
کابل میں ایک طالبان عالم کے مطابق اگر کوئی شخص بیرونِ ملک جاتا ہے تو وہاں کافروں کی حکومت اسے ایک سرکاری کمرے میں لے جاتی ہے اور اس کے سامنے ایک لڑکی لاتے ہیں تاکہ وہ زنا کرے اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے اس ملک میں پناہ نہیں دی جاتی طالبان مدرسوں میں نوعمر بچوں کی برین واشنگ جاری جہالت کو دین کے نام پر پیش کر کے نئی نسل کو گمراہ کیا جا رہا ہے یہ تعلیم نہیں انتہا پسندی کی فیکٹریاں ہیں جہاں حقائق کے بجائے خوف اور نفرت سکھائی جا رہی ہے














