zohan ali retweetledi
zohan ali
5.4K posts

zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi

Two Sudanese orphans.
Their parents were just murdered by the RSF.
Where is the UN?
Where is the ICJ?
Where is Greta?
Where is UNICEF?
Where is Amnesty International?
Where is Gutteres?
Where is Karim Khan?
Where is Francesca Albanese?
Where is MSF?
Where is the media?
Where is the EU?
Where is Starmer?
Where is Macron?
Where is Sanchez?
Where is Bernie Sanders?
Where is AOC?
Where is...
English
zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi

نکل آیا وارداتیہ 🚨یہ وہ حرام خور ڈیزل ٹاوٹ ہے جو اپنے ہی دینی بھائیوں پر ہونے والے ظلم پر نہیں بولا ۔لیکن ن لیگ کے ساتھ مل کر KPK کے سہیل آفریدی وزیراعلی کے خالف عدالت جا رہا ہے ۔حرام خور کا کہنا ہے آفریدی کی سلیکشن غیر آئینی ہے .لیکن جو قتل وغارت سٹرکوں پر ہوا اس پر اس کی زبان کو لقوی مار گیا تھا ۔
اردو
zohan ali retweetledi

This is why KP and the rest of the country stands with Imran Khan because there was peace when he was Prime Minister!
His policies have foresight! Sooner or later, the super powers even come to accept his stance!
#AwamStandsWith804

English
zohan ali retweetledi

اسکو سارے MPA MNA ری پوسٹ کریں اور اسکو سمجھ لیں
بہت اہم آئینی معلومات ہیں
PTI@PTIofficial
𝐑𝐄𝐌𝐈𝐍𝐃𝐄𝐑: Let us revisit the Constitution of Pakistan Let us remind that the armed forces are a tool of the state, not the state itself Let us reiterate that the real power lies with the people 𝐋𝐞𝐭 𝐮𝐬 𝐫𝐞𝐦𝐞𝐦𝐛𝐞𝐫 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐭𝐡𝐞 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐩𝐞𝐨𝐩𝐥𝐞 𝐖𝐈𝐋𝐋 𝐫𝐞𝐢𝐠𝐧 𝐬𝐮𝐩𝐫𝐞𝐦𝐞 #FascismUnderAsimLaw
اردو
zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi

شاہد انور کہتا ہے اوئے غریبو! اسی لہجے میں سنو اوئے پاکستانیو ! کیا زندگی ہے تمہاری ؟ تم میں سے کچھ کے گھر میں ماں باپ بیمار ہیں۔ تم انکی دوائی نہیں لے سکتے۔ تم میں سے کچھ من پسند سکول میں بچے نہیں پڑھا سکتے۔ تم میں کچھ بہنیں بیاہنے کی سکت نہیں رکھتے۔ تم میں سے بہت ساروں کا اپنا مکان ہی نہیں ہے۔ تم میں سے بہت سارے ایسے ہیں جو اپنی اور اپنے بچوں کی خوراک پر بھی سمجھوتہ کیے بیٹھے ہیں۔
اوئے پاکستانیو ! تم میں سے کچھ اندر ہی اندر زہر گھولتے ہو۔ تمہارا نالائق رشتہ دار یا کلاس فیلو سفارش یا رشوت کے زور سے سرکاری نوکری کررہا ہے۔ تم زندگیاں گھسیٹ رہے ہو۔ تمہاری تعلیم ، تمہاری سوچ تمہیں معاشرے میں عزت نہیں دلوا سکتی کہ تم ایک گھٹیا معاشرے میں زندہ ہو۔ تم چھوٹی چھوٹی خواہشوں اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے ترستے ہو۔
اوئے پاکستانیو ! تم پسینے میں شرابور موٹر سائیکل پر بیٹھے وی آئی پی موومنٹ کے لیے اپنے ٹیکس کے پیسے سے بنی سڑک پر کتنی کتنی دیر رکے رہتے ہو۔ تمہارے ٹیکس سے تنخواہ لینے والے پولیس والے تمہیں جانوروں کی طرح مخاطب کرتے ہیں۔ تم جس دفتر میں جاتے ہو گھگھیاتے ہوئے کوئی سفارش ڈھونڈتے ہو یا اپنی کوئی حسرت قربان کرکے کچھ پیسے دے کر اپا کام نکلوانے کی کوشش کرتے ہو۔
اوئے پاکستانیو! تمہاری عدالتیں تمہیں انصاف نہیں دیتیں۔ تمہارے ہسپتال تمہیں علاج کی سہولیات نہیں دیتے۔ تمہارے سرکاری ملازم تمہیں عزت نہیں دیتے۔ تمہارے ووٹ کی کوئی قدر نہیں کرتا۔ اوئے اکیسویں صدی میں غربت ، ناانصافی ، جہالت ، پسماندگی اور کسمپرسی میں گھرے پاکستانیو! اوئے پاکستانیو !!! اوئےےےےے پاکستانیووووووو !!!!!!! اوئےےےےےے پاکستانیو !!!!
اوئے پاکستانیو !!!! زرا سوچو !کیوں مرے جارہے رہے ہو؟ کون تمہیں مار رہا ہے؟ کون تمہیں کھا رہا ہے؟ کون ؟ کون ؟ کون ؟
اردو
zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi

“The second fabricated Toshakhana case is being hurriedly pushed through in court. Only a few weeks ago, the testimony of the prosecution’s primary witness was exposed as false before the court. Thereafter, my former Military Secretary Brigadier Ahmed and Deputy Military Secretary Colonel Rehan also confirmed that all documentation of gifts was completed strictly in accordance with the rules. All lawyers agree that this case should have been dismissed at the outset by the judge. Despite this, a maliciously motivated and fabricated case continues to be carried forward.
Similarly, another fabricated case against me, the so-called “Cipher Case” - which is the most expensive case in Pakistan’s history, on which tens of millions of the people’s money from the national exchequer has been wasted - proved so weak before the High Court that it should not have survived at the trial court in the first place.
A third major case was manufactured about the Al-Qadir University Trust. Al-Qadir is a welfare-oriented educational institution whose objective is to provide both scientific and religious education to the youth. It was established a year before the funds sanctioned by the Supreme Court were remitted. Yet, by raising absurd questions against a charitable institution, a baseless case was fabricated which had already been dismissed at the trial court stage. Since January, we have been seeking a hearing date in the Islamabad High Court, and now, after ten months, the Chief Justice of the Islamabad High Court, Justice Dogar, has scheduled it to be heard on the 16th of October (2025).
The undue haste being shown by Judge Arjumand in the Toshakhana-II case has an underlying motive: to deliver a conviction in this case, so that even if bail is granted in the Al-Qadir case, it would not be possible for me to be released. It is noteworthy that in the past twelve years, three Toshakhana-related cases have all been before this same judge. By law, vehicles cannot be taken from the Toshakhana, yet Nawaz Sharif unlawfully took a bulletproof Mercedes, Asif Zardari illegally extracted three vehicles, and Maryam Nawaz, after unlawfully acquiring a vehicle, neither declared it nor showed it in her tax returns. All of this is on record with irrefutable evidence, yet their cases are not being taken up at all, while a selective and baseless trial against me for lawfully acquired gifts is being fast-tracked.
In the Al-Qadir Trust case, since Zulfi Bukhari persistently refused to give false testimony against me, his property in Pakistan is now being auctioned, due to political vendetta. This is the worst example of political victimization. This lawlessness is what I call “Asim Law”. Decisions in the country today are dictated by whether one is aligned with or opposed to “Asim Law”.
If you stand with Asim Law, miracles can take place. No matter how massive your wheat scandal may be, no one questions you. If you illegally obtain cars from Toshakhana, no case is filed against you. Whether it is the sugar mafia or the land mafia, as long as you are under the umbrella of Asim Law, you remain untouchable. But if you stand against Asim Law, then fabricated cases are concocted against you, you are thrown into prison, and you and your family are subjected to every conceivable form of injustice unprecedented in this nation’s history.
I wish to convey this message to my Pakistanis: the very foundations of moral and judicial values in Pakistan have been torn apart. If you do not rise today for your rights and for the rule of law, the times ahead will be catastrophic. Injustice and fascism will further devastate the economy. In the past three years alone, more than three million Pakistanis have left the country. The policies of the incompetent and fraudulent government have inflicted irreparable damage upon the economy: textile mills are shutting down exports, and the poor masses are rapidly falling below the poverty line.
1/2
English
zohan ali retweetledi

“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔
اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔
تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔
توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خلافِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جارہے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔
میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
اردو
zohan ali retweetledi
zohan ali retweetledi
















