پاکستان آرمی کے غدار کرنل اقبال سعید امریکی ریاست کیلیفورنیا کےشہر سین ڈیاگو میں ڈھائی ملین ڈالرز مالیت کےگھر میں رہتاہےاوریہ گھر اسی کے نام پر رجسٹرڈہےاس نےاپنانام تبدیل کرکے’’بیلی خان‘‘رکھ لیا ھے
"پاکستان آرمی کے غداروں کو ملک سے فرار کروانے میں آرمی خود سہولت فراہم کرتی ھے"
انتہائی خوفناک انکشافات!!
امریکہ پاکستان کو کیوں ترقی نہیں کرنے دیتا,
امریکہ پاکستان میں خود مختار حکومت کیوں آنے نہیں دیتا, امریکہ پاکستان پر اپنے مہرے مسلّط کرتے ہیں!!۔
اب تو سب کچھ واضح ہوگیا
یہ لوگ ہمیں کہتے ہیں عمران خان نے اخلاقیات خراب کر دیں جو حولناک حقیقت عادل راجہ نے بتائی ہے اسکے بعد اس فوج کی بربادی بیشرمی اور بدنام ہونے کا الزام کس پر لگانا ہے؟ ایک لمحے کے لیے اسے الزام مان بھی لیا جائے تو کسے نہیں پتہ کہ اسی فوج نے ججوں سیاستدانوں کے بیڈرومز میں کیمرے لگائے۔ 71 میں بھی خواتین کے ساتھ یہی سب کیا۔ اور سب سے بڑھکر شہید اکبر بگٹی اسی ظالم فوج کی اسی درندگی کے سامنے ڈٹ گئے تھے جب ISI کے کیپٹن حماد نے ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ریپ کیا جس پر اکبر بگٹی نے شفاف تحقیقات مطالبہ کیا مگر جنرل پرویز مشرف نے جج بن کر کیپٹن کو بےقصور قرار دے دیا اور اکبر بگٹی محبِ وطن سے غدار و دہشتگرد بنا دیا گیا۔ اس ملک میں جو بھی انکے گھٹیا مکروہ کردار کو ایکسپوز کرتا ہے وہی غدار کہلاتا ہے۔ مگر انھیں اپنا مکروہ چہرہ دیکھ کر بھی کراہیت نہیں آتی۔ لوگوں کو غدار کہنے کی بجائے اپنا ادارہ ٹھیک کرو۔
یہ کتاب سیاستدانوں یا جرنیلوں کے لیے نہیں لکھی گئی۔
یہ اُن شہریوں کے لیے لکھی گئی ہے، اُن عام پاکستانیوں کے لیے جن کی زندگیاں اُن فیصلوں سے متاثر ہوتی ہیں جو عدالتوں، بیرکوں اور ڈرائنگ رومز میں اُن کے گھروں سے دور کیے جاتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف کریک ڈاؤن کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔
یہ ایک بڑی جدوجہد کا حصہ ہے، یہ سوال کہ پاکستان کے مستقبل کا مالک کون ہے: اس کے عوام یا اس کے بااختیار طبقات؟
اس لمحے کو تفصیل کے ساتھ قلم بند کرنے کا میرا مقصد صرف یادداشت کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ غور و فکر کو جنم دینا بھی ہے۔
خاموشی جبر کی ساتھی ہوتی ہے؛ یادداشت اس کی دشمن ہے
آپ یہ کتاب نیچے دیے گئے واٹس ایپ نمبر سے حاصل کر سکتے ہیں
(447405584472+)
اسی کلونیل مائیڈ سیٹ کو عمران خان نے چیلنج کیا جسکی سزا وہ آج تک کاٹ رہا ہے۔
پاکستان آرمی کی پالیسی خودمختاری نہیں، کھلی تابعداری رہی ہے۔
کبھی واشنگٹن کے اشاروں پر فیصلے ہوتے ہیں، کبھی لندن کی خوشنودی کے لیے جھکا جاتا ہے۔ انکے پاس آزادی بس اتنی ہی ہے کہ یہ اپنی قوم کو غلام بنا کر رکھیں۔وہی کلونیل مائیڈ سیٹ۔
حکمرانی اپنی عوام پر، وفاداری باہر والوں کے ساتھ۔