One Page Survivor
1.8K posts

One Page Survivor
@Access_Pk
Western Democracy produces Trump, Netanyahu & Modi. China Model is Only workable system, one that uplifted 1 Billion People without the wars for resources


ساری زندگی پٹواریوں کو ایک پلیٹ بریانی کا طعنہ دینے والے جنگلی بن کر ہڈی کی تلاش میں دیگوں پر کود پڑے 😆😆



شاندار کلپ۔۔۔ “ساری زندگی عمران خان نے لوگوں کو بتایا کہ ہر مسئلے کی جڑ کرپٹ سیاستدان ہیں اور فوجی جرنیلوں کو ان کی کرپشن کی وجہ سے بار بار مداخلت کرنا پڑتی۔ آج جرنیلوں کو ہر مسئلے کی جڑ بتانے والے عمران خان سے زیادہ کسی نے اسٹیبلشمنٹ کے بیانئیے کو سپورٹ نہیں کیا”

حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا بند کریں۔ ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کیس کو “اوپن اینڈ شٹ” کہنا محض سیاسی نعرہ ہے، قانونی حقیقت نہیں۔ برطانیہ میں یہ ایک سول سیٹلمنٹ تھا، کوئی فوجداری سزا نہیں ہوئی، اس لیے اسے قطعی کرپشن ثابت شدہ معاملہ قرار دینا درست نہیں۔ سادہ سوال یہ ہے کہ کیا ایک پرائیویٹ فرد کا پیسہ، جو بیرونِ ملک تھا، اس پر کوئی باقاعدہ کرپشن ثابت ہوئی؟ کیا ملک ریاض کے خلاف اس کیس میں کوئی سزا ہوئی؟ اگر نہیں، تو پھر کرپشن کہاں ثابت ہوئی؟ محض رقم کے حجم یا اس کے واپس آنے سے خود بخود جرم ثابت نہیں ہو جاتا۔ اگر اصول منی ٹریل اور اثاثوں کا ہے تو پھر یہی اصول سب پر لاگو ہونا چاہیے۔ ایون فیلڈ، ہائڈ پارک اور سوئس اکاؤنٹس جیسے کیسز میں بھی یہی سوال تھا کہ جائیداد کیسے بنی، پیسہ کہاں سے آیا اور کیا ڈکلیئر کیا گیا۔ اسی طرح جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے معاملے میں بھی بیرونِ ملک جائیدادوں اور منی ٹریل پر سوالات اٹھے، مگر اگر وہاں مکمل ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر معاملہ ثابت نہ ہو سکا تو یہاں بغیر مکمل اور ناقابلِ تردید ثبوت کے حتمی رائے دینا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے انڈیکس کو بنیاد بنانا ہے تو یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ “پرسیپشن انڈیکس” ہے، یعنی بدعنوانی کے تاثر کا اشاریہ، نہ کہ عدالتوں سے ثابت شدہ جرائم کی فہرست۔ مزید یہ کہ آج بھی پاکستان کی رینکنگ کوئی مثالی نہیں، تو پھر صرف ایک دور کو بدعنوانی کی علامت بنا دینا دیانت دارانہ مؤقف نہیں۔ ساڑھے تین سال کے پورے دور کو ایسے پیش کرنا کہ وہاں صرف ایک ہی مقدمہ ملا، حقیقت کے مطابق نہیں۔ اگر واقعی بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی تھی تو سوال یہ ہے کہ کتنے کیسز عدالتوں میں ثابت ہوئے، کتنے میں مالی فائدہ واضح طور پر ثابت ہوا، اور کتنے فیصلے ایسے آئے جن پر کوئی قانونی ابہام باقی نہ رہا؟ محض الزامات، بیانیے اور میڈیا ٹرائل سے قانونی معیار پورا نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ احتساب کو یکساں اور غیرجانبدار نہیں رکھا گیا بلکہ اسے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ایک طرف مخصوص افراد کو نشانہ بنایا گیا اور دوسری طرف بڑے معاملات یا تو دب گئے یا منطقی انجام تک نہ پہنچ سکے۔ اب جب عدالتی و آئینی ڈھانچے میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں تو سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب واقعی عوامی مفاد میں ہے یا مخصوص سیاسی مقاصد کے لیے۔ خدا را قوم کو گمراہ نہ کریں۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ قانون ثبوت مانگتا ہے، نعرے نہیں۔ قوم اب بیانیہ نہیں بلکہ مکمل سچ چاہتی ہے۔


ڈھائی سال کی حکومت کے بعد عمران خان نے انٹرویو میں کہا کہ فوج نے نہ کبھی مجھے میری مرضی کے خلاف کچھ کرنے کو کہا اور نہ کچھ کرنے سے روکا۔ حکومت سے نکالے جانے پر کہا کہ سب کچھ جنرل باجوہ کر رہا تھا، میرے تو ہاتھ بندھے تھے۔ کیا عمران خان پہلے جھوٹ بول رہے تھے یا بعد میں؟










