
حقیقت تو یہ ہے علیمہ خان محسن نقوی سے ہونے والی ملاقات سے آگاہ تھی لیکن وہ اس ملاقات کا حصہ نہیں تھیں اپنے بھائی کے علاج کے لیے کوئی بھی رستہ نظر آۓ وہ اس جانب ضرور دیکھتی ہیں ملاقات سے پہلے علیمہ خان کو اعتماد میں لیا گیا تھا
علی امین گنڈاپور جب محسن نقوی سے ملے اور گرمجوشی سے گلے ملے تو یہ بات جب عمران خان تک پہنچی تو اگلی ملاقات میں عمران خان نے واضح ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ PTI کے قاتلوں سے اس انداز میں کیسے گلے مل سکتے ہیں؟ اگر ملاقات ناگزیر تھی تو کم از کم اس کا انداز ایسا والہانہ نہیں ہونا چاہیے تھا
اب حالات بدل چکے ہیں پچھلے کچھ عرصے میں عمران خان کی آنکھ کے مسئلے نے ایسی صورت اختیار کر لی ہے کہ علاج ناگزیر دکھائی دیتا ہے ایسے میں اگر حکومت کے رسمی دروازوں کی بجائے اصل فیصلہ ساز قوتوں تک رسائی مقصود ہو، تو بہت سے لوگوں کے نزدیک ان قوتوں کا عملی نمائندہ محسن نقوی ہی سمجھا جاتا ہے
کچھ لوگ اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ محسن نقوی سے بند کمروں میں ملاقات کیوں ہوئی لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہی ملاقات کھلے عام ہوتی، تو کیا یہی لوگ یہ اعتراض نہ کرتے کہ قاتلوں سے سرِعام ملاقات کیوں کی جا رہی ہے؟
اگر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھ کے علاج کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرنا پڑے تو وہ کیا جانا چاہیے
سیاست میں بعض اوقات مزاحمت اور مفاہمت دونوں کو حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے خاص طور پر جب معاملہ کسی کی صحت اور بنیادی انسانی ضرورت کا ہو

اردو

