ہوتے۔۔۔ *وہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔
Samina khan tweet media
اردو
158
531
1.7K
57.8K
Iran Defence News
Iran Defence News@FenrirWulf_x·
Do you think Iran should agree to a ceasefire? 👇
English
1.6K
108
699
51.8K
Alchemist retweetledi
Save Gaza
Save Gaza@Alee93ale·
Retweet if you think the world will be better without them
Save Gaza tweet media
English
111
2.9K
4K
39K
Alchemist retweetledi
Jvnior
Jvnior@Jvnior·
If you hate israel, repost this. I want to test something.
English
65
5.6K
8.1K
93.3K
Laiba Khan
Laiba Khan@Laiba903·
کسی نے شادی کے دن مجھی ایک گفٹ دیا تھا اور میں نے وہ گفٹ کمرے کے ایک کونے میں رکھ دیا تھا۔ آج اچانک اس گفٹ پر میری نظر پڑی۔ جب میں نے اسے کھولا تو اس میں ایک ایسے ملک کی کرنسی نکلی جس کا نام میں نے آج تک نہیں سنا تھا۔ اب سمجھ نہیں آ رہا کہ پاکستان میں اس کی ویلیو کیا ہوگی۔🤔🤔
Laiba Khan tweet mediaLaiba Khan tweet media
اردو
1.4K
51
1.2K
318.6K
Alchemist
Alchemist@saadsuleyman·
@Nher_who Indian society is totally dead. Their future is bleak
English
0
0
0
9
Nehr_who?
Nehr_who?@Nher_who·
Is Eid mein saare Mulle katenge" We will celebrate this Eid by K*lling Muslims and not Goats, we will throw Pigs meats on them, the moment they'll step out we will kill them"says a Hindu Kid People cheered and clapped The Radicalization of Indian society is complete !!
English
357
1.3K
3.4K
106.5K
Nermeen from Gaza 𓂆🇵🇸🍉
Nermeen from Gaza 𓂆🇵🇸🍉@Nermeenalswaisi·
WE'RE STILL ALIVE BUT WE'RE NOT OKAY IF YOU'RE SCROLLING LEAVE A DOT IT'S JUST A DOT 🇵🇸
Nermeen from Gaza 𓂆🇵🇸🍉 tweet media
English
1K
1.2K
2.9K
26.1K
Alchemist
Alchemist@saadsuleyman·
@NiniYmz صرف کہانیاں ، پاکستان میں یہ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے تمام وڈیرے کس طرح غریبوں کا صدیوں سے استحصال کر رہے ہیں
اردو
0
0
0
7
ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀)
حامد میر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ نواب اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی اپنی قیمتی گاڑی لے کر بلوچستان کے ایک چھوٹے سے شہر کی ورکشاپ پر پہنچے۔ وہ ورکشاپ بظاہر عام سی تھی، مٹی سے اٹی ہوئی، پرانے اوزار، اور ایک سادہ سا مکینک جو برسوں سے ایمانداری سے محنت کر کے اپنا گھر چلا رہا تھا۔ طلال بگٹی نے گاڑی مکینک کے سامنے کھڑی کی اور کہا: “گاڑی چیک کرو، ابھی ٹھیک کرنی ہے۔” مکینک نے گاڑی کا بونٹ کھولا، غور سے دیکھا، پھر احترام سے بولا: “کام کافی زیادہ ہے صاحب، آج میرے پاس ٹائم نہیں، کل آ جائیں تو بہتر ہوگا۔” یہ سن کر طلال بگٹی کا لہجہ بدل گیا۔ انہیں یہ بات ناگوار گزری کہ کوئی عام مکینک انہیں “کل آنے” کا کہہ دے۔ غصے میں آ کر انہوں نے مکینک کو برا بھلا کہا، اور پھر بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ روایت کے مطابق طلال بگٹی نے مکینک کو دو تین تھپڑ مار دیے۔ ورکشاپ میں موجود لوگ فوراً بیچ بچاؤ کے لیے آگے بڑھے۔ کسی نے مکینک کو پیچھے کیا، کسی نے طلال بگٹی کو روکا۔ ماحول کشیدہ ہو گیا۔ مکینک خاموش تھا، آنکھوں میں آنسو تھے مگر زبان بند تھی۔ طلال بگٹی غصے میں گاڑی اسٹارٹ کر کے وہاں سے چلے گئے۔ لوگوں نے مکینک سے کہا: “بھائی، یہ بڑے لوگ ہیں، ان سے الجھنا ٹھیک نہیں۔” مکینک نے صرف اتنا کہا: “میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی تھی، بس سچ کہا تھا۔” یہ بات شہر میں پھیل گئی۔ شام تک یہ خبر کسی نہ کسی ذریعے سے نواب اکبر بگٹی تک پہنچ گئی۔ نواب اکبر بگٹی کا شمار بلوچستان کے باوقار، اصول پسند اور سخت مزاج سرداروں میں ہوتا تھا۔ جب انہوں نے سنا کہ ان کے بیٹے نے ایک غریب مکینک پر ہاتھ اٹھایا ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر سوچتے رہے، پھر مختصر سا حکم دیا: “کل صبح اس مکینک کو میرے پاس لایا جائے۔” اگلے دن صبح مکینک کے گھر سرکاری گاڑی پہنچی۔ وہ گھبرا گیا۔ اس کی بیوی نے روتے ہوئے کہا: “میں نے کہا تھا نا، بڑے لوگوں سے الجھنے کا انجام برا ہوتا ہے۔” مکینک نے کپکپاتے ہاتھوں سے چپل پہنی اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس کے ذہن میں ہزار خدشات تھے: “پتہ نہیں اب کیا ہوگا؟ کہیں جیل نہ ہو جائے؟ یا مزید ذلت؟” جب وہ نواب اکبر بگٹی کے ڈیرے پر پہنچا تو ماحول بالکل مختلف تھا۔ نظم و ضبط، خاموشی اور وقار ہر طرف نظر آ رہا تھا۔ اسے اندر لے جایا گیا۔ نواب اکبر بگٹی کرسی پر بیٹھے تھے۔ سفید داڑھی، گہری آنکھیں اور رعب دار شخصیت۔ مکینک نے ڈرتے ہوئے سلام کیا۔ نواب اکبر بگٹی نے نہایت سنجیدہ آواز میں پوچھا: “کیا کل میرے بیٹے نے تمہیں مارا تھا؟” مکینک نے نظریں جھکا کر کہا: “جی سردار صاحب… مگر میری کوئی غلطی نہیں تھی۔” نواب اکبر بگٹی نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں، پھر محافظ کو آواز دی: “طلال کو بلاؤ۔” کچھ ہی دیر میں طلال بگٹی حاضر ہو گئے۔ ان کے چہرے پر اعتماد تھا، شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ معاملہ ان کے حق میں ہوگا۔ نواب اکبر بگٹی نے سخت لہجے میں پوچھا: “کیا تم نے اس مکینک پر ہاتھ اٹھایا تھا؟” طلال بگٹی نے کہا: “جی، اس نے بدتمیزی کی تھی، گاڑی ٹھیک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔” نواب اکبر بگٹی نے میز پر ہاتھ مارا: “کیا کسی کا انکار کرنا بدتمیزی ہے؟ کیا تمہارا نام بگٹی ہونا تمہیں یہ حق دیتا ہے کہ تم کسی غریب پر ہاتھ اٹھاؤ؟” طلال بگٹی خاموش ہو گئے۔ نواب اکبر بگٹی نے محافظ کو حکم دیا: “اس مکینک کے سامنے کھڑے ہو جاؤ۔” پھر انہوں نے مکینک کی طرف دیکھ کر کہا: “بیٹا، کل تمہیں جتنے تھپڑ لگے تھے، آج وہی تھپڑ واپس لو۔” مکینک کانپ گیا: “نہیں سردار صاحب، میں یہ نہیں کر سکتا۔ وہ آپ کے بیٹے ہیں۔” نواب اکبر بگٹی کی آواز مزید سخت ہو گئی: “یہ میرا بیٹا نہیں، یہ ایک ظالم ہے۔ اور ظلم کے سامنے خاموش رہنا بھی گناہ ہے۔” لوگوں کے مطابق مکینک کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے ایک ہلکا سا تھپڑ مارا۔ نواب اکبر بگٹی نے کہا: “جتنے لگے تھے، اتنے پورے کرو۔” مکینک نے بمشکل گنتی پوری کی۔ ہر تھپڑ طلال بگٹی کے لیے نہیں، بلکہ غرور کے منہ پر تھا۔ اس کے بعد نواب اکبر بگٹی نے مکینک کو قریب بلایا، اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: “بیٹا، عزت نام یا طاقت سے نہیں، انصاف سے ملتی ہے۔ آج اگر میرا بیٹا غلط ہے تو وہ عام آدمی سے بھی کمتر ہے۔” پھر انہوں نے مکینک کو کچھ رقم دی اور کہا: “یہ تمہاری تذلیل کا نہیں، تمہاری عزت کا معاوضہ ہے۔ اور یاد رکھو، سچ بولنے والا کبھی چھوٹا نہیں ہوتا۔” مکینک روتا ہوا وہاں سے نکلا، مگر آج اس کے آنسو کمزوری کے نہیں، عزت کے تھے۔ یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل سرداری طاقت میں نہیں، انصاف میں ہوتی ہے۔ اور جو باپ اپنے بیٹے کو بھی قانون کے برابر کھڑا کر دے، وہی دراصل قوم کا رہنما کہلانے کے قابل ہوتے ہیں۔۔۔ واللہ اعلم بالصواب 🙏
ℕ𝕚𝕟𝕚 𝕄𝕒𝕝𝕚𝕜 (ℙ𝕋𝕀) tweet media
اردو
148
190
1.3K
145.9K
INKWAKUZI
INKWAKUZI@inkwakuzi_·
The boy's actions have become a hot topic around the world ..
English
9.8K
2K
14.2K
5.3M
Alchemist
Alchemist@saadsuleyman·
@elonmusk One power grabber to another power grabber congratulating on kidnapping a president of a sovereign country
English
0
0
0
8
B.O.D
B.O.D@bod_repuplic·
A baby born in a morning is called Monica, evening is Evelyn, floor is Florence, what do we call baby born in a car?
B.O.D tweet media
English
23.8K
1.3K
24.7K
5M
Tamer Nahed
Tamer Nahed@Tamer_Alnoaizy·
This child hasn’t left his tent since morning, holding tightly onto the rope with all the strength he has left, trying to stop the wind from tearing it away. His face is soaked, his hands are frozen, but he doesn’t move. Fear fills his eyes, and exhaustion weighs on his small body. Share these clips, let the voices of our children be heard, let the world see the full truth… without any masking, without any distortion.
English
345
2.7K
4.6K
84.7K
Asad _ منصور
Asad _ منصور@Asad_Journal01·
یمنی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ عرب حمارات نےحوثی قیادت سے رابطہ کیا اور ان سے سعودی عرب کے شہر "نیوم" پر میزائل حملے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بدلے میں امارات نے حوثی حکومت کو تسلیم کرنے، بھرپور مالی مدد فراہم کرنے اور عسکری تعاون کا لالچ دیا تھا۔
اردو
43
1.3K
4.3K
153.1K
Alchemist
Alchemist@saadsuleyman·
@elonmusk Only in modern and ultra developed countries
English
0
0
0
2
Tokyo
Tokyo@otokyo·
🤔
Tokyo tweet media
QME
4K
117
1.3K
214.7K
Alchemist
Alchemist@saadsuleyman·
@Matt_Pinner Sand pit for trapping vehicle in case of brake failure
English
0
0
0
2