Umar
7.9K posts


ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے۔ ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے سے واقف ہیں لیکن ان خون آشام اداروں کے مالک کون کون ہیں وہ بھی آپکو پتہ ہونا چاہیے 28 فیصد شریف خاندان ۔۔ %16 نواز لیگ کے رہنما ۔۔۔ تقریبا % 16 ہی زرداری اور %8 پیپلز پارٹی کے رہنما اور %10 اسٹیبلشمنٹ جو اس ملکے کی سلامتی کی ٹھیکدار ہے ۔۔ %8 وہ جن کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے یعنی چینی کمپنیاں ۔۔ %8 ہمارے مسلم برادر عرب کے سرمایہ کار (قطری) بابو اور تقریبا %6 فیصد پاکستانی سرمایہ دار ہیں ۔۔ یعنی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں۔ ۔۔ اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے ۔۔۔ یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، سٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔۔۔۔ یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا %125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئےلیکن یہ بجلی گھر صرف %48 فیصد بجلی فراہم کرتے ہیں """ لیکن قیمت عوام سے %125 فیصد کی وصول کرتے آ رہے ہیں، لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا اج بھی 2900 ارب کا مقروض ہے۔ یہ تحریر بہت قیمتی ہے ۔۔۔ اس کو شیئر کریں تاکہ ان بدبخت اور لٹیرے حکمرانوں کاحال اس عوام کو پتہ چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔







سوال نمبر 9 :- اگر عدت کی مدت 90 دن پوری ہونے سے پہلے شوہر فوت ہو جائے تو کیا بیوی اپنے شوہر کی جائیداد میں وارث تصور ہوگی؟ جواب / سپریم کورٹ کا فیصلہ سوات کے شاہ بخت راوان نے مورخہ 27 اگست کو اپنی بیوی مُسرت کو طلاقِ بدعت (اکٹھی تین طلاقیں) لکھ کر بھیج دی۔ ابھی تین ماہ کی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی کہ 3 اکتوبر کو راوان صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ انتقال کے بعد راون کی والدہ نے اسکے بچوں سمیت سول عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ مرحوم کا ساری وراثت مسرت کو چھوڑ کر ہمارے نام کی جائے کیونکہ راوان نے اپنی زندگی میں ہی تین طلاقیں دیکر اسے اپنی زوجیت سے نکال دیا تھا لہذا اسکا کوئی حصہ وراثت میں نہ ہے۔ مسرت کو جب اس کیس کا پتہ چلا تو وہ بھی اس کیس میں اس موقف کے ساتھ فریق بن گئی کہ اگرچہ مجھے طلاق دیدی گئی تھی لیکن ابھی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی تو میں بھی اسکی بیوہ ہوں لہذا مجھے بھی میرا شرعی حصہ دیا جائے۔ سول عدالت نے مسرت کے موقف کو رَد کردیا۔ مسرت نے اس حکم کیخلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی وہ خارج ہوگئی، اس فیصلے کیخلاف وہ پشاور ہائیکورٹ چلی گئی۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ وراثت، مرنے والے کی وفات کے ساتھ کھلتی ہے۔ طلاق کو ابھی 90 دن مکمل نہیں ہوئے تھے جبکہ مسلم فیملی لا آرڈیننس 1961ء کی دفعہ 7 کے تحت طلاق کو موثر ہونے کیلئے 90 دن گزرنا ضروری ہیں۔ ہائیکورٹ نے مسرت کا مؤقف درست مانا اور حکم دیا کہ راوان کے ترکہ میں سے مسرت کو بطور بیوہ، شرعی حصہ دیا جائے۔ راوان کے دیگر ورثاء نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ سپریم کورٹ میں گذشتہ سال چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس اپیل کو سنا اور جسٹس شکیل احمد نے فیصلہ تحریر کیا۔ سپریم کورٹ میں ان لوگوں نے موقف اپنایا کہ چونکہ طلاقیں تین تھیں، لہذا طلاق نامہ 27 اگست کو ہی مؤثر ہوگیا تھا اور عدت مکمل ہونے سے قبل راون کی موت سے صلح و رجوع کے امکانات بھی ختم ہوگئے، لہذا مسرت بی بی راوان کی بیوی نہ رہی اور یوں وراثت میں بھی حصہ دار نہ ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے تصفیہ طلب امر یہ تھا: "کیا طلاق بدعت (تین طلاقوں) کی عدت کے دوران اگر خاوند کی وفات ہوجائے تو بیوی/ بیوہ متوفی کے ترکہ میں حقدار ہے؟" سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اسلام میں نکاح ایک سول معاہدہ ہے، عیسائیت کی طرح فقط ایک روحانی رسم نہیں ہے۔ نکاح سے متعلق قرآنی آیات اشارہ کرتی ہیں کہ نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جو آپس میں محبت، ہمدردی اور ساتھ دینے کیلئے ہے۔ طلاق کی تین اقسام ہیں، حسن، احسن اور بدعت (تین طلاقیں ایک ساتھ دینا)۔ طلاقِ بدعت کا تصور قرآن و حدیث میں نہیں ملتا اسے تو حضرت عمر رض نے اپنی خلافت میں طلاق کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے اسے تین طلاق تسلیم کیا تھا۔ عدالت نے طلاق کے حوالے سے قرآنی آیات نقل کرکے کہا کہ یہ آیات تقاضا کرتی ہیں کہ طلاق دینے کے بعد فریقین میں صلح و صفائی کروانے کا وقت اور موقع دیا جائے جبکہ طلاق بدعت (بیک وقت تین طلاق) واپسی کا راستہ ہی ختم کر دیتی ہے لہذا طلاق بدعت قرآنی منشاء کے خلاف ہے، اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ فیصلے کے مطابق فقہ جعفریہ، شافعیہ اور مالکیہ طلاق بدعت کو بالکل تسلیم نہیں کرتیں، فقہ حنبلی بعض صورتوں میں اسے ایک طلاق شمار کرتی ہے۔ فقہاء کے اس اختلاف نے قانون سازوں کو وجہ دی کہ وہ اس پر ایک متفقہ قانون بنا دیں، چنانچہ فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت طلاق (ایک ہو یا زائد) 90 دن سے قبل مؤثر ہی نہیں ہوسکتی، اس تین ماہ کے عرصہ میں نکاح بالکل باقی رہے گا اور صلح صفائی کی کوشش کی جائے گی۔ یہی قرآن کا منشاء ہے لہذا یہ دفعہ قرآنی احکامات کے عین مطابق ہے۔ طلاق کے بعد عدت کا ایک اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر فریقین صلح کرنا چاہیں تو کرسکیں جو طلاق بدعت کی صورت میں ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ 'رحمت بی بی کیس 1988ء' میں بھی یہ قرار دے چکی ہے کہ دوران عدت شوہر کی وفات سے بیوی وراثت سے محروم نہیں ہوگی۔ لہذا اس کیس میں بھی شوہر (راوان) کی دی ہوئی تین طلاقیں، قرآنی احکامات اور مسلم فیملی لا آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت 90 دن کی مدت پوری نہ ہونے کی وجہ سے مؤثر نہیں ہوئیں، اس لیے خاتون مُسرت اب بھی قانونا بیوہ اور وراثت کی حقدار ہے۔ سپریم کورٹ نے راون کے دیگر ورثاء کی اپیل خارج کردی۔ #LegalAwareness #MianDawoodLawAssociates #Inheritance #Dispute #Wife #Husband #Divorce #Marriage #Iddat

four marriages were allowed for the benefit of divorced, widowed & unmarried older woman, not for the lustful males to try & justify their affairs

Do you guys agree ?





@lilmisskhawaja چکن بونلیس 1000 روپے کلو بھی ہو جائے، مگر بڑا شوارما 150 کا ہی ملے گا لاہور میں، 😎












