پاکستان کے بڑے شہروں میں یہ منظر اب روٹین بنتی جارہی ہے... ملازمت پیشہ خواتین کے علاوہ گھریلو خواتین بھی اپنی ضروریات کے لئے سکوٹی کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں... آپ اس تبدیلی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟!
تار پر دھلے ہوئےکپڑوں کو ڈالتےہوئے شوہر
بڑبڑایا۔بڑے کہتے تھےشادی کےبعد سکھ ہی
سکھ ہیں یہ نہیں بتایا کہ بیوی کےلیے
اتنے میں بیوی کیا آواز آئی کے کپڑے ڈال
دیئے ہیں تو جا کر سبزی لےآئیں
خاوند غصےسے بولا: مینوں جین دے
بیوی نے جینز ( پینٹ ) دےکر کہا
ہاں یہ رہ گئی تھی دھونےوالی
😁
پپو غصے سے!!!
ابھی میں جو سموسہ لے کر گیا ہوں اس میں سے
ایک لمبا بال نکلا ہے جو کسی لڑکی کا لگتا ہے۔۔
سموسے والا : تو اور کیا 40 روپے میں اب
کیا پوری لڑکی نکلے گی؟
😄
اُلٹا نُقصان ہو جاتا تھا. پھر میں روز ایک آوارہ کُتا ذبح کرکے رکھتا، وہ مُفتے گوشت لینے آتے، اُن کو اسی کا تازہ گوشت دے دیتا، وہ خوش ہو جاتے تھے
دس سال بیت چکے، دس جج تبدیل ہو چکے قصائی کا دھندہ اسی طرح جاری ہے
😎
ملزم:
" مطلب یہ ہے جج صاحب کہ روز بڑے بڑے افسران, سیاست دان, ان کے چیلے چپاٹے, مفت خورے آ کر مُفت میں چھوٹا گوشت لے جاتے ہیں مجھ سے۔ نہ دینے پر جُرمانہ، جیل بھیجنے کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں. بکری کے 10 کلو میں سے 2 کِلو گوشت تو وہ لے جاتے تھے، مجھے فائدے کے بجاے
مردار گوشت۔۔۔۔۔۔
شکایت پر گوشت فروش گرفتار ہو کر جج کے سامنے پیش ہوا، جج نے قصاب سے پوچھا:
" کیا یہ سچ ہے کہ تُم لوگوں کو کُتے کا گوشت فروخت کرتے ہو، انہیں حرام کھلاتےہو؟"
قصاب نے جواب دیا:
" جی جناب سچ سنا آپ نے"
جج نے کہا:
" تُمہیں شرم نہیں آتی اِنسانوں کو کتوں کا گوشت کھلاتے؟"