اس وقت آئی پی پی مافیا سولر ٹیکس اور مختلف شخصیات پر الزام لگوا اس معاملے کو پولیٹیسائز کر کے خود پر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور اس امر کے لئے حسب سابق یوتھڑ بے تکان بھونکنے اور کاٹنے کے لئے کرائے پر دستیاب ہیں۔ شخصیات اور طبقات کی بجائے ہمیں پالیسی تبدیل کروانی ہے۔
یاد رہے آئی پی پی مافیا کسی کا نہیں
پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اور تاریخی اور بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب نے گوادر میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ 🇸🇦🇵🇰
اس میگا پراجیکٹ میں سعودی آرامکو، پاکستان کی بڑی کمپنیوں (PSO, OGDCL, PPL اور GHPL) کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ گوادر میں روزانہ 3 سے 4 لاکھ بیرل تیل صاف کرنے والی عظیم الشان ریفائنری قائم کی جائے گی۔ اس بڑے منصوبے میں پاکستانی کمپنیوں کا حصہ 40 سے 45 فیصد ہوگا۔
اس ریفائنری سے پاکستان کا مہنگا تیل منگوانے کا خرچہ (Import Bill) نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔ حکومت نے اس منصوبے کے لیے 20 سالہ ٹیکس ہالیڈے اور کسٹمز ڈیوٹی میں مکمل چھوٹ دے دی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 1 ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی کی بھی تجدید کر دی ہے۔
یہ منصوبہ سی پیک 2.0 کے آغاز کی علامت ہے جو پاکستان کو خطے کا انرجی حب بنا دے گا۔
@realrazidada آپ کی سجیشن بہت اچھی ہے لیکن آپ تھوڑا لیٹ ہو گئے وہ پہلے ہی کام ڈال چکے ہیں پاکستان واپڈا کا جینکو سیکشن جس کے تحت تمام سرکاری پاور پلانٹس آتے ہیں رننگ پلانٹس کے ساتھ بند کیاجاچکا
ٹویٹ سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ اکتوبرمیں ختم ہونےوالے معاہدوں کی ایکسٹینشن کیلئے پیش بندی مہم تھی
پاکستان میں آئی پی پی کی اصطلاح، میری فہم کے مطابق، صرف ان نجی بجلی گھروں کے لئے مخصوص ہے جو نوے کی دہائی میں 1996 میں بی نظیر بھٹوصاحبہ کے دور میں لگائے گئے تھے، ان میں سے کچھ کے معاہدوں میں توسیع 2011 میں پیپلزپارٹی نے ہی اپنے اس دور کے آخری دنوں میں کی اور وہ معاہدے جو 2016 میں ختم ہوئے ان میں توسیع کو مسلم لیگ ن کی حکومت نے انکار کردیا، یہ بہرحال انتظار کرتے رہے تو پھر باقیوں میں توسیع 2021 میں جناب عمران احمد خان نیازی کے دور میں ہوئی۔ اب ان تمام میں توسیع موجودہ سال کے اکتوبر میں ختم ہو جانی ہے، ان کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
جناب ناصرف بٹ صاحب کے استفسار پر وضاحت کی جاتی ہے۔
جب تک شوکت خانم کے لئے شریف فیملی اور اسحاق ڈار چندہ دیتے تھے تو عمران خان کھل کر نواز شریف کا دفاع کیا کرتا تھا۔ آج اسی عمران خان کے پیروکار نواز شریف پر بھونک رہے
🛑 قوم متوجہ ہوں
سینئر صحافی رضوان رضی صاحب کے مطابق تمام آئی پی پیز کے معاہدے قانون کے مطابق اس سال ختم ہو جائیں گے
یہ مناسب وقت ہے کہ حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالا جائے کہ وہ آئی پی پیز کو خدا حافظ بول دیں
کیونکہ عوام جو پیسے دے رہی ہے اسکا زیادہ حصہ نجی کمپنیوں کو جاتا ہے وہ بجلی بھی پوری نہیں دے رہی
نئے سرے سے بجلی کا جامع نظام مرتب کرنے کی ضرورت ہے بجلی سستی ہوگی تو چھوٹی صنعتوں اور بزنس کو فروغ ملے گا
وزیراعظم شہباز شریف صاحب کے پاس نادر موقع ہے کہ وہ آئی پی پیز سے جان چھڑائیں
@CMShehbaz
ایک شخص کے سماجی اور معاشرتی گھٹیا پن کو نجی کہنا شرمناک ہے۔ کوئی خدانخواستہ آپ کے گھر آتا جاتا ہو اور آپ کی اہلیہ سے ایسے مراسم پیدا کرنے کی کوشش کرے کہ انہیں آپ سے طلاق دلوانا چاہے تو کیا آپ اسے شرمناک کہیں گے یا اُس کی مذمت کرنے والے کو؟ کیا آپ ساری زندگی اُس شخص کو گھر میں گھسنے دیں گے؟ اور یہاں آپ سب نے اسے مہاتما بنایا ہوا ہے۔ کمال ہے
"رات آٹھ بجے بازار بند کرنے کے فیصلے سے ہمارے معاشرے میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اور نہ صرف معاشی سطح پر بلکہ سماجی اور اخلاقی سطح پر بھی اسکے خوشگوار نتائج سامنے آرہے ہیں۔ رات گئے بلاوجہ بازاروں میں کسی ایک بہانے یا کسی دوسرے بہانے گھومنے پھرنے کی بجائے محسوس کیا جا رہا ہے کہ لوگ اور خصوصاً مرد حضرات اور نوجوان اپنی فیملیز کو زیادہ وقت دے رہے ہیں۔ بہت سی فضول خرچیاں ختم ہو گئیں۔ رات گئے تک کھلے رہنے والے بازاروں کی بندش سے بجلی کے استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے"۔انصار عباسی
اصل بات یہ ھے کہ پاکستان خطے میں بنیادی دفاعی ضمانت بن چُکا ھے اور انڈیا اسرائیل کو اسی بات کی سب سے زیادہ تکلیف ھے عمان میں ملاقات کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز متعلق نئی تجاویز پاکستان کو دی ہیں عمان نے ایران کو یہ مشورہ بھی دیا ھے کہ آبنائے ہرمز کے معاملات میں سعودیہ کو1/2
جناب بلال صاحب رحیم یار خان سے گذشتہ کئی سالوں سے آم بھجواتے ہیں، گذشتہ سال لنگڑے آم کی فرمائش کی تو فرمانے لگے کہ زیادہ تر لوگوں نے لنگڑے کو پیوند لگا لی ہے اور اب خالص لنگڑا آم باقی نہیں رہا، زیادہ تر سندھڑی ہو چکا۔
عرض کیا کھپ تو بہت سنی ہے
فرمانے لگے کھپ اپنی جگہ تا ہم زمینی حقائق مطابق لنگڑے کی موت واقع ہو چکی ہے۔
آپ نے لنگڑا آم ہی سمجھنا ہے
آہو