gorgeous top boy
574 posts

gorgeous top boy
@suppertopboy
I'm Young Fitness Boy |Pakistan | Privacy 100% | Contact for private Meetup | Interested in Girls & bottom boy |
Katılım Aralık 2022
87 Takip Edilen371 Takipçiler

یہ نوجوان خودکش بمبار نے کل میراں شاہ / کے پی کے میں خود کو دھماکہ کر کے اڑا دیا، جس میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
میں آپ کو ان خودکش بمباروں کی کہانی سناتا ہوں (جنہیں مقامی طور پر "تِیز پَری" کہا جاتا ہے)۔
یہ پیڈو فائل دہشت گرد کمانڈروں کے "کھلونے" ہوتے ہیں جو انہیں ہر مقصد کے لیے "استعمال" کرتے ہیں۔
استعمال کرنے کے بعد، کچھ ان "تِیز پَریوں" کو اپنے دیگر پیڈو فائل دوستوں کو تحفے میں دے دیتے ہیں (جو نئے "کھلونے" برداشت نہیں کر سکتے)۔ کچھ دوسرے زبانی یا تحریری اعلان جاری کرتے ہیں کہ ان کی (کمانڈر کی) موت کی صورت میں ان کا کیا کیا جائے۔
اگر کمانڈر مر جائے یا مارا جائے، اور اس نے "تِیز پَری" کے لیے کوئی ڈسپوزل (فائنل فیصلہ) نہیں کیا ہوتا، تو اس لڑکے کو خودکش بمبار بنا دیا جاتا ہے تاکہ وہ اگلی دنیا میں بھی اپنے کمانڈر کا "کھلونا" بنا رہے۔
اگر آپ اس نوجوان لڑکے کے میک اپ اور ظاہری شکل کو دیکھیں گے تو سمجھ آ جائے گی کہ اسے "اچھا لگنے" کا شدید جنون ہوتا ہے تاکہ وہ پرکشش لگے۔ دوسرے لفظوں میں، اسے "برے مقاصد" کے لیے اچھا لگنا چاہیے۔
انسانیت، مذہب اور ثقافت کے لیے کیا شرم کی بات ہے؟؟
پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں صرف شریعت چاہیے اور کچھ نہیں۔ ان کے اصلی رنگ صرف ریاست اور ریاستی اداروں کی وجہ سے چھپے ہوئے ہیں۔ اگر یہ ادارے کمزور ہو جائیں یا ناکام ہو جائیں تو دہشت گرد اپنی اصلیت دکھا دیں گے۔

اردو


عورت کے مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات: نصیحت کے لیے
غسل کے دوران مدینہ کی ایک عورت نے مردہ عورت کی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.
بس یہ بات کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے اپنی ڈھیل دی ہوئی رسی کھینچ دی.
اس عورت کا انتقال مدینہ کی ایک بستی میں ہوا تھا اور غسل کے دوران جوں ہی غسل دینے والی عورت نے مندرجہ بالا الفاظ کہے تو اس کا ہاتھ میت کی ران کے ساتھ چپک گیا۔ چپکنے کی قوت اس قدر تھی کہ وہ عورت اپنا ہاتھ کھینچتی تو میت گھسیٹتی تھی مگر ہاتھ نہ چھوٹتا تھا۔
جنازے کا وقت قریب آ رہا تھا اس کا ہاتھ میت کے ساتھ چپک چکا تھا اور بے حد کوشش کے باوجود جدا نہیں ہو رہا تھا، تمام عورتوں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کھینچا، مروڑا، غرض جو ممکن تھا کیا مگر سب بے سود رہا!
دن گزرا ، رات ہوئی، دوسرا دن گزرا، پھر رات ہوئی سب ویسا ہی تھا، میت سے بدبو آنے لگی اور اس کے پاس ٹھہرنا ،بیٹھنا مشکل ہو گیا!
مولوی صاحبان، قاری صاحبان اور تمام اسلامی طبقے سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ غسال عورت کا ہاتھ کاٹ کر جدا کیا جائےاور میت کو اس کے ہاتھ سمیت دفنا دیا جائے۔ مگر اس فیصلے کو غسال عورت اور اس کے خاندان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہم اپنے خاندان کی عورت کو معذور نہیں کر سکتے لہذا ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں!
دوسری صورت یہ بتائی گئی کہ میت کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیا جائے اور ہاتھ کو آزاد کر کے میت دفنا دی جائے، مگر بے سود. اس بار میت کے خاندان نے اعتراض اٹھایا کہ ہم اپنی میت کی یہ توہین کرنے سے بہر حال قاصر ہیں.
اس دور میں امام مالک قاضی تھے. بات امام مالک تک پہنچائی گئی کہ اس کیس کا فیصلہ کیا جائے! امام مالک اس گھر پہنچے اور صورت حال بھانپ کر غسال عورت سے سوال کیا "اے عورت! کیا تم نے غسل کے دوران اس میت کے بارے میں کوئی بات کہی؟"
غسال عورت نے سارا قصہ امام مالک کو سنایا اور بتایا کہ اس نے غسل کے دوران باقی عورتوں کو کہا کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.
امام مالک نے سوال کیا "کیا تمھارے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کےلیے گواہ موجود ہیں" عورت نے جواب دیا کہ اس کے پاس گواہ موجود نہیں. امام مالک نے پھر پوچھا "کیا اس عورت نے اپنی زندگی میں تم سے اس بات کا تذکرہ کیا؟" جواب آیا "نہیں"
امام مالک نے فوری حکم صادر کیا کہ اس غسال عورت نے چونکہ میت پر تہمت لگائی ہے لہذا اس کو حد مقررہ کے مطابق 80 کوڑے لگائے جائیں!
حکم کی تعمیل کی گئی اور 70 بھی نہیں 75 بھی نہیں 79 بھی نہیں پورے 80 کوڑے مارنے کے بعد اس عورت کا ہاتھ میت سے الگ ہوا.
آج ہم تہمت لگاتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے. استغفراللہ
مہربانی کرکے زیادہ سے زیادہ ریپوسٹ کریں ۔۔۔۔۔۔ 👍🤔
اللہ پاک ہم سب پر اپنی رحمت فرمائے آمین

اردو

مولوی الیاس عطاری :
یہ مولویوں کا ملک ریاض ہے ،1980 میں یہ مسجد کھارادر کراچی کے ساتھ بان ، جھاڑو اور عطر کی دکان چلاتا تھا، ، 1984 میں اس نے دعوت اسلامی نامی ایک مذہبی بزنس کمپنی کی بنیاد رکھی اور پھر دنوں میں اتنی ترقی کی کہ آج اس کی کمپنی کا شمار پاکستان کی سب سے بڑی اور امیر مذہبی کارپوریشنز میں ہوتا ہے، ذات کے لحاظ سے یہ میمن ہے ، لہذا پکا کاروباری ہے ، اس نے بزنس اسٹریٹجی یہ بنائی کہ ایک طرف پاکستان کے عددی اعتبار سے سب سے بڑے بریلوی مسلک کو استعمال کیا اور دوسری طرف سلسلہ قادریہ کا ٹیگ لگا کر دوہری کمائی کی
اپنی پراڈکٹس بیچنے کیلئے اپنی کمپنی کا ایک مخصوص یونیفارم ڈیزائن کیا
خوبصورت لڑکے بطور ماڈل بھرتی کئے
پراڈکٹس بیچنے کیلئے ہر شہر میں ہفتہ ورانہ اجتماعات کا انعقاد کیا
ہر اجتماع کے باہر اپنے اسٹالز لگائے
مکتبہ المدینہ کے نام سے جگہ جگہ دکانیں کھولیں
جاہل عوام لاکھوں کی تعداد میں اس کے پکے کسٹمرز بن گئے ،
کتابیں ، کیسٹیں ،عطریات، مخصوص رنگوں کے عمامے ، چپلیں، اسٹکرز، جھنڈے اور ٹوپیاں و تسبیحاں بیچ کر اربوں کا سرمایہ اکٹھا کر لیا
صرف اتنا ہی نہیں،
پاکستان اور دنیا بھر سے کھربوں روپے چندہ بھی اکٹھا کیا ، پھر اس چندے کے پیسے کو سود پہ دے کر اس سے بھی منافع کمایا
اس حوالے سے مشہور صحافی ارشاد بھٹی کا پروگرام بھی آپ دیکھ چکے ہیں اور حنیف قریشی کی مدلل اور پختہ ثبوتوں کے ساتھ گفتگو بھی سن چکے ہیں
پیسے کی ہوس میں یہ کاروباری ملا اتنا اندھا ہو گیا ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں سے پیسے لے کر یزید کے باپ کا عرس بھی مناتا ہے
جس سے کہ محمد و آل محمد ﷺ کو ماننے والے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے
اس مولوی کیلئے مگر پیسہ ہی سب کچھ ہے
کرائے کے مکان سے کراچی کے مہنگے ترین گھر کا سفر اس ملا نے محض چند سالوں میں طے کیا ہے
اور عیار اتنا ہے کہ اپنی ساری دولت و بزنس کا مالک اپنے بیٹے کو بنایا ہے
یہ شخص تو دنیا سے اس وقت تک نہیں جائے گا کہ جب تک اس کا باطن پوری طرح ظاہر نہیں ہو جائے گا، مگر اصل دکھ یہ ہے کہ اس ملک کے عوام آخر اتنے شدید جاہل کیوں ہیں کہ ایک سات جماعت پاس مولوی نے انہیں چالیس سالوں سے الو بنا رکھا ہے اور مسلسل انہیں مذہب کے نام پہ بیوقوف بنا کر لوٹ رہا ہے ؟؟

اردو



