Muhammad Umar
16.3K posts

Muhammad Umar
@Laughingskill
میرے بھائی کی مغفرت کے لئے ہمیشہ دعا کیجیئے گا @hidepro18plus
เข้าร่วม Ocak 2022
3.4K กำลังติดตาม4.9K ผู้ติดตาม

Tom Holland says that New York City Mayor Zohran Mamdani has a "sizeable" cameo in 'SPIDER-MAN: BRAND NEW DAY'.
In Theaters on July 31.
(Source: esquire.com/uk/culture/fil…)


English

@UncannyKam Cinema survived the MCU. It'll survive Supergirl too.
English

@jeremylovesyall "Inspired by the comic" apparently meant everything except what made the comic special.
English

@jeremylovesyall That's a bold subject to tackle, but if the tone can't support it, it can end up feeling all over the place.
English
Muhammad Umar รีทวีตแล้ว

میں بسم اللہ۔ میرا ریفربشڈ کھسرا 😂
میں تھوڑا مصروف تھا اس لئے تیری طرف چکر نہیں لگا میرا۔ بڑا گند ڈالا ہوا ہے تو نے بھی ٹائم لائن پر۔ کوئی بات نہیں اب میں آگیا ہوں نا۔
اپنا پاسپورٹ، دو پاسپورٹ سائز تصویریں تیار کرکے رکھ۔ تیرا نیپال کا ویزا لگواتا ہوں گبر استاد سے @pak1231ch 😆😆😆

🚀Sania Batool🇵🇰@PromoBoostX
@mansoorlaughs جو جیسا ہو اس کو ٹائم لائن پر بھی وہی نظر اتا ہے
اردو
Muhammad Umar รีทวีตแล้ว

I assumed this was some perverted AI image. The fact this is a real photo of Messi and Yamal is the strangest photo in sports history
Bastien Fachan@BastienFachan
Lionel Messi scored his first World Cup goal in 2006 while aged 18 years 11 months and wearing #19. Lamine Yamal scored his first World Cup goal in 2026 while aged 18 years 11 months and wearing #19. Destiny.
English

@jeremylovesyall CinemaSins really trained a generation to mistake character quirks for plot holes 😭
English
Muhammad Umar รีทวีตแล้ว

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ملحدین کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ
👇
بحث برائے بحث ہے نہ کہ بحث برائے اصلاح
👇
اور آج کل اے۔آئی اور گوگل کا دور ہے
بس
سرچ اینڈ کاپی پیسٹ منظم مافیہ ۔۔۔ پورے پلان سے احادیث اور قرآنی آیات کے من مانے مفہوم ایکس پہ شئیر کرتے نظرتے آئیں گے ۔۔۔دن رات کاپی۔پیسٹ سروس جاری ہے
پوائنٹ: ملحدین کی کسی بھی مذہبی پوسٹ کے closing remarks اور emojis میں سارا کھیل ہوتا ہے جو انکی ترجیحات کو مکمل واضح کرتا ہے ۔
اردو
Muhammad Umar รีทวีตแล้ว

"چلو جلدی شلوار نیچے کرو بی بی"
یہ ہتک آمیز اور کرخت جملہ لیڈی ڈاکٹر کا مریضہ کے لیئے تھا۔
یہ سرکاری ہسپتال کا کمرہ تھا جہاں پہلے سے ہی کچھ خواتین اور نرسز موجود تھیں۔
وہ خاتون جسے لیڈی ڈاکٹر نے یہ حکم دیا تھا کہ سب خواتین کے سامنے شلوار نیچے کرکے ڈاکٹر کو اپنا اک نسوانی مسئلہ دکھائے، وہ شرم اور بے عزتی کے احساس سے زمین میں جیسے گڑھ رہی تھی، ٹھیک ہے مخاطب بھی اک عورت اور ڈاکٹر تھی، اور ڈاکٹر سے مریض کا پردہ نہیں ہوتا لیکن باقی خواتین اسٹاف اور اک طرف سے نیم کھلے دروازے کے ساتھ وہ کیسے اپنے جسمانی اعضاء دکھا سکتی تھی جبکہ لیڈی ڈاکٹر کا سخت ترین استانی جیسا تحکمانہ اور بدترین انداز تھا۔
یہ واقعہ ٹیکسلا کے اک سرکاری ہسپتال کا سچا واقعہ ہے، خیر جب یہ خاتون جھینپ کر ڈاکٹر پاس گئی تاکہ پردہ رہے اور دائیں بائیں کوئی نہ دیکھے، لیکن ڈاکٹر جیسے پھٹ پڑی اور چلا کر بولی دور کھڑی رہو میرے سر پر کیوں چڑھتی جارہی ہو احمق عورت۔۔۔
وہ خاتون یہ شدید بے عزتی برداشت نہ کرسکی اور روتے ہوئے ہسپتال سے باہر نکل آئی، اس نے توبہ کی کہ وہ کبھی بھی کسی سرکاری ہسپتال نہیں جائے گی چاہے کچھ بھی ہوجائے۔
خیر یہ تو ایک واقعہ ہے، ہر روز ایسے بد تہذیبی اور بدتمیزی کے مناظر سرکاری ہسپتال میں عام ہیں۔
اک اور سرکاری ہسپتال کا وہ منظر کسی بھی حساس دل کو رلا دینے کے لیے کافی ہے۔ یہاں ایک ایسی تحریر ہے جو ایک مجبور حاملہ عورت کی نظر سے سرکاری ہسپتال کی بے حسی اور بے توقیری کو بیان کرتی ہے:
تصور کریں اس حاملہ ماں کا، جو درد سے بے حال ہے، مگر اسے ہسپتال پہنچتے ہی کسی ہمدرد مسیحا کے بجائے ایک بے رحم اور طویل قطار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ عورت جو ٹھیک سے کھڑی بھی نہیں ہو پا رہی، اسے گھنٹوں تپتی دھوپ یا حبس زدہ راہداریوں میں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ وہاں کوئی اسے سہارا دینے والا نہیں، کوئی اسے بیٹھنے کے لیے کرسی دینے والا نہیں۔
جب وہ بڑی مشکل سے اندر پہنچتی ہے، تو وہاں کا عملہ اسے انسان ہی نہیں سمجھتا۔ "چپ کر کے بیٹھو"، "شور کیوں مچا رہی ہو"—یہ وہ جملے ہیں جو اس کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں۔ ایک ایک بیڈ پر ، جہاں پردے کا کوئی تصور ہے نہ صفائی کا۔ وہاں توقیرِ انسانیت کا جنازہ ہر روز ان گندی چادروں اور بدبو دار وارڈز میں نکلتا ہے۔
اگر کوئی ٹیسٹ ہونا ہو یا دوا لینی ہو، تو غریب باپ یا شوہر کو ایک کھڑکی سے دوسری کھڑکی تک دوڑایا جاتا ہے۔ "فلاں پرچہ لاؤ"، "باہر سے یہ دوا لے کر آؤ"—جبکہ اندر ماں کی جان نکل رہی ہوتی ہے۔ اس بے بسی کا عالم یہ ہے کہ غریب انسان کو اپنی غربت پر شرمندگی ہونے لگتی ہے کہ کاش اس کے پاس پیسے ہوتے تو وہ اپنی بیوی یا بیٹی کو اس ذلت سے بچا سکتا۔
میرا سوال یہ ہے:
کیا غریب کی مامتا کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا وہ عورت ، اس لائق نہیں کہ اسے کم از کم عزت کے ساتھ یہ وقت گزارنے دیا جائے؟ سرکاری ہسپتالوں کی یہ بے حسی صرف نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہماری انسانیت کی موت ہے۔ میڈیکل کی فیلڈ تو ایسی ہے کہ اس میں اخلاق کو اولین اہمیت دینی چاہیئے کیونکہ ہسپتال میں جو بھی جاتا ہے وہ دکھی ہوتا ہے درد اور پریشانی کا شکار ہوتا ہے جسے علاج کے ساتھ ساتھ تسلی ہمت اور دو بول اچھے چاہیئے ہوتے ہیں، یہی دو میٹھے بول درد کا مداوا ہوسکتے ہیں لیکن سرکاری ہسپتالوں میں یہ شاید ناممکن ہے
خدارا! ان ماؤں کی سسکیاں سنیں جو بغیر کسی گناہ کے صرف اپنی غربت کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
اللہ پاک ہر مجبور ماں کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین۔
تحریر و تحقیق
آفرین عاقب
Sad reality of our society.....
اردو

"خان اسلام آباد میں اپنی طبیعی موت مرا، اور یہ ہماری سب سے بڑی ناکامیوں میں سے ایک رہے گی۔ اس نے وہ حاصل کر دکھایا جو کوئی دوسرا مسلمان سائنسدان نہ کر سکا، اور ہم صرف ہاتھ ملتے رہ گئے۔"
یہ الفاظ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے معمار ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ شبطائی شاویت سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ شاویت کو انٹیلی جنس دنیا میں ایسے سربراہ کے طور پر جانا جاتا تھا جو اپنے ہدف کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔
1989ء سے 1996ء تک موساد کی قیادت کرتے ہوئے اس نے مبینہ طور پر "کیدون" نامی خفیہ ہٹ اسکواڈ کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں میں کئی ٹارگٹ کلنگ آپریشنز کی نگرانی کی۔ مالٹا میں فلسطینی رہنما فتحی شقاقی اور پیرس میں پی ایل او کے انٹیلی جنس افسر عاطف بسیسو کا قتل انہی کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ واقعات اس بات کی مثال تھے کہ موساد یورپ جیسے حساس خطوں میں بھی اپنے اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
اسرائیلی صحافی یوسی میلمین نے بعد میں لکھا کہ شاویت کو اس بات کا گہرا افسوس تھا کہ اگر انہیں بروقت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نیٹ ورک اور سرگرمیوں کی مکمل نوعیت کا اندازہ ہو جاتا تو وہ انہیں نشانہ بنانے پر سنجیدگی سے غور کرتے، کیونکہ ان کے بقول اس سے "تاریخ کا رخ بدل سکتا تھا۔"
اسی تناظر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مشرقِ وسطیٰ کے خفیہ دوروں، انتہائی سخت سیکیورٹی اور غیر معمولی رازداری کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہی مضبوط حفاظتی حصار اور پاکستانی اداروں کی مؤثر انٹیلی جنس حکمتِ عملی تھی جس نے ہر ممکن خطرے کو ناکام بنایا۔
بعد ازاں خود اسرائیلی حلقوں میں بھی یہ بحث ہوئی کہ موساد وقتی اہداف کے تعاقب میں مصروف رہی جبکہ پاکستان خاموشی سے ایک ایسی تزویراتی صلاحیت حاصل کر چکا تھا جس نے پورے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا۔
تاریخ میں کچھ کامیابیاں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ خاموش منصوبہ بندی، غیر معمولی رازداری اور گمنام لوگوں کی بے مثال قربانیوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ ان گمنام محافظوں کے نام شاید کبھی تاریخ کی سرخیوں میں نہ آئیں، مگر ان کی خدمات ہمیشہ قومی سلامتی کے باب میں سنہری حروف سے یاد رکھی جائیں گی۔


اردو

@ZehrilaBittu @Laughingskill بٹو اڑ نا جانا اس کی ہوا سے 😅
اردو
Muhammad Umar รีทวีตแล้ว
Muhammad Umar รีทวีตแล้ว

جب ہم جواں ہونگے
جانے کہاں ہونگے
لیکن جہاں ہونگے
وہاں پر یاد کریں گے
کہ پٹرول 150 ہوا یا نہیں
😭😭😭😭
Shumaila Mubeen 🇵🇰@shumailbutt804
ہاں جی پاکستان میں پیٹرول 150 روپے لیٹر کب ہو رہا ہے؟؟؟
اردو







