Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq
1.1K posts

Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi

پنجاب میں 900 سے زائد لوگ CCD کے ذریعے ماورائے عدالت قتل کئے گئے۔ فیصل آباد میں ایک بیٹی نے عشق کے چکر میں اپنے باپ پر زیادتی کا الزام لگایا تو پولیس نے سو سال پرانی کہانی دہرائی کہ چھڑانے کی کوشش میں ساتھیوں کی فائرنگ سے باپ قتل ہو گیا
اب فرانزک رپورٹ سے جہاں زیادتی کا الزام غلط ثابت ہو گیا وہیں سوال یہ ہے کہ مظلوم مقتول کونسا ڈان تھا جس کے ساتھی چھڑانے آ گئے تھے
لڑکی کو تو جو سزا ملنی ہے ملے گی مگر وردی پوش سفاک قاتلوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائے بغیر انصاف بھی لٹکتا رہے گا

اردو
Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi

کیا صرف پاکستان ایک خان صاحب کا ہی ہے؟
کیا ساری قربانیاں صرف خان صاحب نے ہی دینی ہیں؟
کیا یہ ملک آپ کا نہیں؟ کیا آپ اس سرزمین میں نہیں رہتے؟ کیا آپ یہاں تجارت نہیں کرتے؟ کیا یہاں آپ کے گھر، خاندان اور بچوں کا مستقبل وابستہ نہیں؟
پھر آخر کیوں ہر قربانی کے لیے صرف ایک شخص کی طرف دیکھا جاتا ہے؟
ذرا سوچیے، خان صاحب اب 73 برس کے ہو چکے ہیں۔ کیا ان کا دل نہیں کرتا کہ وہ اپنے گھر میں سکون سے رہیں، اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزاریں، ٹی وی دیکھیں اور اپنی باقی زندگی آرام سے بسر کریں؟
مگر آج وہ ایک تنگ و تاریک کال کوٹھڑی نما جیل میں قید ہیں، ایسی جگہ جہاں ایک چارپائی اور ایک کرسی بھی بمشکل سما سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ وہ وہاں کیوں ہیں؟
اقتدار کے لیے؟
ذاتی مفاد کے لیے؟
دولت یا شہرت کے لیے؟
نہیں۔
وہ اس لیے قید ہیں کہ اس ملک میں قانون کی بالادستی ہو، انصاف قائم ہو اور عوام کو ان کا حق مل سکے۔
تاریخ ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے لیے نہیں، بلکہ قوموں کے لیے قربانیاں دیتے ہیں۔
بشری بی بی
#ReleaseImranKhan
#خان_کے_سائے_سے_بھی_خوف
اردو
Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi

جنید اکبر اور دیگر ایم پی ایز کو صوبے سے باہر بھیجنا نہ صرف سیاسی عدم برداشت کی واضح مثال ہے بلکہ اس سے خطے میں جمہوری عمل کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
جنید اکبر اور ان کے ساتھی ایم پی ایز کا مقصد صرف انتخابی مہم کو منظم کرنا اور پارٹی کارکنان کو متحرک کرنا تھا۔ ان میں نہ کوئی حکومتی عہدہ رکھنے والا شخص شامل تھا اور نہ ہی وہ کسی سرکاری طاقت کے ساتھ آئے تھے، اس کے باوجود ان کے خلاف اس طرح کے اقدامات ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ آج یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پارٹی کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں، وہ عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ کچھ عناصر اس بڑھتے ہوئے مومنٹم سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں گلگت بلتستان کے عوام بیدار نہ ہو جائیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ نوجوان، کارکن اور عام شہری الیکشن کے دن بغیر کسی دباؤ کے باہر نکل کر اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کریں۔
ان کی کوشش یہ ہے کہ عوام کو خاموش رکھا جائے، سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے اور لوگوں کو یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ اصل طاقت ان کا ووٹ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
اردو
Zubair Mushtaq retweetledi

خیبر پختونخوا کی قیادت کی گرفتاری پر اہم پیغام!
"ہم یہاں آئینی طور پر ایک آزاد اور شفاف (Free & Fair) الیکشن کی امید لے کر آئے تھے، لیکن جنید اکبر کی قیادت میں ہمارے ایم این ایز (سلیم الرحمن ، محبوب، اور ایم پی اے (ڈاکٹر امجد نعیم سمیت پوری قیادت کو گرفتار کر کے لے جایا جا رہا ہے۔
اگر یہ غیر آئینی گرفتاریاں فوراً ختم نہ کی گئیں، تو خیبر پختونخوا کے تمام تحریک انصاف کے کارکنان اگلے لائحہ عمل کے لیے تیار رہیں اور گلگت بلتستان کا رخ کریں۔ مزید تفصیلات سے جلد آگاہ کیا جائے گا۔"
@PTIKPOfficial
اردو
Zubair Mushtaq retweetledi

Shameful scenes but what has become a norm in Pakistan under #AsimLaw. PTI representatives campaigning for the Gilgit-Baltistan elections were detained and forcibly removed from the province.
English
Zubair Mushtaq retweetledi

"خواتین میری ریڈ لائن ہیں" یہ دعویٰ زمینی حقیقت کے سامنے محض ایک سیاسی نعرہ محسوس ہوتا ہے۔
بالکل ویسا ہی جیسے " ووٹ کو عزت دو " کا نعرہ بےمعنی تھا۔
جیسے سستی بجلی کا دعوٰی جھوٹا تھا۔
ایک بزرگ خاتون کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اور عوامی اداروں میں بڑھتی ہوئی بدانتظامی یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا عام شہری واقعی ریاستی تحفظ میں ہیں یا نہیں۔
ادھر عوامی نمائندوں اور اداروں کی مراعات، تنخواہوں اور شاہانہ اخراجات میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جبکہ دوسری طرف عام شہری مہنگائی، بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
بزرگ خاتون کو 50 ہزار کے بجلی بل پر احتجاج کا بھی حق نہ ملنا اس نظام کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔
جہاں ایک طرف جہازوں کی خریداری اور اخراجات بڑھ رہے ہیں، وہیں عوام اپنے بچوں کو گرمی میں سلا کر اور خود بھوکے رہ کر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں۔
اس مسلط نظام میں ہر ادارے میں چھوٹے بڑے "فرعون" بیٹھے نظر آتے ہیں، اور عام آدمی کی آواز دبتی جا رہی ہے۔
#نااہل_حکمران_عوام_پریشان
اردو
Zubair Mushtaq retweetledi

صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کوگلگت بلتستان پولیس نے اراکینِ قومی اسمبلی سلیم الرحمٰن، سید محبوب شاہ ڈاکٹر امجد علی خان اور ایم پی اے نعیم خان کے ہمراہ گرفتار کر لیا۔
کیا سیاسی عمل کو دبانے اور انتخابی مہم سے روکنے سے یہ لوگ عمران خان کو عوام کے دلوں سے نکال دیں گے؟ طاقت کے استعمال سے نظریات کو ہرگز ختم نہیں کیا جا سکتا!
اردو
Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi

22 مئی کو بیٹی سے زیادتی کے الزام میں سی سی ڈی کے ہاتھوں مارا جانے والا باپ، فرانزک رپورٹ میں بے گناہ ثابت ہوگیا۔
منڈی بہاؤالدین میں کچھ عرصہ قبل ایک بیٹی نے اپنے سگے باپ پر زیادتی کا سنگین الزام لگایا۔ الزام سامنے آتے ہی معاشرے میں غم و غصہ پھیل گیا، اور بغیر مکمل تفتیش، بغیر حقائق جانے اور بغیر کسی عدالتی کارروائی کے، سی سی ڈی نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ملزم قرار دیے گئے باپ کو ماورائے عدالت قتل کر دیا۔
شاید اُس وقت اسے ایک بڑی کامیابی سمجھا گیا ہو، لیکن اب اس کیس میں ایسا چونکا دینے والا موڑ آیا ہے جس نے پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
لڑکی کی تفصیلی میڈیکل اور فرانزک رپورٹ سامنے آ چکی ہے، جس میں واضح طور پر ثابت ہوا ہے کہ باپ نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی اور اس پر لگایا گیا الزام جھوٹا اور بے بنیاد تھا۔ رپورٹ نے ایک مرے ہوئے انسان کی بے گناہی تو ثابت کر دی، لیکن اب سوال یہ ہے کہ بغیر ثبوت، بغیر میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیے، اور بغیر عدالت کے فیصلے کے ایک انسان کی جان لینے والوں کا احتساب کون کرے گا؟
جب تک اس ملک میں تفتیش سے پہلے سزا دینے، اور ماورائے عدالت قتل جیسے خونی کھیل بند نہیں ہوتے، تب تک بے گناہ لوگ جھوٹے الزامات کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے، اور انصاف صرف فائلوں میں دفن ہو کر رہ جائے گا۔

اردو
Zubair Mushtaq retweetledi
Zubair Mushtaq retweetledi











