Umar

8.6K posts

Umar

Umar

@umer978

,🇵🇰 Katılım Ekim 2020
1K Takip Edilen196 Takipçiler
Umar retweetledi
Engr. Khurram Dastgir-Khan (HI)
Azad Jammu Kashmir (AJK) with 4.5 million citizens is smaller than my district Gujranwala. AJK is a textbook example of how a smaller administrative unit does NOT deliver good governance. AJK has the whole panoply of governance from Legislative Assembly, President, Prime Minister, Supreme Court, Election Commission... The crisis of governance does not lie in largeness of the administrative unit. The crisis is in the colonial nature of the Pakistani state, designed to rule over subjects, not serve citizens. The crisis is in the lack of durable & empowered local governments. A re-engineering & creative destruction of the state—from tehsil to province to federation—is required.
English
68
176
604
213.3K
Umar
Umar@umer978·
@naziagoraya Jo afford kr sakte han wo sal ki gandum store bhi krte han Agr sab bhi le len tabhi masla rhe ga kunke gandum commercial bhi use hoti han Feed bnti ha bakeries wagera me bhi use hoti ha
हिन्दी
0
0
0
3
Naziya Goraya🐅🌲📚
ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ پنجابی اپنے گھروں میں سال کی گندم کیوں نہیں خریدتے میری سمجھ سے باہر یہ نالائقی ۔ ایک فریج کے برابر جگہ لیتا بھڑولہ۔ اس میں سال بھر کی گندم ذخیرہ ہو سکتی۔ جب گھر میں ہزار چیزیں رکھی جا سکتی تو اناج کیوں نہیں ۔ گھر گندم ہو تو آپ اچار سے بھی کھا لیں۔ پیاز سے کھا لیں لیکن ہر مہینے یہ آٹے کے تھیلے اٹھانا کوئی سوکھا عمل ؟
اردو
57
25
288
23.7K
Umar
Umar@umer978·
@iffiViews Pehli 2 to achi thi Ab lgta ha story ni bachi to carry on jatta ki trah whi repeat kye ja rhe
Eesti
0
0
0
101
iFii
iFii@iffiViews·
⭐☆☆☆☆ Wasted 2 hours watching Chal Mera Putt 4. Bored story, pathetic direction, and a weak screenplay.... failed to entertain. PS: Introducing Pakistani actors in Indian Punjabi cinema have proven to be a failed experiment.
English
19
3
80
7.6K
Umar
Umar@umer978·
@naziagoraya In ka bhar ku ni rha bhai 1 sal na krawao CSS exam zror hr sal nai bhartian krwani
Indonesia
0
0
0
286
Naziya Goraya🐅🌲📚
*پنجاب کے 29 اضلاع کے لیے 101 تحصیلوں میں نئے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر BS-17 کے لیے نئی سیٹوں کی منظوری* *ہر تحصیل میں سکیل 17 کے دو افسران ہوں گے* *ایک اسسٹنٹ کمشنر* *دوسرا ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر*
اردو
27
16
102
9.3K
Umar
Umar@umer978·
@RaoAdvocate Pakistan ki refined aur crude oil ki imports barabar han 2sra hamari refineries furnce zyada bnati han jise hmen export krna prta ha
Indonesia
0
0
0
190
Faisal Iqbal
Faisal Iqbal@RaoAdvocate·
$111 سنگاپور ریٹ تو ریفائنڈ تیل کا ہوتا ہے جو خام تیل سے تقریباً 26-27$ فی بیرل مہنگا ہے، ریفائنڈ تیل کل طلب کا صرف 20-15٪ منگوایا جاتا ہے باقی 85-80٪ خام تیل منگوایا جاتا ہے جسکو پاکستانی ریفائنریاں صاف کرتی ہیں اسکا ریٹ $85± ہے یہ پورے پاکستان کو سنگاپور کا ریٹ لگا رہےہیں
Faisal Iqbal tweet mediaFaisal Iqbal tweet media
اردو
23
264
480
10K
Umar
Umar@umer978·
@Micks_it Hm darul hakomat ke nazdeek han lkn yad ni prta ke kabhi ksi kam se gye hoe hon
Indonesia
0
0
0
18
MG مڈل کلاسیا
اخے دارالحکومت دور ہے۔ بھئی تسی ڈوکے لین جانا دارالحکومت ۔ 90 فیصد معاملات ضلع میں حل ہوتے ہیں ۔ ہائیکورٹ کی دو شاخیں ان جنوبی اضلاع میں ہیں ۔ صادق آباد سے لاہور چھ گھنٹے کا سفر ہے جو سرکاری کام کے لیے شاز ہی ہوتا ۔ سب آن لائن ہے۔ صرف ایم پی اے ز کو دور پڑتا اور وزارتیں کم
اردو
2
1
12
947
Umar
Umar@umer978·
@MohUmair87 @akleghari Hr jaga yhi halaat han pehle logo ko solar lagane pr majboor kya ab batteries ke lye majboor kr rhe
हिन्दी
0
0
0
41
Muhammad Umair
Muhammad Umair@MohUmair87·
سولر کی بھاری پیداوار کے باوجود لاہور میں اسوقت بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ رات بھر جب ہر کسی کو بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تو بجلی غائب، آخر بجلی کہاں جارہی ہے؟ مہنگی ہونے کے باوجود بجلی کیوں غائب ہے؟ @akleghari
اردو
9
28
193
3.6K
Umar
Umar@umer978·
@AmjadHafeez19 Mr punjabi Punjab koi alehda mulk ni ha jo hr bat pr Punjab punjab shuru krdete ho Sindh, Balochistan ki gas kpk ke dams ki bijli kya Punjab istemal ni krta?
Indonesia
1
0
0
36
Umar
Umar@umer978·
@iffiViews Maulana ko yaha bhi bhool gye
हिन्दी
0
0
0
144
Umar retweetledi
iFii
iFii@iffiViews·
Alfatah se 20 rupee ki cheez li aur 25 ka bag wo cheez dalne k liye
iFii tweet media
हिन्दी
10
100
315
4.4K
Umar retweetledi
Muhammad Umair
Muhammad Umair@MohUmair87·
گزشتہ مالی سال 26-2025 میں صرف بجلی کے بلوں پر ٹیکس کی مد میں 476 ارب روپے سے زائد جمع کیے۔351 ارب روپے سیلز ٹیکس اور 124 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کیے گئے۔
Muhammad Umair tweet media
اردو
4
65
159
2.1K
Umar retweetledi
iFii
iFii@iffiViews·
پہلے افسران خود فیلڈ میں جا کر حالات کا جائزہ لیتے تھے، کام کو دیکھتے تھے، اپنی آنکھوں سے تصدیق کرتے تھے۔ آج کل اکثر فیصلے اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر صرف تصاویر اور رپورٹس کی بنیاد پر ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ کسی ایک جگہ معمولی سا کام کر کے تصویر کھینچ لی جاتی ہے، پھر وہ اوپر سے اوپر جاتی ہے اور آخر میں رپورٹ بن جاتی ہے کہ پورے علاقے کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ حقیقت میں مسائل اپنی جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا غلط استعمال اصل خرابی ہے۔ جب زمینی حقائق کی جگہ صرف تصویروں پر انحصار کیا جائے تو کام کاغذوں میں مکمل نظر آتا ہے، عوام کی زندگی میں نہیں۔ اصل ریفارمز تب آئے گی جب ڈیجیٹل رپورٹ کے ساتھ ساتھ فیلڈ ویریفیکیشن اور جوابدہی بھی لازم ہو۔ اور رائے طلبی بھی ہو۔
اردو
14
104
400
9.1K
Umar retweetledi
Majid Nizami
Majid Nizami@majidsnizami·
گزشتہ 4 سال میں حکومت نے بجلی کے بلوں میں ایکسٹرا ٹیکس extra tax اور فردر ٹیکس further tax کے نام پر عوام سے 308 ارب روپے سے زائد جمع کیا۔ جبکہ 4 سالوں میں بجلی کے بلوں سے کل 1866 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ سینیٹ میں جمع دستاویزات میں انکشاف۔ روزنامہ دنیا میں مدثر رانا کی خبر
اردو
19
402
807
17K
Umar retweetledi
Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان
آزاد ہتن پل پر آزاد کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیا ،یہ آزاد کشمیر حکومت کی فاشزم ہے،میں اظہار یکجہتی، تعزیت اور صلح کیلئے جارہا تھا،کیا لاڑکانہ کے لاڈلے اور رائیونڈ کے لاڈلی کے علاوہ کسی کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں۔
اردو
154
2.7K
8.6K
100.9K
Umar
Umar@umer978·
@Virk1192 Chiniot ich steel mill vi langan lagi he
Filipino
0
0
2
45
Nadeem Akram Virk
Nadeem Akram Virk@Virk1192·
متوقع مجوزہ چنیوٹ ڈیم کی معلومات۔اور متاثرین کے خدشات اور ریلیف کی وضاحت ​چنیوٹ ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ اور PC-1 مکمل ہو چکے ہیں، اور داسو و بھاشا ڈیمز کی تکمیل کے بعد اس کی بڈنگ (Bidding) کا عمل شروع ہو جائے گا۔ ​پراجیکٹ کی اہم خصوصیات: ​رقبہ و چوڑائی: ڈیم کی کل چوڑائی دریا کے مرکز سے دونوں طرف 2,2 کلومیٹر (کل 4 کلومیٹر) ہوگی۔ اس میں 1.4 ملین ایکڑ رقبہ آئے گا جبکہ دھسری اور بابوراء دیہات اس سے باہر رہیں گے۔ لاہور روڈ فلڈ بند ختم ہو جائے گا۔ ​بجلی کی پیداوار: ڈیم سے 60 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔ ​متاثرین کے لیے پیکیج اور سہولیات: ​معاوضہ: حکومت زمین، مکانات، درختوں اور فصلوں کا مکمل مالی عوضانہ (معاوضہ) دے گی۔ ​ملازمتیں: متاثرین کو واپڈا (WAPDA) میں ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں دی جائیں گی۔ ​ماڈل ٹاؤن و پلاٹس: ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی طرز پر نیا ٹاؤن تعمیر کر کے رعایتی نرخوں پر رہائشی پلاٹ دیے جائیں گے۔ ​بنیادی سہولیات: جدید ہسپتال اور اسکول تعمیر کیے جائیں گے۔ ​گزشتہ پراجیکٹس کی مثالیں (منگلہ، داسو، بھاشا): منگلہ ڈیم (اور اس کے 40 فٹ توسعی منصوبے) اور داسو و بھاشا ڈیمز کے متاثرین کو بھی بہترین مالی معاوضہ، جدید ہاؤسنگ سوسائٹیز، کیڈٹ کالج اور ہسپتال فراہم کیے گئے۔ لہٰذا منفی پروپیگنڈے کا شکار ہوئے بغیر قومی مفاد کے اس منصوبے کی حمایت کرنی چاہیے
Nadeem Akram Virk tweet media
اردو
3
7
19
797
Umar
Umar@umer978·
@iffiViews Aj kal wale babus ko ye road nazar ni aya abhi tak Yaha palm trees n8 lagae
हिन्दी
0
0
0
22
iFii
iFii@iffiViews·
Mall after rain The only area of Lahore where rain feels like blessing
English
7
12
129
3.7K
Umar
Umar@umer978·
@iffiViews Un ke AI ii quality ap sw achi thi
Italiano
0
0
0
170
Umar
Umar@umer978·
@waqas464 To baqi sobe paiso ki khareed rhe na gamdum Ke free me le jate gan6
हिन्दी
0
0
0
7
Waqas Habib Rana
Waqas Habib Rana@waqas464·
گزشتہ 36 سال سے پنجاب اپنی ضرورت سے زیادہ گندم پیدا کر رہا ہے۔ 1990-91 سے 2026-27 تک کے اعدادوشمار کا جائزہ لینے سے پاکستان کے گندم بحران کی ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ پنجاب کی گندم کی پیداوار 10.5 ملین ٹن سے بڑھ کر 21.9 ملین ٹن ہو چکی ہے۔ ریکارڈ پیداوار 2025-26 میں 24.24 ملین ٹن رہی۔ یہ اضافہ زیرِ کاشت رقبہ بڑھانے سے نہیں ہوا۔ گزشتہ 36 برس میں گندم کا رقبہ تقریباً 14 سے 17.4 ملین ایکڑ کے درمیان رہا۔ پیداوار میں اضافہ بہتر بیج، کھاد اور مشینی کاشت کی وجہ سے ہوا۔ اصل مسئلہ آبادی ہے۔ پنجاب کی آبادی تقریباً 6 کروڑ سے بڑھ کر 13.8 کروڑ ہو گئی، جس کے باعث فی کس دستیاب گندم 176 کلوگرام سے کم ہو کر 159 کلوگرام رہ گئی۔ اس کے باوجود پنجاب نے 36 سال میں ہر سال سرپلس گندم پیدا کی۔ سالانہ سرپلس کبھی 2.4 ملین ٹن سے کم نہیں ہوا اور اس وقت 3.89 ملین ٹن ہے۔ یہ اضافی گندم صرف پنجاب کے لیے نہیں۔ اسی سرپلس سے خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ کے بعض علاقوں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں، جبکہ کچھ گندم افغانستان بھی جاتی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے گزشتہ 36 سال میں 22 مرتبہ گندم درآمد کی، جن میں 2020-21 سے 2023-24 تک مسلسل چار سال بھی شامل ہیں۔ جولائی 2024 سے درآمدات پر پابندی ہے۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ پنجاب میں گندم کی کمی نہیں۔ اصل مسائل یہ ہیں: • خسارے والے صوبوں کی ضروریات • سرحد پار گندم کا اخراج • ناکافی اسٹریٹجک ذخائر • خریداری اور ریلیز کے نظام میں خامیاں مسئلے کا حل پیداوار بڑھانے سے زیادہ، ان پالیسی مسائل کو درست کرنے میں ہے۔
اردو
99
374
582
79.2K