Ministry of Planning and Development

38K posts

Ministry of Planning and Development banner
Ministry of Planning and Development

Ministry of Planning and Development

@PlanComPakistan

Official Account of M/o #Planning, #Development & #Special_Initiatives | #PlanningCommission | Govt of Pakistan| Our Mission: #StrongEconomyStrongPakistan

Islamabad เข้าร่วม Ağustos 2013
879 กำลังติดตาม146.4K ผู้ติดตาม
Ministry of Planning and Development รีทวีตแล้ว
PTA
PTA@PTAofficialpk·
آن لائن دیکھی ہر تصویر یا ویڈیو پر فوراً یقین نہ کریں — یہ ڈیپ فیک بھی ہو سکتی ہے۔ جعلی مواد شہرت اور اعتماد کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ رشتوں میں غلط فہمیاں بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی ویڈیو یا خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔ پہلے سوچیں، پھر شیئر کریں۔ #digitalfraudawareness #PTAAlert #DigitalFraud #PTA #DigitalPakistan
PTA tweet media
اردو
6
115
287
22.7K
Ministry of Planning and Development รีทวีตแล้ว
Pakistan Institute of Development Economics (PIDE)
Pakistan has talent, markets, and opportunity—yet growth remains frustratingly elusive. In his latest Op-Ed, Dr. Nadeem Javaid (@nadeemjavaid75) Vice Chancellor #PIDE, unpacks 𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧’𝐬 𝐞𝐜𝐨𝐧𝐨𝐦𝐢𝐜 𝐩𝐚𝐫𝐚𝐝𝐨𝐱 𝐚𝐧𝐝 𝐭𝐡𝐞 𝐝𝐞𝐞𝐩𝐞𝐫 𝐞𝐱𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐜𝐡𝐚𝐥𝐥𝐞𝐧𝐠𝐞 𝐛𝐞𝐡𝐢𝐧𝐝 𝐢𝐭. Read here: tribune.com.pk/story/2597957/… @betterpakistan, @PlanComPakistan, @GovtofPakistan, @Financegovpk, @FBRSpokesperson #PakistanEconomy #EconomicReform #PublicPolicy #Governance #PIDE
English
2
8
22
932
Ministry of Planning and Development
4/4: یہ خلاء صرف ٹیکنالوجی کا نہیں، علم کے ڈھانچہ کا بھی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ قرآن تو انسان کو کائنات کی گتھیوں کو سلجھانے کے علم کی دعوت دیتا ہے لیکن ہمارے مذہبی مباحث فرقہ وارانہ نزاعات میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ قرآن انسانیت کو تسخیر کائنات کی کی دعوت دیتا ہے، مگر ہمارے بعض مذہبی قائدین ایک دوسرے کے مسالک کی مساجد کی تسخیر کو دین بنا بیٹھے ہیں۔ یہ قرآن کی روح ہے نہ تعلیم۔ قرآن انسان کو مشاہدہ، تفکر، جستجو اور دریافت کی دعوت دیتا ہے۔ علامہ محمد اقبال نے اس فکری جمود پر نہایت درد مندانہ اور بصیرت افروز انداز میں متنبہ کیا تھا: آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سے کھویا گیا کس طرح ترا جوہرِ ادراک کس طرح ہوا کند ترا نشترِ تحقیق ہوتے نہیں کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک اقبال نے یہ تنبیہ بھی کی کہ دین کو محض ایک غیر فعال مطالعے یا مصرفی تعلق تک محدود کر دینا زوال کا راستہ ہے: خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں آج مسلم معاشروں کا المیہ یہ نہیں کہ ان میں ایمان نہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ایمان کا رشتہ قرآن کی فکری روح سے ٹوٹ گیا ہے۔ اس لیے قرآن کی علمی سکیم کی از سرِ نو دریافت ایک گہری فکری تجدید کا تقاضا کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے ایمان کے دائرے میں عقل کے مقام کو بحال کرنا۔ اس کا مطلب ہے یہ تسلیم کرنا کہ سائنسی تحقیق اسلام سے بیگانہ نہیں بلکہ اس کی تہذیبی روح اور قرآن مجید کی تعلیمات میں پیوست ہے۔ اس کا مطلب ہے ایسے تعلیمی نظام وضع کرنا جو رٹنے والے نہیں بلکہ سوچنے والے، ایجاد کرنے والے اور مسائل حل کرنے والے افراد پیدا کریں۔ اس کا مطلب ہے ایسی جامعات تعمیر کرنا جو جستجو، تحقیق، تفکر، تدبر، تجربے اور دریافت کی پرورش کریں۔ اور سب سے بڑھ کر، اس کا مطلب ہے اپنی نئی نسل کو یہ سکھانا کہ سوال کرنا بے ادبی نہیں؛ یہ قرآن کی اس دعوت کی اطاعت ہے جو انسان کو تخلیق پر غور کرنے کے لیے بلاتی ہے۔ الاندلس کے کھنڈرات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تہذیبیں اس وقت زوال پذیر ہوتی ہیں جب ان کی فکری توانائی ماند پڑ جائے۔ مگر یہی کھنڈرات ہمیں یہ امید بھی دیتے ہیں کہ جب ایمان اور عقل دوبارہ ساتھ چلیں تو تجدید اور احیاء بھی ممکن ہے۔ قرآن نے مسلمانوں کو فکری قیادت کا ایک واضح نقشۂ راہ دیا تھا۔ جب مسلمانوں نے اس نقشۂ راہ کو اختیار کیا تو انہوں نے دنیا کو منور کیا۔ اور جب وہ اس سے دور ہوئے تو انہوں نے تاریخ میں اپنا مقام کھو دیا۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے نہایت زوردار انداز میں کہا: وہ زمانے میں معزّز تھے مسلماں ہو کر اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر اقبال کی مراد محض قرآن پڑھنے کی رسوم کا ترک نہیں ان کی مراد قرآن کی اس فکری روح سے دوری تھی جو غوروفکر، تخلیق، تحقیق اور دریافت کی دعوت دیتی ہے۔ اگر ہم مشاہدے، جستجو اور تفکر پر مبنی قرآن کی علمیات کو دوبارہ دریافت کر لیں، تو یہی روایت مسلم دنیا کی ایک نئی فکری نشاۃِ ثانیہ کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ (مضمون نگار وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی، پاکستان ہیں۔ ای میل: betterpakistan@gmail.com | ایکس:@betterpakistan)
Ministry of Planning and Development tweet media
اردو
0
0
0
91
Ministry of Planning and Development
3/4: قرآن ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کائنات اپنی اصل میں ہم آہنگی، توازن اور نظم کی ایک عظیم ربانی تشکیل ہے۔ کائنات کا ہر جز جداگانہ حیثیت کیساتھ ایک خدائی توازن کے اندر کام کر رہا ہے۔ لہٰذا انسانی ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب معاشرے اپنی سماجی، معاشی اور روحانی زندگی کو کائینات میں اس الٰہی ہم آہنگی کے مطابق ڈھالیں۔ جب معاشرے اس توازن کا احترام کرتے ہیں تو وہ پھلتے پھولتے ہیں۔ جب وہ اسے توڑتے ہیں تو انتشار، بے ترتیبی اور زوال جنم لیتا ہے۔ مسلم اسپین اس قرآنی اصول کی ایک روشن تاریخی مثال تھا۔ وہاں اجتماعی ہم آہنگی پر مبنی ایک علمی نظام وجود میں آیا جس میں مسلمان، عیسائی اور یہودی ایک مشترک اور ہم آہنگ فکری ماحول میں علم کی ترقی اور معاشرے کی فلاح کے لیے مل کر کام کرتے تھے۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ روح آہستہ آہستہ کمزور پڑ گئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ مسلم دنیا کے کئی حصوں میں تحقیق اور جستجو کی ثقافت کمزور ہوئی، فکری تجسس گھٹتا گیا، ہم آہنگی کی جگہ قبائیلی عصبیت اور عیش و عشرت نے زور پکڑا اور جو معاشرے کبھی علم پیدا کرنی کی فیکٹری ہوتے تھے وہ رفتہ رفتہ دوسروں کے پیدا کردہ علم کے صرف مقلد اور صارف بن کر رہ گئے۔ یہاں ایک نہایت جھنجھوڑنے والا سوال اٹھتا ہے: اگر قرآن نے الاندلس کے مسلم علماء کو علم کی جستجو اور قیادت پر ابھارا اور عطا کی، تو آج وہی قرآن ہمیں اسی طرح کیوں نہیں جگا رہا؟ قرآن تو نہیں بدلا۔ جو بدلا ہے، وہ اسے سمجھنے اور اپنانے کی ہماری صلاحیت ہے۔ وہ فکری جذبہ جس سے پہلے زمانوں کے مسلمان قرآن کو پڑھتے تھے، زنگ آلود ہو چکا ہے۔ وہ روحِ جستجو، جس نے مسلم علمی روایت کو زندگی بخشی تھی، کمزور پڑ گئی ہے۔ ہم نے قرآن کو تخلیق کے اسرار کی تلاش کی دعوت کے بجائے محض ثواب اور رسومات کے لیے تلاوت تک محدود کر دیا ہے۔ قرآن کائنات، ستاروں، سمندروں اور حیات کے اسرار کی بات کرتا ہے اور انسان کو ان کی کھوج پر ابھارتا ہے۔ مگر آج سوال یہ ہے کہ ان علمی سرحدوں کو کون عبور کر رہا ہے؟ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اور ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کائنات کے مطالعے اور کھوج کے لیے انسانیت کے طاقتور ترین آلات میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر یہ مغربی سائنسی اداروں کی پیداوار ہیں۔ حالانکہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب دنیا کی بڑی رصدگاہیں مسلم سرزمینوں میں قائم تھیں، کیونکہ ہمارے علما قرآن کی اس دعوت کو سمجھتے تھے کہ کائینات اور آسمانوں پر غور کرو۔ “وہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے ہمارے رب! تو نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔” (سورۂ آلِ عمران 3:191) آج مسلم دنیا علم کے ان محاذوں پر بہت دور دور نظر نہیں آ رہی۔ جاری ہے ۔۔۔
Ministry of Planning and Development tweet media
اردو
1
0
2
220
Ministry of Planning and Development
تاریخ اکثر اپنے سب سے بڑے اسباق کھنڈرات میں چھپا دیتی ہے۔جو شخص غرناطہ میں الحمرا کے صحنوں سے گزرتا ہے، قرطبہ کی عظیم مسجد کے خاموش محرابوں کے نیچے کھڑا ہوتا ہے، یا اشبیلیہ کی قدیم گلیوں میں چلتا ہے، وہ محض 800 سالہ ایک مٹ چکی سلطنت کی یادگاروں کی سیر نہیں کر رہا ہوتا وہ دراصل انسانی تاریخ کی ایک نہایت تابناک تہذیب کے آثار کے درمیان چل رہا ہوتا ہے۔ اندلس کے پتھر صرف فنِ تعمیر کے حسن اور سلطانی شوکت کی داستان نہیں سناتے، وہ کچھ گہرے سوال بھی سرگوشی میں پوچھتے ہیں: آخر ایک تہذیب دنیا کی فکری رہنما کیسے بنی؟ اور پھر وہی تہذیب تاریخ میں اپنا مقام اور نام و نشاں کیسے کھو بیٹھی؟ ان سوالات کے جواب صرف سیاسی زوال یا فوجی شکست میں نہیں ملتے۔ ان کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں: افکار میں، ذہنی رویّوں میں، اور اُس فلسفۂ علم میں جس نے کبھی مسلمان ذہن کی تشکیل کی اور پھر آہستہ آہستہ اس سے اوجھل ہوگیا۔ اس سوال سے میری دلچسپی تین دہائیوں سے بھی پہلے شروع ہوئی۔ 1992ء میں مجھے وزیر اعظم پاکستان نے 1492ء میں مسلم اسپین کے سقوط کے پانچ سو برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس کے منتظمین سے رابطے اور ہم آہنگی کی ذمہ داری سونپی۔ اس کانفرنس کی تیاری نے میرے لیے تاریخ کے ایک ایسے غیر معمولی باب کا دروازہ کھولا جو تاحیات میری فکری دل چسپی کا مرکز بن گیا۔ حال ہی میں مجھے غرناطہ، اشبیلیہ اور قرطبہ جانے کا موقع ملا، جو الاندلس کے تاریخی مراکز ہیں۔ ان شہروں میں چلتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پتھر، علم اور یادداشت سے لکھی ہوئی کسی تہذیبی دستاویز کو پڑھ رہا ہوں۔ اس تجربے نے ایک ایسے یقین کو مزید پختہ کیا جس نے میرے بہت سے کاموں میں رہنمائی کی ہے: تہذیبیں محض طاقت سے نہیں، علم سے اٹھتی ہیں۔ اسی یقین نے مجھے یونیورسٹی آف نارووال کے فنِ تعمیر کی تشکیل کے وقت مسلم اسپین کے طرزِ تعمیر سے رہنمائی لینے پر آمادہ کیا۔ اس کا مقصد صرف جمالیاتی نہیں تھا بلکہ علامتی بھی تھا: تاکہ طلبہ اور طالبات کو یاد رہے کہ الاندلس کی عظمت صرف اس کے محلات اور باغات میں نہیں تھی بلکہ اس کی علمی روح، اس کے ذوقِ جستجو، اور علم کے ساتھ اس کی عقیدت میں تھی۔ آٹھویں سے تیرہویں صدی تک مسلم اسپین دنیا کی فکری تاریخ کے روشن ترین ابواب میں سے ایک تھا۔ قرطبہ کی اُموی خلافت، خصوصاً عبدالرحمٰن ثالث کے عہد میں، سائنس، فلسفہ، طب، فنِ تعمیر اور ادب کا ایک غیر معمولی مرکز بن گئی۔ دسویں صدی کا قرطبہ دنیا کے ترقی یافتہ ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ اس وقت جب یورپ کا بڑا حصہ قرونِ وسطیٰ کی تاریکیوں سے پوری طرح نکل بھی نہ سکا تھا، قرطبہ میں پختہ سڑکیں، عوامی روشنیاں، ہسپتال، حمام اور عظیم کتب خانے موجود تھے۔ خلیفہ الحکم ثانی کے کتب خانے میں مبینہ طور پر تقریباً پانچ لاکھ کتابیں تھیں، جو اُس دور کے یورپ کے لیے ناقابلِ تصور تعداد تھی۔ قرطبہ، اشبیلیہ، طلیطلہ اور غرناطہ میں جامعات اور علمی مراکز پھل پھول رہے تھے۔ جامعہ قرطبہ یورپ بھر سے طلبہ کو اپنی طرف کھینچتی تھی اور وہاں ہیئت، ریاضی، طب، فلسفہ، الٰہیات، قانون اور ادب کی تعلیم دی جاتی تھی۔ علم ایک غیر معمولی کشادہ دلی کے ماحول میں ثقافتوں کے درمیان رواں دواں تھا۔ مسلم اسپین نے ایسے علماء پیدا کیے جن کی خدمات نے انسانی علم کا دھارا بدل دیا۔ عظیم جرّاح الزہراوی نے جراحی آلات اور طبی طریقہ ہائے علاج میں بنیاد گزار کردار ادا کیا۔ ابن رشد نے مسلم دنیا اور یورپ دونوں میں فلسفیانہ فکر کو نئی سمت دی۔ الزرقالی جیسے ماہرینِ فلکیات نے رصدی ہیئت میں پیش رفت کی، جبکہ ابنِ بیطار جیسے نباتات دانوں نے ادویاتی پودوں پر غیر معمولی کام کیا۔ الاندلس کے ذریعے یونانی ورثۂ علم اور مسلم دنیا کی سائنسی کامیابیاں یورپ تک پہنچیں اور یوں احیائے علوم، یعنی نشاتہ ثانیہ، کی راہ ہموار ہوئی۔ لہٰذا اصل سوال یہ ہے کہ اس غیر معمولی علمی تہذیب کو کس چیز نے تحریک دی؟ جاری ہے۔۔۔
Ministry of Planning and Development tweet media
اردو
2
0
8
635
Ministry of Planning and Development รีทวีตแล้ว
The Daily CPEC
The Daily CPEC@TheDailyCPEC·
🚨BREAKING: China to invest $2.6B in Balochistan manufacturing and $14M in minerals. 🔗thedailycpec.com/china-to-inves…
The Daily CPEC tweet media
English
1
71
438
4.8K
Ministry of Planning and Development
قرآنِ مجید اہلِ ایمان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آج اس دعوت پر عمل کون کر رہا ہے؟ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے سورۃ آلِ عمران کی آیات (190-191) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مومنوں کی یہ صفت بیان کرتا ہے کہ وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان ذہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک اہم سوال اٹھایا: جب قرآن انسان کو کائنات کے اسرار کو سمجھنے اور اس کا مطالعہ کرنے کی دعوت دیتا ہے تو آج سورج، چاند اور خلا کی تسخیر میں امریکہ، روس اور چین کیوں پیش پیش ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب مسلم تہذیب نے اسی قرآنی تحریک کو علم، سائنس اور تحقیق میں ڈھال دیا تھا۔ آج اصل چیلنج یہ ہے کہ ایمان کو دوبارہ جستجو اور تحقیق کے ساتھ جوڑا جائے اور دریافت و تحقیق کی اسی روح کو پھر سے زندہ کیا جائے۔ #RamadanReflections #AhsanIqbal #QuranAndScience
اردو
0
1
4
497
Ministry of Planning and Development รีทวีตแล้ว
Ahsan Iqbal
Ahsan Iqbal@betterpakistan·
الحمدللہ نیشنل سپورٹس سٹی نارووال میں سالوں کی تاخیر کے بعد ہاکی آسٹروٹرف بچھ گئی جسے عمران نیازی اپنی انتقامی سیاست کا نشانہ بنا کر تباہ کیا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے تباہ شدہ منصوبہ کی بحالی کا بیڑہ اٹھایا اور رفتہ رفتہ اس کی سہولتیں مکمل ہو رہی ہیں مگر سالوں کی تاخیر اور انتقامی سیاست کا نشانہ بننے سے لاگت دوگنی ہو گئی۔ امید ہے جلد اس پر قومی اور عالمی سطح کے میچز ہونگے اور مقامی کھلاڑی اس کا فائدہ اٹھاکر اپنی صلاحیتوں کو عالمی سطح پہ بلند کر سکیں گے۔ اہلیان نارووال کو مبارک ہو!
Ahsan Iqbal tweet mediaAhsan Iqbal tweet mediaAhsan Iqbal tweet media
اردو
0
303
1.4K
31.6K
Ministry of Planning and Development
“اگر ہمیں واقعی حضور نبی اکرم ﷺ سے محبت ہے تو ہمارے اعمال میں بھی ان کی تعلیمات جھلکنی چاہئیں۔” وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ عقیدے اور عمل کے درمیان موجود تضاد ہی معاشروں کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی اس تعلیم کا حوالہ دیا کہ تجارت میں دھوکا دینے والا ہم میں سے نہیں، جبکہ صفائی کو ایمان کا نصف قرار دیا گیا ہے۔ یہ اصول اکثر ہماری عملی زندگی میں دکھائی نہیں دیتے—خواہ وہ کاروبار میں دیانت داری ہو یا عوامی مقامات پر صفائی کا اہتمام۔ پروفیسر احسن اقبال نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایمان اور عمل کے درمیان اس خلا کو پُر کریں اور دین کو محض عقیدے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات ہماری روزمرہ زندگی اور اجتماعی رویّوں کی رہنمائی کر سکیں۔ #RamadanMessage #AhsanIqbal #IslamicValues #FaithInAction
اردو
0
0
2
313
Ministry of Planning and Development
“قرآن ہمارے پاس ہے، سیرت ہمارے پاس ہے… لیکن کیا ہماری زندگیاں واقعی ان سے جڑی ہوئی ہیں؟” وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے مسلمانوں کی اپنے دین سے گہری محبت اور عملی زندگی میں اس کی تعلیمات کے محدود اثر کے درمیان موجود تضاد پر غور و فکر کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کے صحابہ کرامؓ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ قرآنِ مجید کی آیات پر گہرائی سے غور کرتے اور حضور نبی اکرم ﷺ کی ہدایات کو فوراً اپنی روزمرہ زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ پروفیسر احسن اقبال نے اس امر پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کی حقیقی نشاۃِ ثانیہ اسی وقت ممکن ہے جب قرآنِ مجید اور سیرتِ طیبہ سے ہمارا زندہ اور عملی تعلق دوبارہ قائم ہو — اور ایمان محض الفاظ تک محدود رہنے کے بجائے عمل کی صورت اختیار کرے @betterpakistan
اردو
0
0
5
449
Ministry of Planning and Development
The Quran has not changed, but our ability to understand it has. In the conclusion of his article, Prof. Ahsan Iqbal @betterpakistan challenges the Muslim world to move beyond ritual recitation and rediscover the "Aql" (reason) that once built empires. He asks a piercing question: Why have we become consumers of knowledge when our faith commands us to be its creators? It is time to sharpen the "dull blade of inquiry" and pierce the hearts of the stars once more. Full Article: [thenews.pk/print/1404153-…]
English
0
1
3
238
Ministry of Planning and Development
History’s greatest lessons are often hidden in its ruins. Prof. Ahsan Iqbal @betterpakistan journeys through the heart of Al-Andalus to uncover the secret of its vanished brilliance. The verdict? A civilization thrives only when it embraces the Quranic challenge to "reflect and use reason." This isn't just history; it is a roadmap for a future where knowledge is once again our greatest strength. Article Link: [thenews.pk/print/1403968-…]
English
0
1
4
194
Ministry of Planning and Development
Ministry of Planning and Development@PlanComPakistan·
دو ارب مسلمان… مگر ایک دردناک سوال: امت اتنی بڑی ہونے کے باوجود خود کو بے بس کیوں محسوس کرتی ہے؟ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال کا آج کی مسلم دنیا کی صورتحال پر گہری خود احتسابی کی ضرورت پر زور۔ امتِ مسلمہ کی وسیع آبادی اور بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود حالیہ واقعات، ایک تشویشناک حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ امت کمزوری اور باہمی تقسیم کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب مسلمانوں کی تعداد تو بہت زیادہ ہوگی، مگر وہ دنیا کی آسائشوں کی حد سے زیادہ محبت اور مصیبت و موت کے خوف کے باعث کمزور ہو جائیں گے۔ پروفیسر احسن اقبال نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس پیغام پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس اخلاقی جرات، اتحاد اور ایمان کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کردار ادا کریں جس نے کبھی مسلم تہذیب کو انصاف، علم اور قیادت کی ایک عظیم قوت بنایا تھا
اردو
2
3
10
1.8K
Ministry of Planning and Development
Ministry of Planning and Development@PlanComPakistan·
Dr. Shabana Haider exposed the "Implementation Bottleneck" at the Pakistan Governance Forum 2026. If accountability is weak and outcomes aren't measured, "Performance" becomes impossible. The Reality Check: 📍 The Waste: Specialized staff (like clinical psychologists) are underutilized while mental health remains a crisis. 📍 The Comparison: Utility per worker in Pakistan is lagging behind India and Bangladesh. 📍 The Fix: A "Human Capital Compact"—a single indicator for Family Planning, MMR, and Skilled Birth Attendance. If we are serious about moving from 'business as usual' to verified results, the mandate is clear: our provinces must lead the charge in implementing the Human Capital Compact to turn policy into prosperity. #PGF2026 #GovernanceReform #UraanPakistan
English
0
0
1
214