𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮

5K posts

𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 banner
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮

𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮

@tahseem31

حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ

Kingdom of Saudi Arabia Katılım Nisan 2022
537 Takip Edilen331 Takipçiler
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Aleema Khanum
Aleema Khanum@Aleema_KhanPK·
ہماری فیملی نے تمام پارٹی عہدیداران، سینئر قیادت، ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ اس منگل کو اڈیالہ جیل پہنچیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ: 1. عمران خان کے وکلاء اور اہلِ خانہ کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔ 2. عمران خان کو مکمل طبی معائنہ اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ماہر ڈاکٹروں، ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ 3. چیف جسٹس ڈوگر اس بات کو یقینی بنائیں کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ انہیں اس غیر قانونی قید سے بلا تاخیر رہا کیا جا سکے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں قید رکھا گیا ہے، جو کہ بہت بڑا ظلم ہے اور پاکستانی قوانین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی ہے
اردو
406
7.7K
15.6K
221.4K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Umar Daraz Gondal
Umar Daraz Gondal@umardarazgondal·
اس طرح بزرگ خاتون کو گرفتار کرکے لے جانا سراسر زیادتی ہے عمر کا لحاظ کرلیتے جس طرح دوڑا رہے ہیں
اردو
75
727
2.1K
13.3K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025: "There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system. The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest. Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for. I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir. I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable. Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her. In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now. Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development. At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail. I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible. The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."
English
1.6K
27.1K
41.6K
1M
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔ مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔ پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔ مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔ اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔ بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔ جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔ پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے- اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔ تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں- سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔” سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
اردو
5.2K
44.7K
62.2K
2.8M
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Azhar Mashwani
Azhar Mashwani@MashwaniAzhar·
Indian media is a factory of lies — no outlet in the world spreads more fake news, war propaganda, and AI-generated garbage. 1.5 billion people are being brainwashed daily with this Godi Media crap. Watch this madness:
English
18
598
1.9K
61.9K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Arslan Baloch
Arslan Baloch@balochi5252·
پاکستان آرمی نے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنا تھا،جسکے لیے عمران خان کو نکالنا لازمی تھا،یہ باقاعدہ ایک معاہدہ ہوا تھا ، جس میں بائیڈن حکومت شامل تھی۔ شہباز گل
اردو
108
2.4K
6.1K
43.8K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
“رمضان المبارک کے بعد ہم تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنائیں گے اور ملک گیر احتجاجی تحریک چلائیں گے۔ اس مقصد کے لئے میں نے اپنے مذاکراتی کمیٹی کو رابطوں میں تیزی لانے کی ہدایت کر دی ہے۔ ہم ملک میں قانون کی حکمرانی کے لئے پاکستان کے ہر شعبے سے منسلک افراد وکلاء، کسانوں، مزدوروں، علماء اورطلباءسمیت سب پاکستانیوں کو دعوت دیں گے کہ اس احتجاج میں شرکت کریں اور اپنے حقوق کی بحالی کے لیے نکلیں۔ یہ احتجاج آئین اور جمہوریت کی بحالی اور حقیقی آزادی کے لیے ہو گا- کسی بھی جج کا فرض ہے کہ جب تک دونوں اطراف کا موقف نہ سن لے کوئی فیصلہ یا ریمارکس نہ دے کیونکہ ججز کے ریمارکس اور فیصلوں کے نہ صرف متعلقہ مقدمات بلکہ مستقبل کے مقدمات پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ججز کا ضابطہ اخلاق اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ کوئی بھی جج مقدمہ سنتے ہوئے ایسے ریمارکس دینے سے احتراض برتے۔ جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ کو نو مئی کے واقعے پر یکطرفہ ریمارکس دینے سے قبل دونوں اطراف کا موقف سننا چاہیئے۔ ابھی تک اس واقعے پر کوئی شفاف کمیشن نہیں بنا نہ ہی کوئی عدالتی تحقیقات کی گئی ہیں۔ پولیس اور ایجینسیز نے جو مقدمات نو مئی کے حوالے سے بنائے ہیں ان پر عدالتوں میں کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج تک غائب ہے۔ سپریم کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ سے میرے اغوا کو غیر قانونی قرار دے چُکی ہے۔ نو مئی کے واقعات میں ظلم بھی ہم پر کیا گیا، کارکنان بھی ہمارے شہید کیے گئے، الزام بھی ہم پر لگایا گیا اور سزا بھی ہمیں دی گئی۔ نو مئی کے دن جس طرح قوم کی ماؤں بہنوں کو سڑکوں پر گھسیٹ کر ان کی توہین کی گئی وہ شرمناک ہے۔ نو مئی باقاعدہ منصوبہ بندی سے عمل میں لایا جانے والا ایک پلانٹڈ فالس فلیگ آپریشن تھا اس میں کسی بھی ذی شعور کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیئے۔ مجھے نو مئی والے دن اسلام آباد ہائیکورٹ کی حدود سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بغیر وارنٹ کے رینجرز کے ہاتھوں توہین آمیز انداز میں، غیر قانونی طور پرحراست میں لیا گیا تاکہ عوام کے جذبات ابھارے جا سکیں اور پھر اپنے لوگ شامل کروا کر پر امن احتجاج کو فالس فلیگ میں بدل دیا جائے۔ نو مئی سے پہلے ہی ہمارے دس ہزار کارکنان کی فہرستیں تیار تھیں جنھیں چند دنوں میں گرفتار کر لیا گیا۔ نو مئی کی آڑ میں پاکستان کی عوام پر ظلم و فسطائیت کے پہاڑ توڑے گئے۔ ہمارے لوگوں کو شہید اور زخمی کیا گیا، ہزاروں کارکنان کو غیر قانونی چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا، جبری طور پر اغواء اور گمشدہ کیا گیا، لوگوں کو ملٹری حراست میں دے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہمارے کئی لیڈران اور کارکنان ابھی تک ان مقدمات میں نا حق پابند سلاسل ہیں۔ نو مئی کا مقصد تحریک انصاف کو کچلنا تھا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ نو مئی کے جھوٹے بیانیے کی آڑ میں لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کر کے ان سے جینے کا حق چھینا گیا۔ ملکی تاریخ میں اس سے پہلے صرف سقوط ڈھاکہ کے وقت کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا تھا کہ عورتوں کی حرمت اور بچوں تک کا لحاظ نہیں کیا گیا۔ ہمارے بارہا مطالبے کے باوجود نو مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن قائم نہیں کیا گیا۔ اگر جوڈیشل کمیشن کا قیام ہو جاتا تو عوام کے سامنے سب حقائق آ جاتے۔ جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ جن معاملات پر دو رائے موجود ہوں ان کی شفاف تحقیقات کر کے اصل حقائق کی روشنی میں مجرمان کا تعین کیا جا سکے۔ ہم نو مئی کے واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج برآمد کرنے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہر عدالت سے رجوع کیا۔ جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے ہماری پٹیشن سنی جس کا فیصلہ ڈیڑھ سال سے “محفوظ” ہی ہے- عامر فاروق سے لے کر قاضی فائز عیسی تک اور اب یحیٰی آفریدی اور آئینی بینچ کے سربراہ نے بھی انسانی حقوق سے متعلق ہماری درخواستوں پر کوئی سنوائی نہیں کی۔ اب بھی اگر جوڈیشل کمیشن کا قیام ہو جائے تو نو مئی پر ریاست کا جھوٹا بیانیہ زمین بوس ہو جائے گا جسے عوام پہلے ہی 8 فروری 2024 کو مسترد کر چکی ہے- اس ملک کے ہر ادارے پر اس وقت نادیدہ قوتوں کا قبضہ ہے۔ اڈیالہ جیل اس وقت ایک کرنل کے کنٹرول میں ہے جو نہ قانون کی پاسداری کرتا ہے اور نہ ہی جیل مینول کی۔ میرے لوگ دور دراز علاقوں پنجاب، سندھ ، کے پی ، آزاد کشمیر سے مجھ سے ملنے آتے ہیں مگر ان کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی جو کہ میرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ میرے بچوں تک سے میری بات نہیں کروائی جاتی تاکہ مجھ پر دباؤ بڑھایا جا سکے”۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلاء اور میڈیا سے گفتگو
اردو
836
14.7K
25.6K
620.1K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو: “پاکستان اس وقت ٹاوٹس کے قبضے میں ہے۔ ایک ایسا ٹاوٹ سکندر سلطان راجہ بھی تھا جو 2024 الیکشن چوری کا سرغنہ ہے اور اس پر آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے۔ محسن نقوی کے پاس ایسی کون سی گیڈر سنگھی ہے جو اس پر عہدوں کی بارش کی گئی ہے۔ اشاروں پر ناچنے والا ایک عقل سے عاری شخص کرکٹ سے لے کر خارجہ اور داخلہ امور سمیت سیکورٹی معاملات کا ماہر کیسے ہو سکتا ہے؟ پاکستانی قوم اپنے مینڈیٹ پر ڈالے گئے تاریخی ڈاکے کے خلاف 8 فروری کو پورے ملک میں نکلے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے- صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی جو پاکستان کے ہر ادارے کو تباہ کر رہی ہے- میں عدلیہ کی آزادی کے لیے دی گئی 10 فروری کی پاکستان بھر کی بار ایسوسی ایشنز اور وکلاء کی کال کی بھی حمایت کرتا ہوں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کے بغیر کسی قسم کا استحکام ممکن نہیں ہے اور قانون کی حکمرانی آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ جو حالات ہیں اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ موجودہ نظام جمہوریت کے خلاف باقاعدہ برسر پیکار ہے، اور روز ایک ایسا نیا اقدام اٹھایا جاتا ہے جو جمہوریت کی روح کے عین منافی ہو۔ روایتی میڈیا تو پہلے ہی بوٹوں کے نیچے ہے۔ اب پیکا کا کالا قانون منظور کر کے عوام کے حق رائے دہی کا واحد ذریعہ یعنی سوشل میڈیا پر بھی مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔ یہ زبان بندی کی قبیح ترین کوشش ہے اور پاکستان کو بین الاقوامی پابندیوں سے قریب تر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ پیکا کا قانون اگر لاگو کرنا ہی ہے تو سب سے پہلے شہباز شریف پر لاگو کیا جائے جنہوں نے ملکی تاریخ کے سب سے دھاندلی زدہ انتخابات کو فری اینڈ فئیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے 26 نومبر کے قتل عام کو بھی جھٹلایا اور یہ کہا کہ کوئی گولی نہیں چلی نہ ہی کوئی شہادت ہوئی لہذا پیکا قانون کے تحت سب سے پہلی سزا شہباز شریف کو ملنی چاہیئے۔ بددیانت لوگ کبھی نیوٹرل امپائرز نہیں چاہتے۔ رجیم کیونکہ خود 26 نومبر اور نو مئی کے واقعات میں ملوث ہے اس لیے ان سے شفاف جوڈیشل کمیشن کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ہم جوڈیشل کمیشن کا قیام صرف اس لیے چاہتے ہیں کیونکہ ہم انصاف کے متلاشی ہیں۔ جو مجرم ہیں وہ نہیں چاہتے کہ حقیقت سامنے آئے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت کسی بھی صوبے کے آئی جی اور چیف سیکرٹری کی تقرری صوبائی حکومت کی صوابدید ہے۔ ایک مرتبہ پھر آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے صوبائی حکومت کے دئیے گئے تین ناموں کو اپنے “پاکٹ لاز” کے ذریعے ردی کی ٹوکری میں پھینک کر خیبر پختونخوا میں وفاق کی مرضی کا آئی جی انسٹال کر دیا گیا۔ میں علی امین کو خصوصی ہدایت کر رہا ہوں کہ صوبے کی عوام کے حقوق کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے۔ ملک کے باقی تینوں صوبوں میں پہلے ہی ہمارے کارکنان کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے اگر خیبرپختونخوا میں بھی ہمارے کارکنان کو یہ سب برداشت کرنا پڑا تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ پر ہو گی۔ ہمارے کسی ورکر کے خلاف کوئی زیادتی ہوئی تو فوری ایکشن لے کر آئی جی کو فارغ کرنا ہے۔”
اردو
758
16K
26.8K
677.6K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو کھلا خط۔۔ “فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے!! ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔ سب سے بڑی وجہ 2024 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی سر عام چوری ہے جس نے عوام کے غصے کو ابھارا ہے۔ جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی- دوسری وجہ چھبیسویں آئینی ترمیم ہے۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ میرے مقدمات "پاکٹ ججز" کے پاس لگانے کے لیے ناصر جاوید رانا نے فیصلے کو ملتوی کیا۔ عدالتوں میں جاری "کورٹ پیکنگ" کا مقصد یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات من پسند ججز کے پاس لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیے جا سکیں۔ اس سب کا مقصد میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلے، انسانی حقوق کی پامالی اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔ تیسری وجہ "پیکا" جیسا کالا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پہلے ہی قبضہ کیا جا چکا ہے، اب پیکا کی صورت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو 1.72 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔ چوتھی اہم وجہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پر ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہمارے لیڈران اور کارکنان کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد چھاپے مارے گئے، 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کی گرفتاریاں کی گئیں، انہیں اغوا کیا گیا، لوگوں کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور تحریک انصاف کو کچلنے کی غرض سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے۔ پانچویں بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بدولت معیشت کا برا حال ہے جس نے عوام کو مجبور کر دیا ہے اور وہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں دہشتگردی کا خوف ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری صرف تب آتی ہے جب ملک میں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم ہو اس کے علاوہ سب کلیے بے کار ہیں۔ چھٹی بڑی وجہ تمام اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انتقام کی غرض سے تحریک انصاف کو کچلنے کا کام کرنا ہے۔ میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔ پرسوں اے ٹی سی کے جج نے عدالت میں میری اہلیہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اس کے باوجود کے وہ آنا چاہتی تھیں کسی نادیدہ قوت نے اس کو سبوتاژ کیا۔ بحیثیت سابق وزیراعظم میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔ میری پالیسی پہلے دن سے ایک ہی ہے یعنی فوج بھی میری اور ملک بھی میرا۔ ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔”
اردو
2.1K
20.3K
32K
1.4M
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو: “اردلی حکومت خوف کا شکار ہے، ان کو مسلسل ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ ان کا پہلا ڈراؤنا خواب ان کے اعصاب پر سوار عمران خان اور اس کی رہائی کا خوف ہے۔ دوسرا ڈراؤنا خواب یہ ہے کہ فارم 47 کا کچا چٹھا نہ کھل جائے- ان خوابوں سے گھبرا کر بیدار ہوتے ہی یہ 9 مئی کی گردان کرنے لگتے ہیں۔ اس خوف کی بدولت انھوں نے مجھے ایک ایسے بے ضمیر جج سے سزا دلوائی جس کو خود سپریم کورٹ نے 2004 میں عدالتی خدمات کے لیے نا اہل قرار دیا تھا۔ القادر یونیورسٹی پراجیکٹ ملک ریاض اور NCA کے معاہدے سے سال پہلے سے چل رہا تھا اور ہمارے دور کی کابینہ کا القادر ٹرسٹ معاملے میں کوئی کردار نہیں نہ ہی یہ رقم ہم نے سپریم کورٹ منتقل کروائی۔ کابینہ نے صرف Non Disclosure Agreement کی Confidentiality / رازداری کی منظوری دی تاکہ اتنی بڑی رقم / فارن ایکسچینج ایک ساتھ پاکستان آ جائے- نام نہاد “بند لفافے” کو حکومت اور تحقیقاتی ادارے کھول سکتے ہیں اسے کھولیں اس میں کیا لکھا ہے عوام کو بتائیں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔ ذلفی بخاری نے اس کیس میں وڈیو لنک یا سفارت خانے کے ذریعے پیش ہونے کی درخواست کی تھی کیونکہ اگر وہ پاکستان آتے تو ان کو عدالت تحفظ نہ دیتی اور باقیوں کی طرح انھیں بھی گرفتار یا اغوا کر کے تشدد کیا جاتا۔ ذلفی بخاری کے گھر پر غیر قانونی چھاپہ مار کر توڑ پھوڑ کی گئی، خاندان کو ہراس کیا گیا اور ڈیلیں آفر کی گئیں- شہزاد اکبر نے بھی کئی مرتبہ گواہ بننے کی پیشکش کی ، مگر چونکہ جعلی حکومت اس مقدمے میں مجھے سزا دینے کا فیصلہ کر چکی تھی اس لیے ان کو وڈیو لنک یا سفارت خانے کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت نہیں دی گئی- شہزاد اکبر کے بھائی کو بھی اغوا کیا گیا- القادر ٹرسٹ ایک فلاحی ادارہ ہے جس کے ذریعے غریب طلباء کو سیرت النبی ﷺسے روشناس کروایا جا رہا ہے- اس سے مجھے کوئی ذاتی فائدہ ہے نہ ہی میری اہلیہ کو۔ پہلے بھی ساڑھے نو ماہ بشرٰی بیگم کو قید میں رکھا گیا اور میرا ساتھ دینے کی سزا دی گئی۔ گھریلو خواتین کو سیاست میں گھسیٹنا شرمناک ہے اور ہماری روایات کے منافی ہے۔ بشرٰی بیگم مضبوط اعصاب کی حامل خاتون ہیں ، وہ میری کمزوری نہیں طاقت ہیں۔ یہ مجھ پر جتنے مرضی مقدمات بنائیں میں نواز شریف یا زرداری کی طرح ڈیل کے ذریعے نہیں بلکہ عدالتوں کا سامنا کر کے انصاف کی طاقت سے جیل سے باہر آؤں گا۔ ان سے ڈیل پر میں جیل میں رہنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ میرے مقدمات یا رہائی کا حکومت یا کسی سے بھی ہونے والے مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذاکرات کا عمل اگر سبوتاژ ہوا تو اس کی وجہ حکومت کی غیر سنجیدگی اور جوڈیشل کمیشن کا قیام نہ کرنا ہو گا۔ ہمارے جو لوگ شہید ہوئے ہیں ان کی طرف سے ہم پر دباؤ ہے وہ انصاف کے متلاشی ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بغیر مذاکرات کرنے کا کوئی مقصد ہی نہیں- سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر کو ہدایت کرتا ہوں کہ چیف جسٹس اور آئینی بینچ کے سربراہ امین الدین خان کو انسانی حقوق سے متعلق ہمارے مقدمات ترجیحی بنیادوں پر سننے کے لیے خط لکھیں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس متعلق خط تحریر کریں۔ علی امین گنڈا پور ایپکس کمیٹی کو خط لکھ کر شہباز شریف کے لگائے بھونڈے الزامات کا جواب دے۔ ہم کسی سے کوئی رعایت نہیں مانگ رہے صرف قانون کے مطابق انصاف مانگ رہے ہیں ۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کا جو حال ہو چکا ہے وہ قابل افسوس ہے۔ سپریم کورٹ میں آج جو ہوا وہ اسی ترمیم کا نتیجہ ہے ۔ نامکمل اسمبلیوں سے ہونے والی قانون سازی بنیادی حقوق سے متصادم ہے ۔ہم عدلیہ پر دباؤ اور ان کے احکامات ہوا میں اڑانے کی مذمت کرتے ہیں ۔ جس ملک میں نظام انصاف ہی زنجیروں میں جکڑا ہو گا وہاں کسی اور کو کیا ہی آزادی ملے گی-“
اردو
766
15.8K
27.3K
721.4K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
ناحق قید میں 500 دن مکمل ہونے پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے ورکرز اور وکلأ سے اڈیالہ جیل عدالت میں گفتگو: “ایاک نعبد وایاک نستعین سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے!! میں ساری عمر بھی جیل میں گزارنے کے لئے تیار ہوں، لیکن وقت کے یزید کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا۔ اللہ الحق ہے- وہ حق سچ کا خدا ہے اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے- ہم سب اس ملک کی حقیقی آزادی کے لیےقربانی دے رہے ہیں۔ آپ نے صبر کرنا ہے اور میرے ساتھ مل کر ظلم کا مقابلہ کرنا ہے۔ ڈی چوک میں دور حاضر کے جنرل ڈائیر نے قوم کو اپنا غلام گردانتے ہوئے نہتے اور پر امن شہریوں پر بلااشتعال گولیاں چلوائیں- ہم اس واقعہ کو کبھی بھی بھولنے نہیں دیں گے اور اپنے ورکرز اور شہدأ کو انصاف دلائیں گے- مجھے ورکرز اور وکلا نے بتایا ہے کہ ابھی تک سامنے آنے والے 12 شہدا وہ ہیں جنہیں 26 نومبر کو مغرب سے پہلے شہید کیا گیا اور باقی لوگوں کو رات کو علاقے کی بجلی بند کروا کر گولیاں ماری گئی ہیں۔ ان کو کدھر غائب کیا گیا ہے؟ ابھی بھی درجنوں افراد مسنگ ہیں- مسنگ پرسنز کو تلاش کرنا اور تمام ڈیٹا پبلک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میڈیا سمیت ہزاروں لوگوں نے اندھا دھند فائرنگ اور بربریت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اس کے بعد ہسپتالوں کا ریکارڈ غائب کرنے اور شہدا کی لاشیں ورثأ کو فراہم کرنے سے انکار کی بھی میڈیا رپورٹس موجود ہیں- ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن اور 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے لئے آزادانہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں سینئر ترین سپریم کورٹ ججز شامل ہوں۔ قوم تیار رہے، میں جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا- “
اردو
1.2K
16.6K
32.9K
619.3K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
PTI
PTI@PTIofficial·
مالکِ رب کائنات سے دعا ہے کہ #رمضان کی پرنور ساعتوں میں پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی قائم ہوکر استحکام اور عمران خان کی زیرقیادت ترقی کا سفر واپس شروع ہو ۔ آمین
اردو
307
4.7K
15.2K
133.9K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Tayyaba Rajah🇵🇰
Tayyaba Rajah🇵🇰@tayyabarajah·
شیر افضل کے ساتھ کیا ہوا، اسکے بھائی کو کیا ہوا، شہباز شریف کیا کر رہا ہے، مریم نے کیا کہہ دیا ہے، اسکی کنیزوں نے کیا کہہ دیا ہے۔ اس سب سے باہر نکلیں اور سب سے پہلے عمران خان اور بُشری بی بی کی رہائی پر توجہ دیں۔ سب سے ضرُوری بات خان صاحب کا جیل سے باہر نکلنا ہے۔ بس ہمارا خان اور بشری بی بی واپس کریں۔ ہماری عورتیں واپس کریں۔ مِلٹری کسٹڈی کے لوگ واپس کریں۔ عمران خان کو رہا کرو۔ #ReleaseImranKhan
اردو
362
4.2K
11.3K
194.4K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Tehreek-e-Insaf
Tehreek-e-Insaf@InsafPK·
قوم اپنے لیڈر کیساتھ ڈٹ کر کھڑی ہے۔ #BehindYouSkipper
اردو
118
2.7K
7.7K
57.3K
𝘼𝙡𝙞 𝙟𝙖𝙣 𝙘𝙝𝙖𝙪𝙙𝙝𝙖𝙧𝙮 retweetledi
Imran Khan
Imran Khan@ImranKhanPTI·
Today marks one year to horrific state-sanctioned murder of our innocent supporter Zille Shah (Ali Bilal), who was brutally killed for exercising his right to peaceful protest. Despite his autopsy showing brutal torture on 26 different parts of his body including his skull, lungs and his private parts, the case hasn’t been investigated, and the culprits remain at large— showing the plight of our justice system. We, once again, demand a transparent probe into this horrific killing.
English
1.6K
32K
60.8K
1.2M