Stephen

19.6K posts

Stephen banner
Stephen

Stephen

@stephen_john28

A lawyer, passionate for camping 🏕, hiking, reading and traveling. A free soul.

Sydney, New South Wales Katılım Ağustos 2012
1.5K Takip Edilen7.8K Takipçiler
Stephen
Stephen@stephen_john28·
نکاح درست ہے چاہے لڑکی کم عمر ہے مگر چونکہ یہ نکاح اس عمر میں کرنا جرم ہے تو لڑکی کو سزا دی جا سکتی ہے اس سے پھدو لاجک کہیں پڑھی سُنی ہو تو بتائیے گا شکریہ
اردو
4
3
17
589
Stephen retweetledi
دیپ
دیپ@DiepSaeeda·
@stephen_john28 اٹھارہ سال تُں گھٹ عُمر دا بچہ نکاح نہیں کر سکداقانونی طور تےپر بیغیرتی کر کےکُجھ وی کر سکدے نیں جیس مُلک وچ کئ عدالتوں ہون جدے جو مُنہ آۓ کہ دا جاۓ۔شرمناک ہے
اردو
0
1
1
52
Stephen retweetledi
Soulat Pasha
Soulat Pasha@soulat_pasha·
مارٹن لوتھر: ایک انقلابی شخصیت مارٹن لوتھر 10 نومبر 1483ء کو جرمنی میں پیدا ہوا اور ایک دینی پادری بن گیا۔ 1505ء میں اس نے افورٹ کے ایک اگسٹینین فرائری میں شمولیت اختیار کی، جہاں اس کی گہری دینی سوچ نے اسے چرچ کی غیر منصفانہ پالیسیوں پر تنقید کرنے پر مجبور کیا، خاص طور پر گناہوں کی معافی کے عوض انڈلجنس (جنت کے ٹکٹ) فروخت کرنے کے عمل پر۔ 95 تھیسس اور چرچ کے خلاف تحریک 1517ء میں، لوتھر نے اپنے مشہور 95 تھیسس لکھے، جن میں چرچ کی بدعنوانیوں پر سخت اعتراضات کیے گئے تھے۔ اس نے یہ پرچے وٹنبرگ کے کیسل چرچ کے دروازے پر چسپاں کر دیے، جو چرچ کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاج ثابت ہوا۔ اس کے خیالات پورے یورپ میں پھیل گئے اور ایک بڑے مذہبی و سماجی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ لوتھر کے مطابق، نجات صرف ایمان پر مبنی ہونی چاہیے اور بائبل ہی واحد مستند مذہبی کتاب ہے۔ پوپ اور سلطنت کا ردعمل لوتھر کے خیالات سے چرچ میں زلزلہ آگیا، اور 3 جنوری 1521ء کو پوپ لیو دہم نے اسے کلیسائی برادری سے خارج کر دیا۔ بعد ازاں، رومن شہنشاہ چارلس پنجم نے وؤرمز شہر میں اس پر مقدمہ چلایا اور اسے ملحد قرار دے کر گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ لوتھر کو مارنے والے کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا گیا، لیکن سیکسنی کے حکمران فریڈرک سوم نے اسے خفیہ طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ علمی خدمات اور کامیابیاں لوتھر نے قید کے دوران بائبل کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا، جس نے عام لوگوں کو مذہب کو براہ راست سمجھنے میں مدد دی۔ اس نے حمدیہ شاعری بھی تخلیق کی، جسے جرمنی کے معروف موسیقاروں نے موسیقی میں ڈھالا۔ ان کی تحریریں پہلی بار جرمنی میں ہی ایجاد ہونے والے پرنٹنگ پریس کے ذریعے وسیع پیمانے پر شائع ہوئیں، جس سے ان کے خیالات کو مزید پھیلنے کا موقع ملا۔ یورپ پر اثرات مارٹن لوتھر کی تحریک نے یورپ میں چرچ کے اختیارات کو شدید نقصان پہنچایا اور لوگوں کو مذہبی آزادی کا تصور دیا۔ اس تحریک نے نہ صرف مذہبی، بلکہ سیاسی اور سماجی میدان میں بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ عوام نے پہلی بار چرچ کی بالادستی کو چیلنج کیا اور اپنے عقائد کی ازسرنو تشریح کرنے کی کوشش کی۔ مارٹن لوتھر کی کوششوں نے عیسائیت میں ایک نئی شاخ کو جنم دیا، جسے پروٹسٹنٹ ازم کہا جاتا ہے۔ اس تحریک نے چرچ کے ظلم و ستم سے آزادی حاصل کرنے کی راہ ہموار کی اور یورپ کے مذہبی و سماجی نظام میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ اس کی تعلیمات آج بھی کروڑوں لوگوں کے مذہبی عقائد کی بنیاد ہیں، اور اس کی اصلاحات نے دنیا بھر میں آزادانہ مذہبی سوچ کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وکیپیڈیات
اردو
2
9
47
3.2K
Stephen retweetledi
The Free Press
The Free Press@TheFP·
Politicians condemn each attack on Jews but do little to fight the ideologies that create the hostility, writes Tony Blair. thefp.com/p/tony-blair-w…
English
15
17
132
8.7K
Stephen retweetledi
Students For Liberty
Students For Liberty@sfliberty·
“America’s abundance was created not by public sacrifices to 'the common good', but by the productive genius of free men.” — Ayn Rand
Students For Liberty tweet media
English
31
411
1.7K
16.5K
Stephen
Stephen@stephen_john28·
شاندار تحریر
UNR@R1ghts4All

طویل مگر قابل غور تحریر امریکہ نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی بڑی جنگ میں وقتی طور پر فیصلہ کن اسٹریٹجک فتح حاصل نہیں کی۔ ویت نام جنگ، افغانستان جنگ، عراق جنگ، اور اب ایران کے ساتھ جاری محاذ آرائی—ان سب میں واشنگٹن عسکری برتری کے باوجود کوئی وقتی اسٹریٹجک کامیابی (جیسے ایران میں رجیم چینج ، عراق میں صدام حسین کے بعد امن اور سیاسی استحکام ) حاصل نہ کر سکا۔ اس کے برعکس، چھوٹے اہداف اور محدود مدت والی جنگوں میں اسے کامیابی ضرور ملی—جیسے 1991 کی خلیجی جنگ، جس میں امریکی افواج نے چند سو گھنٹوں میں عراق کو کویت سے نکال دیا، یا 1983 کی گریناڈا اور 1989 کی پانامہ آپریشن—مگر یہ کارروائیاں tactical نوعیت کی تھیں، اسٹریٹجک جنگیں نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ناکامیوں نے امریکی سپرپاور سٹیٹس کو طویل المدت نقصان نہیں پہنچایا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی جنگیں عسکری مقاصد کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے لڑی جاتی ہیں—اور یہ سیاسی مقاصد بالآخر امریکہ حاصل کر لیتا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال ویت نام ہے۔ اگرچہ امریکہ عسکری اعتبار سے ویت نام میں بری طرح ناکام ہوا، مگر ویت نام جنگ کے سبب اتنا کمزور ہو گیا کہ اسے دوبارہ مستحکم ہونے اور چین کے خلاف توازن قائم کرنے کے لیے بالاخر امریکی بلاک میں شامل ہونا پڑا—اور یہی امریکہ کا ابتداء سے مقصد تھا۔ امریکی عالمی بالادستی دراصل چھ بڑے ستونوں پر کھڑی ہے: ۱۔ لیجیٹیمیسی (legitimacy ) — دنیا کے ممالک کی ایک بڑی اکثریت امریکہ کو سپر پاور تسلیم کرتی ہے اور امریکی ورلڈ آرڈر کو قبول کرتی ہے - ۲۔ ملٹری پاور — دنیا کی سب سے مضبوط، ٹیکنالوجی سے لیس اور ہمہ جہت فوجی صلاحیت۔ ۳۔ معاشی طاقت اور ڈالر کی بالادستی — ععالمی معیشت کے قواعد، فنانشل سسٹم، بین الاقوامی ادارے (IMF، ورلڈ بینک)، SWIFT، اور ڈالر کی عالمی حیثیت—یہ سب امریکہ کو وہ مالی قوت دیتے ہیں جو عسکری طاقت سے زیادہ فیصلہ کن ہے۔ ۴۔ عالمی اتحادی نظام — یورپ اور نیٹو جیسے مضبوط سیاسی و عسکری اتحاد، جو تاریخ میں کسی ایک طاقت کو کبھی میسر نہیں آئے۔ ۵۔ داخلی سیاسی استحکام : ملک میں جمہوریت ہے مستحکم ہے اور حکومتوں کے آنے جانے سے سیاسی نظام کو کوئی خطرہ نہیں - ۶۔ نظریاتی بنیاد — "فریڈم"، "ڈیموکریسی" اور "ہیومن رائٹس" جیسے بیانیے امریکہ کے لیے عالمی سطح پر soft power اور اخلاقی جواز پیدا کرتے ہیں—اور اسی بیانیے کی وجہ سے اس کا ورلڈ آرڈر بھی جو ٹرمپ کے آنے سے پہلے موثر تھا لبرل ورلڈ آرڈر کہلاتا تھا - افغانستان اور عراق میں ناکامی کے باوجود امریکہ کی سپرپاور حیثیت اس لیے متاثر نہیں ہوئی کہ یہ چھ ستون مضبوط رہے۔ البتہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ان ستونوں میں خاصی کمزوری آئی—خصوصاً اتحادی نظام اور عالمی legitimacy میں—لیکن یہ ستون ٹوٹے نہیں، اور نہ ہی ان کا اس وقت دنیا میں کوئی متبادل موجود ہے۔ چین اگرچہ معاشی طاقت بن چکا ہے، مگر فوجی، نظریاتی، اور اتحادی نظام کے معاملے میں وہ امریکہ کے مقابلے میں ابھی کہیں نہیں کھڑا، اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ظاہر کرتا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ ایران اور وسیع تر خطے میں اپنے سیاسی اہداف کس طریقے سے حاصل کرے گا؟۔ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ/اسرائیل کے درمیان جاری سرد جنگ کا اختتام بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ دوسری طرف ایران کو بھی یہ واضح اندازہ ہو چکا ہے کہ چین اور روس جیسے اتحادی اس کے لیے عملی، مالی یا عسکری سطح پر فیصلہ کن مدد فراہم نہیں کر سکتے—ان کی معاونت زیادہ تر انٹیلیجنس شئیرنگ ، سفارتی بیانیے اور محدود تکنیکی تعاون تک محدود رہے گی۔ اس کے برعکس، اقتصادی بحالی، ریاستی تعمیرِ نو، بنیادی ڈھانچے کی مرمت اور دفاعی صلاحیت کی دوبارہ تشکیل—یہ تمام ذمہ داریاں ایران کو اپنی محدود داخلی وسائل کے ساتھ خود ہی نبھانی ہوں گی، خاص طور پر اس وقت جب اس کا فوجی اسٹرکچر شدید حد تک متاثر ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی دباؤ بھی بڑھنے کا واضح امکان ہے۔ ایرانی عوام جلد ہی دوبارہ معاشی بحالی، روزگار، مہنگائی میں کمی اور شہری حقوق کا مطالبہ کریں گے، اور یہ داخلی سیاسی پریشر ریاست کے لیے ایک نیا چیلنج بن جائے گا—خاص طور پر اس تناظر میں کہ ایک جنگ سے تباہ کن ، تھکی ہوئی معیشت اور کمزور عسکری صلاحیت داخلی بے چینی کو بڑھا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ خلیجی ممالک—جو ایران کے لیے تجارت، بین الاقوامی پیمنٹ چینلز اور بنیادی لاجسٹک سپورٹ کے اہم راستے تھے—مسلسل حملوں کے باعث ایران کے لیے اب شاید میسر نہ رہیں ۔ دبئی، قطر اور عمان ایران کے لیے وہ سہولتیں فراہم کرتے تھے جو اسے عالمی پابندیوں کے باوجود سانس لینے کا موقع دیتی تھیں؛ لیکن موجودہ صورتِ حال میں یہ راستے محدود ہو گئے ہیں یا مکمل طور پر بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر چین اور روس—اپنے اسٹریٹجک مفادات کے باوجود—ایران جو ان کا سب سے بڑا پارٹنر ہے ، کو خاطر خواہ معاشی، عسکری یا لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے سے گریز کرتے رہے، تو ایران ایسے مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں اسے عملی ضرورتوں کے تحت عالمی نظام کے اندر کسی نہ کسی صورت امریکی معاشی و جغرافیائی فریم ورک سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا—بالکل ویسے ہی جیسے ویت نام بالآخر امریکہ کے ساتھ جا کھڑا ہوا تھا؛ نظریاتی طور پر مخالف، مگر عملی تقاضوں کے تحت امریکی عالمی نظام پر انحصار کرنے والا۔ اور یہی وہ طریقہ ہے جس سے امریکہ اپنی بالادستی قائم رکھتا ہے -

فارسی
0
0
3
252
Stephen
Stephen@stephen_john28·
@StillHalfNutz ہم تو بیگم کے سامنے مذہبی ہیں اماں ابو تو دور کی بات ہے
اردو
3
0
4
212
Stephen retweetledi
Thomas Sowell Quotes
Thomas Sowell Quotes@ThomasSowell·
Helen Andrews: “Universities today are very feminized. I think that is maybe a long-term threat to their viability as institutions of the pursuit of truth.”
English
12
54
403
15.1K
Stephen retweetledi
Ahmad Waqass Goraya Baloch 🇵🇸
کیا ایک نابالغ کوئی فیصلہ کر سکتا ؟ کیا وہ اپنا مذہب بدل سکتا؟ کیا اسکو کوئی اپنی زندگی کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کا اختیار ہے؟
اردو
8
8
56
5.8K
Stephen retweetledi
Toby Li
Toby Li@tobyliiiiiiiiii·
Humans are returning to the Moon for the first time in 54 years exactly one week from today. This is not being talked about enough.
Toby Li tweet media
English
1.3K
1.3K
10.4K
397.6K
Stephen retweetledi
Ncole ✡︎
Ncole ✡︎@ncole_r·
Spain opposition leader expose PM Pedro Sanchez: He's the "pacifist" who sells bombs to Iran and has his face plastered on IRGC missiles.
English
195
1.4K
4.5K
84.1K