Sabitlenmiş Tweet
Wahidullah
2.9K posts

Wahidullah
@wahidullah002
Writer | Future Journalist | Tweets/Re-Tweets depends on my mood swings😉
Bajaur,Islamabad Katılım Nisan 2021
477 Takip Edilen617 Takipçiler

شفا یوسفزئی نے جواد احمد کو چیلنج کر دیا۔۔۔
نفرتیں اس قدر نہ بڑھائیں کہ آپ کسی کو مذہب فروش، منافق اور کرپٹ کہنا شروع کر دیں۔ جو واقعی کرپٹ ہیں، آپ انہیں کرپٹ کہہ کر دیکھیں، تب میں مانوں۔
@Shiffa_ZY
اردو

پاکستان میں بجلی کا مسئلہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر یا پھر جواد احمد حل کر سکتے ہیں، جواد احمد
@jawadahmadone
اردو


پشاور زلمی اور حیدر آباد کنگز مین آمنے سامنے
آپ کس ٹیم کو سپورٹ کر رہے ہیں؟ کمنٹس میں بتا دیں۔
#HBLPSL

اردو

یہ لوگ عمران خان کے ایک بال کو ہاتھ لگائیں، پھر دیکھیں ہم آپ کے ساتھ کیا کرتے ہیں،شاندانہ گلزار
@ShandanaGulzar
اردو

یہاں چیک پوسٹ پر آرمی بدماش کھڑے ہیں، اس کی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں کہ انہوں نے جو رویہ آپ لوگوں کے ساتھ رکھا،سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
اردو


ایک موقع ان کو دے دیتے ہیں جرگے کرینگے ان کیساتھ اگر وہ ناکام ہوئے تو پھر اس کے بعد حل صرف یہی ہے کہ یہاں سے جائیں گے اور اسلام آباد میں بیٹھ جائیں گے اور پھر یا تو امن لائیں گے یا پھر کفن میں واپسی ہوگی،وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی
@SohailAfridiISF
اردو

Wahidullah retweetledi

سی ایس ایس امتحان پاس کرنے والی منیبہ حسین کے آبائی تحصیل ماموند میں ہائی سکول بھی موجود نہیں۔
فرسودہ نظام اور قبائلی روایات کو چیرتے ہوئے باجوڑ کی باہمت بیٹی نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا۔
منیبہ حسین کا تعلق اس تحصیل سے ہے جہاں لڑکیوں کے لیے ہائی سکول تک موجود نہیں ہے۔
اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو تحصیل واڑا ماموند میں لڑکیوں کی تعلیم کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ واڑا ماموند میں لڑکیوں کے لیے ہائی سکول تک نہیں ہے جس کی وجہ سے اکثر لڑکیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
باجوڑ میں خواتین کے لیے تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام اور تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات کے باوجود بھی ضلع باجوڑ میں خواتین اور لڑکیوں کے مستقبل کے لیے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔ حکومتی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ 12 لاکھ 86 ہزار نفوس پر مشتمل ضلع باجوڑ کی 7 تحصیلوں میں محض ایک تحصیل میں لڑکیوں کے لیے ایک ہائر سیکنڈری سکول ہے، باقی 6 تحصیلوں کی لڑکیاں میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں، بیشتر لڑکیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
ضلع بھر کی لڑکیوں کے لیے تحصیل خار میں ایک ہائر سیکنڈری سکول ہے جہاں دیگر تحصیلوں کی لڑکیوں کے لیے گنجائش موجود ہے اور نہ ہی دور دراز علاقوں سے یہاں لڑکیوں کا آنا ممکن ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، باجوڑ میں لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لڑکیاں تعلیم کو خیر باد کہہ دیتی ہیں۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے سال 2020/21 میں کیے گئے سروے کے مطابق ضلع باجوڑ کی 2 لاکھ 4 ہزار بچیوں میں سے ایک لاکھ 55 ہزار بچیاں تعلیم کی روشنی سے محروم ہیں، جبکہ دیگر 49 ہزار لڑکیوں کی تعلیم کے حصول کے لیے میٹرک کے بعد پورے ضلع میں صرف ایک ہی ہائر سیکنڈری سکول ہے جہاں گنجائش اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
واحد اللہ
@wahidullah002

اردو

سی ایس ایس امتحان پاس کرنے والی منیبہ حسین کے آبائی تحصیل ماموند میں ہائی سکول بھی موجود نہیں۔
فرسودہ نظام اور قبائلی روایات کو چیرتے ہوئے باجوڑ کی باہمت بیٹی نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا۔
منیبہ حسین کا تعلق اس تحصیل سے ہے جہاں لڑکیوں کے لیے ہائی سکول تک موجود نہیں ہے۔
اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو تحصیل واڑا ماموند میں لڑکیوں کی تعلیم کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ واڑا ماموند میں لڑکیوں کے لیے ہائی سکول تک نہیں ہے جس کی وجہ سے اکثر لڑکیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
باجوڑ میں خواتین کے لیے تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام اور تعلیمی ایمرجنسی کے اعلانات کے باوجود بھی ضلع باجوڑ میں خواتین اور لڑکیوں کے مستقبل کے لیے کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔ حکومتی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ 12 لاکھ 86 ہزار نفوس پر مشتمل ضلع باجوڑ کی 7 تحصیلوں میں محض ایک تحصیل میں لڑکیوں کے لیے ایک ہائر سیکنڈری سکول ہے، باقی 6 تحصیلوں کی لڑکیاں میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں، بیشتر لڑکیاں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
ضلع بھر کی لڑکیوں کے لیے تحصیل خار میں ایک ہائر سیکنڈری سکول ہے جہاں دیگر تحصیلوں کی لڑکیوں کے لیے گنجائش موجود ہے اور نہ ہی دور دراز علاقوں سے یہاں لڑکیوں کا آنا ممکن ہے۔
لڑکیوں کی تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، باجوڑ میں لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لڑکیاں تعلیم کو خیر باد کہہ دیتی ہیں۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے سال 2020/21 میں کیے گئے سروے کے مطابق ضلع باجوڑ کی 2 لاکھ 4 ہزار بچیوں میں سے ایک لاکھ 55 ہزار بچیاں تعلیم کی روشنی سے محروم ہیں، جبکہ دیگر 49 ہزار لڑکیوں کی تعلیم کے حصول کے لیے میٹرک کے بعد پورے ضلع میں صرف ایک ہی ہائر سیکنڈری سکول ہے جہاں گنجائش اور سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں
وحید اللہ
@YarMKNiazi @MeFaheem

اردو
Wahidullah retweetledi




